18.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مَحبَّتْ کی بارش

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کو.....”عشرۂ ذی الحجہ“ کے اعمال...بہت زیادہ محبوب ہیں...آئیے آج اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں...علم سمجھنا اور سمجھانا بھی بڑا نیک عمل ہے..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ دیکھیں! فرمایا

”مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ“

دنوں میں سے کسی بھی دن کا ”نیک عمل“....اللہ تعالی کے ہاں زیادہ محبوب نہیں...ان دس دنوں کے عمل سے..

یہ تو ہوا لفظی ترجمہ....خلاصہ اس کا یہ نکلے گا کہ..ان دس دنوں کے نیک اعمال..اللہ تعالی کو باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں.....یعنی ایک مسلمان کو پورے سال میں چاند کے حساب سے (355) یا (354) دن ملتے ہیں..ہر مسلمان ان دنوں میں نیک اعمال کرتا ہے..روزانہ نمازیں، کبھی روزے، زکوۃ..جھاد..انفاق..ذکر اذکار، صدقات وغیرہ.....مؤمن کا ہر نیک عمل اللہ تعالی کو ”محبوب“ ہے..مگر ”ذوالحجہ“ کے پہلے دس دنوں...عشق و محبت کے پیاسوں کے لیے ”لوٹ بازار“ لگا دیا جاتا ہے..اب اس کا ہر نیک عمل....اللہ تعالی کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے بھی زیادہ محبوب ہوتا ہے..یعنی ایک بار ”سبحان اللہ“ کہنے پر..”اللہ اکبر“ بولنے پر...وہ ”محبت الٰہی“ برستی ہے جو باقی دنوں کے بڑے بڑے مشکل اعمال پر بھی نہیں برستی....اب غور کریں...حدیث شریف میں”أَحَبُّ“ کا لفظ آیا ہے..اس کا ترجمہ ہے ”زیادہ محبوب“...یہ نہیں فرمایا کہ...ان دنوں کے اعمال زیادہ ضروری ہیں یا..زیادہ افضل ہیں..یا زیادہ قیمتی ہیں یا..زیادہ اجر والے ہیں..بلکہ فرمایا ”زیادہ محبوب“ ہیں...اللہ اکبر..”مَحبَّتْ“ کا لفظ دل کے تار ہلا دیتا ہے..کوئی سچا عاشق ہو تو وہ ”أَحَبُّ“ کا لفظ پڑھ کر ”وجد“ میں آجائے..کیونکہ اصل چیز تو ان کی ”مَحبَّتْ“ ہے..ارے ”مَحبَّتْ“ مل جائے تو پھر اور کیا چاہیے؟ پھر تو نہ کوئی پوچھ تاچھ نہ کوئی حساب کتاب..کوئی اپنے ”محبوب“ سے بھی حساب کتاب کرتا ہے؟ محبوب کو تو بے حساب دیا جاتا ہے..غور کریں..”أَحَبُّ“ کے لفظ نے سارے جھگڑے بھی مٹا دیے کہ رمضان افضل ہے یا یہ دس دن؟..بابا رمضان، رمضان ہے..اور یہ عشرہ، عشرہ ہے..وہاں رحمت و مغفرت کا دریا موجیں مار رہا ہے اور فرض روزے ادا ہو رہے جبکہ..اس عشرہ میں مَحبَّتْ کے جام بھر بھر کر پلائے جا رہے ہیں..اور ہر اچھی ادا پر ان کی طرف سے مَحبَّتْ برستی ہے..ہر اچھا قول، ہر اچھا خرچ، ہر اچھی عادت، ہر اچھا عمل..

یا اللہ ہم نااہل ”پیاسوں“ کو بھی...اپنی مَحبَّتْ کا شربت پلا دیجئے...

یاد رکھیں...اس عشرہ میں ”مَحبَّتْ“ کا سب سے بڑا ذخیرہ...حُجّاج کو ”حج“ میں..اور باقی مسلمانوں کو ”قربانی“ سے ملتا ہے..قربانی میں بخل نہ کریں..بڑھ چڑھ کر واجب اور نفل قربانی کر کے...”مقابلہ مَحبَّتْ“ میں آگے آگے رہیں....

”حدیث مَحبَّتْ“ کی باقی تشریح اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


17.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

بازارِ عِشْق

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کا شکر..بے حد شُکر....عشق کا بازار لگ گیا...سچے عاشقوں کو مبارک...دل کی گہرائی سے مبارک-:-

”وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ“

ترجمہ: اور وہ جو ایمان والے ہیں ناں وہ اللہ تعالی سے بہت ”شدید مَحَبَّت“ رکھتے ہیں....

کبھی تنہائی ملے..آنسو نصیب ہوں..دل خواہشات سے پاک ہو تو..اللہ، اللہ، اللہ..پڑھتے جائیں اور کہتے جائیں اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ..اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ، اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ..

الحمدللہ..عشرہ ذی الحجہ کا آغاز ہو گیا ہے...فقیروں کے زخمی دلوں پر ٹھنڈک پڑی ہے..اب تو محبت، محبت اور محبت..ہر عمل ان کو محبوب..محبوب ہی نہیں ”محبوب ترین“..اللہ تعالی کا شاہی اعلان...شہنشاہی انعام...اب مٹی بھی سونا...اور سونا ہیرے...ہائے بے چارہ سونا..بے چارے ہیرے..ان کی ”محبت“ کے مقابلے میں کیا قیمت؟ مگر دنیا کے اندھیرے میں بات سمجھانے کے لیے انہی کی مثال دینی پڑتی ہے....”عشرہ ذی الحجہ“ کے فضائل کا ”علم“ تو اکثر مسلمانوں کو ہے..مگر جب تک ”علم“ پر ”حکمت“ کی آنکھ نہ کُھلے..اُسوقت تک اونچی باتیں دلوں میں نہیں اُترتیں....قرآن و سنت میں غور کریں تو ان دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ....کوئی مسلمان ایک لمحہ ضائع نہ کرے..ہر سانس کے ساتھ نیکی...ہر سانس کے ساتھ تکبیر، تسبیح، تہلیل...اے مسلمانو! یہ دن گزارنے کے نہیں کمانے کے ہیں..بچانے کے نہیں لٹانے کے ہیں..تھکنے کے نہیں تھکانے کے ہیں.........ہو سکے تو ”افضل ایام الدنیا“ کتاب کا مطالعہ فرما لیں..

بندہ کے لیے بھی دعاء فرما دیں...اللہ تعالی اس ”بازار عشق“ سے وافر حصہ مجھے اور آپ سب کو عطاء فرما دیں....اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس بازار کی سب سے قیمتی چیز نصیب فرما دیں....اور وہ چیز ہے.....اللہ تعالی کی سچی اور مقبول محبت...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


09.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

اور تم میں سے کچھ کو.....

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کے بھاری انعامات میں سے ایک انعام کا تذکرہ...سورہ اٰل عمران کی آیت (۱۴۰) میں موجود ہے...آیت مبارکہ کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں...

(اے ایمان والو) اگر تمہیں زخم (اور نقصانات) پہنچے ہیں تو (اس سے پہلے تمہارے ہاتھوں سے) ان کافروں کو بھی زخم (اور نقصانات) پہنچ چکے ہیں..اور ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں اور یہ (دشمنوں کے ہاتھوں سے تمہیں تکلیف پہنچنے کا معاملہ) اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالی ایمان والوں کی پہچان کرا دے اور تم میں کچھ لوگوں کو شہادت کا مقام عطا فرمائے اور اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں فرماتے [اٰل عمران (۱۴۰)]

آیت مبارکہ اور اس کے ترجمے کو دو چار بار غور سے پڑھیں..آپ کو سات مئی 2025 کا پورا واقعہ سمجھ میں آ جائے گا......اللہ اکبر کبیرا..کیسی عجیب رات تھی..اوپر سے آگ..اور عرش سے خوشبو برس رہی تھی..خوفناک دھماکے مگر ان کے درمیان اٹھنے والے ”اللہ اکبر“ کے نعرے..عجیب مناظر تھے..بالکل ماضی کے مناظر کی جھلک..قرآن مجید کے بیان فرمودہ مناظر کا عکس..ارادہ بنا کہ اُن آیات کو لکھ دوں جن کا فیض اور عکس اُس دن...جامع مسجد سبحان اللہ پر اُتر رہا تھا..مگر مکتوب میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی...بس ایک آیت مبارکہ کا ترجمہ لکھ دیا ہے اس میں بہت کچھ ہے..اللہ تعالی جو تم پر کبھی..کافروں کا وار چلنے دیتے ہیں تو..یہ اس لیے نہیں کہ وہ حق پر ہیں..یا نعوذ باللہ..وہ اللہ تعالی کے محبوب ہیں..بلکہ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے تم میں سے کچھ کو ”شہادت“ سے نوازنا ہوتا ہے..اور کچھ کو ایمان کامل سے....وہ ایمان جو آزمائش کی آگ میں مسکراتا ہے اور راضی رہتا ہے..

دشمنوں کے اس بیس منٹ کے بزدلانہ حملے میں..الحمدللہ اللہ تعالی نے بہت قیمتی تحفے قبول فرمائے..چھینا کچھ نہیں..مگر دے بہت کچھ دیا..

اپنے ”شہداء کرام“ کی قسمت پر رشک آتا ہے..اور ان کی میٹھی یادوں کے زخم دل کو چیرتے ہیں..تین مساجد شہید ہوئیں..وہ بھی واپس تشریف لے آئیں..مزید بارہ مساجد اور تعمیر ہو گئیں..معصوم شہید بچوں نے..دشمن کو تباہ و برباد کیا تو شہید بہنوں بیٹیوں نے المؤمنات کا لشکر کھڑا کر دیا..دعوت ایمان کو نئی زندگی ملی..اور دیوانوں کی تعداد میں الحمدللہ بے پناہ اضافہ ہوا....ہاں بے شک رب تعالی نے سب کچھ سمجھا دیا ہے..اللہ تعالی ہمیں سمجھنے والا بنا دیں.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


06.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مقام علم و شہادت

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی نے ”شہداء“ کو جو ”مقام“ عطاء فرمایا ہے..اگر دنیا کے انسان اس کی ایک جھلک دیکھ لیں تو پھر....وہ اس کی طرف یوں دوڑیں جیسے ماں...اپنے جدا ہونے والے بچے کو واپس آتا دیکھ کر دوڑتی ہے......ہمارے زمانے کے اکابر علماء میں سے..ایک ”عالم ربانی“ کل ”چارسدہ“ میں شہید کر دیے گئے..ان کی جدائی پر...

..انا لله وانا اليه راجعون..اللهم لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده..

مقبول محدث، مرجع مدرس، پر اثر خطیب و واعظ، مقام محبوبیت پر فائز...ولی کامل، عالم با عمل، علم کی بلندیوں کے مسافر، اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی اور عاشق...حضرت اقدس مولانا محمد ادریس صاحب..نور اللہ مرقدہ..وہ اپنے گھر سے تیار ہو کر نکلے...طلبہ آنکھیں بچھا کر ان کی ”خالی مسند“ کو مشتاق نظروں سے دیکھ رہے تھے....مگر آج انہوں نے ”مسند حدیث“ پر نہیں..” مسند شہادت“ پر ”رونق افروز“ ہونا تھا....طلبہ اور امت کے اہل ایمان روتے رہ گئے جبکہ..حضرت مسکراتے ہوئے اونچی پرواز فرما گئے...

دین کے علم کا بہت اونچا مقام ہے..قاتلوں، ظالموں اور منافقوں کا کیا پتا؟ اس دین کی پہلی وحی....”علم دین“ کے حکم کی نازل ہوئی..اور پہاڑ کی بلندی پر نازل ہوئی....”اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ“....اس لیے علماء کا مقام ہمیشہ کے لیے بلند ہے..کسی کو اس کی سمجھ ہوتی تو وہ ان پر گولی چلانے سے پہلے ہی شرم اور شرمندگی سے مر جاتا...مگر دنیا میں ”بدبختوں“ کی کوئی کمی نہیں..وہ ”اللہ والوں“ پر  زبان بھی چلاتے ہیں..اور گولیاں بھی برسا دیتے ہیں..مگر گولیاں کھانے والے اونچے اُڑ جاتے ہیں..جبکہ گولیاں مارنے اور مروانے والے نیچے گر جاتے ہیں...”اسفل سافلین“سے بھی نیچے..”تحت الثرٰی“سے بھی نیچے...

شہید کی روح جب نکلتی ہے تو وہ اپنے اونچے مقام کو بھی دیکھ لیتا ہے..اور اپنے قاتلوں اور ان کی بدبختی کو بھی..چنانچہ وہ مسکرا دیتا ہے..اللہ تعالی کی ہر بات حق ہے..فرمایا شہید کو ”مُردہ“ مت کہو..شہید کو مُردہ نہ سمجھو..اس پر کوئی کہہ سکتا تھا کہ شاید یہ ان کے احترام اور اعزاز کے لیے حکم ہے..فرمایا نہیں بلکہ وہ ”زندہ“ ہے..

یا اللہ وہ زندہ ہے تو بولتا کیوں نہیں؟ چلتا کیوں نہیں؟..فرمایا..تمہیں اس کی زندگی کا ”شعور“ نہیں..وَّ لٰـكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ..یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ ہمیں شہید کی زندگی کا ”شعور“ نہیں..شعور ہوتا تو اسے دفن کون کرتا؟ اور بہت سے تکوینی راز بھی کھل جاتے..عام زندہ آدمی تو زیادہ سے زیادہ ملکوں کا سفر کر سکتا ہے..یا زمین کے مدار میں موجود سیارچوں کا..جبکہ شہید تو ”جہانوں“ کا سفر کرتا ہے..

..دیکھا نہیں..حقیقی شہداء کے قاتل کیسے برباد ہوتے ہیں؟..آخر پچھلے سال (10) مئی کو انڈیا کیوں چوہے کی طرح کانپ رہا تھا....جل رہا تھا...ان شاءاللہ ”حضرت“ کے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کا انجام بھی بہت عبرت ناک ہوگا....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 


05.05.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

پانچ باتیں

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی ہی ہر کام بہترین بنانے والے ہیں..

”وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا“

ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے..

”حَسْبُنَا  اللّٰهُ  وَ  نِعْمَ  الْوَكِیْلُ“

(۱) *حجامہ کا سنہری موقع*  آج ”5مئی“بروز منگل...”ذوالقعدہ“کی سترہ تاریخ ہے..چاند کی سترہ تاریخ اور منگل کا دن جمع ہو جائے تو...”حجامہ“کا نفع اور فائدہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے...اللہ تعالی ہم سب کو اس سے بھرپور ”فائدہ“ نصیب فرمائیں...

(۲) گزشتہ تین دن”المؤمنات“ کے کام پر اللہ تعالی کی خصوصی رحمت اور نصرت نازل ہوئی..والحمدللہ رب العالمین.......ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ..ہزاروں خواتین تک ”دین کامل“ کا پیغام پہنچا..مزید دو ہزار دو سو سے زائد خواتین کو..” المؤمنات“ کی رکنیت نصیب ہوئی..اللہ تعالی ہمیں اور سب ”مؤمنات“ کو اپنا فضل اور اپنی رضاء نصیب فرمائیں...

(۳)” اہل جماعت “ 7/مئی کے حوالہ سے پرجوش اور منتظر ہیں..اللہ تعالی ان کے ”ایمانی جذبات“ کو مزید قبولیت اور ترقی عطاء فرمائیں..ہم لوگ اپنی طرف سے مقرر کر کے کوئی دن نہیں مناتے..اس لیے کوئی ”مرکزی اجتماع“ نہیں رکھا گیا..اپنے اپنے مقام پر البتہ..اپنی سہولت سے اجتماع..اور ایصال  ثواب کی مجالس رکھ لیں..ہمارے ”شہداء کرام“ دین کا کام کرتے کرتے..اس بلند مقام پر پہنچے ہیں..ہم سب بھی دین کے کام میں چھٹی اور ناغہ نہ کریں....مکمل اخلاص، شرح صدر اور اطمینان سے کام کرتے رہیں...

(۴) ہمارے مخلص، صالح، گمنام اور بے حد قیمتی ساتھی...حضرت مولانا سلمان ازہر صاحب...ٹریفک حادثے میں شہید ہو گئے ہیں..انا للہ وانا الیہ راجعون..اللهم اغفرله، وارحمه، اللهم لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده، اللهم اجرنا في مصيبتنا واخلف لنا خيرا..

انڈیا والے....ان کی حادثاتی شہادت پر خوشیاں منا رہے ہیں..جس سے ان شاءاللہ ان کے درجات مزید بلند ہوں گے...دشمن، ”دشمنی“ کرتا ہے تو یار اپنی ”یاری“ بڑھا دیتا ہے..

ان کے لیے ”ایصال ثواب“ کی گزارش ہے..

(۵) حرمت والے مہینے چل رہے ہیں...ان کا احترام کریں..حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ”صلوٰۃ و سلام“ کی کثرت کریں...استغفار بہت بڑھا دیں...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 




19.04.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

ذوالقعدہ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی اپنا فضل اور اپنی رضاء نصیب فرمائیں..ذوالقعدہ کا چاند ہو گیا ہے.....آج یکم ذی القعدہ ہے..رات کو رہ جانے والے معمولات ظہر کا وقت داخل ہونے تک ادا کیے جا سکتے ہیں..

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 

 




30.06.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

انا للہ وانا الیہ راجعون

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ الباقی........

”یا باقی انت الباقی لیس الباقی الا اللہ“

بندہ کے بہت ہی پیارے بڑے بھائی جان....حکیم محمد طاہر انور صاحب...انتقال فرما گئے ہیں..

”انا للہ وانا الیہ راجعون“

”اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ“

ان کی نماز جنازہ ان شاءاللہ...ابھی رات گیارہ بجے جامع مسجد عثمان و علی رضی اللہ عنہما میں ادا کی جائے گی...وہ اس مسجد کے متولی اور بے لوث خادم تھے...”مسجد“ سے ”مزار“ تک ان کا یہ اچانک سفر دل کو زخمی کر گیا ہے...ہم اللہ تعالی کی تقدیر پر راضی ہیں..

اور کہتے ہیں..

انا للہ وانا الیہ راجعون..

آس پاس والے اہل ایمان نماز جنازہ میں بھرپور شرکت فرمائیں..اور دور والے ایصال ثواب کا اہتمام کریں.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله