<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کا ”شکر“ رمضان المبارک کے ”اعمال“ پر..اب ”دعاء“ اور فکر یہ ہونی چاہیے کہ..رمضان المبارک کے آخری ایام ”بہت اچھے“ گزر جائیں..زندگی کے آخری ایام..اور رمضان المبارک کے آخری ایام بہت ”نازک“ اور ”فیصلہ کن“ ہوتے ہیں..زندگی کے آخری ایام میں عجیب عجیب فتنے انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں..انسان قبر کے بالکل قریب ہوتا ہے اور اسی وقت اس پر مال کی لالچ، دنیا کی حرص اور لمبے لمبے منصوبوں کے شدید حملے ہو رہے ہوتے ہیں..شیطان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کا خاتمہ خراب کردے..اسی طرح رمضان المبارک کے آخر میں جبکہ..پورے رمضان کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے..عجیب عجیب غفلتیں انسان پر حملہ آور ہوتی ہیں..کوئی عید کے پیچھے برباد ہوجاتا ہے تو کوئی یاروں دوستوں کی گپ شپ میں قیمتی لمحات ضائع کر دیتا ہے..اس لئے اب فکر کی زیادہ ضرورت ہے..کیونکہ رمضان المبارک کے اصل لمحات شروع ہو چکے ہیں..عقلمندی اور کامیابی یہ ہے کہ..رمضان المبارک کا ہر اگلا دن پچھلے دن سے زیادہ بہتر گزرے..عروج اور ترقی کا یہ سفر آخری روزہ افطار ہونے تک جاری رہے..اور پھر اس کے اثرات عید کی رات یعنی ”لیلۃ الجائزہ“ میں بھی نظر آئیں..اللہ تعالی سے مغفرت، رحمت، عتق من النار، توفیق  اور نظر کرم کا عاجزانہ سؤال ہے..فلسطین کے مسلمانوں کو..مسجد اقصی کو..کشمیر کے مسلمانوں کو..بابری مسجد کو..برما کے مسلمانوں کو.. محترمہ عافیہ بہن کو..افغانستان کے مسلمانوں کو..شہداء اسلام کو..اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں..دعاء کریں کہ..اب مسجد اقصی آزاد ہو جائے..اور امت مسلمہ کے چہرے سے ”عار“ کا یہ داغ دھل جائے..آپ سب کو..اور ساری امت مسلمہ کو پیشگی عید مبارک..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی جو ”دے“ اسے کوئی ”روک“ نہیں سکتا..اور اللہ تعالی جو ”روک“ لے وہ کوئی دے نہیں سکتا..اللہ تعالی کسی کو حکومت دینا چاہے..عزت دینا چاہے..رزق دینا چاہے، بیٹا بیٹی دینا چاہے..تو اسے وہ ضرور ملتی ہے..سارا جہان مل کر بھی اسے نہیں روک سکتا..اور اللہ تعالی جسے جو چیز نہ دینا چاہیں..سارا جہاں مل کر بھی اسے وہ نہیں دے سکتا..یہ وہ ایمانی سبق ہے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دہراتے تھے..

اَللّٰهُمَّ لَاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ..

یا اللہ آپ جو دیں اسے کوئی روک نہیں سکتا..اور جو آپ روک لیں وہ کوئی دے نہیں سکتا اور کسی کی شان و مالداری آپ کے سامنے اس کے کسی کام کی نہیں..(بخاری(

کتنی واضح دعاء ہے..اور کتنا مضبوط اور سچا عقیدہ..یہ عقیدہ کسی انسان کو نصیب ہو جائے تو وہ ہزاروں بیماریوں اور کمزوریوں سے بچ جائے اور طاقتور مؤمن بن جائے..ہم لوگوں سے ڈرتے رہتے ہیں کہ وہ ہماری روزی بند نہ کر دیں..ہم کتنے لوگوں سے بغض رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے رزق، ترقی اور راستے کی رکاوٹ ہیں..ہم کتنے لوگوں کی ناجائز غلامی، چاپلوسی اور حمایت کرتے ہیں کہ وہ ہمارے رزق اور ترقی کے مالک ہیں..حالانکہ..

دینے والا صرف اللہ..المعطی ھو اللہ..اور روکنے والا بھی صرف اللہ..المانع ھو اللہ..

ہمیں چاہئے کہ ہم اس دعاء کو سمجھیں..زیادہ سے زیادہ مانگیں اور اس دعاء کی قوت اور عقیدے کو حاصل کریں..حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے..

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ (بخاری(

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی تمام ”مقروض“ مسلمانوں کو ”قرض“ سے خلاصی عطاء فرمائیں..اور وہ مسلمان جو مرنے کے بعد ”قرض“ کی وجہ سے ”پکڑ“ میں ہیں..اللہ تعالی ان کے ”ورثاء“ کو ان کا ”قرض“ ادا کرنے کی توفیق اور ہمت عطاء فرمائیں..اللہ تعالی رمضان المبارک کے ”نفحات“ کی برکت سے ہمیں ”قرض“ سے بچائیں..اور وہ مسلمان جن کو ”قرض“ لینے کی عادت پڑ گئی ہے اللہ تعالی ان کو اس بیماری سے نجات عطاء فرمائیں..اللہ تعالی اپنے اسم مبارک ”الحکیم“ کی برکت سے..ہمیں مال اور موت کے بارے میں ”حکمت“ اور ”سمجھ“ عطاء فرمائیں..ان دو چیزوں کے بارے میں جسے ”حکمت“ اور ”سمجھ“ نصیب ہو جائے وہ بہت بڑی خیر پا لیتا ہے..دعاء کی قبولیت کا وقت ہے..”قرضے“ سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ لینی چاہیے..اور عزم کرلینا چاہیے کہ..بغیر سخت ضرورت کے کبھی ”قرض“ نہیں اٹھائیں گے..اور قرض اتارنے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر اور ٹال مٹول نہیں کریں گے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کا جنازہ تک خود نہیں پڑھایا جو ”قرض“ ادا کئے بغیر وفات پا گیا تھا..ایک قرض بہت خطرناک ہے وہ ہے اجتماعی مال میں سے..کچھ یہ سوچ کر لے لینا کہ بعد میں دے دوں گا..اور اس کا کسی کو علم تک نہ ہو..جس پر ایسا قرض ہو وہ فورا کسی کو بتا دے اور روز صلوٰۃ حاجت ادا کرکے..اس قرض کی ادائیگی کی دعاء مانگے..اور ایک قرض بہت بھاری اور بہت مہنگا..وہ ہے مسلمانوں پر ناجائز ظلم کرنا..ان کی غیبت کرنا..ان پر لعنت بھیجنا..ان کی چغلی کھانا..انہیں گالی دینا..انہیں بےعزت کرنے کی کوشش کرنا..اس ”قرض“ کی ”ادائیگی“ انسان کے اعمال سے ہوگی..یا ان لوگوں کے گناہ اس کے سر ڈال کر ہوگی..اس مہنگے قرضے سے اللہ تعالی کی پناہ..زیادہ سے زیادہ قرآن مجید پڑھ کر اور نفل اعمال کرکے..ان اہل حقوق کو ایصال ثواب کیا جائے..اور توبہ کر لی جائے کہ..ایسا قرضہ مزید اپنے سر نہیں چڑھانا..یااللہ آپ کریم ہیں..آپ سے ہی امید ہے..آپ ہر قرضے سے ہماری حفاظت فرمائیں..اور جو چڑھ چکے ان کو اتار دینا آپ کے لئے کچھ مشکل نہیں آپ ہر چیز پر قادر ہیں..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی نے ہمیں ”بدگمانی“ سے روکا ہے..

يَآ أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ(الحجرات(

بدگمانی“ اللہ تعالی سے ہو تو یہ انسان کو ”کفر“ اور ”نفاق“ تک لے جاتی ہے..اور ”بدگمانی“ مسلمانوں سے ہو تو یہ انسان کو ”کبیرہ گناہ“ تک لے جاتی ہے..اور انسان کو ”اکیلا“ اور ”کمزور“ کر دیتی ہے..ہم کسی سے اچھا گمان رکھیں گے اس کے ”مسلمان“ ہونے کی وجہ سے تو یہ نیکی والا کام ہے..وہ انسان اچھا ہو یا نہ ہو..لیکن اگر ہم کسی مسلمان سے ”بدگمانی“ رکھیں گے تو اگر وہ برا نہیں ہے تو ہم جھوٹ، تہمت اور ظلم کے گناہ میں خوامخواہ مبتلا ہوگئے..”بدگمانی“ ایک آگ ہے جو انسان کو جلاتی رہتی ہے..اور اس کی وجہ سے انسان طرح طرح کی محرومیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے..ایک مسلمان کے لئے جس طرح دوسرے مسلمان کی جان لینا حرام ہے..جس طرح اس کا مال لوٹنا حرام ہے..اسی طرح اس کے بارے میں برا گمان رکھنا بھی حرام ہے..شیطان ہر وقت ”بدگمانی“ کے جراثیم پھیلاتا رہتا ہے..تاکہ ہم ہر کسی کو برا سمجھ سمجھ کر..اکیلے ہوتے جائیں، کمزور ہوتے جائیں.. غیبتیں کرتے رہیں..چغلیاں کھاتے رہیں..مسلمانوں کا گوشت بھونتے رہیں..کسی سے فیض نہ پا سکیں..کبھی اجتماعی طاقت نہ بن سکیں..اور اپنی ذات کے تکبر میں مبتلا ہوتے رہیں..اے مسلمانو! رمضان المبارک کی ان باسعادت گھڑیوں میں ہم ”بدگمانی“ سے توبہ کریں..اللہ تعالی سے فریاد کریں کہ وہ ہمیں ”بدگمانی“ اور اس کی منحوس عادت سے بچائیں..اور ہماری اب تک کی بد گمانیاں معاف فرمائیں..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے جو بندے ”اعتکاف“ بیٹھے ہیں..وہ اس ”نعمت“ پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں..جو مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھ رہے ہیں..وہ اس فرض کی ادائیگی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں..جو خوش نصیب زیادہ تلاوت کر رہے ہیں..اور ختم پر ختم کر رہے ہیں..وہ اس سعادت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں..دو گھنٹے تلاوت کی تو ماشاء اللہ اب..ایک دو منٹ اس نعمت کی قدر محسوس کرتے ہوئے ”شکر“ میں ڈوب جائیں..

الحمدللہ، الحمدللہ..الحمدللہ رب العالمین..

اللہ تعالی نے اپنا کلام پڑھنے کی توفیق عطاء فرمائی..بڑا ہی کامیاب ہے وہ انسان جسکی زندگی ”الحمدللہ“ اور ”استغفراللہ“ کے درمیان چلتی رہتی ہو..اور اس کی زندگی کی بنیاد..

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“..

پر ہو..نعمت آئی تو الحمدللہ..غلطی ہوئی تو استغفراللہ..عمل کی توفیق ملی تو الحمدللہ..کوتاہی ہوئی تو استغفراللہ..رب کی طرف دیکھا تو الحمدللہ اپنی طرف دیکھا تو استغفراللہ..آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی لوگ اپنی بیماری چھپاتے ہیں..ان کا نظریہ..یہی ”الحمدللہ“ ”استغفراللہ“ والاہوتا ہے..کہ جب ہم اپنے اوپر ہونے والی ساری نعمتیں نہ شمار کر سکتے ہیں نہ بتا سکتے ہیں تو پھر..ایک آدھ بیماری آگئی تو اسے بتا کر..لوگوں کے سامنے اللہ تعالی کا شکوہ کیوں کریں؟..الحمدللہ اور استغفراللہ پکا نصیب ہو جائے تو..بندے کا اللہ تعالی سے تعلق بہت ”میٹھا“ اور ”محبت بھرا“ ہو جاتا ہے..جب اعتکاف، تلاوت اور عبادت کی کثرت پر شکر لازم ہے تو جو لوگ دین کی خدمت، دین کی عظمت اور اسلام کی سربلندی کی محنت میں لگے ہوئے ہیں..ان پر کتنا شکر واجب ہوگا؟ ان کو تو ماشاءاللہ..بڑے عمل کی توفیق مل رہی ہے..شکر ادا کرو دین کے دیوانو..شکر بہت شکر..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالیٰ نے ”کمزور“ اور ”فقیر“ مسلمانوں کو بڑا مقام عطاء فرمایا ہے..

حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک تمہاری نصرت کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے تمہارے کمزوروں کی وجہ سے (مسند احمد)..

یعنی..معذور، کمزور، مسکین افراد کی برکت سے اللہ تعالی کی نصرت اور اللہ تعالیٰ کا رزق اترتا ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت دکھائی گئی تو اسمیں اکثر فقراء تھے..یعنی دنیا میں وہ فقراء تھے..جنت میں تو ”بادشاہ“ بن گئے..بڑے بادشاہ..کئی دن سے”قوت“ کا موضوع چل رہا ہے..”المؤمن القوي“ بننے کی دعوت دی جارہی ہے..وہ ایک الگ ”موضوع“ ہے اور الگ ”فکر“..مسلمان جب اللہ تعالی کے لئے قوت بنانے کی فکر چھوڑ دیتے ہیں تو وہ..خود بھی ذلت میں جا گرتے ہیں..اور اپنے دین کو بھی کمزور بنا دیتے ہیں..اس لئے ان شاءاللہ وہ دعوت چلتی رہے گی..اللہ کرے اس دعوت کو مکمل اخلاص کے ساتھ لیکر کھڑے ہونے والے زیادہ سے زیادہ افراد مل جائیں..دل روتا ہے جب..”بدھ ازم“ جیسے ناکارہ، بےکار اور بے فائدہ باطل مذہب کے بھکشو..صرف اپنی جسمانی پھرتی، صحت اور چستی کے زور پر ہزاروں لاکھوں افراد کو گمراہ کرتے ہیں..جبکہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ جیسی آسمانی بجلیوں سے ایمانی رشتہ رکھنے والے مسلمان سستی، غفلت، بیماری اور گیس میں پڑے کراہ رہے ہوں..اللہ تعالی کا قطعی حکم ہے کہ قوت بناؤ..ہم اگر مسلمان ہیں تو ہمیں اس حکم کو بھی نماز روزے کے حکم کی طرح لینا ہوگا..باقی جو قدرتی طور پر معذور، بیمار اور کمزور ہوں ان کے الگ فضائل اور مقامات ہیں..اور ان کے لئے بھی حکم ہے کہ..وہ ایمان کی قوت بنائیں اور ہر وہ قوت جو وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بنا سکتے ہوں..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا..والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله

 

<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو ”اپنی معافی“ عطاء فرمائیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا..یارسول اللہ! یہ تو بتائیے کہ اگر میں جان لوں کہ ”لیلۃالقدر“ کونسی ہےتو میں اسمیں کیا پڑھوں..آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..یہ پڑھیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

مسنون دعاء کے یہی الفاظ ہیں..باقی بعض لوگ ”عفو کریم“ کہتے ہیں اور آخر میں ”فاعف عنا“ یہ جائز اضافے ہیں..اصل مسنون الفاظ نہیں..حضرت امی جی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر میں جان لوں..معلوم ہوا کہ ”لیلۃ القدر“..ایک چھپی ہوئی نعمت ہے..بعض لوگوں نے جو ”ستائیس“ کو حتمی سمجھ لیا ہے..واللّٰہ اعلم..وہ درست معلوم نہیں ہوتا..دوسری بات یہ سمجھ آئی کہ ”لیلۃ القدر“ کو اس کا اہتمام کرنے والے جان اور پہچان بھی سکتے ہیں..جیسا کہ حضرت ام المومنین نے فرمایا..تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ..اللہ تعالی کی معافی ہمارے لئے..ہمارے اعمال سے زیادہ ”نافع“ اور ”مفید“ ہے..اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمل نہیں بتایا بلکہ..معافی مانگنے کی تلقین فرمائی..اللہ تعالی کے شہنشاہی دربار سے ”معافی“ مل گئی تو پھر..سب کچھ مل گیا..

اس لئے ان راتوں اور ان دنوں میں..دل کی توجہ اور عاجزی کے ساتھ..جگر اور آنکھوں کے آنسوؤں کے ساتھ ہم سب کہیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

اللہ تعالی ”العفو“ ہیں..بہت معاف فرمانے والے تو ہم بھی..معاف کرنا سیکھیں..اور ”معاف“ کرنے کی عادت اپنائیں..اللہ تعالی کو ”معافی“ پسند ہے..سبحان اللہ..”معافی“ ہماری ضرورت..اور ہمارے رب کی محبت..تو پھر دل کی ندامت سے بار بار مانگیں..

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله