<مکتوب خادم>

 مُحْسِنِینْ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالیٰ کی ”رحمت“ بہت بڑی اور بہت وسیع ہے..اللہ اکبر..اللہ تعالی سب سے بڑے اور سب سے عظیم ہیں..جو مسلمان اللہ تعالی کے لئے ”مسجد“ بناتا ہے..وہ اپنی ذات پر بڑا احسان کرتا ہے..وہ اپنی سات نسلوں پر احسان کرتا ہے..وہ اپنے والدین پر احسان کرتا ہے..وہ اُس علاقے میں بسنے والے تمام انسانوں پر احسان کرتا ہے..وہ اس زمین پر احسان کرتا ہے جس پر مسجد بنتی ہے..وہ ان پتھروں، اینٹوں اور لکڑی پر احسان کرتا ہے جو اس مسجد کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے..وہ اس علاقے کے پرندوں اور جانوروں پر احسان کرتا ہے..وہ اس پانی پر احسان کرتا ہے جو اس مسجد میں استعمال ہوگا..

خود سوچیں اتنی مخلوق پر احسان کرنے والے کو کیا کیا بدلہ، اجر اور مقام ملے گا..بڑے بڑے سیٹھ بڑے بڑے پلازے اور مارکیٹیں چھوڑ کر مر جاتے ہیں..پھر ان کے ورثاء پیسے اور دیگیں دے کر مدرسہ کے بچوں کو لاتے ہیں کہ ”ایصال ثواب“ کے لئے قرآن مجید پڑھ دو..اہل علم نے لکھا ہے کہ پیسے دے کر پڑھوانے کا کوئی ثواب ”میت“ کو نہیں پہنچتا..کیونکہ جنہوں نے پیسوں کے لئے پڑھا..قورمے اور بریانی کے لئے پڑھا خود اُن کو ہی کوئی ثواب نہیں ملا..تو پھر وہ کسی اور کو کیا ثواب ہدیہ کریں گے؟..ان سیٹھ صاحب پر اللہ تعالی کی رحمت ہوتی اور وہ مسجد بنوا گئے ہوتے تو اسمیں پڑھی جانے والی ہر نماز، ہر اذان اور ہر تلاوت میں اُن کا اجر ہوتا..اُس مسجد کی ایک ایک نیکی..ایک ایک اینٹ، ایک ایک خیر میں ان کا حصہ ہوتا..

پہلے آبادی کم ہوتی تھی تو ”مساجد“ بھی کم بنائی جاتی تھیں..تاکہ مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ ”اجتماع“ اور ”اکٹھ“ ہو..اور وہ بکھر نہ جائیں..مگر اب آبادی بہت ہے اور گنجان ہے..دو تین گلیوں کے مسلمان ہی نماز ادا کرنے لگیں تو مسجد پوری بھر جائے..پھر گناہ کے اڈے بھی ہر طرف بے شمار ہیں..یہ اڈے اللہ تعالی کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں..مسجد سے اذان اٹھتی ہے تو اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے..ہم افریقہ کے ایک مُلک میں تھے وہاں مسلمانوں کی آبادی کم تھی تو پورے شہر میں تین مسجدیں تھیں..لوگ گاڑیوں پر دور دور سے آتے اور مساجد بھر جاتی تھیں..ہمارے علاقوں میں تو زیادہ سے زیادہ مساجد کی ضرورت ہے..اللہ تعالی رحمت فرمائیں اور اس عظیم عمل کی..خالص اپنی رضا کے لئے توفیق عطاء فرمائیں..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 <مکتوب خادم>

 مَلأِ اعلیٰ میں مساجد کی باتیں

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہم سب کو ”مغفرت“ نصیب فرمائیں..حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ادرؤوا السيئات القديمات بالحسنات الحديثات“

”یعنی اپنے پرانے گناہوں اور برائیوں کو نئی نیکیاں کر کے مٹا دو“

انسان کا دل جتنا شفاف ہو..اور نفس جتنا پاک ہو اسے اپنے گناہ اسی قدر زیادہ نظر آتے ہیں..اور وہ ان گناہوں کو دھونے اور مٹانے کی فکر کرتا ہے..لیکن اگر دل اور نفس پاک صاف نہ ہوں تو گناہوں کا پتا ہی نہیں چلتا اور یوں ان کا انبار جمع ہوتا رہتا ہے..جو بالآخر انسان کے دین، دنیا اور آخرت کو برباد کر دیتا ہے..اسی لئے”استغفار“ اور ”توبہ“ کی بار بار تلقین فرمائی گئی..

ایک طرف حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں..گناہوں سے معصوم اور پاک مگر آپ ایک ایک مجلس میں ستر ستر بار..سو سو بار ”استغفار“ فرماتے ہیں..اور دوسری طرف ہم ہیں گناہوں میں ڈوبے ہوئے..مگر پھر بھی توبہ ”استغفار“ اتنا کم..

” مساجد“ کی تعمیر اور آبادی بہت محبوب، بہت مقرب اور بہت وزنی عمل ہے..یہ مبارک عمل گناہوں کو مٹانے اور قسمت کو چمکانے کا بہترین ذریعہ ہے..اللہ تعالی کے مقرب اور عالی دربار کو..”مَلأِ اعلیٰ“ کہتے ہیں..یعنی مقرب اور عظیم فرشتوں کی مجلس..اس مجلس میں فرشتے آپس میں ”مساجد“ کی باتیں فرماتے ہیں کہ..جو مسلمان مسجد کی طرف زیادہ چلے اور نماز کے بعد زیادہ دیر تک مسجد میں رکے تو اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے..اور وہ بالکل پاک صاف ہو کر دنیا و آخرت کا ”عیش“ پاتا ہے..

”مسجد“ کہنے کو تو ایک لفظ ہے..اور دیکھنے میں ایک عمارت..مگر حقیقت میں وہ”حسنات“، ”خیرات“، ”برکات“ اور بے شمار نیکیوں کا چلتا ہوا کارخانہ ہے..جس کا دل ”مسجد “میں اٹک جائے اس کے لئے ”عرش الہی“ کے سائے کا انتظام ہو جاتا ہے..وہ خوش نصیب افراد جو ”مساجد“ کی محنت اور فکر میں نکلے ہوئے ہیں..اپنی قسمت پر اللہ تعالی کا ”شکر“ ادا کریں..اور زیادہ سے زیادہ استغفار کریں..اپنے گناہوں کو یاد کرکے دل کے غم اور کڑھن کے ساتھ استغفار..ہمارا ”استغفار“ جس قدر زیادہ ہوگا..اور دل سے ہوگا تو اسیقدر ہمیں اس مبارک کام..اور پھر اس سے بھی اونچے کام کی ان شاء اللہ توفیق ملے گی..

الحمدللہ چند دن کی قدرے سست محنت کے باوجود ”چار مساجد“ سے زائد کا انتظام ہو چکا ہے..اور سات مزید پلاٹ بھی آچکے ہیں..اگر استغفار اور محنت بڑھائیں گے اور اپنی قبر اور آخرت کی تیاری کا جذبہ دل میں لائیں گے تو ان شاءاللہ..روزانہ ایک مسجد آسانی سے ہو جائے گی..کوٹھیاں، محلّات، پلازے، اسٹیڈیم اور دنیا کی ”ھاھو“ سب فنا ہونے والے ہیں..وہ کام زیادہ محنت سے کریں جو ہمیشہ کام آئے..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حُسن اور ”مساجد اللہ“ کی محنت مرحبا!..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

مکتوب خادم

منٹ کی تأخیر

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں اپنے نیک ارادے پورا کرنے والا بنائیں..جیسے جیسے ”قیامت“ قریب آرہی ہے زمانہ تیز ہوتا جا رہا ہے..بچے جلدی جلدی جوان ہو جاتے ہیں..جوان جلدی جلدی بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں..اور لوگ تیزی سے اپنے گھروں سے قبروں کی طرف منتقل ہوتے جا رہے ہیں..اسی تیزی میں وقت گزرتا جا رہا ہے..جب قیامت بالکل قریب آ جائے گی تو وقت بھی سست ہو جائے گا..تھک جائے گا..اور بالآخر ختم ہو جائے گا اور قیامت آجائے گی..اب چونکہ زمانہ تیز ہے..اس لئے رات کا کام صبح پر نہ چھوڑیں..آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں..جو نیکی کر سکتے ہوں فورا کر گزریں..اللہ تعالی کسی مسلمان کے دل پر محبت والی نظر فرماتے ہیں تو اس دل میں کسی بڑی نیکی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے..اب اگر وہ فورا یہ نیکی کر ڈالے تو کامیاب ہو جاتا ہے..لیکن اگر اس میں تھوڑی سی بھی تأخیر کرے تو ”نیت“ کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے..دل میں آیا کہ مسجد کے لئے اتنا مال دے دوں..سمجھ جائیں کہ اللہ تعالی نے محبت کی نظر سے دیکھا ہے..اب اس عظیم نظر کی قدر کریں اور فوراً اپنے ارادے پر عمل کر لیں..اگر تھوڑی سی بھی تأخیر کی تو محرومی کا خطرہ ہے..اب نفس و شیطان اس الہامی نیت کو کمزور یا مؤخر کرنے کے لئے ہزار حیلے بہانے دل میں ڈالیں گے..اس لئے اہل ایمان کبھی نیت اور فیصلے کے بعد تأخیر نہیں کرتے..جبکہ وہ لوگ جو تأخیر میں پڑ جاتے ہیں ان کے لئے راستے  اور منزل دور ہو جاتی ہے اور موت کا وقت آجاتا ہے..دعاء مانگا کریں کہ:-

” يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ“

اور جس نیکی کا ارادہ دل میں آجائے..اس میں تھوڑی سی بھی تأخیر یا کمی نہ کیا کریں..اگر ہم نے یہ عادت پکی ڈال لی تو سعادت و کامیابی کے بہت سے دروازے ہم پر کھل جائیں گے ان شاء اللہ..لیکن اگر ہم نے ایک لاکھ دینے کا ارادہ کیا..پھر اُسے نوے ہزار کر دیا..یا اس میں تأخیر کردی تو شیطان کے لئے ہم پر قابو پانے کا راستہ کُھل جائے گا..اللہ تعالی ہم سب کو اپنی محبت والی نظر..نیکیوں کی نیت..اور اُن پر فوری اور پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں..یاد رکھیں ہم اللہ تعالی کے محتاج ہیں..ہم نیکیوں کے محتاج ہیں..اللہ تعالی کسی کی نیکی کے محتاج نہیں ہیں..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

<مکتوب خادم>

ایک منٹ کا فیصلہ

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں ”حکمت“ عطاء فرمائیں..درست فیصلہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں..

ملک میں کتنے ”سینما“ ہیں؟..میوزک سینٹرز، کلب اور طرح طرح کے گناہوں کے اڈے ہیں..ان سب عمارتوں کو بنانے والے اکثر لوگ مر کھپ چکے ہیں..جب انہوں نے اپنی زمینوں پر اپنے مال سے گناہ کے یہ مراکز بنانے کا فیصلہ کیا ہوگا تو یہ..کتنا نقصان دہ اور غلط فیصلہ تھا..وہ چلے گئے اور ان کے گناہ چل رہے ہیں..بڑھ رہے ہیں..یا اللہ آپ کی پناہ..

ملک میں کتنی ”مساجد“ ہیں؟..کتنے مدارس ہیں؟ ان مبارک عمارتوں کو بنانے والے اکثر لوگ بھی دنیا سے چلے گئے..مگر انہوں نے اپنی زمین، اپنے پلاٹ اور اپنے مال کے بارے میں کتنا اچھا فیصلہ کیا..وہ چلے گئے..مگر ان کی نیکیاں جاری ہیں..بڑھ رہی ہیں..وہ آرام سے قبر و برزخ میں ہیں..مگر ان کا نامہ اعمال اب بھی نیک اعمال سے وزنی ہو رہا ہے..بس ایک منٹ..بلکہ چند سیکنڈ کے ”فیصلے“ کی بات ہوتی ہے..

 ایک مالدار آدمی ایک غریب آدمی سے پلاٹ خریدنے پہنچا..اس غریب کو یہ پلاٹ حال ہی میں اپنے بڑوں کی میراث سے ملا تھا..وہ خوش تھا کہ اسے بیچ کر وہ اپنی معاشی حالت بہتر بنائے گا..سودا طے پا گیا تو ”غریب“ کو پتہ چلا کہ مالدار آدمی اس پلاٹ پر ”مسجد“ بنائے گا..اس نے سودا منسوخ کردیا..اور کہا! میرے پلاٹ سے خود میرے لئے جنت کا ”اپنا گھر“ کیوں نہ بنے..میرا اپنا نیکیوں کا کارخانہ کیوں نہ لگے..بس ایک منٹ کی ہمت اور فیصلے نے اس کے ”مقام“ کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیا..مال پڑا ہوا ہے، پلاٹ پڑا ہوا..مالک کو اس کا حساب دینا ہوگا..ہمت کرکے فیصلہ کیا کہ اللہ تعالی کے لئے لگا دوں..اب وہ اس مال کا اور اس پلاٹ کا حساب لے گا، اجر لے گا..ایک منٹ کے فیصلے نے ”بوجھ“ کو ”راحت“ بنا دیا..اب نہ کوئی پریشانی نہ فکر..بس اجر ہی اجر..عجیب بات یہ ہے کہ ایسا فیصلہ کرنے والوں کو اللہ تعالی کبھی کمی نہیں آنے دیتے..

ہم نے واقعات سنے ہوں گے کہ جہازوں کے کاروبار کرنے والے آخر میں بھیک مانگتے مرے..مگر مسجد بنانے والا..دین پر خرچ کرنے والا..کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوا..بس اصل بات یہ ہے کہ..اللہ تعالی جسے چاہتے ہیں ”حکمت“ عطاء فرما دیتے ہیں..پھر ہمیشہ کام آنے والا ”ایک منٹ“ کا فیصلہ انسان کے لئے آسان ہو جاتا ہے..

یا اللہ، یا حکیم..حکمت عطاء فرما دیجئے..اور ہمیں بھی ہمیشہ کام آنے والے..خیر کے فیصلوں کی توفیق عطاء فرما دیجئے..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

 

<مکتوب خادم>

دائمی تعلق

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالیٰ امتِ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائیں..

آج 27 ستمبر 2022 بروز منگل..حجاز میں یکم ربیع الاول ۱۴۴۴ھ ہے..جبکہ ہمارے ہاں 30 صفر ۱۴۴۴ھ ہے..یعنی ہمارے ہاں آج مغرب سے ”ربیع الاول“ کا مہینہ شروع ہوگا..امت کی اکثریت کا خیال ہے کہ..حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ..ربیع الاول کے مہینہ میں ہوئی..جبکہ بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ رمضان المبارک میں ہوئی ہے..ہم مسلمان الحمدللہ سال کے بارہ مہینے..ہر مہینے کے تیس دن..ہر دن کے چوبیس گھنٹے..ہر گھنٹے کے ساٹھ منٹ..اور ہر منٹ کے ساٹھ سیکنڈ..اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت کے سائے میں ہیں..

والحمدللہ رب العالمین..

ایک سچے مؤمن اور وفادار امتی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق..ہمیشہ رہتا ہے..ہر جگہ رہتا ہے اور ہر حال میں رہتا ہے..یہ تعلق سالانہ، ماہانہ، ہفتہ واری نہیں بلکہ دائمی ہے..اور ایسا ہی تعلق مطلوب ہے، محبوب ہے، مقبول ہے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو بس اب ہر دن، ہر مہینہ، ہر سال اور ہر گھڑی آپ کے نور سے منور اور آپ کے فیض سے معطر ہے..

صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم..

چاند رات کے مسنون اور مجرب اعمال کی یاد دہانی ہے..

والسلام

خادم....لااله الااللہ محمد رسول اللہ

<مکتوب خادم>

مٹی کو سونا بنانے والے

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں سمجھ نصیب فرمائیں..”عشرہ ذی الحجہ“ کی..اللہ تعالی ہمیں قدر نصیب فرمائیں..”عشرہ ذی الحجہ“ کی.. اللہ تعالی ہمیں ”برکات“ نصیب فرمائیں..”عشرہ ذی الحجہ“ کی..آج 29 انتیس ذی القعدہ ہے..اگر آج مغرب کے بعد چاند نظر آگیا تو ”عشرہ ذی الحجہ“شروع ہو جائے گا..اور اگر چاند نظر نہ آیا تو ”عشرہ ذی الحجہ“ کل ”مغرب“ سے شروع ہوگا..ان شاءاللہ تعالیٰ..

آج بدھ کا دن ہے..یکم ذو الحجہ ”جمعرات“ کو ہوگی یا ”جمعہ“ کو..چاند کی خبروں پر نظر رکھیں..

ایک کتاب ہے جس کا نام..حدیث شریف کے ایک بابرکت جملے پر رکھا گیا ہے.. ”افضل ایام الدنیا“  اسے ایک نظر دیکھ لیں..”عشرہ ذی الحجہ“ جب آ جائے تو اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ..مٹی کو سونا بنانے والے دن اور راتیں نصیب ہوگئیں..”عشرہ ذی الحجہ“ کی تمام نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ سے ادا کرنے کی کوشش ہو..روز کم از کم تین پارے یا ایک پارہ تلاوت کریں..کلمہ طیبہ کا ورد.. درود شریف کی کثرت..استغفار کی پابندی کریں..روزانہ صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ..ان دنوں معمول بن جائے..آس پاس رشتہ داروں، دوستوں اور فقراء و مساکین کو کھانا کھلائیں..ہو سکے تو کسی کا قرضہ معاف کریں..اور کسی کا قرضہ ادا کریں..تیسرا کلمہ بڑی نعمت ہے.. ان دنوں اور راتوں میں اس کا اہتمام کریں..خاص طور پر وہ لوگ جو گرمی کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں..اور غربت کی وجہ سے قربانی نہ کر سکیں..وہ اپنے سارے کھاتے اور حساب ان کلمات سے پورا کر سکتے ہیں..

”سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر“..اور اگر یہ بھی ساتھ ملا لیں تو سونے پہ سہاگہ..”ولا حول ولا قوۃ الا بالله“..

ان دنوں کسی مسلمان سے جھگڑا نہ کریں..کسی مسلمان کی غیبت نہ کریں..کسی مسلمان کی بےعزتی نہ کریں..جہاں بھی قربانی کے جانور نظر آئیں انہیں دیکھ کر خوب دل سے تکبیر پڑھیں..

الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد..

اسی طرح جب بھی بازار جائیں..مسنون دعا کے بعد یہی تکبیر پڑھتے جائیں..اور اللہ تعالی کے قریب ہوتے جائیں..

خلاصہ یہ ہے کہ بہت قیمتی دن اور قیمتی راتیں آ رہی ہیں..اپنا آخرت کا ذخیرہ اور سرمایہ.. بوجھ سمجھے بغیر..بھاری کر لیں..بندہ بھی آپ سب سے ”عشرہ ذی الحجہ“ میں دعاء کی درخواست کرتا ہے..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله


مکتوب خادم

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں ”دنوں“ اور ”راتوں“ کے وہ ”راز“ سمجھا دیں..جو ہمارے لئے ”مفید“ ہوں اور ہماری ”برداشت“ میں ہوں..(آمین)

آج ”حجاز“ میں ”ذوالقعدہ“ کی پہلی تاریخ ہے..قوی امکان ہے کہ ہمارے ہاں آج رات چاند دیکھ لیا جائے..یوں کل ہمارے ہاں ”یکم ذوالقعدہ ١٤٤٣ھ“ کی تاریخ ہوگی..کل جون 2022ء کی بھی پہلی تاریخ ہے..یوں دونوں تاریخیں ساتھ ساتھ چلیں گی..بس ایک دو مہینے..اور پھر الگ الگ ہو جائیں گی..معلوم نہیں ”افغانستان“ میں آج کیا تاریخ ہوگی؟..وہ تو آجکل ہر معاملے میں..ساری دنیا سے آگے آگے جا رہے ہیں..چاند رات کے معمولات کی یاددہانی ہے..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله