مکتوب خادم

اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا

السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته..

اللہ تعالی کا ”شکر“ رمضان المبارک نصیب فرمایا..الحمدللہ رب العالمین..آج دل اداس ہے..”رمضان“ کی جدائی کا احساس ہے..اللہ تعالی ”رمضان“ کا اختتام اچھا نصیب فرمائیں..اللہ تعالی ”زندگی“ کا اختتام اچھا نصیب فرمائیں..

اَللّٰهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَةِ..

یہ مسنون دعاء..ہر معاملے کے اچھے انجام اور عمدہ اختتام کے لئے مفید ہے..بعض لوگ کہتے ہیں کاش! ”رمضان“ مزید رہے..ہم یہ نہیں کہتے..بس جتنا اللہ تعالی نے دے دیا اتنا ہی کافی ہے..روز کی دیہاڑی کرنے والے مزدور..اور بوڑھے مسلمان جس مشقت سے روزہ پورا کرتے ہیں..ان کا مقام بہت بلند ہے..اور ان کے لئے بس اتنے روزے ہی کافی ہیں..

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَق

جس نے پیدا فرمایا وہی بہتر جانتا ہے..الحمدللہ ”انفاق“ کی رحمت بھی مکمل ہونے والی ہے..اللہ تعالی دینے والوں..جمع کرنے والوں..اور انتظام کرنے والوں کو..بہت بہت جزائے خیر اور مغفرت و نعمت عطاء فرمائیں..آخری گزارش اس سلسلے کی یہ ہے کہ..دین بچانا ہے تو مالی معاملات میں بہت احتیاط کریں..یہ پورا دین، یہ مقدس دین، یہ عظیم دین..روحانی اعتبار سے..حلال کے لقمے پر کھڑا ہے..جہاں حرام آیا..جہاں خیانت آئی وہاں یہ دین..دل سے نکلنا شروع کر دیتا ہے..نسلوں سے نکلنا شروع کر دیتا ہے..اللہ تعالی کو ربّ مانیں..اُس پر یقین رکھیں..حالات اور اولاد کے سامنے مجبور نہ ہوں..رسومات اور ظاہری ٹھاٹھ کو دل سے نکالیں..اور مال کے معاملے میں مکمل ”امانتدار“ بن جائیں..یقین کریں..ایمان کے بعد امانتداری سے حسین کوئی چیز نہیں..اللہ تعالی سے کچھ نہیں چھپتا..اور اللہ تعالی کو یہ بات ناپسند ہے کہ کوئی لوگوں کے سامنے تو امانتدار بنے..اور جب اکیلا اللہ تعالی کے سامنے ہو تو اسوقت خیانت کرے..رمضان المبارک کے آخر میں ہم اللہ تعالی سے ایمان، امانتداری، مغفرت، عافیت اور توفیق کا سُؤال کریں..الحمدللہ ”انفاق“ کے مکتوبات کا سلسلہ بھی..اللہ تعالی کے فضل سے مکمل ہوا..اللہ تعالی قبول فرمائیں..ذخیرہ آخرت بنائیں..آپ سب کو پیشگی عید مبارک..تقبل اللہ منا ومنکم..اللھم صل وسلم وبارک علٰی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیراً کثیرا

والسلام

خادم....لااله الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

مکتوب خادم

 صدقہ فطر واجب ہے

السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته..

اللہ تعالیٰ ہمیں تمام فرائض، واجبات اور سنن..ایمان اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں..”صدقہ فطر“ بھی واجب ہے..اپنی طرف سے بھی اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی..ہر ”صاحب نصاب“ مسلمان پر ”عیدالفطر“ کی ”صبح صادق“ طلوع ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے..جنہوں نے گزشتہ سالوں کا نہ دیا ہو ان پر وہ ادا کرنا بھی واجب ہے..اور جو وقت سے پہلے ادا کردے اس کا ادا کرنا بھی درست ہے، جیسا کہ اس سال کا آج کل ادا کر دینا..صدقہ فطر اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنا چاہیے..مثلاً جن کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مال عطاء فرمایا ہے..وہ کشمش یا کھجور کے حساب سے ادا کریں..جن کے پاس زیادہ مال نہیں وہ گندم کے حساب سے اور جو متوسط ہیں وہ جو کے حساب سے ادا کریں..بیوی کا صدقہ فطر اس کا خاوند بھی ادا کرسکتا ہے..اس سال مارکیٹ کے حساب سے صدقہ فطر کی مقدار درج ذیل ہے..

(1) گندم کے حساب سے فی کس 150 روپے..

(2) جو کے حساب سے فی کس 425 روپے..

(3) کھجور کے حساب سے فی کس 1050 روپے..

(4) کشمش کے حساب سے فی کس 2275 روپے..

دل کی خوشی، اخلاص اور جذبہ احسان کے ساتھ ”عید الفطر“ کی نماز سے پہلے پہلے اپنا یہ واجب ادا کردیں..وہ مسلمان جو غریب ہیں اور نصاب کے مالک نہیں ہیں ان پر ”صدقہ فطر“ واجب نہیں ہے..

گزارش..صدقہ فطر کی مذکورہ بالا مقدار کراچی کے علماء کرام نے تیار کی ہے..ہمارے جامعۃ الصابر بھاولپور کی طرف سے بھی ایک ”مقدار نامہ“ جاری کیا گیا ہے..وہ بھی معتبر ہے..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

مکتوب خادم

سَیِّدُ الشُّہَدَاءِ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِب

السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته..

اللہ تعالی کے ”خاص الخاص“ بندے..حضرت سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ..تمام شہداء کرام کے ”سَیِّد“ اور ”بادشاہ..

حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب سگے چچا..ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی..اور عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف دو سال بڑے..کنیت ”ابو عمارہ“ اور ”ابو یعلی“..اس امت کے فرعون ابوجہل کو زخمی کر کے اسلام میں داخل ہوئے..بہادروں کے بہادر..حتی کہ ”بہادری“ آپ پر فخر کرتی ہے..اور تا قیامت کرتی رہے گی..حسن و جمال کے پیکر..شہ سوار، تیر انداز، تلوار باز..اور پہلوانی کے ماہر..غزوہ بدر کے دن دونوں ہاتھوں میں تلواریں لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لڑ رہے تھے..

مورخین نے مشرکین کے ان بہادروں کی فہرست بنائی ہے جو ”بدر“ کے دن..حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے..عرب کا جانا مانا بہادر ”شیبہ“ تو ایک منٹ آپ کے سامنے نہ ٹک سکا..اسلام کے پہلے ”علمبردار“..اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص ”وزیر“ اور ”مشیر“..غزوہ احد میں جس طرف رخ فرماتے..لاشوں کے ڈھیر لگا دیتے..بعض روایات کے مطابق شہادت سے پہلے اکتیس مشرکین کو واصل جہنم فرمایا..اللہ تعالیٰ کو ”شہداء کرام“ سے پیار ہے..ایسا پیار کہ انمیں سے کئی سے اللہ تعالیٰ بغیر حجاب کے بات فرماتے ہیں..شہداء کرام کے اس پیارے، عظیم اور محترم قافلے کو اپنا ”امیر“ بھی شاندار چاہیے تھے..ایسا ”امیر“ جو اللہ تعالیٰ کے پیارے شہداء کا واقعی ”امیر“ کہلا سکے..سیدنا حمزہ پر نظر انتخاب پڑی..ہاں اُن کے ہوتے ہوئے اور کون اس عظیم منصب کا حقدار بن سکتا تھا..

شہداء کرام کو مبارک!..ان کو عظمتوں، محبتوں اور نسبتوں سے مالا مال ”امیر“ ملا..جس کی قیادت میں وہ قیامت کے دن الگ شان سے کھڑے ہوں گے..یا اللہ آپ جانتے ہیں..ہم حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے کتنی محبت رکھتے ہیں..تو پھر ”یا ارحم الراحمین“ کرم فرما دیجئے..

(گزارش) کل کے مکتوب میں ”ورضوا عنہ“ کو ”عنھم“ لکھا چل گیا تھا جو بعد میں درست کرکے چلایا گیا..

والسلام

خادم....لااله الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

 

مکتوب خادم

مُحْسِنِ اُمَّتْ

السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاته..

اللہ تعالی نے ”غزوہ أُحد“ میں اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص حفاظت فرمائی..

غزوہ أُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا محفوظ رہنا ایک معجزہ تھا..جو اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا..آپ اس جنگ کے حالات پڑھیں..نقشہ دیکھیں، صورتحال جانیں تو..آپ اس بات کی تصدیق کریں گے..غزوہ أُحد میں دراصل جنگ بگڑ گئی تھی..مسلمان ہر طرف سے گھیرے میں آگئے..ان کی صفیں بکھر گئیں اور ان کا ہجوم ٹوٹ گیا..تلواروں، تیروں کی لڑائی میں جس لشکر کی صفیں ٹوٹ جائیں وہ بہت کمزور ہو جاتا ہے..اور اپنے سے کم افراد والے منظم لشکر سے بھی شکست کھا جاتا ہے..

یہاں تو مشرکین کی تعداد مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی..اور مسلمانوں کی صفیں بکھر چکی تھیں..قریش مکہ کے جنگ بازوں نے اپنا پورا زور ایک ہی رخ پر ڈال دیا کہ..کسی طرح حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیں..یہ حملہ، یہ زور اور یہ یلغار معمولی نہیں تھی..مگر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے..جن خوش قسمت ترین افراد کو استعمال فرمایا..ان کا نام ہے ”شہداء اُحد..

سبحان اللہ..شہداء اُحد نام لکھتے ہوئے بھی جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے..رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ..زمانے کے وہ بہادر ترین، وفادار ترین اور صابر ترین افراد جو اُسوقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ڈھال بن گئے..جنہوں نے اپنے جسموں کے ٹکڑوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حفاظتی قلعہ کھڑا کر دیا..وہ جانباز جنکی بجلیاں برساتی آنکھوں اور آگ برساتے غصے اور جذبے نے مشرکین کو ناکام کر دیا..

غزوہ اُحد کا آخری حصہ بس اِسی بات کی جنگ تھی کہ..مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنا چاہتے تھے..جبکہ مسلمان ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنا چاہتے تھے..اسی ایک نقطے پر ایسی تاریخی جنگ ہوئی کہ زمین لرز اٹھی..اور شیطان تک نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا..مگر پھر میدان میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی آواز گونجی..او دشمنو !..اللہ ہمارا مولیٰ ہے..تمہارا کوئی مولیٰ نہیں..اور ہمارے آقا الحمدللہ زندہ سلامت موجود ہیں..اور یوں مشرکین کو فتح نما شکست اور مسلمانوں کو شکست نما فتح نصیب ہوئی..

بات لمبی ہے..مکتوب میں جگہ کم ہے..اللہ کرے یہ اشارے سمجھ میں آجائیں..دراصل ”شہداء اُحد“ پوری اُمت کے مُحسن ہیں..اُمت کو چاہیے کہ انہیں سلام پیش کرتی رہے..اُن کے لئے ایصال ثواب کرتی رہے..اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درجات لامحدود ہیں..پھر حضرات ”شہداء اُحد“ کا دوسرا احسان یہ کہ انہوں نے شہادت کے بعد بھی اس اُمت کے لئے پیغام بھیجا کہ..ہم جیسا مقام چاہیے تو جہاد میں ہرگز کوتاہی نہ کرنا..اس پیغام کی تفصیل احادیث مبارکہ..اور کتب تفسیر میں موجود ہے..٢٦..٢٧ رمضان کی بھرپور محنت کا ایصال ثواب..سیدالشہداء رضی اللہ عنہ اور شہداء اُحد کے لئے..رضی اللہ عنہم..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن زاد شفاعت مرحبا!

والسلام

خادم....لااله الااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کا شکر..آج چاند رات ہے..نیا اسلامی، ہجری، قمری مہینہ..ربیع الاول..اللہ تعالی کے حکم سے تشریف لے آیا ہے..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کی ”غالب نصرت“ ایسی آئی کہ..دوست، دشمن سب حیران رہ گئے..”میڈیا“ کے ایسے ہوش اڑے کہ وہ اپنی اصل ذہنیت بھول گیا اور دھڑا دھڑ سچی خبریں دینے لگا..جب پورے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی..اور امارت اسلامی پورے افغانستان پر چھا گئی تو دشمنوں کو..اور میڈیا کو ہوش آگیا..چنانچہ اب پھر وہی الٹی خبریں، جھوٹے تجزیئے اور سازشی سؤالات ہیں..مثلاً فلاں کیوں نظر نہیں آرہا؟..فلاں منظر عام سے کیوں غائب ہے؟..فلاں اب تک سامنے کیوں نہیں آرہا؟..کیا طالبان میڈیا کے نوکر ہیں کہ دن رات اس کے سامنے حاضری دیں..اور صفائیاں پیش کریں..انہوں نے جہاد لڑکر فتح پائی ہے..کسی سے بھیک مانگ کر نہیں..ان کی قیادت کا ایک حصہ ہمیشہ گمنامی میں رہنا پسند کرتا ہے..اور ان کے سامنے اس وقت بے شمار کام ہیں..مسلمانوں کو چاہیے کہ..جھوٹی اور پریشان کن خبروں کا اثر نہ لیں..امارت اسلامی کی کامیابی کے لئے دعاؤں کا اہتمام کریں..طالبان کو مفت مشورے نہ دیں..اور اس  وقت افغانستان جا کر ان کے مسائل اور پریشانیوں میں اضافہ نہ کریں..یہ فتح اللہ تعالی نے دی ہے..اور ہم سب مسلمانوں کو دی ہے..ہمیں اس پر اللہ تعالی کا ہی شکر ادا کرنا چاہیے..اور اللہ تعالی کے وعدوں پر اپنے یقین کو بڑھانا چاہیے..یہ فتح ان شاءاللہ بہت سی فتوحات کے دروازے کھولے گی اور مظلوم و بے بس مسلمانوں کو آزادی کی نعمت حاصل ہوگی ان شاءاللہ..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 <مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ان کو مغفرت و اکرام کا اعلی مقام نصیب فرمائے..فخر کشمیر، شرف کشمیر..مرد مؤمن..مرد استقامت..جرأت و غیرت کا استعارہ، امت مسلمہ کا سرمایہ..محترم سید علی گیلانی..انتقال فرما گئے..انا للّٰہ وانا الیہ راجعون..وہ کشمیر کی آزادی نہ دیکھ سکے..مگر انہوں نے غلامی میں بھی..اپنے دل، اپنے دماغ اور اپنے ضمیر کو آزاد رکھا..اور آخری دم تک اسلام اور آزادی کی آواز لگاتے رہے..لوگ کہہ رہے ہیں کہ آج اہل کشمیر اپنے رہنما سے محروم ہوگئے ہیں..حالانکہ ایسا نہیں ہے..آج تو کشمیری مسلمانوں کو ایک حقیقی رہنما اور ہیرو مل گیا ہے..وہ جو پچھتر سال کے مظالم سے بھی نہ جھکا اور پچانوے سال کی عمر میں..اتنے ظلم اور اتنے تشدد کے باوجود..اپنا ایمان اور اپنا نظریہ سلامت لے گیا..ایسے لوگ ہی نشان منزل ہوتے ہیں..اور ان کے جانے کے بعد قافلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں..سفید داڑھی کے ساتھ  ہندوؤں کا بے ہودہ تشدد سہنے والا بوڑھا سید..جس نے ”سید“ ہونے کی لاج رکھی..جس نے ”علی“ جیسے اونچے نام کی لاج رکھی..جس نے کشمیری ہونے کی لاج رکھی..جاتے جاتے افغانستان میں اسلام کی فتح سن کر گیا..کیا معلوم..اللہ تعالی نے اپنے اس بندے کو..افغانستان کی فتح کے پیچھے چھپی فتوحات کی ایک جھلک دکھا دی ہو..اور ”سید“ نے اسی خوشی میں اپنی جان..اپنے مالک کو پیش کر دی ہو..ہاں..وہ اہل استقامت جو دین کی خاطر آزمائشیں اٹھاتے ہیں ان کا اللہ تعالی سے بہت خاص تعلق بن جاتا ہے..محترم گیلانی صاحب! اللہ تعالی آپ کو امت مسلمہ کی طرف سے بہترین بدلہ..اور جزائے خیر عطاء فرمائیں..کاش آپ کے پر نور جنازے میں شرکت کا موقع ملتا..مگر کہاں؟ اہل استقامت تو مرتے نہیں..موت سے گزر جاتے ہیں.. 

ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق،

ثبت است بر جریدۂ عالمِ دوامِ ما..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله