21.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

اَحَبُّ + أَحَبُّ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی بہت بڑے، سب سے بڑے..اللہ اکبر کبیرا..ہم بہت چھوٹے، ادنی، احقر، اصغر..مٹی کے کھلونے..ایک پتھر سر پر لگ جائے..یا ڈینگی مچھر کاٹ لے..یا چیونٹی ناک اور کان میں گھس جائے تو مر جاتے ہیں....اللہ تعالی ”باقی“....ہم ”فانی“....وہ بے عیب، بےنقص، بےکمی اور ہم سر تاپا عیب ہی عیب...اورکمزوری سے بھرے ہوئے...اللہ تعالی اپنی کوئی نعمت..ہمیں دوسروں سے تھوڑی زیادہ دے دیتا ہے تو ہم اکڑ جاتے ہیں..سنبھالے نہیں سنبھلتے..مال، حُسن، عقل، اختیارات اور طاقت...مگر پھر یہ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے..اور ہم مٹی میں دفن کر دیے جاتے ہیں..

دنیا بہت چھوٹی جگہ ہے..بےحد چھوٹی..عارضی، وقتی، فانی....جبکہ آخرت بہت بڑی ہے..دائمی، باقی....ہمیشہ رہنے والی..وہاں ہر جنتی کی اپنی الگ سلطنت ہوگی، بادشاہت ہوگی....”وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا“.....جنتی فارغ نہیں ہوں گے...بلکہ بڑی بڑی سلطنتوں کے بااختیار حاکم ہوں گے.......فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ....انہیں اپنی جنت میں یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کہیں گے ”ہو جا“..تو ہو جائے گا...”جنت“ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کا بہت عظیم جہان ہے..اللہ تعالی کے مخلص بندے ہمیشہ اللہ تعالی کی ”محبت“ کی تلاش، پیاس اور جستجو میں رہتے ہیں...حضرات صحابہ کرام اسی ”محبت“ کی تلاش میں..حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے....”أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ“..یا رسول اللہ کون سا عمل...ہمارے رب تعالی کو زیادہ محبوب ہے؟...ان کے اس سؤال پر ان میں سے ہر ایک کے حسب حال...محبَّت کے راز ارشاد فرما دیے جاتے..

یہ ”علم و معرفت“ کا پورا ایک باب ہے..آپ قرآن مجید میں دیکھیں کہ..کن اعمال پر اللہ تعالی نے ”محبت“ کا اعلان فرمایا ہے...اسی طرح احادیث مبارکہ میں دیکھیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کن اعمال اور اقوال کو.....”احب الأعمال“..اور ”احب الأقوال“ قرار دیا ہے...”عشرہ ذی الحجہ“ میں ہر عمل اللہ تعالی کے نزدیک ”احب الاعمال“ ہے...یعنی محبوب ترین عمل....اب اگر ہم ان دنوں میں...ان اعمال کا اہتمام کریں جو ہر حال میں ”احب الاعمال“ ہیں تو.....ہمارے پاس محبت ہی محبت جمع ہو جائے گی..ہم اللہ تعالی کی محبت کے بے حد محتاج ہیں..بے حد مشتاق ہیں...وہ اتنے عظیم ہو کر ہم سے محبت فرمائیں تو اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے؟..قرآن و حدیث میں ”احب الاعمال“ دیکھیں..پھر خاص ان دنوں میں بھی...ان کا اہتمام کریں..تب ہمیں احب + احب....یعنی..محبوب ترین..جمع (پلس)...محبوب ترین عمل نصیب ہو جائے گا..جبکہ ”یوم النحر“ یعنی دس ذی الحجہ کی قربانی تو.....اَحبُّ، +اَحبُّ، +اَحَبُّ ہے..اللہ تعالی ہمارا سینہ کھول دیں..

مغرب سے جمعہ شریف....مقابلہ حُسن...مقابلۂ محبت برائے نفل قربانی..مرحبا!.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


20.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

بھائی حذیفہ شہید رحمۃ اللہ علیہ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی زیادہ توبہ کرنے والوں سے ”مَحبَّت“ فرماتے ہیں..

”اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ“

اے عظیم مسلمان بھائیو..بیٹو! بزرگو! اللہ تعالی کی ”محبت“ اور ”پیار“ کے دن چل رہے ہیں..نور والی راتیں چل رہی ہیں..اپنے گناہ چھوڑنے..استغفار کے آنسو بہانے، توبہ کرنے اور اپنے رب کو منانے کا بہترین موقع ہے..ہمت کریں..ایمان اور ایمانداری اختیار کریں...

اب آئیے کل کے مکتوب کی بات آگے چلاتے ہیں....(۱) ان دس دنوں کے کچھ اعمال تو ایسے ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و عمل سے ارشاد فرمائے ہیں مثلاً •حج بیت اللہ •قربانی •تکبیر، تھلیل، تحمید کی کثرت..یعنی اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، الحمدللہ....اچھا ہوگا روز ہزار بار تیسرا کلمہ..یا تین سو بار..اور تین سو بار تکبیر اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد • نو تاریخ تک روزانہ روزہ...خصوصاً عرفہ کے دن کا روزہ..جن کے ذمہ رمضان المبارک کے قضا روزے ہوں وہ ان دنوں...اُن کو ادا کر لیں...فرض بھی ادا ہوگا..محبت بھی زیادہ ملے گی ان شاءاللہ...اسی طرح کئی اعمال احادیث میں آئے ہیں..کتاب ”افضل ایام الدنیا“ میں دیکھ لیں...(۲) اعمال صالحہ بڑھانے کے لیے کل پانچ طریقے عرض کیے تھے • `نیت` نیت کے ذریعہ ایک مسلمان اپنے ہر اچھے عمل کو عبادت بنا سکتا ہے..اور ہر عبادت کی قیمت بڑھا سکتا ہے..اس لیے ان دنوں اللہ تعالی کی رضا کی نیت ہر عمل میں تازہ کریں...اسی طرح ہر خدمت، حتی کہ کھانا پکانے اور روزی کمانے میں بھی..اللہ تعالی کی رضا کی نیت کر لیں •  `توجہ` اپنے اعمال صالحہ میں اللہ تعالی کی طرف توجہ بڑھا دیں..مثلا سجدہ میں ”سبحان ربی الاعلی“...مکمل توجہ، عاجزی اور محبت سے پڑھا کریں..یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے..اسی طرح سب اعمال میں کریں...یاد رکھیں ”توجہ“ سے ”توجہ“ ملتی ہے • `فکر` ان دنوں اور راتوں میں خود پر یہ فکر سوار رکھیں کہ میں نے زیادہ سے زیادہ نیکی کرنی ہے..گناہ سے بچنا ہے..محبوب کی محبت پانی ہے..فکر سے بہت سے دروازے کھلتے ہیں..سوچا کریں اس ٹائم کون سی نیکی کروں؟• `اعمال صالحہ کی معلومات` قرآن و سنت میں دیکھیں کہ اعمال صالحہ کون سے ہیں؟..خصوصا ہمیشہ باقی رہنے والے اعمال معلوم کریں اور ان کو اپنائیں..اور یہ دیکھیں کہ کون سا ”عمل صالح“ ابھی تک میں نہیں کر سکا..وہ اب کرلوں• `احب الاعمال الی اللہ` کچھ اعمال ایسے ہیں، جو ہر حال میں..اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہیں..مثلاً وقت پر فرض نماز..جہاد فی سبیل اللہ..والدین کی خدمت وغیرہ..ان اعمال کو ان ایام میں زیادہ کریں تاکہ”اَحبَُ“ جمع (یعنی پلس) ”أَحبُّ“ مل جائے..اس کی کچھ تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..

 `ایک اہم بات` ہمارے پیارے بھائی حذیفہ شہید فرمایا کرتے تھے..شیخ! کراچی والے تو ”مکتوب“ سے ”اسٹارٹ“ ہوتے ہیں..ہفتے میں ایک ضرور کر دیا کریں..آج کا مکتوب بھائی حذیفہ شہید کے ایصال ثواب کے لیے کراچی والوں کو ہے کہ...نفل قربانی مہم میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیں...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


19.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

پیار کا موسم

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو ”رمضان المبارک“ عطاء فرمایا..”عشرہ ذی الحجہ“ عطاء فرمایا..”جمعہ شریف“ عطاء فرمایا...”عیدالفطر“ اور ”عید الاضحیٰ“ عطاء فرمائی...والحمدللہ رب العالمین..

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ...کسی بھی دن کے اعمال صالحہ...اللہ تعالی کے نزدیک عشرہ ذی الحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں..تو صحابہ کرام نے پوچھا...یا رسول اللہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا...جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں..یعنی ان دنوں کا ہر عمل صالح جہاد سے بھی زیادہ محبوب ہے..ہاں البتہ..ایک صورت مستثنیٰ فرمائی..وہ یہ کہ کوئی شخص اپنا مال اور اپنی جان لے کر جہاد میں اترا....مال بھی قربان ہو گیا..جان بھی قربان ہو گئی..بس اس کا عمل.....ان دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہے...یہ حدیث بخاری شریف اور دیگر کتب میں سند صحیح کے ساتھ موجود ہے...تفصیل اس کی بہت ہے مگر..آئیے اختصار کی کوشش کرتے ہیں..

(۱) اعمال صالحہ کے زیادہ محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ..وہ عمل کرنے والا اللہ تعالی کی زیادہ محبت اور توجہ پاتا ہے..

(۲) صحابہ کرام کی دینی تربیت کا یہ نتیجہ تھا کہ..وہ جہاد فی سبیل اللہ ہی کو اللہ تعالی کا سب سے محبوب ترین عمل سمجھتے تھے..اس لیے انہوں نے سؤال عرض کیا...فرمایا گیا کہ اس دس روزہ ”بازار عشق“ کا قانون الگ ہے..اللہ تعالی ہمیں بھی حضرات صحابہ کرام والا جہادی نظریہ نصیب فرمائیں...

(۳) یہ دس دن کا ”بازار عشق“ دراصل اللہ تعالی کے وسیع پیار کا موسم ہے..ہر بوڑھا، بچہ، عورت، مرد اور معذور مسلمان اس میں محبت کے جام بھر بھر کر پی سکتے ہیں..جہاد عورتوں، معذوروں پر فرض نہیں (سوائے چند صورتوں کے)

(۴) ان دس دنوں کی ”قدر و قیمت“ کا بڑھ جانا...باقی دنوں کے اعمال کی قیمت نہیں گھٹاتا..

ہر دن، ہر رات، ہر عمل صالح اللہ تعالی کو محبوب ہے..بس یہ ان کا فضل اور سخاوت کہ ان دنوں کے اعمال کی قدر بڑھا دی..اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بس ان دنوں ”اعمال صالحہ“ کریں اور باقی دنوں میں چھوڑ دیں...بلکہ مطلب یہ ہے کہ..ان دنوں میں ”اعمال صالحہ“ بڑھا دیں..

(۵) ان دنوں کے ”اعمال صالحہ“ کو بڑھانے کے کئی طریقے ہیں..مثلاً نیت...توجہ...فکر...اعمال صالحہ کی معلومات....” احب الأعمال الى الله“ کا زیادہ اہتمام......اہل علم تو ان پانچ الفاظ سے پوری بات سمجھ چکے ہوں گے...باقی جو میری طرح ”اُمّی“ ہیں..ان کے لیے تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ....

آج کی آخری بات یہ ہے کہ جو والدین کا حق ادا نہیں کر سکے اور والدین وفات پا چکے ہیں تو تلافی کا بہترین ذریعہ والدین کی طرف سے ”قربانی“ ہے..اس کا اجر و ثواب عام دنوں کی ہزار دیگوں سے بھی بہت بڑھ کر ہے.....ان شاءاللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


18.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مَحبَّتْ کی بارش

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کو.....”عشرۂ ذی الحجہ“ کے اعمال...بہت زیادہ محبوب ہیں...آئیے آج اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں...علم سمجھنا اور سمجھانا بھی بڑا نیک عمل ہے..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ دیکھیں! فرمایا

”مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ“

دنوں میں سے کسی بھی دن کا ”نیک عمل“....اللہ تعالی کے ہاں زیادہ محبوب نہیں...ان دس دنوں کے عمل سے..

یہ تو ہوا لفظی ترجمہ....خلاصہ اس کا یہ نکلے گا کہ..ان دس دنوں کے نیک اعمال..اللہ تعالی کو باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں.....یعنی ایک مسلمان کو پورے سال میں چاند کے حساب سے (355) یا (354) دن ملتے ہیں..ہر مسلمان ان دنوں میں نیک اعمال کرتا ہے..روزانہ نمازیں، کبھی روزے، زکوۃ..جھاد..انفاق..ذکر اذکار، صدقات وغیرہ.....مؤمن کا ہر نیک عمل اللہ تعالی کو ”محبوب“ ہے..مگر ”ذوالحجہ“ کے پہلے دس دنوں...عشق و محبت کے پیاسوں کے لیے ”لوٹ بازار“ لگا دیا جاتا ہے..اب اس کا ہر نیک عمل....اللہ تعالی کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے بھی زیادہ محبوب ہوتا ہے..یعنی ایک بار ”سبحان اللہ“ کہنے پر..”اللہ اکبر“ بولنے پر...وہ ”محبت الٰہی“ برستی ہے جو باقی دنوں کے بڑے بڑے مشکل اعمال پر بھی نہیں برستی....اب غور کریں...حدیث شریف میں”أَحَبُّ“ کا لفظ آیا ہے..اس کا ترجمہ ہے ”زیادہ محبوب“...یہ نہیں فرمایا کہ...ان دنوں کے اعمال زیادہ ضروری ہیں یا..زیادہ افضل ہیں..یا زیادہ قیمتی ہیں یا..زیادہ اجر والے ہیں..بلکہ فرمایا ”زیادہ محبوب“ ہیں...اللہ اکبر..”مَحبَّتْ“ کا لفظ دل کے تار ہلا دیتا ہے..کوئی سچا عاشق ہو تو وہ ”أَحَبُّ“ کا لفظ پڑھ کر ”وجد“ میں آجائے..کیونکہ اصل چیز تو ان کی ”مَحبَّتْ“ ہے..ارے ”مَحبَّتْ“ مل جائے تو پھر اور کیا چاہیے؟ پھر تو نہ کوئی پوچھ تاچھ نہ کوئی حساب کتاب..کوئی اپنے ”محبوب“ سے بھی حساب کتاب کرتا ہے؟ محبوب کو تو بے حساب دیا جاتا ہے..غور کریں..”أَحَبُّ“ کے لفظ نے سارے جھگڑے بھی مٹا دیے کہ رمضان افضل ہے یا یہ دس دن؟..بابا رمضان، رمضان ہے..اور یہ عشرہ، عشرہ ہے..وہاں رحمت و مغفرت کا دریا موجیں مار رہا ہے اور فرض روزے ادا ہو رہے جبکہ..اس عشرہ میں مَحبَّتْ کے جام بھر بھر کر پلائے جا رہے ہیں..اور ہر اچھی ادا پر ان کی طرف سے مَحبَّتْ برستی ہے..ہر اچھا قول، ہر اچھا خرچ، ہر اچھی عادت، ہر اچھا عمل..

یا اللہ ہم نااہل ”پیاسوں“ کو بھی...اپنی مَحبَّتْ کا شربت پلا دیجئے...

یاد رکھیں...اس عشرہ میں ”مَحبَّتْ“ کا سب سے بڑا ذخیرہ...حُجّاج کو ”حج“ میں..اور باقی مسلمانوں کو ”قربانی“ سے ملتا ہے..قربانی میں بخل نہ کریں..بڑھ چڑھ کر واجب اور نفل قربانی کر کے...”مقابلہ مَحبَّتْ“ میں آگے آگے رہیں....

”حدیث مَحبَّتْ“ کی باقی تشریح اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


17.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

بازارِ عِشْق

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کا شکر..بے حد شُکر....عشق کا بازار لگ گیا...سچے عاشقوں کو مبارک...دل کی گہرائی سے مبارک-:-

”وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ“

ترجمہ: اور وہ جو ایمان والے ہیں ناں وہ اللہ تعالی سے بہت ”شدید مَحَبَّت“ رکھتے ہیں....

کبھی تنہائی ملے..آنسو نصیب ہوں..دل خواہشات سے پاک ہو تو..اللہ، اللہ، اللہ..پڑھتے جائیں اور کہتے جائیں اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ..اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ، اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ..

الحمدللہ..عشرہ ذی الحجہ کا آغاز ہو گیا ہے...فقیروں کے زخمی دلوں پر ٹھنڈک پڑی ہے..اب تو محبت، محبت اور محبت..ہر عمل ان کو محبوب..محبوب ہی نہیں ”محبوب ترین“..اللہ تعالی کا شاہی اعلان...شہنشاہی انعام...اب مٹی بھی سونا...اور سونا ہیرے...ہائے بے چارہ سونا..بے چارے ہیرے..ان کی ”محبت“ کے مقابلے میں کیا قیمت؟ مگر دنیا کے اندھیرے میں بات سمجھانے کے لیے انہی کی مثال دینی پڑتی ہے....”عشرہ ذی الحجہ“ کے فضائل کا ”علم“ تو اکثر مسلمانوں کو ہے..مگر جب تک ”علم“ پر ”حکمت“ کی آنکھ نہ کُھلے..اُسوقت تک اونچی باتیں دلوں میں نہیں اُترتیں....قرآن و سنت میں غور کریں تو ان دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ....کوئی مسلمان ایک لمحہ ضائع نہ کرے..ہر سانس کے ساتھ نیکی...ہر سانس کے ساتھ تکبیر، تسبیح، تہلیل...اے مسلمانو! یہ دن گزارنے کے نہیں کمانے کے ہیں..بچانے کے نہیں لٹانے کے ہیں..تھکنے کے نہیں تھکانے کے ہیں.........ہو سکے تو ”افضل ایام الدنیا“ کتاب کا مطالعہ فرما لیں..

بندہ کے لیے بھی دعاء فرما دیں...اللہ تعالی اس ”بازار عشق“ سے وافر حصہ مجھے اور آپ سب کو عطاء فرما دیں....اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس بازار کی سب سے قیمتی چیز نصیب فرما دیں....اور وہ چیز ہے.....اللہ تعالی کی سچی اور مقبول محبت...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


09.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

اور تم میں سے کچھ کو.....

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کے بھاری انعامات میں سے ایک انعام کا تذکرہ...سورہ اٰل عمران کی آیت (۱۴۰) میں موجود ہے...آیت مبارکہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں...

(اے ایمان والو) اگر تمہیں زخم (اور نقصانات) پہنچے ہیں تو (اس سے پہلے تمہارے ہاتھوں سے) ان کافروں کو بھی زخم (اور نقصانات) پہنچ چکے ہیں..اور ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اور یہ (دشمنوں کے ہاتھوں سے تمہیں تکلیف پہنچنے کا معاملہ) اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالی ایمان والوں کی پہچان کرا دے اور تم میں کچھ لوگوں کو شہادت کا مقام عطا فرمائے اور اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں فرماتے [اٰل عمران (۱۴۰)]

آیت مبارکہ اور اس کے ترجمے کو دو چار بار غور سے پڑھیں..آپ کو سات مئی 2025 کا پورا واقعہ سمجھ میں آ جائے گا......اللہ اکبر کبیرا..کیسی عجیب رات تھی..اوپر سے آگ..اور عرش سے خوشبو برس رہی تھی..خوفناک دھماکے مگر ان کے درمیان اٹھنے والے ”اللہ اکبر“ کے نعرے..عجیب مناظر تھے..بالکل ماضی کے مناظر کی جھلک..قرآن مجید کے بیان فرمودہ مناظر کا عکس..ارادہ بنا کہ اُن آیات کو لکھ دوں جن کا فیض اور عکس اُس دن...جامع مسجد سبحان اللہ پر اُتر رہا تھا..مگر مکتوب میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی...بس ایک آیت مبارکہ کا ترجمہ لکھ دیا ہے اس میں بہت کچھ ہے..اللہ تعالی جو تم پر کبھی..کافروں کا وار چلنے دیتے ہیں تو..یہ اس لیے نہیں کہ وہ حق پر ہیں..یا نعوذ باللہ..وہ اللہ تعالی کے محبوب ہیں..بلکہ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے تم میں سے کچھ کو ”شہادت“ سے نوازنا ہوتا ہے..اور کچھ کو ایمان کامل سے....وہ ایمان جو آزمائش کی آگ میں مسکراتا ہے اور راضی رہتا ہے..

دشمنوں کے اس بیس منٹ کے بزدلانہ حملے میں..الحمدللہ اللہ تعالی نے بہت قیمتی تحفے قبول فرمائے..چھینا کچھ نہیں..مگر دے بہت کچھ دیا..

اپنے ”شہداء کرام“ کی قسمت پر رشک آتا ہے..اور ان کی میٹھی یادوں کے زخم دل کو چیرتے ہیں..تین مساجد شہید ہوئیں..وہ بھی واپس تشریف لے آئیں..مزید بارہ مساجد اور تعمیر ہو گئیں..معصوم شہید بچوں نے..دشمن کو تباہ و برباد کیا تو شہید بہنوں بیٹیوں نے المؤمنات کا لشکر کھڑا کر دیا..دعوت ایمان کو نئی زندگی ملی..اور دیوانوں کی تعداد میں الحمدللہ بے پناہ اضافہ ہوا....ہاں بے شک رب تعالی نے سب کچھ سمجھا دیا ہے..اللہ تعالی ہمیں سمجھنے والا بنا دیں.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


06.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مقام علم و شہادت

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی نے ”شہداء“ کو جو ”مقام“ عطاء فرمایا ہے..اگر دنیا کے انسان اس کی ایک جھلک دیکھ لیں تو پھر....وہ اس کی طرف یوں دوڑیں جیسے ماں...اپنے جدا ہونے والے بچے کو واپس آتا دیکھ کر دوڑتی ہے......ہمارے زمانے کے اکابر علماء میں سے..ایک ”عالم ربانی“ کل ”چارسدہ“ میں شہید کر دیے گئے..ان کی جدائی پر...

..انا لله وانا اليه راجعون..اللهم لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده..

مقبول محدث، مرجع مدرس، پر اثر خطیب و واعظ، مقام محبوبیت پر فائز...ولی کامل، عالم با عمل، علم کی بلندیوں کے مسافر، اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی اور عاشق...حضرت اقدس مولانا محمد ادریس صاحب..نور اللہ مرقدہ..وہ اپنے گھر سے تیار ہو کر نکلے...طلبہ آنکھیں بچھا کر ان کی ”خالی مسند“ کو مشتاق نظروں سے دیکھ رہے تھے....مگر آج انہوں نے ”مسند حدیث“ پر نہیں..” مسند شہادت“ پر ”رونق افروز“ ہونا تھا....طلبہ اور امت کے اہل ایمان روتے رہ گئے جبکہ..حضرت مسکراتے ہوئے اونچی پرواز فرما گئے...

دین کے علم کا بہت اونچا مقام ہے..قاتلوں، ظالموں اور منافقوں کا کیا پتا؟ اس دین کی پہلی وحی....”علم دین“ کے حکم کی نازل ہوئی..اور پہاڑ کی بلندی پر نازل ہوئی....”اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ“....اس لیے علماء کا مقام ہمیشہ کے لیے بلند ہے..کسی کو اس کی سمجھ ہوتی تو وہ ان پر گولی چلانے سے پہلے ہی شرم اور شرمندگی سے مر جاتا...مگر دنیا میں ”بدبختوں“ کی کوئی کمی نہیں..وہ ”اللہ والوں“ پر  زبان بھی چلاتے ہیں..اور گولیاں بھی برسا دیتے ہیں..مگر گولیاں کھانے والے اونچے اُڑ جاتے ہیں..جبکہ گولیاں مارنے اور مروانے والے نیچے گر جاتے ہیں...”اسفل سافلین“سے بھی نیچے..”تحت الثرٰی“سے بھی نیچے...

شہید کی روح جب نکلتی ہے تو وہ اپنے اونچے مقام کو بھی دیکھ لیتا ہے..اور اپنے قاتلوں اور ان کی بدبختی کو بھی..چنانچہ وہ مسکرا دیتا ہے..اللہ تعالی کی ہر بات حق ہے..فرمایا شہید کو ”مُردہ“ مت کہو..شہید کو مُردہ نہ سمجھو..اس پر کوئی کہہ سکتا تھا کہ شاید یہ ان کے احترام اور اعزاز کے لیے حکم ہے..فرمایا نہیں بلکہ وہ ”زندہ“ ہے..

یا اللہ وہ زندہ ہے تو بولتا کیوں نہیں؟ چلتا کیوں نہیں؟..فرمایا..تمہیں اس کی زندگی کا ”شعور“ نہیں..وَّ لٰـكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ..یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ ہمیں شہید کی زندگی کا ”شعور“ نہیں..شعور ہوتا تو اسے دفن کون کرتا؟ اور بہت سے تکوینی راز بھی کھل جاتے..عام زندہ آدمی تو زیادہ سے زیادہ ملکوں کا سفر کر سکتا ہے..یا زمین کے مدار میں موجود سیارچوں کا..جبکہ شہید تو ”جہانوں“ کا سفر کرتا ہے..

..دیکھا نہیں..حقیقی شہداء کے قاتل کیسے برباد ہوتے ہیں؟..آخر پچھلے سال (10) مئی کو انڈیا کیوں چوہے کی طرح کانپ رہا تھا....جل رہا تھا...ان شاءاللہ ”حضرت“ کے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کا انجام بھی بہت عبرت ناک ہوگا....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله