<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے حبیب..حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "دین نام ہے دوسروں کے لئے خیر چاہنے کا"..ہمارے قول فعل اور عمل سے..دوسرے مسلمانوں کو خیر اور بھلائی پہنچے..ھمارے علم اور مال سے دوسروں کا بھلا ہو..ھماری سوچ اور فکر سے نصیحت و خیرخواھی ٹپکے..اس حدیث مبارکہ پر عمل کی نیت سے عرض ہے کہ.."حجامہ" کرالیں..آجکل مسنون تاریخیں چل رھی ہیں..جمعہ کے دن آخری تاریخ ہے..ھمت کر کے..حجامہ کی پیاری سنت کو اپنائیں..اس سے روح پاک ہوتی ہے، جسم صحت پاتا ہے..نفس کو شفاء ملتی ہے..کمر ہلکی ہوجاتی ہے اور آنکھیں روشن..انسان کے دشمن شیاطین..انسانی جسم میں جگہ جگہ اپنے مورچے بناتے ہیں..حجامہ سے یہ مورچے ٹوٹ جاتے ہیں..آیت الکرسی پڑھ کر حجامہ کرانے اور سنت کا یقین رکھنے سے مزید فائدہ بڑھ جاتا ہے.."سستی" ہماری بدترین دشمن ہے..سستی سے اللہ تعالی کی پناہ مانگیں اور حجامہ کرالیں..اور کراتے رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی خیر کی طرف بلائیں..بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیماری جسم کے اندر ہوتی ہے کھال میں سے خون نکالنے کا کیا فائدہ؟..ان سے پوچھیں کہ اگر انسان کی کھال اتار لی جائے تو یہ کتنی دیر زندہ رہ سکتا ہے؟..ٹانگ، بازو، گردے اور جگر کے بغیر تو انسان کچھ عرصہ جی سکتا ہے، مگر کھال کے بغیر نہیں..بحث چھوڑیں حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کافی ہے کہ..حجامہ سب سے بہترین علاج ہے..بات ھی ختم..

والسلام

خادم..

لا اله الا الله محمد رسول الله

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کا عظیم احسان..پاکستان میں "کرونا" سے بہت ہی حفاظت رہی..الحمدلله رب العالمين..انڈیا میں..پچھلے مہینے روزانہ گیارہ سو سے زائد افراد..کرونا سے مرتے رہے..کل تو "کرونا" نے وائٹ ہاؤس کا بھی دورہ کیا..ٹرمپ اور اس کی بیوی..کو ہسپتال منتقل کرا دیا..خود کو روئے زمین کا سب سے طاقتور کہلوانے والا شخص..لاکھ تدبیروں کے باوجود..ایک چھوٹے سے جرثومے سے نہ بچ سکا..اس وقت امریکہ، انڈیا، برازیل، برطانیہ، فرانس اور اسپین خصوصی طور پر کرونا کی لپیٹ میں ہیں..ایران، چین، روس اور اٹلی میں بھی یہ اندر ہی اندر سلگ رھا ہے..سعودیہ میں اس کا زور بہت کم رہا اور اب مزید کم ھو رھا ہے..وہاں الحمدللہ آج سے "عمرے" کا مبارک عمل شروع کیا جا رھا ہے..مگر تدریجا اور آھستہ آھستہ..حالانکہ اب تو عمرہ سب کے لیے فورا کھول دینا چاھیے..بہر حال اس عظیم عمل کے شروع ھونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ھیں..نیکی پھر اپنی طاقت سے خود پھیل جاتی ہے..اللہ تعالی نے اس میں یہ تاثیر رکھی ہے..دو رکعت ادا کر کے اللہ تعالی سے توفیق مانگیں کہ..وہ اپنی رضاء کے مطابق مساجد کی حالیہ محنت میں..ھم سے زیادہ سے زیادہ مقبول کام اور حصہ قبول فرما لیں..آج کچھ لکھنے کا ارادہ نہیں تھا..عمرہ شروع ھونے کی خوشی میں چند الفاظ ھو گئے..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله 

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی سے ”ملاقات“ برحق ہے..یہ ”ملاقات“ موت کی صورت میں آتی ہے..موت ”برحق“ ہے..اللہ تعالی کی ”زیارت“برحق ہے..یہ زیارت اھل جنت کو ”جنت“ میں ہوگی..”جنت“ برحق ہے..جہنم ”برحق“ ہے.. ”موت“ زندگی کے خاتمے کا نام نہیں..بلکہ انسان کے سفر کی ایک ”درمیانی منزل“ ہے..فرمایا ”الذی خلق الموت والحیاۃ“..اللہ تعالی نے موت بھی پیدا فرمائی اور زندگی بھی..معلوم ہوا ”موت“ ایک مستقل ”مخلوق“ ہے..جسطرح ”زندگی“ ایک مستقل ”مخلوق“ ہے..موت کے آنے سے پہلے ”موت“ کی تیاری یہ ”اہل نور“ کی صفت ہے..یعنی وہ ایمان والے مرد اور عورتیں جن کے سینے میں اللہ تعالی شرح صدر کا نور عطاء فرماتے ھیں..وہ ”موت“ سے پہلے ”موت“ کی تیاری مکمل کر لیتے ھیں..اللہ تعالی ھمیں بھی یہ ”نور“ عطاء فرمائیں..دنیا کی ضروریات..اللہ تعالی نے ساری اپنے ذمہ لے لی ھیں..جبکہ موت کے بعد کی تیاری اللہ تعالی نے اپنے ”بندے“ کے ذمے لگا دی ہے..ھم دنیا کی ضروریات میں الجھے رھتے ھیں..حالانکہ یہاں کسی کو اس کے مقدر سے زیادہ کچھ نہیں ملتا..جبکہ موت کے بعد اور آخرت کی تیاری ھمارے ذمہ ہے..اسکی ھمیں فکر ھی نہیں..اللہ تعالی مجھے یہ فکر عطاء فرما دیں..اللہ تعالی آپ سب کو یہ فکر عطاء فرما دیں..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی جن دلوں کو..”مساجد“ کی خاص محبت عطاء فرماتے ھیں..ان ”دلوں“ پر اللہ تعالی کے عرش کا نور اور سایہ ہوتا ہے..کل عرض کیا تھا کہ ”مسجد“ کے ”جیم“ پر زبر ہو تو اس کا مطلب..وہ ”اعضاء“ ھیں جن پر ایک مسلمان سجدہ کرتا ہے..گویا کہ ہر ”مسلمان“ کے پاس ”پانچ مساجد“ ھیں..1.پیشانی..2.ناک..3.دونوں ہاتھ..4.دونوں گھٹنے..5.دونوں قدم یعنی پاؤں..سجدہ کے یہ اعضاء قیامت کے دن ایک خاص چمک اور روشنی سے منور ہوں گے..ھمیں چاھیے کہ ھم ان پانچ ”مساجد“ کا خاص خیال رکھیں..سب سے پہلے یہ کہ ان کو پاک صاف خوشبودار رکھیں..ضرورت کے تحت اگر یہ ناپاک ھوں تو ھمیں جلدی لگ جائے کہ فورا ان کو پاک کریں..کیونکہ یہ ”مساجد“ ھیں..اس لئے ان لوگوں کا بڑا مقام ہے جو غسل جنابت فورا کرتے ھیں اور زیادہ باوضو رھتے ھیں..پھر اس کے بعد ھماری کوشش ہو کہ ھم ان پانچ ”مساجد“ کو کسی گناہ میں استعمال نہ کریں..پیشانی کسی کے سامنے کبھی نہ جھکے..سجدہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں..کسی سے مصافحہ کرتے ھوئے اپنی پیشانی کو اس کے ہاتھ پر نہ رگڑیں..یہ پیشانی سجدے کی سرتاج ہے..اور یہ اللہ تعالی کے سوا کبھی کسی کے سامنے نہ جھکے..اپنی ”ناک“ ھمیشہ اونچی رکھیں کیونکہ وہ بھی سجدے میں جھکتی ہے..بعض کاموں سے ناک رسوا ہوتی ہے..ھم ان سے بچیں..مثلاً حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر درود شریف نہ پڑھنا..رمضان المبارک میں مغفرت کے لئے محنت نہ کرنا..والدین کی نافرمانی اور گستاخی کرنا..کسی انسان سے مال کی طمع اور لالچ رکھنا..دشمنوں سے صلح کی بھیک مانگنا..جھاد سے پیٹھ پھیرنا وغیرہ..اپنے دونوں ہاتھوں کو ھمیشہ پاک اور خوشبودار رکھیں..یہ ہاتھ اللہ تعالی کے سوا کسی کے سامنے نہ پھیلائیں..ان ہاتھوں سے گناہ اور ظلم نہ کریں..خصوصا بے حیائی والا گناہ..اپنے گھٹنوں اور قدموں کو خوب پاک صاف کیا کریں..اور ان سے ھمیشہ نیکی کی چال چلیں.. گناہ کی طرف ان پر نہ چلیں..ہر مسلمان اپنی ان ”پانچ مساجد“ کے ساتھ..اللہ تعالی کے گھر یعنی ”مسجد“ کا پکا یار، پکا خادم اور پکا عاشق بن جائے تو..ایسے افراد ہی زمین کی زینت اور آسمانوں کا فخر ھیں..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ھمیں اپنے حضور مقبول ”سجدوں“ کی توفیق عطاء فرمائیں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..سجدے بہت زیادہ کیا کرو (ابن ماجہ) اور فرمایا..سجدے بہت زیادہ کرو جب تم اللہ تعالی کے لئے ایک سجدہ کرتے ھو تو اللہ تعالی اس کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند فرما دیتے ھیں..اور ایک گناہ تم سے ہٹا دیتے ھیں (مسلم)..اب سمجھئے ”مسجد“ اسم مکان ہے..ترجمہ ہے..سجدے کی جگہ..اور اگر جیم پر زبر پڑھیں ”مسجَد“ تو انسان کے وہ پانچ اعضاء جن پر وہ سجدہ کرتا ہے..”مسجد“کی جمع ”مساجد“ آتی ہے..وہ جگہ اور عمارت جو نماز اور عبادت کے لئے وقف کر دی گئی ہو..مسجد میں نماز ادا ہوتی ہے..نماز میں قیام بھی ہوتا ہے اور رکوع سجدہ بھی..مگر اس کا نام ”سجدے“ کے لفظ سے لیا گیا..”مسجد“ یعنی سجدے کی جگہ..اور سجدہ اللہ تعالی کے سب سے زیادہ قُرب کا مقام ہے..معلوم ہوا کہ..مسجد کا اصل کام..بندے کو اللہ تعالی کے قریب کرنا ہے..اسی لئے ”مسجد“ کو اللہ تعالی کا گھر فرمایا گیا..اللہ تعالی کے قُرب کی جگہ..زمین پر سب سے پہلے ”مسجد حرام“ تعمیر ھوئی..اور پھر ”مسجد اقصی“..محبت اور قُرب کی اس خوشبودار تاریخ میں..ھم بھی اللہ کرے شامل ھو جائیں..مسلمانو! مسجد بناؤ..مسجد کو آباد کرو..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے حبیب..حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! ”احب البلاد الى الله مّسَاجِدُها وأبغض البلاد الى الله اسواقها “ (صحیح مسلم)اس ”حدیث صحیح“ کا ترجمہ یہ ہے:- سب سے محبوب جگہ اللہ تعالی کے نزدیک مساجد ھیں اور سب سے ناپسندیدہ جگہ اللہ تعالی کے نزدیک بازار ھیں..محبوب جگہ سے مراد یہ ھوا کہ وھاں االلہ تعالی کی ”محبت“ اترتی ہے..جو بھی ایمان و اخلاص کے ساتھ وھاں جائے گا..اس محبت میں سے حصہ پائے گا.. یعنی عرش سے ایک ”نور محبت“ ہر مسجد پر برس رہا ہے..رحمت اور محبت کا نور..محبت میں موافقت ضروری ہے..جب اللہ تعالی کو ”مسجد“ سے محبت ہے تو..اللہ تعالی کے ہر سچے بندے کو بھی مسجد سے محبت ہونی چاھیئے..جب محبت ہو گئی تو اس پر خرچ کرنا بھی آسان ھوا..کیونکہ انسان سب سے زیادہ مال اپنے شوق و محبت پر لٹاتا ہے..جب محبت ہو گئی تو اب مسجد میں بار بار جانا بھی آسان..وھاں جم کر بیٹھنا بھی آسان..”مجازی محبت“ والوں سے پوچھ لیں..کسطرح سے گھنٹوں فون پر لگے رھتے ھیں مگر دل نہیں بھرتا..اب سوچیں کہ ان ایمان والوں کا کیا مقام ھوگا..جو ایسی جگہ تعمیر کر دیں..جہاں اللہ تعالی کی محبت اترتی ہے اور تقسیم ہوتی ہے..مبارک ھو..مساجد تعمیر کرنے والوں کو..بے حد مبارک..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت تک”استخارے“ کی نعمت پہنچائی..بہت عظیم نعمت، بہت عجیب نعمت..گویا کہ اندھے کے لئے آنکھیں..معذور کے لئے لاٹھی اور سہارا..اور گمشدہ کے لئے رھبر..میرے پاس الفاظ نہیں ھیں کہ جن سے میں”استخارے“ کی شان سمجھا سکوں..آپ خود اپنائیں گے تو سمجھ جائیں گے..اسمیں اھم بات یہ ھیکہ..جنہوں نے ھم تک یہ نعمت پہنچائی..انہوں نے ہر کسی کو اپنا استخارہ خود کرنے کا حکم دیا اور طریقہ سکھایا..پھر یہ دوسروں سے استخارہ کرانے کا رواج کہاں سے نکل آیا؟..اسی لئے بعض اھل علم نے تو دوسروں سے استخارہ کرانے کو”بدعت“ قرار دیا ہے.. یعنی گناہ اور گمراھی..یہ”بدعت“ ہے یا نہیں مگر ایک بات سو فیصد پکی ہے کہ..استخارہ صرف وھی ہوتا ہے جو خود کیا جائے..دوسروں سے کرایا ھوا استخارہ فائدہ نہیں دیتا البتہ دوسروں سے اپنے لئے خیر کی دعاء کرانی چاھیئے.. اللہ کے لئے..اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانیں..استخارہ کو اپنائیں تاکہ.. دل کا اندھا پن دور ھو..بصیرت نصیب ھو..اور کبھی بھی کسی اور سے استخارہ نہ کرائیں..اللہ تعالی کا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله