18.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تُحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہم سب کو..”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا اہل بنائیں..”مقابلۂ وفا“کے
تحائف اور ہدایا کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں..اللہ تعالی قبول فرمائیں..نافع بنائیں..
(۱) جب اپنے بُرے اعمال کی وجہ
سے اللہ تعالی کے عذاب کا خطرہ محسوس ہو تو..استغفار بڑھا دیں..روزانہ کم از کم
بارہ سو یا چار ہزار بار...اور ان کلمات کی کثرت کریں..اہل علم نے لکھا ہے کہ ”بنی
اسرائیل“ ان کلمات کی برکت سے صدیوں تک عذاب سے بچے رہے..کلمات یہ ہیں:-
”مَاشَاءَ
اللّٰهُ، لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ، حَسْبُنَا الّٰلهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ“
ان
کلمات کے ورد کے اتنے فضائل اور فوائد ہیں کہ پورا رسالہ لکھا جا سکتا ہے..
(۲) اگر دنیا کے ”غنی ترین“
اور ”مالدار ترین“ انسان بننا چاہتے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس
دعاء کو اپنا معمول بنا لیں..یقین کریں دنیا کے مالدار ترین اور غنی ترین انسان بن
جائیں گے ان شاءاللہ..
”اَلّٰلهُمَّ
قَنِّعْنِيْ بِمَا رَزَقْتَنِيْ وَبَارِكْ لِيْ فِيْمَآ اَعْطَيْتَنِيْ وَاخْلُفْ
عَلٰى كُلِّ غَآئِبَةٍ لِّىْ بِخَيْرٍ“
ترجمہ:
یا اللہ مجھے جو دیا ہے اس پر مجھے قناعت
عطاء فرما دیں اور اس میں برکت عطاء فرما دیں اور میری ہر غائب چیز پر خیر کے ساتھ
نگران بن جائیں...
اس
دعاء کو جتنی کثرت، جتنے یقین اور جتنی عاجزی سے مانگیں گے اسی قدر نفع پائیں گے
جو جتنا مانگے گا وہ اتنا ”غنی“ ہوتا جائے گا..
(۳) اگر غصے کی بیماری ہو تو
روزانہ ایک سو بار”يَا عَفُوُّ يَا رَءُوْفُ“پڑھ کر سینے پر دم کریں..بالکل ٹھیک
ہو جائیں گےان شاء اللہ..اور اگر کسی عذاب والے گناہ میں مبتلا ہوں تو اسے روزانہ
تین سوبار پڑھا کریں..عجیب الہامی عمل ہے..
(۴) اگر شیطان حملہ آور ہو
جائے(حرام شہوت، خیانت، وسوسے، بددینی، بدگمانی، سخت بے چینی، درد، عبادت سے بد دلی
وغیرہ) تو فورا پڑھیں:-
”اَلّٰلهُمَّ
اخْسَأْ شَيْطَانِىْ وَفُكَّ رِهَانِىْ“
ترجمہ:
یا اللہ میرے شیطان کو ذلیل کر کے بھگا دیں اور میری گردن آزاد فرما دیں..اگر کسی
اور پر شیطان کو مسلط دیکھیں یا..کسی بچے کو سخت روتے دیکھے تو اس پر یہی دعاء یوں
پڑھ دیں:-
”اَلّٰلهُمَّ
اخْسَاْ شَيْطَانَهٗ وَفُكَّ رِهَانَهٗ“(عورت ہو تو شَیْطانَهَا..رِهَانَہَا)
حیران
کن تأثیر دیکھیں گے ان شاءاللہ..
(۵) اگر جنات یا عفریت حملہ کریں..جاگتے
ہوئے یا نیند میں تو یہ آیت چند بار پڑھیں فورا بھاگ جائیں گے ان شاءاللہ:-
”وَ
اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰـكِنَّ
اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ“[یوسف(۲۱)]
اور
یہ آیت بھی پڑھ سکتے ہیں..
”اَفَغَیْرَ
دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ
طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ“[العمران(۸۳)]
تحفے
تو ابھی کئی باقی ہیں..اور بڑے قیمتی ہیں..مگر مکتوب میں گنجائش نہ رہی..اللہ تعالی
حضرت باجی جان شہیدہ کو مغفرت، شہادت اور اکرام کا بلند مقام عطاء فرمائیں...اور
تمام ”شہداء کرام“ کو بھی..آمین یا ارحم الراحمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
17.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
”مقابلۂ
وفا“ کے تحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے عظیم نام سے...”مقابلۂ وفا“کے مبارک موقع پر...چند مختصر تحفے اور ہدایا
پیش خدمت ہیں...دیکھیں ایک مکتوب میں پورے ہوتے ہیں یا زیادہ میں..اللہ تعالی اس
مکتوب کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائیں..اور اس کا ثواب حضرت باجی جان شہیدہ اور
”شہداء غزوہ ہند“(سات مئی)کو اپنے فضل سے بڑھا چڑھا کر عطاء فرمائیں...
(۱) اپنی نماز اچھی کرنا چاہتے
ہیں تو..ہر نماز شروع کرنے سے پہلے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ لیا کریں..ویسے
بھی ”بسم اللہ“ کی بہت زیادہ عادت ڈالیں..ہر اچھا کام ”بسم اللہ“ کی طاقت اور برکت
سے شروع کیا کریں..نماز سے زیادہ اچھا کام کیا ہوگا؟..ایک امام صاحب نے شکایت کی
کہ نماز میں اور فاتحہ میں اٹک جاتا ہوں..زبان لڑکھڑا جاتی ہے..ان سے عرض کیا..نماز
کی نیت کے بعد ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ کر نماز شروع کیا کریں..الحمدللہ ان
کا مسئلہ فورا حل ہو گیا..یہ عمل نماز کے قبولیت اور توجہ کے لیے بھی نافع ہے..
(۲) جب بھی کسی مجلس میں..گاڑی
میں..یا کہیں بھی بیٹھیں تو ”بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ“ پڑھ لیا کریں..اس
مجلس میں بڑی خیر ہو جائے گی..غیبت جیسے خبیث گناہ سے حفاظت رہے گی ان
شاءاللہ..”رسولِ اللہ“کے ساتھ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پڑھ لیا کریں..پوری
دعاء یوں ہو گی..بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ
وسلم..اس عمل کے فوائد بے شمار ہیں..
(۳) جب بھی قرآن مجید کی تلاوت
شروع کرنے لگیں..ہمیشہ پہلے ”سورہ فاتحہ“ پڑھ لیا کریں..تلاوت کھل جائے گی..بڑی
برکت اور فتوحات ملیں گی ان شاءاللہ..جب کوئی حاجت ہو تو ایک بار یا تین یا سات
بار سورہ فاتحہ اور ایک بار درود ابراہیمی پڑھ کر دعاء کر لیا کریں کہ یا اللہ
سورہ فاتحہ کے وسیلے سے میرے گناہ معاف فرما اور میری یہ حاجت پوری فرما...یہ بہت
عجیب، طاقتور اور کرشماتی عمل ہے..اگر حاجت کوئی زیادہ مشکل اور سخت ہو تو ”فاتحہ“
کی تعداد بڑھا دیں..
(۴) اللہ تعالی نے زمین کو پیدا
فرمایا ہے..زمین کے کروڑوں نظام قائم فرمائے ہیں..کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی روشنی،
کبھی اندھیرا..کبھی تیز ہوا، کبھی حبس..کبھی پانی ہی پانی اور کبھی خشکی وغیرہ..انسان
کا جسم بھی مٹی سے بنا ہے..اللہ تعالی نے اس میں کروڑوں نظام رکھے ہیں..اگر ہماری
توجہ اپنی صحت اور طبیعت کی طرف مستقل ہو گئی تو بڑی پریشانی ہوگی..کیونکہ جسم میں
حالات بدلتے رہتے ہیں..کبھی بخار، کبھی ٹھنڈک، کبھی خون تیز، کبھی سست..کبھی پانی،
کبھی خشکی..اس لیے اچھا ہوگا کہ ذہن کو صحت اور طبیعت کی طرف لگانے کی بجائے ”مصروفیات“
پر لگا دیں..خود کو اتنا مصروف کر لیں کہ بیمار ہونے کا ٹائم ہی نہ ملے..انسان کو
اللہ تعالی نے کام کے لیے پیدا فرمایا ہے..اور کام اتنے ہیں کہ عمر چھوٹی پڑ
جائے..مثلا رات کے تین گھنٹے باقی ہیں..اس میں وضو، تلاوت، نوافل، صلوٰۃ التسبیح،
تسبیحات، دعاء، سحری کی پے در پے ترتیب ہوگی تو...توجہ بدن کی طرف جائے گی ہی نہیں..یہ
ایک چھوٹی سی مثال تھی..مقصد یہ ہے کہ..زندگی اللہ تعالی کے لیے وقف اور مصروف کر
دیں اور روز روز نئے میڈیکل ٹیسٹ کرا کے..خود کو ڈاکٹروں، حکیموں اور عاملوں کا
محتاج نہ بنائیں..باقی تحفے اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
16.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بڑی
اہم بات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی..اُن پر اپنی رحمتوں کا اضافہ فرمائیں..اُن کے درجات بلند فرمائیں...وہ اس
امت کے ”امین“ تھے..سابقین اولین میں سے تھے..مہاجرین کرام میں سے تھے..بدر اور بیعت
رضوان والے تھے..وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مایا ناز سپہ سالاروں میں سے
تھے..شام اور بیت المقدس کے فاتح تھے..حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ
عنہ..ان کا اسم گرامی ”عامر“ تھا...مگر ”ابو عبیدہ“ کہلاتے تھے..ان کے فضائل،
مناقب اور کارنامے اس قدر زیادہ اور اونچے ہیں کہ....مجھے ان کا نام مبارک لکھتے
ہوئے..سعادت، شرف اور خوشی کا احساس ہو رہا ہے..وہ لوگ جو دین کا تھوڑا بہت کام کر
کے تھک جاتے ہیں..یا خود کو کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں..یا اپنی خدمات کا بدلہ دنیا میں
چاہنے لگتے ہیں..ان کو اپنی اصلاح کے لیے حضرت سیدنا عامر ابو عبیدہ بن جراح رضی
اللہ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرناچاہیے..ان شاءاللہ کئی امراض سے افاقہ ہو جائے
گا..آج ان کا تذکرہ اس مقصد سے ہوا ہے کہ....انہوں نے ایک بڑے راز کی بات ارشاد
فرمائی ہے..وہ یہ کہ......
گناہ
ہو جانا ہلاکت نہیں ہے..ہلاکت یہ ہے کہ کوئی مسلمان گناہ کر کے یہ سمجھ لے کہ اب میری
مغفرت نہیں ہوگی......یعنی مایوس ہو جائے..اور فرمایا کہ گناہ کی ہلاکت یہ ہے
کہ....اس کے بعد انسان کوئی نیکی نہ کرے..
مطلب
یہ ہے کہ...اگر کسی مسلمان سے خدانخواستہ گناہ ہو جائے تو وہ فورا نیکی کرے..بلکہ
اپنی نیکیوں کو بڑھا دے..اس طرح وہ ہلاکت اور خسارے سے بچ جائے گا..
بہت
اہم بات ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے بڑی بشارت ہے..بے شک اللہ تعالی معاف
فرمانے سے نہیں تھکتے..نہیں اکتاتے..اس لیے کوئی گناہ گار کبھی توبہ، استغفار نہ
چھوڑے..بلکہ شیطان جس قدر زیادہ گناہ کروائے..مؤمن اسی قدر اپنی توبہ اور اپنا
استغفار بڑھاتا جائے..اور گناہ کے بعد اتنی زیادہ نیکیاں کرے کہ وہ گناہ بھی..اللہ
تعالی کی رحمت سے نیکی بن جائے..بس خطرہ ان کے لیے ہے جو گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھیں..یا
گناہ کو نیکی اور اپنا حق سمجھ لیں..اللہ تعالی ایسی حالت سے ہماری حفاظت فرمائیں...
(گزارش)
چند سال پہلے ”اہل اعتکاف“ کے لیے ایک بیان کی توفیق ملی تھی..احباب کی فرمائش
پر...وہ پیش کیا جا رہا ہے..خود بھی توجہ سے سنیں اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک
بھی پہنچائیں..جزاکم اللہ خیرا...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقابلۂ
وفا
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ...نیکیوں میں اور خیر کے کاموں میں ایک
دوسرے سے ”مقابلہ“ کریں..
”فَاسْتَبِقُوا
الْخَیْرٰتِ“ [البقرہ (۱۴۸)]
کافر
قومیں جو کرتی ہیں...وہ کرتی رہیں..تم ان کو نہ دیکھو کہ..ان کا رخ کس طرف ہے..تم
”خیر“ کے پیچھے دوڑو..اور اس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو..اللہ اکبر
کبیرا...
بس
یہ آیت مبارکہ نازل ہونی تھی کہ....حضرات صحابہ کرام اور حضرات صحابیات (رضوان
اللہ علیہم اجمعین) میں ایسے مقابلے شروع ہوئے کہ...تاریخ ان کی مثال لانے سے عاجز
آگئی..
جہاد
میں مقابلے..مال خرچ کرنے میں مقابلے..عبادت میں مقابلے..خدمت میں مقابلے..اور
قربانی میں مقابلے....مکتوب میں گنجائش کم ہوتی ہے..ورنہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر
کچھ تفصیل سے عرض کرتا...اللہ تعالی ہمیں دنیا داری، مالداری، ذخیرہ اندوزی، شہرت
اور نام و نمود کے ناجائز مقابلوں سے بچا کر....”خیرات“ یعنی اعمال صالحہ میں
مقابلے کا ذوق نصیب فرما دیں..
لیجئے
”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ کا دوسرا مقابلہ آپہنچا ہے..”مقابلۂ وفا“..اپنے ان پیارے
اور عظیم شہداء کے ایصال ثواب کے لیے..جو سات مئی کی رات..بزدل مشرکین کے حملے کا
نشانہ بنے..وہ قرآن پڑھتے ہنستے مسکراتے بچے..وہ شرم و حیا اور علم و عمل کی جامع خواتین..وہ اہل عزم و اہل
وفا ہمارے بھائی.....اللہ اکبر کبیرا...کیسی مثالی قربانی ہے..اور کیسی قابل رشک
سعادت...خوف اور دھمکیوں کے ماحول میں جنہوں نے حضرات صحابہ کرام کی راہ چلتے
ہوئے....ڈرنے اور بھاگنے سے انکار کر دیا..اور ”حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ“ کا نعرۂ مستانہ لگا کر...بہادری
اور شجاعت کی داستان اپنے خون سے رقم کر دی...وہ رات کتنی عجیب تھی..ہر طرف ان
شہداء کرام کی خوشبو مچل رہی تھی..جہاں سے جنازے اٹھائے جا رہے تھے وہاں شکر کی کیفیت
تھی..اور جہاں سے میزائل پھینکے گئے تھے وہاں ماتم کا سماں تھا...شہداء کرام کی
کرامات ایسی ظاہر ہوئیں کہ..پھول جیسے معصوم بچے دشمن پر میزائل بن کر
برسے..”المؤمنات“ کا لشکر دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں وجود پا گیا..اور
وہ دن ہے اور آج کا دن ہے کہ..دشمن اپنے
مُرداروں کی تعداد میں روز اضافہ پاتا ہے اور وہ جگہ جہاں ویرانی پھیلائی گئی تھی
وہاں آج ایسی آبادی ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی..ماشاءاللہ لا قوۃ الا
باللہ..تبارک اللہ..
ہم
پر لازم ہے کہ ہم ان بلند مرتبت شہداء کرام کے ساتھ ”اظہار وفا“ کریں..کیا معلوم
اس عمل کی برکت سے ہمیں بھی ”اعلی قبولیت“ نصیب ہو جائے...چھبیس اور ستائیس رمضان المبارک....”مقابلۂ وفا“ کی جنونی محنت...اور ”شہداء غزوہ ہند سات مئی“ کے لیے اس
کا ایصال ثواب..خصوصا ”المؤمنات“......اپنی بانی باجی جان شہیدہ رحمۃ اللہ علیہا
کے لیے...اپنی محبت کا ثبوت..اپنی دعاء اور محنت سے دیں...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
14.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بابرکت
اور اچھی زندگی کا ایک راز
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ سب کو ”موت“ کا ارادہ نصیب فرمائیں..موت یعنی مرنے کا ارادہ نصیب
ہو جائے تو زندگی بہت اچھی ہو جاتی ہے..بابرکت ہو جاتی ہے..
اچھا
ایک بات بتائیں..کیا ہمارا ”حرمین شریفین“ جانے کا ارادہ ہے یا نہیں؟ یقینا اکثر
مسلمان اس کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ..اس کی آرزو رکھتے ہیں..حالانکہ یقینی نہیں کہ
وہاں جاسکیں گے یا نہیں ؟..ہر مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا گھر دیکھنے کی آرزو
ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ اطہر دیکھنے کی خواہش ہے..تو پھر ”مرنے“
کا ارادہ کیوں نہیں؟ حالانکہ موت یقینی ہے..اور مرنے کے بعد مؤمن اللہ تعالی کے
پاس چلا جاتا ہے...دراصل ہم نے ”موت“ کو ایک ”آفت“ سمجھ رکھا ہے..اور ہم موت کو
”سلامتی“ کے خلاف سمجھتے ہیں..حالانکہ قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ..”موت“ اور ”سلامتی“
ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں..
اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں جن کو ”سلامتی“ دینے کا قطعی اعلان فرمایا..موت کا مزہ تو
انہوں نے بھی چکھا..”سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ“..”
سَلٰمٌ
عَلٰى نُوْحٍ“..”سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ“وغیرہ آیات دیکھ لیں..بلکہ حضرت سیدنا
یحیی علیہ الصلٰوۃ والسلام اور حضرت سیدنا عیسی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تذکرہ میں
فرمایا گیا کہ..ان پر سلامتی جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن ان پر موت آئے گی..اور
جس دن وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے..معلوم ہوا کہ...موت میں بھی سلامتی ہوتی ہے..جو
صرف ایمان والوں کو ملتی ہے..جبکہ کافر زندگی میں بھی سلامتی سے محروم ہیں..اور
موت کی سلامتی بھی انہیں نہیں ملے گی..آپ قرآن مجید میں ”سلامتی“ کا مضمون پڑھیں..آپ
کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے کھل جائیں گے..قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ..اللہ تعالی
”السلام“ ہیں..سلامتی صرف اللہ تعالی عطاء فرما سکتے ہیں..اور سلامتی کا مفہوم بہت
میٹھا اور بہت وسیع ہے..اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ہر وقت ایک دوسرے کو
سلامتی کی دعاء دیتے رہا کریں..”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “..
سلامتی
کا مطلب ہے اللہ تعالی کے عذاب سے بچنا..کفر، شرک اور گناہوں سے بچنا..ناقابل
برداشت تکلیفوں سے بچنا..جہنم اور عذاب قبر سے بچنا..گمراہی، محتاجی، معذوری اور
بربادی سے بچنا..بری موت سے بچنا...اور اللہ تعالی کی ناراضی سے بچنا..باقی ”اچھی
موت“ تو مؤمن کے لیے تحفہ ہے..اور موت ضرور آنی ہے..آج یہ موضوع چھیڑنے کی ضرورت یوں
محسوس ہوئی کہ..کئی خوفزدہ لبرل دانشور مسلمانوں کو ڈرا رہے ہیں..کوئی کہہ رہا ہے
کہ ”مسلم ورلڈ“ کا اختتام قریب ہے..کوئی کہہ رہا ہے کہ فورا ٹرمپ کے قدموں میں گر
جاؤ تاکہ وہ ایٹمی حملہ نہ کر دے..ان پاگلوں کو کون سمجھائے کہ موت تو ضرور آئے گی..ایٹمی
حملے سے نہ آئی تو ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے آجائے گی..تو پھر موت کے خوف سے..بے ایمانی
کی باتیں کرنا کہاں جائز ہے؟ باقی رہے مسلمان تو وہ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب یہ
دنیا ختم ہونے والی ہوگی..اس سے پہلے کوئی ”مسلم دنیا“ کو ختم نہیں کر
سکتا..مسلمانوں کو چاہیے کہ...موت کا ہمیشہ ارادہ رکھا کریں..موت کی ہمیشہ تیاری کیا
کریں..اس عمل کی برکت سے..زندگی بہت اچھی، آسان اور بابرکت ہو جاتی ہے..اور اگر کسی
کو ”شوق شہادت“ نصیب ہو جائے تو اس کے کیا ہی کہنے...پھر اس کو کیا فکر کہ موت کیسے
اور کب آئے گی؟ وہ تو خود اس کی تلاش اور آرزو میں ہے..
عجیب
بات ہے..دنیا میں مکان بنانے کا ارادہ ہر کسی کا ہے..حالانکہ یہ مکان یہاں رہ جائے
گا اور موت کا ارادہ نہیں....جو لازمی حقیقت ہے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
13.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
عجیب نعمت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو...کیسی عظیم نعمتیں
عطاء فرمائی ہیں ”درود ابراہیمی“ ہی کو دیکھ لیں..کیسا نور، اجر اور سکون کا خزانہ
ہے..کوئی انسان صرف دس بار توجہ سے پڑھ لے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے..اور کتنا
کچھ پا لیتا ہے...
اس
امت کو جو ”فرائض“ ملے...انکی شان تو بے حد بلند ہے..نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور
جہاد فی سبیل اللہ...ایک ایک فرض کی حقیقت اور فضیلت کوئی ساری زندگی بیان کرتا
رہے تو عمر ختم ہو جائے..مگر حق ادا نہ ہو سکے..دراصل یہ امت اللہ تعالی کو بہت پیاری
ہے..بہت محبوب ہے...یہ ٹرمپ، مودی، نیتن یاہو تو وقتی غلاظت کا ڈھیر ہیں..چند دن
بعد ان کا نام بھی کوئی ادب سے لینے والا نہ ہوگا..مسلمانوں نے اسلام کی قدر نہیں
کی تو یہ سانپ وقتی طور پر مسلّط ہو گئے...مگر نہ اُن کا کوئی ماضی ہے اور نہ کوئی
مستقبل..یہ حقیر پانی کے بلبلے ہیں جو ختم ہو جائیں گے..جبکہ یہ امت عظیم تھی، عظیم
ہے اور عظیم رہے گی..یہ جیسے ہی جہاد کی طرف لوٹے گی..واپس ساری دنیا پر چھا جائے
گی ان شاءاللہ..بات یہ چل رہی تھی کہ.....فرائض کی تو بات ہی کیا ہے..مگر فرائض کے
علاوہ بھی اس امت کو بڑی عظیم الشان نعمتیں ملی ہوئی ہیں..ان نعمتوں میں سے ایک
”درود ابراہیمی“ ہے..اس درود کی عظمت، شان کا اندازہ اس سے لگائیں کہ..اللہ تعالی
نے اسے ”نماز“ میں رکھ دیا ہے..اور نماز تو معراج ہے معراج..بلندی ہی بلندی..”درود
ابراہیمی“ کا اجر اور اسکی تأثیر اتنی زیادہ ہے کہ...اگر یہ کسی خوش نصیب دل پر
کھل جائے تو پھر اُس کے دنیا اور آخرت میں مزے ہو جاتے ہیں..اس میں ہدایت کا عجیب
نور ہے..محبت کے عجیب جلوے ہیں..دلوں کی صفائی کی عجیب تأثیر ہے..غناء اور شفاء کا
عجیب راز ہے اور سکون تو اتنا ہے کہ بیان سے باہر....آپ اس کو پڑھتے جائیں تو اللہ
تعالی کے بھی قریب ہوتے جائیں گے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی قریب..آپ
اس کو اخلاص کے ساتھ پڑھتے جائیں آپ کی دینی، دنیوی اور اُخروی حاجات بغیر مانگے
پوری ہوتی جائیں گی..آپ اس کو محبت سے پڑھتے جائیں آپ رحمت اور برکت میں ڈوبتے جائیں
گے..اور آپ کے کام خود بخود بنتے جائیں گے..
اس
درود پاک میں ذکر اللہ بھی ہے..دعاء بھی ہے..حق رسول کی ادائیگی بھی ہے..صفات الہی
کا تذکرہ بھی ہے..اور اتنی عظیم اور وسیع رحمت ہے جو صدیوں اور زمانوں پر اور عرش
تا فرش چھائی ہوئی ہے..
رمضان
المبارک کے آخری ایام بہت قیمتی ہوتے ہیں..نفس کے شیطانی اثرات کوشش کرتے ہیں
کہ...رمضان کا آخری حصہ خراب کرا دیں..گھریلو جھگڑے، بازار کی کشش، عید کے نام پر
غفلت اور دنیوی فکریں....ایسے میں ”درود ابراہیمی“ کے نور سے استفادہ کر کے...خود
کو اندھیروں سے بچایا جا سکتا ہے...ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
12.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقبولیت،قبولیت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”ایمان“ نصیب فرمائیں...”اخلاص“ نصیب فرمائیں..
حضور
اقدس سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:-
مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ(بخاری)
ترجمہ:
جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف
کر دیے جائیں گے....
دوسری
روایت میں فرمایا کہ جس نے رمضان کا قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ..اور ایک
روایت میں ہے کہ..جس نے ”لیلۃ القدر“ میں..ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا تو
اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں..” ایمان“ اور ”احتساب“ کا کیا معنی ہے؟
کل
کے مکتوب میں مختصر عرض کر دیا تھا کہ...(ایمان کا معنی) اللہ تعالی پر، اللہ تعالی
کے دین پر اور اللہ تعالی کے احکامات پر ایمان لانا..دین اسلام کو دل اور زبان سے
قبول کرنا..بے شک ”ایمان“ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں...اور (احتساب کا معنی) ہر نیک
عمل اور ہر عبادت..اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا..اور اس پر صرف اللہ تعالی ہی سے
بدلہ چاہنا..اسی کو اخلاص کہتے ہیں..اور ”اخلاص“ کے بغیر بھی کوئی عمل قبول نہیں..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بڑے جامع، وسیع اور مؤثر ہوتے ہیں..”ایماناً و
احتساباً“ کے الفاظ میں بھی..نور اور علم کے خزانے پوشیدہ ہیں..ہم ان الفاظ میں
جتنا ڈوبتے جائیں گے..اسی قدر نور اور علم پاتے جائیں گے..ان الفاظ میں
دراصل...قبولیت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے..آئیے ان الفاظ کے چند مزیدار ترجمے
کرنے کی کوشش کرتے ہیں...
(۱) ہم نے ہر عبادت، ہر نیک
عمل اور ہر اچھا کام ایمان کے ساتھ کرنا ہے..یعنی اللہ تعالی کو مان کر کرنا ہے(ایماناً)
اور صرف اللہ تعالی کو منانے کے لیے کرنا ہے (احتساباً)
(۲) ہم نے ہر عبادت صرف اللہ
تعالی کی بندگی اور نوکری میں کرنی ہے (ایماناً)..اور اللہ تعالی ہی سے مزدوری
پانے کے لیے کرنی ہے (احتساباً)
(۳) ہم نے ہر نیکی اللہ تعالی
کی مان کر کرنی ہے (ایماناً) اور اللہ تعالی کو خوش کرنے کے لیے کرنی ہے
(احتساباً)
(۴) ہم نے ہر عبادت یقین میں
ڈوب کر کرنی ہے (ایماناً) اور دل کی خوشی اور محبت سے کرنی ہے (احتساباً)
(۵) ہم نے ہر نیکی کفر، شرک
اور انکار سے بچ کر کرنی ہے (ایماناً) اور ریا کاری، دکھاوے اور مخلوق سے کوئی بھی
صلہ پانے کے لیے نہیں کرنی (احتساباً)
اللہ
کے بندو اور بندیو! ” ایماناً و احتساباً “کی طاقت ور لہر اور آواز کو دل میں بسا
لو اور اپنی ہر عبادت اور نیکی کو مقبول اور جاندار بنا لو....
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






