05.11.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بدلتی
دنیا کے رنگ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....
اللہ
تعالی.....”بد نصیبی“ اور دشمنوں کی خوشی سے ہماری حفاظت فرمائیں..
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ سُوْءِ الْقَضَاءِ وَ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ“
یہ
حضرت سیدنا و مولانا آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء ہے..اسمیں دو چیزوں
سے اللہ تعالی کی پناہ مانگی گئی ہے..①
”سُوْءِ الْقَضَاء“یعنی مقدر کی بُرائی...بد نصیبی..اور تقدیر کی خرابی...②”شَمَاتَة
الْأَعْدَاء“ یعنی انسان کا ایسی حالت میں جا گرنا کہ جسے دیکھ کر اس کے دشمن خوش
ہوں...آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعاء مانگا کرتے تھے..
”اَللّٰھُمَّ
اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ سُوْءِ الْقَضَاءِ وَ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ“[بخاری]
کچھ
دن پہلے ”نیتن یاہو“ اور کل سے ”ٹرمپ“ کی جو حالت ہے..اسے دیکھیں تو....”شَمَاتَةِ
الْأَعْدَاءِ“ کی کیفیت سمجھ آجاتی ہے..ان دو ”بد نصیبوں“ کے اکثر ”خوش نصیب“
دشمن...خوش ہیں..مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں..اور ان دونوں کا جم کر مذاق اڑا رہے ہیں..دوسروں
پر ”حملہ آور“ ان دو حکمرانوں کو خود ان کی اپنی عوام نے شکست سے دوچار کر دیا
ہے..اور وہ عالمی یہودی مالیاتی ادارے جو دنیا بھر کے انتخابات کو اپنے حق میں
کنٹرول کرتے تھے..اپنے اصل اڈوں میں ناکام ہو چکے ہیں..
اللہ
تعالی کی تقدیر دیکھیں...دنیا کے رنگ کیسے بدل رہے ہیں..امریکہ کے حالیہ انتخابات
میں بارہ مسلمان کامیاب ہوئے ہیں..یہ عدد چھوٹا ہے مگر چھوٹے دجالوں کو لرزانے کے
لیے کافی ہے..ہمارے ایک ”نیم بزرگ“ ساتھی کہتے تھے کہ..دنیا کے دو ملکوں میں اسلام
اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے کہ امید ہے وہاں عوامی اکثریت سے مسلمانوں کی حکومتیں
قائم ہو جائیں گی..ایک امریکہ اور دوسرا سری لنکا..وہ چونکہ ”نیم بزرگ“ تھے اس لیے
ان کے تجزیے سے اتفاق ضروری نہیں ہے..مگر حالات بہرحال بدل رہے ہیں..جبکہ ہمارے ایک
”کامل بزرگ“ فرمایا کرتے تھے کہ ”جرمن“ قوم میں اسلام پھیل جائے گا..اور ”جرمنی“
اسلام کی طاقت بنے گا..انکی بات دل کو لگتی ہے..کیونکہ ”جرمنوں“ نے ماضی میں ”بدترین
قوم“ کی بھرپور ٹھکائی کی ہے..ممکن ہے اس کا اُنہیں انعام ملے..
بہرحال
حالات کی اس ساری تبدیلی کے پیچھے..اللہ تعالی کے پیارے شہداء اور مجاہدین کا خون
ہے..انہی کے خوف، رعب اور قربانی کی برکت سے..دنیا والے اب کچے پکے مسلمانوں کو
گلے لگا رہے ہیں..آپ نے نہیں دیکھا کہ ”مودی“ گزشتہ ڈیڑھ سال سے قبر میں ہے..اور
اب اس کی قبر میں ”کاکروچوں“ کا عذاب اور طوفان داخل ہو گیا ہے..وہ بد نصیب اب زیادہ
سے زیادہ مساجد شہید کر رہا ہے..مگر ہر مسجد کا ملبہ..اس کی قبر پر ذلت اور آگ بن
کر گر رہا ہے..اور بہت جلد انڈیا سے اچھی خبریں آنے والی ہیں ان شاءاللہ..دو بہت
مزیدار باتیں اور بھی لکھنی تھیں مگر وہ
رہ گئیں..چلیں پھر کبھی ان شاءاللہ....مغرب سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
15.10.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
جان
و مال لگانے والا
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....
اللہ
تعالی کے پاس اپنے لیے...بہت کچھ آگے بھیج کر..بھائی محمد عاصم صاحب..آج خود بھی
تہجد کے وقت..اپنے خون سے غسل کر کے...اللہ تعالی کے حضور پیش ہو گئے..
..انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون..
اُن
کی گاڑی کو..ایک ٹرالر نے روند ڈالا..اور وہ اپنی اہلیہ اور بیٹے سمیت شہید ہو
گئے..ایک مؤمن کی موت بظاہر جتنی بھیانک اور ٹوٹ پھوٹ والی ہو..اسیقدر میٹھی، آسان
اور عالی شان ہوتی ہے..
بہترین
شہادت کا فرمایا کہ..خود بھی شہید اور گھوڑا بھی ساتھ کٹ جائے..ان کی گاڑی...جہادی
گھوڑے کی طرح دن رات جہاد کے لیے..جہاد کی محنت کے لیے...اور مجاہدین کی خدمت کے لیے
دوڑتی تھی...وہ انتھک تھے، کشادہ دل تھے..بہادر اور سخی تھے..اور ان سے کوئی نہ
کوئی خیر ہر وقت پھوٹتی رہتی تھی..
ارشاد فرمایا:-
”...وَ
مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا
وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا...“[مزمل: ⑳]
اور
جو خیر تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالی کے ہاں پاؤ گے..پہلے سے بہت زیادہ
اور بڑے اجر والی....
انکی
گاڑی تو ہر وقت دین اور خیر کے لیے دوڑتی ہی تھی..اس کے باوجود انہوں نے ایک گھوڑا
بھی خرید کر...مدرسہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ میں وقف کیا ہوا تھا...
ان
کی ”خیر“ اور ”خدمت“ کی وسعت کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ..آج لاہور، بہاولپور سے
لے کر....غزہ، استنبول..اور کشمیر میں اُن کے لیے آنسو بہہ رہے ہیں....اللہ تعالی
اُن کو.....ان کی اہلیہ اور بچے کو شہادت، مغفرت اور اکرام کا عالی مقام نصیب
فرمائیں....
وہ تشکیل میں تھے..جان و مال دونوں لگا رہے
تھے..اور ایک پورے ضلع کے کام کو سنبھال رہے تھے..
ان
کی نماز جنازہ ان شاءاللہ بعد نماز مغرب جامعہ اشرفیہ لاہور میں ادا کی جائے گی..ایک
”ولی اللہ“ کے جنازے میں شرکت کو سعادت سمجھیں..اور دور والے ایصال ثواب کا ہدیہ
بھیجیں...
”اللّٰهُمَّ
صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ كَمَا هُوَ أَهْلُهٗ وَ مُسْتَحَقُّهٗ“...مغرب
سے جمعہ شریف..مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
12.10.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مولانا
عبدالحفیظ امیر پوری رحمۃ اللہ علیہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....
اللہ
تعالی کے ”عقلمند“ بندے وہ ہیں..جو اپنی زندگی میں..اپنی موت کی تیاری کرتے ہیں..ایسے
اعمال کرتے ہیں جو موت کے بعد کام آئیں..اور اس بارے میں ہمیشہ غور و فکر کرتے
رہتے ہیں کہ..وہ اپنے لیے آگے کیا بھیج رہے ہیں:-
”وَ
لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ“(الحشر۱۸)
ترجمہ:
ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کل (یعنی آخرت) کے لیے کیا بھیج رہا ہے..
آپ
نے ہفت روزہ ”القلم“..اور پندرہ روزہ ”مدینہ مدینہ“ میں ایک نام پڑھا ہوگا..
”عبدالحفیظ
امیر پوری“
یہ
بندہ کے چچا زاد بھائی تھے..عرصہ دراز سے جماعت کے ساتھ وابستہ تھے اور باقاعدگی
سے کالم لکھتے تھے..آج وہ اللہ تعالی سے ملاقات کو چلے گئے..
..انا
للہ وانا الیہ راجعون..
اللہ
تعالی ان کو اپنی مغفرت اور رحمت کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ماشاءاللہ عالم دین
اور صاحب قلم تھے..انکی نماز جنازہ کل بروز منگل دن گیارہ بجے..ان شاءاللہ ”جامعۃ
الصابر بہاولپور“ میں ادا کی جائے گی..قریب والوں سے شرکت کی..اور دور والوں سے ”ایصال
ثواب“ کی درخواست ہے..
② جمادی الاولی ۱۴۴۸ھ کا چاند ہو گیا ہے..چاند
رات جاری ہے..دعاء و معمولات کی یاد دہانی ہے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
08.10.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اِختِلَافْ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....
اللہ
تعالی کے پیارے پیارے نام ہیں..یعنی أَسماءُ الحُسنٰی..ان أَسماءُ الحُسنٰی میں سے
ایک”الحَقُّ جلّ شانہ“ ہے..اللہ تعالی ہمیں اپنے اِس مبارک ”اِسم صفاتی“ کی برکت
سے..”حق“ نصیب فرمائیں..”حق“ پر چلائیں..”حق“ کا ”داعی“ اور ”مُوصِی“ بنائیں.....
اس
دنیا کی ”خوبصورتی“ اختلاف سے ہے..ہر انسان دوسرے سے مختلف..ہر ”حیوان“ دوسرے سے
مختلف..حتی کہ ہر درخت اور پتھر دوسرے سے مختلف..
”
اختلاف“ انسان کی ”فطرت“ میں موجود ہے..جس طرح بھوک اور پیاس انسان کی فطرت میں
داخل ہیں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے جس طرح بھوک اور پیاس مٹانے
کے اصول، قوانین اور حدود مقرر کر دیئے ہیں..اسی طرح ”اختلاف“ کے بھی قوانین، حدود
اور اصول ارشاد فرما دیے ہیں..ہر ”اختلاف“ اچھا نہیں ہوتا..اور ہر اختلاف بُرا بھی
نہیں ہوتا..اختلاف ”سفر“ کی طرح ہے اس سے انسان کے ”اخلاق“ کا پتہ چل جاتا ہے..ہر
”اختلاف“ سے بچنے کی کوشش کرنا یہ انسان کو ”منافق“ بنا دیتا ہے..اور ہر اختلاف میں
کود پڑنا..یہ انسان کو ذلت اور محرومی میں ڈال دیتا ہے..کسی اختلاف میں دونوں طرف
”حق“ کی گنجائش ہوتی ہے جبکہ..بعض اختلافات میں دونوں طرف ”باطل“ ہوتا ہے..جبکہ
بعض اختلافات میں ایک طرف ”حق“..اور ایک طرف ”باطل“ ہوتا ہے..بعض ”اختلاف“ ضروری
ہوتے ہیں..بعض جائز ہوتے ہیں..بعض فضول ہوتے ہیں..جبکہ بعض اختلافات مکروہ اور
حرام ہوتے ہیں..اختلاف میں ”نیت“ کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے...اور یہ بھی دیکھنا ضروری
ہوتا ہے کہ..اس ”اختلاف“ میں پڑنے سے مجھے اور اُمت کو کیا فائدہ ہوگا...
حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی
تہجد کی نماز کا آغاز ہی اس دعاء سے فرماتے تھے کہ..اللہ تعالی اختلافی معاملات میں
مجھے ”حق“ پر رکھیں...یہ دعاء بخاری شریف اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے..بندہ اس
پر ایک پورا مضمون بھی لکھ چکا ہے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ”ہر حال“ اور ”ہر
قال“ میں ”برحق“ ہیں..یہ دعاء دراصل اُمت کی تعلیم کے لیے تھی..
بہرحال
”اختلاف“ کے معاملہ میں شریعت کی پیروی ضروری ہے..لیکن یہ بات سوشل میڈیا کے بے
غسل، بے وضو، بے لگام طبقے کو کون سمجھائے؟
چلیں
اللہ تعالی کا شکر ہے..جمعہ شریف آرہے ہیں..مغرب سے مقابلہ حسن کے ساتھ
شاندار....ایماندار استقبال نصیب ہو.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
<مکتوب خادم>
”دُعَاءُالشَّیخَینْ“
السلام علیکم ورحمة اللہ
وبرکاته....
اللہ تعالی کا شکر
کہ..انہوں نے اس اُمت کو..حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جیسے..خلیفہ اول، خلیفہ
بلا فصل، خلیفہ راشد عطاء فرمائے...والحمدللہ رب العالمین..
کل جو پیاری دعاء لکھی تھی..وہ
پیارے اور عظیم انسان کامل..حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مانگا کرتے
تھے..سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد....ہمارے اور پوری اُمت کے سب سے
بڑے مُحسِنْ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ..
(اللهم) یا اللہ تعالی جی
(لَا تَدَعْنَا) ہمیں نہ چھوڑیں (فِی غَمْرَةٍ) گمراہی، عیاشی اور گناہوں میں ڈوبا
ہوا....آخرت کی تیاری سے غافل ہو کر دنیا کے نشے میں ڈوبا ہوا..یعنی ہم اگر ایسی
حالت میں ہیں تو آپ ہمیں اُس سے نکال دیجئے
(وَلَا تَأخُذْنَا) اور ہمیں نہ پکڑیں (عَلىٰ غِرَّۃٍ) دھوکے اور غفلت میں پڑا
ہوا..یعنی ہم کسی گناہ میں ہوں..یا کسی مستی میں ہوں اور اچانک اس حالت میں موت
آجائے..اس سے ہماری حفاظت فرما دیجئے (وَلَا تَجْعَلْنَا) اور ہمیں نہ بنائیے
(مِنَ الغَافِلِينْ) غافلوں میں سے..دین سے غافل..قرآن سے غافل..فرائض سے
غافل..اپنی شرعی ذمہ داریوں سے غافل..آخرت کی تیاری سے غافل..قبر، حشر، آخرت سے
غافل..اللہ تعالی فرماتے ہیں..لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا..جبکہ وہ غفلت میں
پڑے ہوئے ہیں..قرآن مجید جا بجا غفلت سے روکتا ہے....دیکھا آپ نے کتنی جامع اور
ضروری دعاء ہے..
..اللهم لَا تَدَعْنَا فِی
غَمْرَةٍ وَلَا تَأخُذْنَا عَلىٰ غِرَّۃٍ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الغَافِلِينْ...
مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک
روایت کے مطابق..حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے آخری وقت یہی
دعاء مانگی تھی..(وہاں مفرد یعنی واحد متکلم کا صیغہ آیا ہے)
”اللهم لَا تَدَعْنِی فِی
غَمْرَةٍ وَلَا تَأخُذْنِی عَلىٰ غِرَّۃٍ وَلَا تَجْعَلْنِی مِنَ الغَافِلِينْ“
یا اللہ مجھے گمراہی اور
گناہ میں مدہوش نہ چھوڑیں اور مجھے اچانک نہ پکڑیں اور مجھے غافلوں میں سے نہ بنائیں..
بعض جگہ الفاظ کچھ آگے پیچھے
ہیں...مگر مفہوم اور مقصد ایک ہی ہے..
سبحان اللہ!..اب تو یہ
”دُعَاءُالشَّیخَین“ ہو گئی..رضی اللہ عنہما...وہ جو کبھی غافل اور گناہوں میں مست
ہوتے ہی نہ تھے..وہ یہ دعاء مانگتے تھے..تو پھر ہمارے لیے یہ کتنی اہم ہوگی....جو
کبھی ”بیدار“ ہی نہیں ہوتے..مغرب جمعہ شریف،مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله الاالله
محمد رسول الله
30.09.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
پیارے
انسان کی پیاری دعاء
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....
اللہ
تعالی کسی ”خنّاس“ کو ہم پر مسلط نہ فرمائیں..وہ انسان ہو یا جن..اللہ تعالی ”بُرے
قرین“..”بُرے دوست“ اور ”بُرے ہمزاد“ سے ہماری حفاظت فرمائیں...
”خنّاس“
کون ہے؟ بتایا گیا کہ”خنّاس“ بے شمار ہیں..وہ ہر زمانے میں ہوتے ہیں..اور ہر
مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں....ان کا کام ہے دل میں وسوسہ، شبہ اور بدگمانی
ڈالنا..اور وہ بھی نہایت اُستادی کے ساتھ...مہارت کے ساتھ...بظاہر خیر خواہی جتلا
کر...باتوں ہی باتوں میں...ایسا وسوسہ...جو آپ سے کسی اچھی محبت کو چھین لے..کسی
اچھے عمل کو چھین لے..کسی اچھی جماعت کو چھین لے...کتنے لوگ نیک اعمال میں لگے
ہوتے ہیں..کوئی آکر ایسا وسوسہ ڈالتا ہے کہ وہ....غفلت میں جا گرتے ہیں..کسی کے
ساتھ تعلق آپ کو دینی فائدہ اور ترقی دے رہا ہے...خنّاس نے اُس کے خلاف ایسا وسوسہ
چھوڑا کہ..وہ تعلق ٹوٹ گیا..فوائد رک گئے..بڑا تفصیلی موضوع ہے..قرآن مجید کی آخری
”سورۃ“ میں بھی مذکور ہے..اور کئی دیگر مقامات پر بھی...آخری سورۃ مبارکہ تو اس سے
حفاظت کا ذریعہ بھی ہے..جو لوگ دین سے، جماعت سے بدظن ہو جاتے ہیں..یا خوفزدہ ہو
کر امن کی راہیں ڈھونڈنے لگتے ہیں..یا مصلحت و ضرورت کے بہانے دنیا میں مشغول ہو
جاتے ہیں..یا مایوس ہو کر راستہ بدلنے لگتے ہیں..ان سے عرض کیا جاتا ہے کہ توجہ کے
ساتھ...روز سو بار..یا کم از کم صبح و شام گیارہ بار...قرآن مجید کی آخری دو سورتیں
پڑھا کریں..الحمدللہ اس عمل کی برکت سے کئی تو گڑھے تک پہنچ کر..واپس آگئے..مگر کئی
نے اس گزارش کو بھی نہ مانا..وہ پہلے خود ”خناس“ کا شکار ہوئے اور پھر ترقی کرتے
کرتے خود ”خناس“ بن گئے..اور کام والوں کو مایوس، پریشان اور بدظن کرنے لگے..خیر یہ
آج ہمارا موضوع نہیں...اصل موضوع تو ایک بہت پیاری دعاء ہے..جو ایک بہت ہی پیارے
انسان مانگا کرتے تھے..غفلت کی حالت میں موت سے حفاظت کی دعاء.....
اللهم
لَا تَدَعْنَا فِی غَمْرَةٍ وَلَا تَأخُذْنَا عَلىٰ غِرَّۃٍ وَلَا تَجْعَلْنَا
مِنَ الغَافِلِينْ...
دعاء
کی تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
29.09.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
حقائق
میں ڈوب جائیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....
اللہ
تعالی آپ ”حق“ ہیں..آپ”برحق“ہیں..آپ سب سے بڑی ”حقیقت“ ہیں...سب سے سچی ”حقیقت“ ہیں..
”اللّٰھم
اَنْتَ الحَقْ“
یا
اللہ! آپ کے تمام وعدے ”حق“ ہیں..”برحق“ ہیں..بالکل سچی ”حقیقت“ ہیں...
”و
وَعْدُكَ الْحَقُّ“
یا
اللہ تعالی! آپ کا فرمایا ہوا...”حق“ ہے..” برحق“ ہے..بالکل سچی ”حقیقت“ ہے..
”وَقَوْلُكَ
الحَقُّ“
یا
اللہ! آپ کی ملاقات ”حق“ ہے..”برحق“ ہے.. موت ”حقیقت“ ہے..وہی آپ سے ملاقات ہے..
..
وَلِقَاؤُكَ الحَقُّ..
یا
اللہ! جنت ”حق“ ہے..”برحق“ ہے..پکی سچی ”حقیقت“ ہے..
”وَالْجَنَّةُ
حَقٌّ“
یا
اللہ! ”جہنم، آگ“حق ہے..برحق ہے..ایک یقینی حقیقت ہے..
”وَالنَّارُ
حَقٌّ“
یا
اللہ! آپ کے تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ”حق“ ہیں..”برحق“ ہیں..سچے ہیں..حضرت
سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے لیکر..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ
والہ وسلم تک...
”
وَالنَّبِيُّونَ حَق“
یا
اللہ! قیامت ”حق“ ہے..”برحق“ ہے..بالکل پکی ”سچی“ لازمی حقیقت ہے..
”وَالسَّاعَةُ
حَقٌّ“
حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم..جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تھے تو یہ ”دعاء“
پڑھا کرتے تھے..دنیا دراصل دھوکے کی جگہ ہے..انسان کے دل و دماغ سے اصل ”حقائق“
نکل جاتے ہیں..اور وہ نقلی، عارضی اور فانی فکروں میں خود کو ضائع کرنے لگتا
ہے..اس لیے لازم ہے کہ آنکھ کھلتے ہی خود کو....یہ ”حقائق“ یاد دلائے جائیں..اپنے
ایمان کو درست کیا جائے..اور ان ”حقائق“ میں کامیابی کو اپنی اصل فکر بنایا
جائے...
(مفید
مشورہ) آج منگل کا دن اور دنیا کے اکثر خطوں میں ۱۷ ربیع الثانی ہے..جسمانی،
قلبی، سفلی، آسیبی، وہمی اور نظری امراض کا بہترین علاج ”حجامہ“ بھی ہے..موقع سے
فائدہ اٹھائیں...(”پاکستانی چاند “بدھ کے دن ”سترہ“ کا ہوگا)...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






