مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کا بے حد احسان اور شکر ہے کہ..جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن..”مقابلہ حسن“ مسلسل ترقی اور وسعت پارہا ہے..”سلام علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کی مکمل وضاحت کے لئے اھل علم کی خدمت میں چند ”بدیہی مقدمات“ حاضر خدمت ھیں..1.اللہ تعالی نے ھمیں ”صلوٰۃ“ کا بھی حکم فرمایا ہے اور ”سلام“ کا بھی..صلوا عليه وسلموا تسليما..2.یہ حکم نماز میں بھی ہے اور نماز سے باھر بھی..3.صحابہ کرام نے سلام پہلے سیکھا (کما فی البخاری) اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”صلوٰۃ“ کا طریقہ سکھایا جسے ھم درود ابراھیمی کہتے ہیں..4.سلام کے جو الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر سکھائے وہ یہ ھیں..”السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته“..5.سلام کے الفاظ میں موجود ”صیغہ خطاب“ سے اگر کوئی اشکال یا خلجان ہوتا تو وہ ”نماز“ میں زیادہ ھوتا..کیونکہ ”نماز“ میں اللہ تعالی کی طرف کامل توجہ اور توحید کا اظہار مطلوب ہے ”وأقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِک٘ری٘“..6.جب نماز میں اس صیغہ پر کوئی اشکال نہیں تو نماز سے باھر یہ کیسے بدعت ہو سکتا ہے؟..7.حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر ”سلام“ کی جتنی صحیح روایات آئی ھیں انمیں ”سلام“ صیغہ ”انشاء“ سے ثابت نہیں ہے..سَلَّم٘ یا سَلِّم٘ وغیرہ..یہ آسانی اور تسلسل کے لئے امت میں رائج اور مقبول ھوگیا..مثلا ”صلی اللہ علیہ وسلم“..اصل میں خبر کا صیغہ اور جملہ مسنون ہے..السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته..یا مسجد میں داخل ھوتے وقت ”وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللهِ“ تو اس مسنون اور وارد صیغے کی دعوت دینا ”سنت“ کی دعوت ہے نہ کہ بدعت کی..8.لوگوں نے سلام کے طرح طرح کے صیغے بنا لئے ھیں جوکہ لاؤڈ سپیکرز پر پڑھے جاتے ھیں جبکہ اصل صیغےکو چھوڑ دیا ہے، اس لئے اصل صیغے اور اس کے مفہوم کی دعوت دس مکتوبات میں دی گئی..9.سلام سے ”محبت“ بڑھتی ہے..اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مطلوب و مقصود ہے..10.وَسَلِّمُوا تَس٘لِیماً کے حکم پر پورا عمل روضہ اقدس پر حاضری..اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کے وقت ”السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته“ پڑھنے سے ادا ہو جاتا ہے..اور اللہ تعالی کے سوا کسی کو ہر جگہ حاضر و ناظر ماننا قطعاً جائز نہیں ہے..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی تمام..مرحوم مسلمانوں کی مغفرت فرمائیں..”سلام علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ پر دس مکتوبات الحمدللہ مکمل ھوئے..وہ دو قسطوں میں لکھ کر اکٹھے بھیج دیئے تھے..چنانچہ وھی چلتے رہے..چونکہ موضوع اھم اور مفید تھا تو ان کو..تازہ واقعات کی وجہ سے درمیان میں روکنا مناسب معلوم نہ ہوا..تازہ حالات میں سب سے اھم واقعہ..”علامہ خادم حسین رضوی صاحب" کا سانحہ ارتحال ہے..امت کے اجتماعی اور متفقہ موضوعات پر انہوں نے..محنت کی..ختم نبوت، ناموس رسالت، ناموس اھل بیت اور ناموس صحابہ کرام پر انہوں نے امت مسلمہ کی ترجمانی کی..اللہ تعالی ان کو جزائے خیر اور اپنی مغفرت و اکرام کا مقام نصیب فرمائیں..افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ..مسلمانوں کے ملکوں میں مسلمانوں کو اپنے ان مقدس عقائد کی حفاظت کے لئے جنگ لڑنی پر رھی ہے..اسلامی ملکوں میں جھاد جیسے محکم، قطعی اور لازمی فریضے کو ”دھشت گردی“ کہا جا رہا ہے..اور اس فریضے کے نام لیواؤں کو ستایا جاتا ہے..زمین بہت تیزی سے اپنا رنگ بدل رھی ہے..حالات ھمیشہ ایک جیسے نہیں رھتے..ایمان اور ایمانی غیرت سے سرشار مسلمانوں کے دکھ درد بھی جلد ختم ھوجائیں گے ان شاءاللہ..دیکھنا یہ ہے کہ آج کون اپنے نامۂ اعمال میں..کیا کیا لکھوا رہا ہے؟..ان کو بھی سلام جن کے جنازے کو لاکھوں اھل محبت نے اٹھایا..اور ان کو قلبی سلام جن کے جنازوں پر سوائے اللہ تعالی کے فرشتوں کے اور کوئی حاضر نہیں تھا..اور انہیں دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر گھسیٹا جا رہا تھا..جب ”میزان“ لگے گی تو..یہ عمل کتنا بھاری ھوگا..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ھم سب کو..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ”روضۂ اطہر“ پر حاضر ھو کر..سلام پیش کرنے کی توفیق بھی عطاء فرمائیں..ابن ابی سعید فرماتے ھیں..میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ھوا..رخصت ھوتے وقت آپ نے فرمایا..مجھے تم سے ایک حاجت ہے..تم جب مدینہ منورہ پہنچنا اور روضہ اقدس پر حاضر ھونا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا..ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز ”روضہ اقدس“ پر اپنا سلام بھیجنے کے لئے باقاعدہ تیز رفتار (ڈاک) والے گھوڑوں پر افراد بھیجتے تھے..دیکھیں کتنا بڑا خرچہ..کتنا اھتمام اور کتنا عشق ہے..یہ دونوں واقعات حضرت ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھے ھیں..سلام کے بارے میں آج آخری مکتوب ہے..اکثر باتیں رہ گئیں..بہت تھوڑی عرض ھو سکیں..آخر میں چند ضروری گزارشات..1.ھمیں صلوۃ کا بھی حکم ہے اور سلام کا بھی..حضرات صحابہ کرام نے پہلے سلام سیکھا..پھر صلوٰۃ سیکھی..نماز کے ہر قعدہ میں تشھد پڑھنا واجب ہے اور سلام تشھد کا حصہ ہے..پہلے کسی مکتوب میں واجب کی جگہ فرض کا لفظ آگیا تھا..اھل علم جانتے ہیں کہ لازمی چیزوں کے لئے اس طرح کا استعمال عام ہے..2.الحمدللہ تمام مسلمان نماز میں ”سلام“ پڑھتے ہیں..اس یاددھانی کا مقصد یہ تھا کہ نماز کے علاوہ بھی سلام کی کثرت سے بھرپور فائدہ حاصل کریں..3.جن مسلمانوں نے صلوٰۃ یعنی درود شریف کی مقدار اپنے لئے مقرر کر رکھی ہے وہ سلام کی وجہ سے اسمیں ھرگز کمی نہ کریں..بلکہ سلام کو بھی اسمیں بڑھا دیں..یہ کم کرنے والی چیزیں نہیں ھیں..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ”صلوٰۃ و سلام“ کی قدر کرنے..اور زیادہ سے زیادہ یہ عبادت ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ھم سب کو ”سلامتی“ عطاء فرمائیں..السلام علينا وعلى عبادالله الصالحين..ھم حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم پر ”صلوٰۃ و سلام“ کی کثرت کریں گے تو ھمیں بہت عظیم اور وسیع ”سلامتی“ نصیب ہوگی..یہ جو ھم مسلسل نقصان اور گھاٹے میں جا رھے ھیں..دین کا بھی نقصان اور دنیا کا بھی نقصان..عمر گھٹ رھی ہے اور سب کچھ کم ھو رہا ہے..اس نقصان سے”سلامتی“ کے لئے ھم ”صلوۃ و سلام“ کی کثرت کریں..ھم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتے ھیں تو اللہ تعالی ھم پر سلامتی برساتے ھیں اور حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ھمیں سلامتی کی دعاء دیتے ھیں..اس لئے محبت سے پڑھیں..السلام عليك ايها النبی ورحمة الله وبركاته..روایت میں ہے کہ..تین چیزوں کو اللہ تعالی نے بہت طاقتور سماعت عطاء فرمائی ہے..1.جنت..2.جہنم..3.حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر موجود ایک فرشتہ..چنانچہ جب بھی کوئی بندہ دعاء کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے جنت عطاء فرمائیے..اللهم انی اسالك الجنة..تو جنت سن لیتی ہے اور کہتی ہے یا اللہ اسے میرے اندر ٹھکانا عطاء فرمائیے..اور جو بندہ بھی دعاء مانگتا ہے..اللهم اجرنی من النار..یا اللہ مجھے جہنم سے بچائیے..تو جہنم سن لیتی ہے اور کہتی ہے یا اللہ اسے مجھ سے بچا لیجئے..اور جب امت میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے تو وہ فرشتہ سن لیتا ہے اور وہ سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ فلاں نے سلام بھیجا ہے آپ اسے جواب ارشاد فرمائیے..آج انسانوں کے بنائے ھوئے فون بوسٹر اور نیٹ سرور ایک وقت میں لاکھوں کالیں اور رابطے وصول کر کے آگے پہنچا سکتے ھیں تو خالق کائنات جن چیزوں کو سماعت کی خصوصی طاقت عطاء فرمائیں..ان کی طاقت کا کیا عالم ھوگا..فون ھماری آواز اگر ایک لمحے میں سعودیہ اور ترکی پہنچا دیتے ھیں تو وہ فرشتہ کتنا جلدی ھمارا سلام پہنچا دیتا ھوگا..السلام عليك ايها النبی ورحمة الله وبركاته..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ہی ”سلامتی“ عطاء فرمانے والے ھیں..اسمیں دو اھم باتیں یاد رکھیں..1.سلامتی کے معنی بہت وسیع ہیں..یہ ایک جامع اور عظیم نعمت ہے..ساری مخلوق سلامتی کی محتاج ہے..2. سلامتی کے درجات ھیں.. ادنیٰ،اوسط،اعلیٰ اور پھر اعلیٰ ترین اعلیٰ ترین..ھم جب کہتے ھیں..السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته..تو اس کے تین ترجمے ھو سکتے ھیں..1.”السلام“سے مراد اللہ تعالیٰ جل شانہ ھیں..ترجمہ یہ ھوگا کہ اے نبی اللہ تعالی ھمیشہ آپ کےساتھ ،آپ کے حامی اور مدد گار ھوں وہ آپ کو عظمتیں، سلامتی ،رحمتیں اور برکات عطاء فرمائیں..اور جو حاصل ھیں انمیں مزید ترقی عطاء فرمائیں..اور ہر نقصان اور کمی سے آپ محفوظ رھیں..2.”السلام“سے مراد ”سلامتی“..یعنی آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے ”سلامتی“ کی نعمت نصیب ھو..بلند ترین سلامتی..ہر نقص اور نقصان سے سلامتی..بہت اونچی سلامتی ،دنیا ،آخرت ،امت ،دین ہر چیز میں سلامتی..3.”السلام “کا مطلب تسلیم ،فرمانبرداری اطاعت..یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اس امت اور مخلوق میں اور بڑھے..جو فرمانبردار ھیں وہ مزید فرمانبردار ھوں اور جو نہیں ھیں وہ فرمانبردار بنیں، آپ کی ”امت اجابت“ میں اضافہ ھو..ان تین کے علاوہ ایک ترجمہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ..اس سلام سے مراد وہ سلام ہے جو معراج کی رات اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا..یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر اس عظیم المرتبت سلام کی دائمی برکات جاری و ساری رھیں..السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی مغفرت اور اکرام کا اعلی مقام نصیب فرمائیں..حضرت اقدس مولانا سعید احمد پالن پوری رحمہ اللہ تعالی کو..آج ان کی ایک عبارت ملاحظہ فرمائیں..تحریر فرماتے ھیں..”سورۂ احزاب آیت“(54) کی بنا پر علماء نے فرمایا ہے کہ ہر آدمی پر زندگی میں کم از کم ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا فرض ہے..اور بار بار درود و سلام پڑھنا اہم ترین عبادت ہے، پس صلوۃ و سلام کو نماز میں شامل کرنے سے بہتر کیا ہوسکتا ہے کہ ہر نماز میں بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا جائے..اسکی نظیر: شاہ ولی اللہ قدس سرہ کا قول ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے پس اسکی شان بلند کرنا ضروری ہے اور نماز سے بہتر قرآن کریم کی شان بلند کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی اس لئے نماز میں قراءت کو فرض قرار دیا گیا ہے..اللہ تعالی نے حکم فرمایا (وسلموا تسليما) ”السلام عليك ايها النبی“ پڑھنے سے ”سلموا“ پر عمل ھو جاتا ہے اور ”ورحمة الله وبركاته“ میں مفعول مطلق ”تسلیما“ پر عمل ھو جاتا ہے..بعض حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تشھد کے سلام میں تبدیلی کی تھی..وه ”السلام عليك ايها النبی“ کی جگہ ”السلام على النبی“ پڑھتے تھے کیونکہ کہ”عليك“ حاضر سے خطاب ہے..اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پردہ فرما چکے ھیں..مگر امت نے اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا اور اس کی دو وجہیں ہیں..ایک! آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جو عورتیں گھروں میں نماز پڑھتی تھیں یا جو مرد مسجد نبوی کے علاوہ دیگر مساجد میں نماز پڑھتے تھے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، پھر بھی وہ صیغہ حاضر ” السلام عليك“ کہتے تھے دوسری وجہ! یہ کلمہ حکائی ہے، یعنی شب معراج کی یادگار ہے، حکائی کلمہ کو اسکی اصل شکل پر باقی رکھنا ضروری ہے، جیسے ”قل هو الله احد“ میں مخاطب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف بری کے بعد بھی ”قل“ کو پڑھنا ضروری ہے اس کو حذف کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ کلمہ حکائی ہے..والله اعلم (تحفۃ الألمعی بتصرف یسیر)

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله

 

مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ھمیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی اور حقیقی محبت عطاء فرمائیں..ایک اللہ والے بزرگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجتے تھے..ان کو خواب میں رھنمائی ملی..انہوں نے پوچھا کہ میں فلاں فلاں الفاظ میں درود اور سلام پڑھتا ھوں..فرمایا گیا کہ ٹھیک ہے جن الفاظ میں پڑھتے ھو..پڑھتے رہو مگر آغاز ھمیشہ مسنون ومقبول الفاظ سے کیا کرو..یعنی..اللهم صل على سيدنا محمد وعلى آل سيدنا محمد كما صليت على سيدنا ابراهيم وعلى آل سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد اللهم بارك على سیدنامحمد وعلى آل سيدنا محمد كما باركت علی سیدنا ابراهيم وعلی آل سیدنا ابراهيم فی العالمين انك حميد مجيد..پھر سلام ان الفاظ میں..السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته..اس کے بعد جن الفاظ میں پڑھنا ھو پڑھو..اور آخر میں اللہ تعالی کی حمد اور شکر کرو..الحمدللہ رب العالمین..(سو بار یا چند بار)اور اس کا بہترین وقت فجر کی نماز کے فورا بعد کا ہے..فرض ادا کرنے کے بعد (آیۃ الکرسی وغیرہ سے فارغ ھوکر) سورج نکلنے تک صلوٰۃ و سلام میں لگے رھو..وہ بزرگ لکھتے ھیں کہ..اس عمل کی برکت سے بے شمار روحانی، دینی فوائد کے ساتھ ساتھ دنیاوی فوائد کا یہ عالم ہے کہ..پہلے خود فقیر تھا..اور اب یہ حالت ہے کہ اگر ”مصر“ کی ساری آبادی بھی میری کفالت میں آجائے تو میں سب کی روزی، روٹی اور خرچے کا آرام سے بندوبست کر سکتا ھوں..السلام عليك ايها النبي ورحمۃ الله وبركاته..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله