08.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تین
نعمتیں..ایک روایت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”نعمتیں“...اور ”انعامات“ بے شمار ہیں..الحمدللہ رب العالمین..
(۱) الحمدللہ جماعت کے شعبہ سیدنا
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ...”لِدَعْوۃِ الایمان“ کے زیر اہتمام دو دن میں ”تیس
افراد“ نور اسلام میں داخل ہوئے..کفر و شرک سے تائب ہوئے..موت سے زندگی کی طرف
آئے..والحمدللہ رب العالمین...
(۲) الحمدللہ ”قاتل“ جل مرے..7
مئی 2025..ہماری مساجد، بچوں اور خواتین پر حملہ کرنے والے بزدل انڈین پائلٹوں میں
سے دو..اپنا ہی ”سخوئی فائٹر“ گرنے سے جل مرے..خبروں میں تصدیق ہو چکی ہے کہ...یہ
”پائلٹ“ 7 مئی کے...حملے میں شامل تھے..خس کم جہاں پاک..والحمدللہ رب العالمین...
(۳) الحمدللہ ”یوم الفرقان“ کا
”مقابلہ“.....نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...اللہ تعالی کی ”نصرت“ سے
”فتح یاب“ ہوا ہے...شاندار محنت اور بہترین نتیجہ..اللہ تعالی اس میں خرچ کرنے
والوں، دعوت، محنت اور ترتیب بنانے والوں...دعاء کرنے والوں کو..”اصحاب بدر“ کی
کامیاب ایمانی نسبت..اپنی کامل مغفرت اور دارین کی فلاح اور برکت عطاء فرمائیں..اس
مقابلہ کی توفیق پر اللہ تعالی کا شکر..والحمدللہ رب العالمین..
(۴) الحمدللہ”سنن الترمذی“ میں
وہ روایت موجود ہے جس کو بعض اہل علم...”صلوٰۃ التسبیح صغریٰ“ کہتے ہیں..روایت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں..
”حضرت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدہ اُم سُلَیم رضی اللہ
عنھا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں..اور انہوں
نے عرض کیا! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیں..جنہیں میں نماز میں پڑھ لیا کروں..آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! دس مرتبہ ”اللہ اکبر“ پڑھا کرو..دس مرتبہ
”سبحان اللہ“ پڑھا کرو اور دس مرتبہ ”الحمدللہ“ پڑھا کرو..پھر جو چاہے دعاء
مانگو..اللہ تعالی (تمہاری دعاء پر) فرمائیں گے نَعْم نَعْم...ہاں، ضرور ہاں...(یعنی
ہم نے قبول فرما لی)....(الترمذی)
دس
بار ”تکبیر“...دس بار ”تسبیح“...اور دس بار ”حمد“ کرنے کا حکم فرمایا...اسی کا
ترجمہ...اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ پڑھنے سے کر دیا...
اہل
علم غور کریں گے تو کافی کچھ مزید سمجھ لیں گے...اس روایت کی قدرے تفصیل اگلے
مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو
تُحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنی ہر ”نافرمانی“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..
”یُومُ
الفرقان“...”یومُ بدر الکُبریٰ“کے دن دو تحفے قبول کریں..
(۱) گناہوں اور برائیوں سے
حفاظت کے لیے قرآن مجید کے یہ مبارک الفاظ پڑھا کریں..
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“[الذمر(۱۳)]
ترجمہ:
میں اپنے رب کی نافرمانی کرنے پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں..
جب
دل میں گناہ کا خیال آئے..برائی کا ارادہ آئے..کسی برائی یا گناہ کا موقع بنے تو
فورا پڑھیں:-
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“
دل
اسی وقت پاک اور صاف ہو جاتا ہے..اور بڑے دن کے عذاب کا خوف ”نور“ بن کر دل پر
”روحانیت“ ڈالتا ہے..
یہ
مبارک کلمات ویسے بھی روزانہ چند بار پڑھنے کا معمول بنا لیں..بہت فائدہ ہوگا ان
شاءاللہ..خصوصا وہ جن سے گناہ نہیں چھوٹ رہے وہ کثرت سے ان کا ورد کیا کریں..
(۲) دوسرا نبوی تحفہ...جو حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مؤمنہ صحابیہ کو عطاء فرمایا..وہ یہ کہ
جس نماز میں بھی دس بار یہ کلمات پڑھ لیے جائیں..
..
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر..
تو
اس کے بعد ہر دعاء قبول ہوتی ہے...مرد حضرات سنن اور نوافل میں پڑھ لیا کریں..جبکہ
خواتین ہر نماز میں پڑھ سکتی ہیں...اچھا ہوگا کہ آخری قعدہ میں..درود شریف کے بعد
پڑھ لیا کریں..اور پھر دعاء پڑھا کریں..ایک دعاء یا زیادہ دعائیں...کوشش کیا کریں
کہ.....نماز کے آخر میں زیادہ سے زیادہ دعائیں...سلام سے پہلے مانگا کریں...بڑی عظیم
قبولیت کا مقام ہوتا ہے.....تسبیحات کے اس عمل کو...بعض اہل علم...
”صلوٰۃ
التّسبیح صُغْریٰ“
بھی
کہتے ہیں....بہت پرکیف اور بابرکت عمل ہے...اس عمل کی روایات اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
یَوْمُ
الْفُرْقَان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے وعدے کے مطابق..مسلمانوں کو بڑی عظیم الشان فتوحات عطاء فرمائیں...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
”فارس“
کی فتح بھی...بڑی فتوحات میں شامل ہے..ایران، عراق وغیرہ علاقوں کو ”فارس“ کہا
جاتا تھا...حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ”دور خلافت“ میں ”فارس“ یعنی ”ایران“
مسلمانوں نے فتح کر لیا..بہت ایمان افروز تاریخ ہے..جنگ قادسیہ...اور جنگ
نہاوند..حضرات صحابہ کرام کی مثالی بہادری اور قربانی...فاتح ایران سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شاندار جہادی قیادت..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
ایران....حضرات
صحابہ کرام کے مقبول جہاد کی نشانی ہے..اور جہاد کا ایک نتیجہ اللہ تعالی نے یہ بیان
فرمایا ہے!
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
الحمدللہ
انفاق مہم جاری ہے..” یوم بدر “ ”یوم الفرقان “..سترہ رمضان..اس مہم کا پہلا
مقابلہ ہے..اور مقابلے کا نام ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اس
مقابلے کا ایصال ثواب...مجاہدین غزوہ بدر، شہداء غزوہ بدر..اور تمام صحابہ کرام
اور صحابیات...رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام...بے شک ہم ان کے ”مقروض“ ہیں..ساری
امت ان کی ”مقروض“ ہے..اور ہم ان کی ”روشنی“ اور ”نسبت“ کے محتاج ہیں..”ایصال
ثواب“ بہت عجیب عمل ہے..یہ قرضے اتارتا ہے..اور نسبت دلواتا ہے..ان کا پورا قرضہ
کوئی اتار نہیں سکتا...مگر اس کی کوشش اپنی طاقت کے مطابق کی جا سکتی ہے...دو رکعت
ادا کریں..پھر 313 بار پڑھیں...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اور
پھر خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے (16) اور (17) رمضان...بھرپور محنت کریں..اور
آخر میں اس محنت و عبادت کا ایصال ثواب کر دیں...اور اللہ تعالی سے امیدوار رہیں
کہ..وہ ہمیں....اور ساری امت کو نصیب فرمائیں گے...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
مغرب
سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
مشکل
حالات میں کامیابی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی امت حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر رحم فرمائیں..رحمت فرمائیں..اسلام
کو غلبہ...اور مسلمانوں کو ”تمکین فی الأرض“ عطاء فرمائیں..بے شک:
”اِنَّ
اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“
دنیا
کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں..طاقتوروں کے کمزور ہونے اور کمزوروں کے طاقتور ہونے
کا وقت قریب آرہا ہے..ہمارا موضوع چل رہا تھا!
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ“
کہ
تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو..
”شکر“
کا اصلی معنی اور مفہوم ہے....نعمتوں کا صحیح استعمال..مسلمانوں نے جب اپنی جانوں
اور مال کا صحیح استعمال کیا تو وہ دنیا پر چھا گئے..پھر جب نعمتوں کا غلط استعمال
کیا تو دنیا میں مغلوب ہو گئے....لیکن یہ زمین اللہ تعالی نے کافروں کے لیے نہیں
بنائی..ہاں ان کو کبھی کبھار اس زمین پر غلبہ اور اقتدار مل جاتا ہے...مگر یہ دائمی
نہیں ہوتا..زمین اپنے اوپر کسی کو ”سپر پاور“ زیادہ عرصہ نہیں رہنے دیتی..آج کوئی
تو کل کوئی..اور یہ یقینی ہے کہ مسلمانوں نے دوبارہ ”غلبہ“ پانا ہے..ایسا غلبہ جو
پہلے والے غلبے سے بھی زیادہ بڑا اور وسیع ہوگا..ان شاءاللہ...آج بڑی عجیب خبریں
آرہی ہیں..اس لیے:
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ“
کا
جو موضوع شروع کیا تھا وہ پھر کسی مکتوب میں مکمل کریں گے ان شاءاللہ..
فی
الحال ضروری گزارش یہ ہے کہ..حالات اگر خراب اور ہنگامی ہو جائیں تو ”اہل ایمان“
اپنی عبادت، اپنی دعاء.....اور اپنی دینی محنت اور بڑھا دیتے ہیں..تاکہ..اللہ تعالی
کی رحمت اور نصرت متوجہ ہو...اور اگر موت آئے تو اچھی، بہترین اور مزیدار موت
ہو...قسم ہے زمانے کی...تمام انسان خسارے میں جا رہے ہیں...مگر وہ کامیاب ہیں
جو...ایمان، اعمال صالحہ، حق کے کام اور دعوت اور استقامت کی تلقین میں لگے ہوئے ہیں.....
...اللہ
تعالی ہمیں ”خسارے“ سے بچائیں...اور دارین کی ”کامیابی“ نصیب فرمائیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
28.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
درخواست..پانچ نعمتیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے نزدیک ایک ”مسلمان“ کی ”حرمت“ کعبہ شریف کی ”حرمت“ سے زیادہ ہے..حضور
اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:-
”وَالَّذی
نَفْسِی بِيَدِهِ لَقَتْلُ مُؤْمِنٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ زَوَالِ
الدُّنيا“ (النسائی)
ترجمہ:
”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے..ایک مؤمن کا قتل اللہ تعالی کے نزدیک
ساری دنیا کے ختم ہو جانے سے بھی بڑا (یعنی سخت) ہے“
حالیہ
پاک، افغان جنگ پر تمام اہل ایمان کو شدید تشویش، پریشانی اور غم ہے..اللہ تعالی
دونوں مسلمان پڑوسیوں کو ایمان، حکمت اور عقل سلیم عطاء فرمائیں..خدانخواستہ یہ
جنگ پھیل گئی تو.....اہل اسلام کو شدید نقصان ہوگا...تمام اہل دل مسلمانوں سے
درخواست ہے کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں..اور کوئی بھی
اس لڑائی میں مزید تیل ڈال کر اسے نہ بھڑکائے...دونوں طرف مسلمانوں کی جانیں جا رہی
ہیں..مسلمانوں کی قوت ضائع ہو رہی ہے..اور مسلمانوں کے دشمن خوشیاں منا رہے ہیں...ہم
دونوں طرف کے حکمرانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر آپسمیں برادرانہ
مذاکرات کریں..مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کریں..اور ایک دوسرے کے مددگار بنیں....مشرکین
اور یہود و نصاری اس جنگ کو مزید بھڑکانا چاہتے ہیں..انکی سازشوں سے خود کو بچائیں..اور
یاد رکھیں کہ..آپ سب نے اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا ہے..اور اپنے اعمال کا حساب دینا
ہے..
•گزشتہ
مکتوب میں عرض کیا تھا کہ...پانچ نعمتوں پر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے..چنانچہ وہ
ان پانچ نعمتوں کے بارے نقصان میں رہتے ہیں..قرآن مجید نے یہ پانچ نعمتیں ذکر
فرمائی ہیں اور ساتھ ارشاد فرمایا ہے!
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ۠“
کہ
تم ان کا بہت کم شکر ادا کرتے ہو..
وہ
پانچ نعمتیں یہ ہیں..
(۱)”سَمَعْ“ یعنی سننے کی صلاحیت
(۲)”بَصَرْ“
یعنی دیکھنے کی طاقت (۳)”فُؤَادْ“
یعنی دل..(۴)”مَکَانْ“
یعنی رہائش (۵)”مَعَاشْ“
یعنی روزی...
آپ
خود کو اور آس پاس دیکھیں..ان پانچ نعمتوں کا شکر، قدر اور صحیح استعمال کرنے والے
واقعی بے حد تھوڑے نظر آئیں گے...بلکہ اکثر کو تو ان نعمتوں کا احساس تک نہیں
ہوتا.....باقی تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
27.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مِنَ
القَلِیلِ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے ”شکر گزار“ بندوں میں سے بنائیں...ارشاد فرمایا:-
”وَقَلِیْلٌ
مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ“ [سورۃ سبا آیت (13)]
ترجمہ:
اور کم ہیں میرے ”شکر گزار“ (قدردان) بندے..
...”
قلیل“ عربی زبان میں کم اور تھوڑے کو کہتے ہیں..اور ”کثیر“ زیادہ کو...
حضرات
محدثین کرام نے ایک واقعہ لکھا ہے..
حضرت
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے اللہ تعالی سے دعاء مانگی..
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنْ عِبادِكَ القَلِيْلِ“
”
یا اللہ مجھے اپنے تھوڑے بندوں میں سے بنا دیں“
دوسری
روایت میں دعاء کے الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلنِی مِنَ القَلِيْلِ“
”یا
اللہ مجھے تھوڑوں میں سے بنا دیں“
تیسری
روایت میں الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنَ الأقَلِّیْنَ“
اس
کا ترجمہ بھی وہی ہے.. حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا! تمہیں یہ دعاء کہاں
سے ملی؟ اس نے کہا..اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”وَقَلِيلٌ
مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ“
ترجمہ:
اور میرے ”شکر گزار“ بندے تھوڑے ہیں..
تو
میں یہ مانگ رہا ہوں کہ مجھے بھی ان تھوڑے بندوں میں شامل فرما لیں...اس پر حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعریف فرمائی اور بطور تواضع فرمایا...
”سب
لوگ عمر سے زیادہ علم رکھتے ہیں“ (مصنف ابن ابی شیبہ)
ہاں
بے شک حقیقی ”شکر گزار“....قدر دان بندے بہت تھوڑے ہیں..اور یہی تھوڑے بڑے کامیاب
ہیں.....قرآن مجید نے ”قلیل“ اور ”کثیر“ کے موضوع کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے..اور
خاص طور پر پانچ ایسی نعمتوں کا ذکر کیا ہے..جن پر لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہیں..ایک
مؤمن جب یہ آیات پڑھتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ.....وہ بھی
ان تھوڑے کامیاب بندوں میں شامل ہو جائے....وہ نعمتیں کون سی ہیں؟ ”شکر گزاری“ کا
طریقہ کیا ہے؟ کوشش کریں گے کہ ”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ کی برکت سے...قرآن مجید
کا یہ عالی شان موضوع سمجھ لیں..اور اپنی زندگیوں میں ایک اچھی تبدیلی لے آئیں ان
شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
گُنبَدبلا
رہے ہیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ”حرمین شریفین “مسجد اقصی اور تمام مساجد کی حفاظت فرمائیں...حضرت سیدنا سفیان
بن عیینہ رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے کہ:
”اذا
اغار العدو علی موضع فذلک الموضع رباط اربعین سنۃ“
ترجمہ:”
اگر دشمن مسلمانوں کی کسی جگہ پر حملہ کر دے تو وہ جگہ اگلے چالیس سال تک ”رباط“
کا مقام بن جاتی ہے“...
یعنی
وہاں پر قیام رباط ہوگا...اور ایک دن کا رباط.....دنیا وما فیہا سے افضل اور بہتر
ہے..اور اگر کسی جگہ دشمن دو بار حملہ کر چکا ہو تو وہ جگہ...اگلے ایک سو بیس سال
تک ”مقام رباط“ ہوگی...اکثر اہل علم ”فضائل رباط“کی کتب میں یہ روایت ذکر فرماتے ہیں...اور
مسجد اقصی کے فضائل، مناقب..اور وہاں نماز اور اعتکاف کی فضیلت میں بھی......علماء
کرام یہ روایت بیان کرتے ہیں..
اب
سات مئی 2025 کی رات یاد کریں..جب اس دور کے ابوجہل اور اس کے لشکر نے...چند مبارک
مساجد پر حملہ کیا....جامع مسجد سبحان اللہ! کے خوبصورت اور پیارے گنبد....میزائلوں
سے گرائے گئے..حالانکہ ان مساجد میں...نہ کوئی عسکری تربیت تھی..اور نہ کوئی فوجی
چھاؤنی..
اہل
ایمان....اور اہل رباط کے ایمان اور جرأت کو سلام کہ..اتنے بڑے حملے کے
باوجود....وہاں اذان بھی جاری رہی..اور باجماعت نماز بھی..البتہ ان حملوں نے...ان
مساجد کی شان اور مقام کو اور زیادہ بڑھا دیا..
اب
ماشاءاللہ جامع مسجد ”سبحان اللہ“ کے گنبد...فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ..دوبارہ بلند
ہو رہے ہیں....اور دین کے دیوانوں کو....اپنے شاندار ”اعتکاف“ کی طرف بلا رہے ہیں...کتنے
خوش قسمت ہوں گے وہ افراد جو اس سال وہاں ”اعتکاف“ کی سعادت پائیں گے..اور
”اعتکاف“ کے ساتھ ساتھ ”رباط“ کا اجر بھی حاصل کریں گے...حدیث شریف کی کتابوں میں
”رباط“ کے فضائل پر ایک نظر ڈالیں....دل نور اور سرور سے بھر جائے گا ان شاء
اللہ...
مغرب
سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






