14.02.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مبارک نتیجہ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی مجھے اور آپ کو ”یقین“ کی نعمت نصیب فرمائیں...اللہ تعالی پر یقین...حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین...اللہ تعالی کی باتوں پر یقین...اللہ تعالی کے وعدوں پر یقین...آخرت پر یقین...

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

تھوڑی سی توجہ فرمائیں...سورہ الصف آیت (۱۰) میں..اللہ تعالی بڑے پیار سے ہمیں ”کامیاب تاجر“ بننے کی دعوت دے رہے ہیں...اے ایمان والو! کیا تمہیں ایک ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا دے گی....آہ! دردناک! درد! آہ عذاب!

کیا آپ نے کبھی دنیا کا درد دیکھا ہے؟ کتنا سخت ہوتا ہے؟ تو پھر آخرت کا درد کیسا ہوگا؟ دنیا کا کوئی ”بزنس“...کوئی تجارت..عذاب اور درد سے نہیں بچا سکتی..بڑے بڑے ارب پتی تاجر روز درد اٹھاتے ہیں..مگر جو ”تجارت“ اللہ تعالی سمجھا رہے ہیں وہ یقینا دردناک عذاب سے بچائے گی...وہ تجارت کیا ہے؟ فرمایا ایمان لے آؤ اور اپنی جان اور مال کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ میں لگا دو...پھر کیا ہوگا؟...سمجھایا کہ پھر تم پر دنیا اور آخرت کے انعامات کے دروازے پورے پورے کھول دیے جائیں گے (۱) تم خیر حاصل کر لو گے (۲) تمہیں سارے گناہوں سے معافی اور مغفرت مل جائے گی (۳) تمہیں خوبصورت پانی کے کناروں والی جنت ملے گی (۴) بڑے زبردست محلات اور کوٹھیاں ہمیشہ کے لیے تمہارے نام ہو جائیں گی...(۵) تمہیں اصل کامیابی ملے گی........واہ! ماشاءاللہ، سبحان اللہ...جان اور مال جہاد پر لگانے کے اتنے زیادہ.....اور اتنے بڑے انعامات؟..فرمایا! یہی نہیں ایک اور چیز بھی ملے گی....اور اسی دنیا میں ملے گی..اور وہ چیز تمہیں پسند بھی بہت ہے..اور وہ ہے:

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

”اللہ تعالی کی مدد.....اور فوری فتوحات“

...اللہ تعالی کا پکا وعدہ...اللہ تعالی کا سچا وعدہ...اللہ تعالی کا میٹھا وعدہ...

اس آیت مبارکہ کو....ہر کوئی اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے..جبکہ حقیقت میں یہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ کا انعام ہے...جان اور مال کی قربانی کا انعام ہے...حضرات صحابہ کرام نے مکمل یقین کیا...اور پوری جان...اور سارا مال لگا دیا...پھر کیا تھا؟ وہ دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالی کی نصرت سے ”فاتح عالم“ بن گئے....اسی مبارک عمل..اور اسی مبارک نتیجے کی یاد دہانی کے لیے..اور اسکی برکت سمیٹنے کے لیے ہم اپنی ادنی سی مہم میں پڑھ رہے ہیں...

...نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...

یا اللہ ”یقین“ نصیب فرما!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


13.02.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مُنوَّر روشنی

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی ہمیں اپنی مدد و نصرت...اور فتح نصیب فرمائیں:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

آج کل الحمدللہ ان عظیم کلمات کے ورد کی توفیق مل رہی ہے:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

یہ کلمات....شہنشاہ اعظم، مالک الملک..اللہ جل شانہ کا کلام ہیں..نہ کوئی اللہ تعالی کی عظمت کا اندازہ لگا سکتا ہے..اور نہ اللہ تعالی کے کلام کی عظمت کا..یہ بات سوچ کر پڑھیں:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

اللہ تعالی کا کلام ”نور“ ہے..اصل ”روحانیت“ ہے..روشنی ہے..زندگی ہے اور ہدایت ہے..

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

الحمدللہ ”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ ہمارے لیے اللہ تعالی کی رحمت بن کر آتی ہے..اور ہمیں اس میں الحمدللہ طرح طرح کے انعامات ملتے ہیں..اس سال کے انعامات میں سے ایک..ان وجد آفرین کلمات کا ورد ہے..

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

ان مبارک کلمات کو سمجھنے کے لیے...تھوڑی سی تکلیف کریں..کچھ دیر نور سے بھرے ہوئے ”مصحف شریف“ کے ساتھ بیٹھیں...اسمیں سے ”اٹھائیسواں پارہ“ نکالیں..اس پارے میں ”سورہ الصف“ نکالیں...اللہ تعالی توفیق دیں تو ساری ہی پڑھ لیں...اور سمجھ لیں..زندگی کے یہ لمحات قیمتی اور یادگار ہو جائیں گے.....آپ جب اس مبارک ”سورہ“ کی آیت رقم (13) پر پہنچیں گے..تو یہ کلمات آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گے..

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

اللہ تعالی کی نصرت مل جائے تو اور کیا چاہیے؟ اور فتح مل جائے تو پھر خوشی کے کیا ٹھکانے؟....مگر یہ ”نصرت“ اور ”فتح“ کون سی ہے..اور کس عمل سے ملتی ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے آپ کو آیت رقم (۱۰) سے...(۱۳) تک پورا مضمون پڑھنا ہوگا.. پھر آپ کےدل میں اتریں گے یہ کلمات:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

شکر ادا کریں کہ....اللہ تعالی نے آپ کو ”فریضہ جہاد“ کے انکار سے بچایا ہے..اب آپ پورے یقین سے پڑھ سکتے ہیں....

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


12.02.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

محرومی سے حفاظت

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی اپنے فضل سے...ہمیں دین کے کام میں لگائے رکھیں..اور ہمیں محروم نہ فرمائیں....

”ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ“

دین کے کام کی توفیق ملنا.....یہ بڑی سعادت اور خوش بختی ہے..اور اللہ تعالی کی ”محبت“ کی ایک علامت ہے..نہ اللہ تعالی کسی کے محتاج..نہ اللہ تعالی کا دین کسی کا محتاج....

...”اللّٰهُ اَحَدٌ، اَللّٰهُ الصَّمَد“...

اگر ہم دین کا کام نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟دنیا یہاں رہ جانی ہے..قبر تیزی سے قریب آرہی ہے.....زندگی ایک منٹ نہیں رکتی....دنیا کے جھگڑے ختم نہیں ہوتے...اللہ تعالی کسی انسان کو چھوڑ دیں....پھینک دیں تو اس کی پوری عمر فضولیات میں ضائع ہو جاتی ہے..

اس لیے.....جن کو دین کے کام کی توفیق ملتی ہے..ان کو ہر وقت شکر گزاری میں ڈوبے رہنا چاہیے....اور محرومی کے ڈر سے.....استغفار کرتے رہنا چاہیے...

وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ[محمد (۳۸)]

ترجمہ: اگر تم نخرے کرو گے تو اللہ تعالی تمہیں ہٹا کر اور لوگوں کو لے آئیں گے.....

دو رکعت ادا کر کے.....شکر اور شکرانہ....الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ کا والہانہ ورد...اور دو رکعت ادا کر کے.......توفیق، نصرت، قبولیت اور کامیابی کا سؤال..پھر ان شاءاللہ.......کام بھی آسان.....اور راستہ اور منزل بھی آسان..

مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


30.01.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مناظرہ کے فضائل

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کے سچے دین کی طرف ”دعوت“ دینے کے لیے...”مناظرہ“ کرنا...ایک عظیم عمل ہے...اس عمل کا ثبوت قرآن مجید سے ہے:

وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنْ (النحل (125))

ترجمہ: اور ان کفار کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے بحث کرو...

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں...کئی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ”مناظروں“ کو بیان فرمایا ہے..مگر صرف اتنا حصہ جسے سننا اور پڑھنا....ایمان کے لیے مفید ہے.....حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ساتھ ایک زبردست مناظرہ فرمایا....علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ضروری تفصیل...”جامع بیان العلم و فضلہ“ میں ذکر کی ہے....حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ”خوارج“ کے ساتھ مناظرہ فرمایا.....امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے ”مناظرے“ آپ حضرات نے سنے ہوں گے....حضرت اقدس مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہندوؤں کے ساتھ مناظرے..مشہور اور متداول ہیں.....”مناظرہ“ کو اہل علم نے دلوں کی شفاء....اور اطمینان کا ذریعہ قرار دیا ہے...اہل سنت کے نزدیک...پہلے دعوت ہے...پھر نصیحت اور وعظ ہے....اور پھر ضرورت پڑنے پر مناظرہ....

”مناظرہ“ ایک مشکل اور مہارت طلب کام ہے..اس لیے ہر کسی کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے..اہل علم نے ”فن مناظرہ“ پر کتابیں لکھی ہیں...پہلے دینی مدارس میں ”ماہر مناظرین کرام“ نہایت اہتمام سے یہ علم پڑھاتے تھے....بندہ نے بھی الحمدللہ....زمانے کے ممتاز ”مناظرین کرام“ سے یہ ”علم“ کئی بار پڑھا ہے...تمام اساتذہ کرام یہی فرماتے تھے کہ...”مناظرہ“ صرف ضرورت کے تحت کیا جائے..اور صرف وہی کرے جو اس میں مکمل مہارت رکھتا ہو....

یہ ساری تفصیل اس لیے عرض کی کہ.....ایک سابق مکتوب سے یہ نہ سمجھا جائے کہ بندہ نے ”مناظرہ“ کی مخالفت کی ہے..اس مکتوب میں مطمئن اہل اسلام کو...یہ مناظرہ سننے سے منع کیا تھا کہ.....کفریہ باتیں سننے سے دل پر برا اثر پڑتا ہے..اور جب آپ کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو آپ کو.....کسی ملحد کافر کی بکواس سننے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے لیے بس اتنی خبر کافی ہے کہ مناظرہ ہوا.....حق غالب ہوا، باطل ذلیل و رسوا ہوا...والحمدللہ رب العالمین..

اگر کسی کو کوئی آکر کہے کہ...تمہارا باپ نہیں ہے..تمہارا باپ نہیں ہے..تو کیا وہ مزے لے کر سنتا رہے گا؟...تو پھر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کے وجود کا انکار...بار بار کیوں سنیں؟..

کچھ شرارتی ملحد...اس مناظرے کو....مسلمانوں کے دلوں میں شبہات ڈالنے کے لیے پھیلا رہے تھے.....اس لیے اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے لیے وہ مکتوب لکھا تھا..جس کا الحمدللہ بہت فائدہ ہوا...اور بے شمار مسلمانوں کا یہ ذہن بن گیا کہ...کفر اور گستاخی کی باتوں کو.....بلا ضرورت کبھی نہیں سنیں گے...والحمدللہ رب العالمین...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 




29.01.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

تیر اندازی کے ارکان

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی ہمیں ”حق“ کی توفیق عطاء فرمائیں..اور ہر ”باطل“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..”حق“ اور ”باطل“ کا دائرہ بہت وسیع ہے..یہاں تک کہ ”کھیلوں“ میں بھی حق اور باطل ہوتا ہے..کئی روایات میں آیا ہے کہ.....ہر کھیل باطل ہے، فضول ہے، بھول ہے سوائے چار کھیلوں کے (۱)تیر اندازی (۲)گھڑ سواری (۳)تیراکی (۴)خاوند اور بیوی کا باہم کھیلنا، دل لگی کرنا..........ان میں سے تین کا تعلق......جہاد اور مؤمن کی مضبوطی سے ہے..اور ایک کا تعلق عفت، پاکدامنی اور تقوی سے ہے...ان مبارک اور مفید کھیلوں سے مسلمانوں کو جو انعامات ملتے ہیں..ان کی تفصیل بڑی دلکش ہے..اور ان پر انسان جو خرچ کرتا ہے..اس پر اجر کا وعدہ ہے..اور خرچ کیا ہوا مال ضرور واپس ملتا ہے....اس وقت مسلمانوں میں جو کھیل ”رواج“ پاچکے ہیں ان میں کئی گناہ اور خرابیاں شامل ہوچکی ہیں..کسی میں جوا ہے، کسی میں وقت کا ضیاع اور کسی میں بے پردگی، بےستری اور غفلت وغیرہ....اس لیے اہل علم، اہل منبر اور اہل دعوت کو چاہیے کہ وہ...تیر اندازی، گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ کے فضائل پڑھیں، سمجھیں، اپنائیں اور ان کی دعوت مسلمانوں میں عام کریں.....یہ پرانے اور قیمتی تحفے مسلمانوں میں جاری ہوں گے تو مسلمان نئے زمانے میں زیادہ اچھی ترقی کرسکیں گے.........جن قوموں کا ماضی اچھا ہو...شاندار اور تابناک ہو...وہ قومیں کبھی اپنے ماضی سے کٹ کر.....اپنے حال اور مستقبل میں ترقی نہیں کر سکتیں..آج تیر اندازی کے مکتوبات کا سلسلہ........تیر اندازی کے اصول پر مشتمل چند اشعار کے ذریعے مکمل کرتے ہیں....مزید ”ان شاءاللہ“ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ علمی، تحریری اور تبلیغی مواد بھی تیار کرنے کی کوشش کریں گے...ملاحظہ فرمائیے چند اشعار..

”الرَّمی اَفْضَلَ ما اوصی الرسول بہ -:- واشجع النّاسِ من بالرمی یفتخِرُ“

ترجمہ: تیر اندازی ان چیزوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے...افضل عمل ہے..اور لوگوں میں زیادہ بہادر وہ ہے جو اپنی تیر اندازی پر فخر کر سکے (یعنی بہت ماہر ہو)

أَرْكَانهُ خمسۃٌ القَبْضُ اَوُّلها -:- وَالعَقْدُ، وَالْمَدُّ وَلْإِطْلَاقُ والنَّظْرُ...

ترجمہ: تیر اندازی کے پانچ فرائض ہیں (۱)”اَلقَبْضُ“ (یعنی الٹے ہاتھ سے کمان کے اگلے حصے کو پکڑنا) (۲)”العَقْدُ“ (یعنی سیدھے ہاتھ سے تیر اور تانت یعنی رسی کو پکڑنا)(۳)”الْمَدُّ“ (یعنی تیر کو اپنی طرف کھینچنا) (۴)”الْإِطْلَاقُ“ (یعنی تیر کو ہدف کی طرف چھوڑنا) (۵)”النَّظْرُ“ (یعنی آنکھ سے نشانہ باندھنا)....

دراصل ان پانچ ”ارکان“ کے طریقے ”اہل فن“ اور اہل علم نے مقرر فرمائے ہیں کہ..کتنی انگلیاں استعمال ہوں..نشانہ ایک آنکھ بند کر کے لیں یا دونوں آنکھیں کھلی ہوں..تیر کو کتنا کھینچا جائے..اگلا ہاتھ سخت رکھیں یا نرم وغیرہ......الحمدللہ سارا علم کتابوں میں موجود ہے...ملاحظہ فرما لیں..مکتوب طویل ہو گیا اور ایک شعر رہ گیا....معذرت.....

مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 




28.01.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

نِعمَتِ الٰہی

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ”تیر اندازی“ ہے..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو نصیب فرمائیں...

خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں اسے ”نعمت الہی“ قرار دیا ہے...اور ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”سنت“ قرار دیا ہے...”تیر اندازی“ کے مقام کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ دعاء دی:-

”اَللّٰهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَهُ وأَجِبْ دَعْوَتَہُ“

ترجمہ: ”یا اللہ ان کی تیر اندازی بہترین فرما دیجئے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرمائیے“

اس کے بعد سے ان کا کوئی تیر نشانے سے خطا نہیں ہوتا تھا اور ہر دعاء قبول ہوتی تھی...اور غزوہ اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا...اے سعد! میرے ماں باپ آپ پر قربان، تیر چلاؤ..

حقیقی بات یہ ہے کہ آج جو لوگ..اللہ تعالی کے فضل سے امت میں ”تیر اندازی“ کا ”احیا“ کر رہے ہیں..یہ لوگ اس امت کے ”خیر خواہ“ ہیں..حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کو باقاعدہ حکم جاری فرمایا کہ......مسلمانوں کو ”تیر اندازی“ سکھائی جائے اور آپ فرماتے تھے..

”اَلْمِعْرَاضُ رَوضَۃٌ مِن رِیاضِ الجَنَّۃِ“

ترجمہ: تیر اندازی کا ہدف، جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے.....

یعنی جب کوئی تیر اندازی سیکھنے کے لیے...کوئی ”ہدف“ کھڑا کرتا ہے..تو تیر انداز اپنا تیر اس پر چلانے کے بعد.....تیر واپس اٹھانے کے لیے..اور نشانہ دیکھنے کے لیے اس کی طرف چلتا ہے..تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ جنت کے باغ میں چل رہا ہے...اس چلنے پر اس کو اجر ملے گا....اور یہ عمل جنت میں کام آنے والا عمل ہے...”تیر اندازی“ کے فضائل اور فوائد بہت زیادہ ہیں..اس لیے حضرات صحابہ کرام نے اس پر بہت محنت فرمائی..اور اس میں ایسی مہارت حاصل کی..جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی..اسی نسبت سے مسلمانوں میں بڑے بڑے ماہر تیر انداز پیدا ہوئے اور انہوں نے اس مبارک عمل کے اصول و ضوابط بھی مقرر کیے....

تیر اندازی کے ساتھ جو نسبت، جو فضیلت اور جو علم منسلک ہو چکا ہے..اس کا تقاضا یہی ہے کہ یہ عمل ہر زمانے کے مسلمانوں میں جاری رہے..آج کل اگرچہ یہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن جیسے جیسے اس میں شوق اور مہارت بڑھتی جائے گی..یہ سستا بھی ہوتا جائے گا..

الحمدللہ اس وقت بھی کئی افراد خود کمان..اور سستے تیر بنانا شروع ہو گئے ہیں..جماعت کا ایک شعبہ بھی اس پر کام کر رہا ہے..اس شعبے کا ”تیر کمان“ کارخانہ ”کچھوے“ کی طرح تیز رفتاری سے تیر اور کمانیں بنا رہا ہے..اور مزید تجربات کر رہا ہے تاکہ..مسلمان بغیر کسی بوجھ کے....اس مبارک نورانی عمل سے جڑ جائیں...الحمدللہ ثم الحمدللہ تھوڑی سی محنت اور توجہ سے...اس وقت ہزاروں مسلمان...اس عمل کو اپنا چکے ہیں..

..والحمدللہ رب العالمین..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


27.01.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

تیر اندازی

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کے مبارک اور عظیم نام سے....اور اللہ تعالی کی توفیق سے..آج ”تیر اندازی“ پر کچھ بات کرتے ہیں..آپ کی آسانی کے لیے...ترتیب کے ساتھ خلاصہ عرض خدمت ہے..

(۱) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں...مسلمانوں کو ”قوت“ بنانے کا حکم فرمایا ہے..دیکھیے سورہ انفال کی آیت رقم(۶۰) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قوت“ کی تفسیر ”تیر اندازی“ سے فرمائی ہے..دیکھیے صحیح مسلم...اسی لیے اہل علم فرماتے ہیں کہ

”وَهٰذَا الْفَضْلُ لِلْرَمِيْ باقٍ اِلٰى قِيامِ السَّاعَةِ“

یعنی..تیر اندازی کے فضائل قیامت تک ہیں...یعنی اس کی جنگی ضرورت رہے یا نہ رہے..چونکہ یہ اللہ تعالی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے..تو اس کی فضیلت..اور اس کے فضائل قیامت تک رہیں گے....

(۲) تیر اندازی کا حکم قرآن مجید میں ہے...احادیث مبارکہ میں ہے..تو یہ بھی ایک ”دینی علم“ ہے..مسلمانوں کو چاہیے کہ اس علم کو پڑھیں بھی...اور سیکھیں بھی..

(۳) اہل علم نے ”تیر اندازی“ کے فضائل، احکام اور آداب پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں لکھی ہیں طلبہ علم ان کتابوں کو حاصل کریں..اور اس مٹے ہوئے علم کو اچھی طرح پڑھیں..

(۴) تیر اندازی کے فضائل کا مختصر خلاصہ.....احادیث مبارکہ سے درج ذیل ہے..

• آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر اندازی فرماتے تھے..ایک بار تو اتنے تیر چلائے کہ کمان ٹوٹ گئی..جو حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے رکھ لی • تیر اندازی حضرت سیدنا اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وراثت ہے..ملاحظہ فرمائیے بخاری شریف • تیر اندازی کی مجلس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں..سبحان اللہ..وہ کتنی معزز اور روحانی مجلس ہوتی ہے جس میں حضرات ملائکہ شامل ہوں..حضرات ملائکہ کے اعزاز اور احترام کے لیے...اہل علم نے ”تیر اندازی“ کے باقاعدہ آداب لکھے ہیں...جیسے کسی مجلس میں قوم کے سردار اور حاکم شریک ہوں تو اس مجلس کے آداب عام مجلس سے الگ ہوتے ہیں... • تیر اندازی سے ”ھم اور غم“ ختم ہوتے ہیں..یعنی پریشانیاں، تفکرات، ٹینشن اور غم، گھٹن سے انسان کو آزادی ملتی ہے..علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ..اگر تیر اندازی کی صرف یہی ایک فضیلت ہوتی تو بھی یہ کافی تھی...(کیونکہ پریشانیاں اور ھموم و غموم انسان کو مار دیتے ہیں، گرا دیتے ہیں)

(۵) آج اسی قدر پر اکتفا کرتے ہیں....باقی آئندہ ان شاءاللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله