<مکتوب خادم>

اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا..........

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی..ہمیں..”یقین“ کی ”نعمت“ نصیب فرمائیں..اللہ تعالی پر یقین..اللہ تعالی کے وعدوں پر یقین..اللہ تعالی کی کتابوں، رسولوں، فرشتوں اور آخرت پر یقین..مکمل اطمینان..

آج اتوار کا دن ہے..۲۹ /جمادی الآخر ۱۴۴۴ھ کی تاریخ ہے..

جنوری کا مہینہ..22 تاریخ..2023 ہے..

آج مغرب کے بعد ”چاند“ نظر آ گیا تو ”رجب شریف“ شروع ہو جائے گا..سال کا ساتواں مہینہ..حرمت و احترام والے چار مہینوں میں سے دوسرا مہینہ..معراج مبارک اور نماز کا مہینہ..روحانی بلندی اور استغفار کا مہینہ..رزق کی بوچھاڑ..اور جہاد کی تیاری کا مہینہ..رمضان المبارک کی پہلی خوشبو امت تک پہنچانے والا مہینہ..چاند کی خبروں پر نظر رکھیں..دعاؤں اور معمولات کا اہتمام کریں..

اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ..

”رجب المرجب“ کا ایک خاص استغفار بھی..اسلاف سے منقول ہے..چاند ہو گیا تو عرض کر دیں گے ان شاءاللہ..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

<مکتوب خادم>

مھم شریف..الوداع

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے:-

”مَاشَاءَاللّٰہُ کَانَ وَ مَالَمْ یشَآء لَمْ یَکُنْ“

اللہ تعالی اپنے بندوں پر فضل فرما کر انہیں نیکی کی توفیق دیتے ہیں..اور رحم فرما کر گناہوں سے بچاتے ہیں:-

”لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ العَلِیِّ  الْعَظِيم“

بھلائی کے کاموں کی توفیق..اللہ تعالی کی نعمت سے ہوتی ہے..اور اس پر شکر واجب ہے:-

”اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ“

اللہ تعالی کی ”مشیت“ اور ”قوت“ سے ہی بندوں کے کام بنتے ہیں:-

”مَا شَاء اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ“

اللہ تعالی ہی اپنے بندوں کے لئے کفایت فرمانے والے وکیل و کفیل ہیں:-

”حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا“

اللہ تعالی نے عظیم احسان فرمایا..تعمیر مساجد مہم میں لگایا..ایسی فکر نصیب فرمائی جو خیر ہی خیر تھی..ایسے کام میں لگایا جو خیر ہی خیر تھا..اس عظیم احسان اور فضل پر دل اور سر اللہ تعالی کے شکر میں..اللہ تعالی کے سامنے جھکے ہوئے ہیں..

”اَللّٰهُمَّ لَكَ الحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ.. اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ

آج ہر شخص کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہے..ایسے حالات میں اچھے کام اور اچھے عمل کی فکر نصیب ہو جانا..اللہ تعالی کا فضل ہے..ہم اس کی ٹھیک طرح سے قدر نہ کر سکے اسی لئے مکمل ہدف تک نہ پہنچ سکے..اپنی کوتاہی پر اپنے مالک سے معافی چاہتے ہیں..

”رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُـوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِىٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ“

مگر جتنا کچھ ہوگیا..یہ بھی ہماری حیثیت اور مقام سے بہت بڑھ کر ہے..کہاں ہم اور کہاں مساجد..کہاں ہم اور کہاں اللہ تعالی کے گھر..ہم جیسے بے نام، غریب، مسکین، عاجز، کمزور افراد..اور ماشاءاللہ ڈیڑھ ماہ میں انیس، بیس مساجد کا انتظام..شکر کا حق کیسے ادا کریں!

”سُبْحَانَ اللّهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّهِ الْعَظِيم“

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس مہم میں..کسی بھی طرح سے شرکت کرنے والے ہر مسلمان کو..درجہ بدرجہ اپنی شان عالیشان کے مطابق عالیشان جزائے خیر عطاء فرمائیں..

”اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی وَلَھُم وَلَھُن اَللّٰھُمَّ ارحَمنِی وارحَمْھُم وارحَمْھُن“

مُہم کے آخری لمحات میں خود کو اور آپ سب کو نصیحت ہے کہ..دین سے رشتہ مضبوط تر کریں..پورے دین کو ماننے والی جماعت کو نعمت سمجھیں..اللہ تعالی کے دین کے غلبے کی محنت دن رات کریں..کسی کی زمین پر..یا سرکاری زمین پر ایک بالشت یا ایک چپہ برابر ناجائز قبضہ نہ کریں..اجتماعی اموال اور امانتوں میں بھرپور امانت داری نبھائیں..کلمہ طیبہ سے پکی یاری لگائیں..نماز کو زندگی کا سب سے اہم کام سمجھیں..جہاد فی سبیل اللہ سے وفادار رہیں..خود کو کبھی ذکر اللہ سے غافل نہ ہونے دیں..اللہ تعالی سے رو رو کر ہدایت، تقوی، پاکیزگی اور معافی مانگا کریں..حُسن خاتمہ کی ہمیشہ فکر رکھیں..اور اللہ تعالی کی مساجد سے جڑے رہیں..مہم کے جانے پر دل اداس ہے..پیاری مہم شریف..وقتی طور پر..الوداع..

اللھم صل وسلم وبارک علی سیدنا محمد  وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا..

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ..وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

<مکتوب خادم>

المؤمنات

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

 اللہ تعالی نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی ”جماعت“ بنا دی ہے..

”وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ

یعنی مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں..ایک دوسرے کے رفیق ہیں..ایک دوسرے کے معاون ہیں، ایک دوسرے کے مددگار ہیں..

تفسیر خازن میں مرقوم ہے:-

”مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں..آپس میں دینی محبت اور الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں“..

یہ ایمان والی محبت..اللہ تعالی کی رضا والی محبت..نفسانی خواہشات اور گناہوں سے پاک محبت..اور فرشتوں جیسی پاکیزہ محبت..مسلمانوں کو ایک ناقابل تسخیر امت بنا دیتی ہے..اللہ تعالی نے اس ایمانی محبت کی پانچ علامات بھی اسی آیت مبارکہ میں بتا دی ہیں..اور اس محبت پر جو انعام ملے گا وہ بھی ارشاد فرما دیا ہے..اللہ تعالی توفیق عطا فرمائیں تو سورہ التوبہ کی یہ آیت (71) ”فتح الجواد “میں پڑھ لیں..بات یہی سمجھ آئے گی کہ..دین کی جس محنت میں مسلمان مرد..اور مسلمان خواتین دونوں شریک ہوتے ہیں..وہی محنت مکمل کامیابی حاصل کرتی ہے..اور یہ کہ..مسلمان عورتوں کے ذمہ بھی دین کا کام ہے..تعمیر مساجد کی مہم میں آج کے بعد صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں..

31 دسمبر..اذان مغرب کے ساتھ یہ برکتوں سے لبریز مہم مکمل ہو جائے گی ان شاء اللہ..ان تین دنوں کی محنت میں ”المؤمنات“..خصوصی کردار ادا کریں..

اللہ تعالی آپ کو اپنی رحمت، محبت اور مغفرت نصیب فرمائیں..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

<مکتوب خادم>

مبارک جوڑ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی کے ساتھ ”نسبت“.. جسے بھی نصیب ہو جائے..وہ بہت قیمتی ہو جاتا ہے..بہت اونچا ہوجاتا ہے..اللہ تعالی کے انبیاء..اللہ تعالی کے ملائکہ..اللہ تعالی کا گھر..اللہ تعالی کے اولیاء..وغیرھم..

قیمتی ہیرا جس کپڑے میں لپیٹا جاتا ہے..جس ڈبے میں رکھا جاتا ہے..اس کپڑے اور ڈبے کی ”عزت“ بھی بڑھ جاتی ہے..جو خوش نصیب افراد حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی صحبت میں رہے..وہ کتنے اونچے ہوگئے..یہ بڑا دلچسپ اور بہت اہم موضوع ہے..”کعبہ شریف“ اللہ تعالی کا گھر ہے..اب جو چیز بھی اس کے ساتھ جڑ جاتی ہے اس کی شان بلند ہوجاتی ہے..کعبہ شریف کی چابیاں جس خاندان کے پاس ہیں..اس کی عزت بادشاہوں سے بڑھ کر ہے..جو کپڑا غلاف کعبہ بنتا ہے وہ اہل ایمان کے نزدیک بڑی شان رکھتا ہے..

اب ہم اپنے زمانے، ماحول اور آس پاس کو دیکھیں..الحمدللہ ہمارے پاس بھی..اللہ تعالی سے براہ راست نسبت رکھنے والی عظیم چیزیں موجود ہیں..مثلا کتاب اللہ..اور مساجد اللہ..الحمدللہ”اولیاء اللہ“ بھی موجود ہیں..مگر امت میں انتشار کی وجہ سے..انکی پہچان کچھ مشکل ہے..ہر کسی نے اپنے اپنے ”برانڈ“ کے ”ولی“ ڈھونڈ رکھے ہیں..مگر ”کتاب اللہ“ اور ”مساجد اللہ“ کی اللہ تعالی سے براہ راست ”نسبت “ تو یقینی ہے..پس ہم ان دونوں سے جس قدر قریب ہوتے جائیں گے..ہمیں اسی قدر اللہ تعالی کی محبت.. اللہ تعالی کی نسبت..اللہ تعالی کی رحمت ملتی جائے گی..ہم ان دونوں سے خصوصی تعلق بنائیں گے تو ہم بھی ”خاص“ ہو جائیں گے..ہم ان دونوں کے سچے خادم بنیں گے تو ہمیں عزت اور اونچا مقام ملے گا..جس طرح گھر کے خادم کو ہر وقت حاضری نصیب ہو جاتی ہے..ہم ”قرآن“ اور ”مسجد“ کی محبت دل میں لا کر..ان کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑیں گے تو ہم پر ان دونوں کے تقدس، مقام، شرف اور پاکیزگی کے اثرات ظاہر ہوں گے..”اولیاء اللہ“ سے بھی تعلق مضبوط کریں..اور کتاب اللہ اور مساجد اللہ سے خصوصی تعلق بنا کر..اللہ تعالی سے دائمی عزت اور مقام حاصل کریں..جہاں خصوصی تعلق ہو..وہاں وقت گزارنا بھی خوشی..زیادہ سے زیادہ مال لگانا بھی خوشی..اور خوشی سے نیکی کرنے والے ہی..”احسان“ کا اونچا مقام پاتے ہیں..

بہت اہم راز معلوم ہو گیا..ہم ”مٹی“ سے بنے ہیں..اور مٹی کی عزت اور ذلت اس کے ”جوڑ“ سے ہوتی ہے..مٹی اچھی چیز کے ساتھ جڑ جائے تو قیمتی ہو جاتی ہے..گندی چیز کے ساتھ ”جڑ“ جائے تو ”گندی“ ہو جاتی ہے..اس لئے اللہ تعالی کےدین..اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم..اللہ تعالی کے قرآن..اللہ تعالی کے گھر..اللہ تعالی کے اولیاء،اللہ تعالی کے شہداء..اور اللہ تعالی کے راستے سے جڑ جائیں..یہ ”مبارک جوڑ“ جنہیں نصیب ہو جائے انہیں بہت مبارک..اسی لئے فرمایا گیا کہ..جسے دیکھو کہ دل و جان سے مسجد سے جڑ گیا ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 <مکتوب خادم>

 مساجد، مقابلہ راہ صحابہ رضی اللہ عنہم

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ”صحابہ کرام“ کو اپنی ”رضا“ والا اونچا مقام عطاء فرمایا ہے..

”رضی اللہ عنہم“

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو..حضرات صحابہ کرام کی ”اقتداء“ کا حکم فرمایا ہے..اور امت کی صرف اسی جماعت کو ”برحق“ اور ”جنتی“ قرار دیا ہے..جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کے راستے اور طریقے پر ہو..

”ما انا علیہ و اصحابی“

حضرات صحابہ کرام..رضی اللہ عنہم..”مساجد اللہ“ سے بہت محبت فرماتے تھے..انہوں نے ”روئے زمین“ کو ”مساجد“ سے بھر دیا..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد تیس سال کے اندر اندر..حضرات صحابہ کرام نے شام، مصر، ایران، عراق سے لے کر خراسان تک..ہند اور سندھ سے لے کر چین تک..اور افریقہ سے لے کر یورپ تک ہرجگہ ”مساجد“ تعمیر فرمائیں..اور انہیں آباد فرمایا..

دراصل ”مسجد“ ایمان کا مرکز.. اسلام کی نشانی..زمین کا عرش سے رابطہ..اور مسلمانوں کی اجتماعیت اور قوت کا اظہار ہے..

تعمیر مساجد کی ”اپنا گھر“ مہم میں..حضرات صحابہ کرام سے اظہار محبت، احسان مندی اور ان کے ایصال ثواب کے لئے..ان شاءاللہ تین روزہ مقابلہ ہوگا..کل بروز جمعہ سے اتوار تک..اس مقابلے کا نام ہے ”راہ صحابہ“..اور اس کا ایصال ثواب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے لئے..حضرات صحابہ کرام کی قربانیوں، محنتوں، عظمتوں اور بلندیوں کو سامنے رکھ کر..پوری ہمت سے محنت کریں..اللہ تعالی خصوصی نصرت اور قبولیت عطاء فرمائیں..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 <مکتوب خادم>

 مُحْسِنِینْ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالیٰ کی ”رحمت“ بہت بڑی اور بہت وسیع ہے..اللہ اکبر..اللہ تعالی سب سے بڑے اور سب سے عظیم ہیں..جو مسلمان اللہ تعالی کے لئے ”مسجد“ بناتا ہے..وہ اپنی ذات پر بڑا احسان کرتا ہے..وہ اپنی سات نسلوں پر احسان کرتا ہے..وہ اپنے والدین پر احسان کرتا ہے..وہ اُس علاقے میں بسنے والے تمام انسانوں پر احسان کرتا ہے..وہ اس زمین پر احسان کرتا ہے جس پر مسجد بنتی ہے..وہ ان پتھروں، اینٹوں اور لکڑی پر احسان کرتا ہے جو اس مسجد کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے..وہ اس علاقے کے پرندوں اور جانوروں پر احسان کرتا ہے..وہ اس پانی پر احسان کرتا ہے جو اس مسجد میں استعمال ہوگا..

خود سوچیں اتنی مخلوق پر احسان کرنے والے کو کیا کیا بدلہ، اجر اور مقام ملے گا..بڑے بڑے سیٹھ بڑے بڑے پلازے اور مارکیٹیں چھوڑ کر مر جاتے ہیں..پھر ان کے ورثاء پیسے اور دیگیں دے کر مدرسہ کے بچوں کو لاتے ہیں کہ ”ایصال ثواب“ کے لئے قرآن مجید پڑھ دو..اہل علم نے لکھا ہے کہ پیسے دے کر پڑھوانے کا کوئی ثواب ”میت“ کو نہیں پہنچتا..کیونکہ جنہوں نے پیسوں کے لئے پڑھا..قورمے اور بریانی کے لئے پڑھا خود اُن کو ہی کوئی ثواب نہیں ملا..تو پھر وہ کسی اور کو کیا ثواب ہدیہ کریں گے؟..ان سیٹھ صاحب پر اللہ تعالی کی رحمت ہوتی اور وہ مسجد بنوا گئے ہوتے تو اسمیں پڑھی جانے والی ہر نماز، ہر اذان اور ہر تلاوت میں اُن کا اجر ہوتا..اُس مسجد کی ایک ایک نیکی..ایک ایک اینٹ، ایک ایک خیر میں ان کا حصہ ہوتا..

پہلے آبادی کم ہوتی تھی تو ”مساجد“ بھی کم بنائی جاتی تھیں..تاکہ مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ ”اجتماع“ اور ”اکٹھ“ ہو..اور وہ بکھر نہ جائیں..مگر اب آبادی بہت ہے اور گنجان ہے..دو تین گلیوں کے مسلمان ہی نماز ادا کرنے لگیں تو مسجد پوری بھر جائے..پھر گناہ کے اڈے بھی ہر طرف بے شمار ہیں..یہ اڈے اللہ تعالی کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں..مسجد سے اذان اٹھتی ہے تو اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے..ہم افریقہ کے ایک مُلک میں تھے وہاں مسلمانوں کی آبادی کم تھی تو پورے شہر میں تین مسجدیں تھیں..لوگ گاڑیوں پر دور دور سے آتے اور مساجد بھر جاتی تھیں..ہمارے علاقوں میں تو زیادہ سے زیادہ مساجد کی ضرورت ہے..اللہ تعالی رحمت فرمائیں اور اس عظیم عمل کی..خالص اپنی رضا کے لئے توفیق عطاء فرمائیں..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 <مکتوب خادم>

 مَلأِ اعلیٰ میں مساجد کی باتیں

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہم سب کو ”مغفرت“ نصیب فرمائیں..حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ادرؤوا السيئات القديمات بالحسنات الحديثات“

”یعنی اپنے پرانے گناہوں اور برائیوں کو نئی نیکیاں کر کے مٹا دو“

انسان کا دل جتنا شفاف ہو..اور نفس جتنا پاک ہو اسے اپنے گناہ اسی قدر زیادہ نظر آتے ہیں..اور وہ ان گناہوں کو دھونے اور مٹانے کی فکر کرتا ہے..لیکن اگر دل اور نفس پاک صاف نہ ہوں تو گناہوں کا پتا ہی نہیں چلتا اور یوں ان کا انبار جمع ہوتا رہتا ہے..جو بالآخر انسان کے دین، دنیا اور آخرت کو برباد کر دیتا ہے..اسی لئے”استغفار“ اور ”توبہ“ کی بار بار تلقین فرمائی گئی..

ایک طرف حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں..گناہوں سے معصوم اور پاک مگر آپ ایک ایک مجلس میں ستر ستر بار..سو سو بار ”استغفار“ فرماتے ہیں..اور دوسری طرف ہم ہیں گناہوں میں ڈوبے ہوئے..مگر پھر بھی توبہ ”استغفار“ اتنا کم..

” مساجد“ کی تعمیر اور آبادی بہت محبوب، بہت مقرب اور بہت وزنی عمل ہے..یہ مبارک عمل گناہوں کو مٹانے اور قسمت کو چمکانے کا بہترین ذریعہ ہے..اللہ تعالی کے مقرب اور عالی دربار کو..”مَلأِ اعلیٰ“ کہتے ہیں..یعنی مقرب اور عظیم فرشتوں کی مجلس..اس مجلس میں فرشتے آپس میں ”مساجد“ کی باتیں فرماتے ہیں کہ..جو مسلمان مسجد کی طرف زیادہ چلے اور نماز کے بعد زیادہ دیر تک مسجد میں رکے تو اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے..اور وہ بالکل پاک صاف ہو کر دنیا و آخرت کا ”عیش“ پاتا ہے..

”مسجد“ کہنے کو تو ایک لفظ ہے..اور دیکھنے میں ایک عمارت..مگر حقیقت میں وہ”حسنات“، ”خیرات“، ”برکات“ اور بے شمار نیکیوں کا چلتا ہوا کارخانہ ہے..جس کا دل ”مسجد “میں اٹک جائے اس کے لئے ”عرش الہی“ کے سائے کا انتظام ہو جاتا ہے..وہ خوش نصیب افراد جو ”مساجد“ کی محنت اور فکر میں نکلے ہوئے ہیں..اپنی قسمت پر اللہ تعالی کا ”شکر“ ادا کریں..اور زیادہ سے زیادہ استغفار کریں..اپنے گناہوں کو یاد کرکے دل کے غم اور کڑھن کے ساتھ استغفار..ہمارا ”استغفار“ جس قدر زیادہ ہوگا..اور دل سے ہوگا تو اسیقدر ہمیں اس مبارک کام..اور پھر اس سے بھی اونچے کام کی ان شاء اللہ توفیق ملے گی..

الحمدللہ چند دن کی قدرے سست محنت کے باوجود ”چار مساجد“ سے زائد کا انتظام ہو چکا ہے..اور سات مزید پلاٹ بھی آچکے ہیں..اگر استغفار اور محنت بڑھائیں گے اور اپنی قبر اور آخرت کی تیاری کا جذبہ دل میں لائیں گے تو ان شاءاللہ..روزانہ ایک مسجد آسانی سے ہو جائے گی..کوٹھیاں، محلّات، پلازے، اسٹیڈیم اور دنیا کی ”ھاھو“ سب فنا ہونے والے ہیں..وہ کام زیادہ محنت سے کریں جو ہمیشہ کام آئے..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حُسن اور ”مساجد اللہ“ کی محنت مرحبا!..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ