بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مہم کی ایک جھلک

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کی ”تکبیر“ یعنی ”بڑائی“ بیان کرنے سے...”مسلمان“ کا ایمان مضبوط ہوتا ہے...اس کے دل کی اصلاح ہوتی ہے...”غیر اللہ“ کی عظمت اس کے دل سے نکل جاتی ہے...اس کے مزاج میں ”تواضع“ پیدا ہوتی ہے...وہ ”تکبر“ جیسے موذی مرض سے دور ہوتا ہے...اور اسے بہت زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے....

...اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیرا...

”تکبیر“ کی دو قسمیں ہیں... ایک ”تکبیر مطلق“ یہ پورے عشرہ ذی الحجہ میں ہر وقت اور ہر مقام پر پڑھی جا سکتی ہے...اس ”تکبیر“ کا بہت اجر و ثواب ہے...کوشش کریں زیادہ سے زیادہ اس کا ذخیرہ جمع کر لیں...

اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ

اور دوسری ”تکبیر مقید“ ہے...وہ نو ذی الحجہ کی فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد واجب ہے:-

”اَللّٰهُ أَكْبَرُ،اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ“

* الحمدللہ ”نفل قربانی“ مہم اچھی جا رہی ہے...اس مہم کی عجیب برکات ہیں جس نے بھی اس میں اب تک حصہ ڈالا ہے...اس کے لئے اگلے سال کی واجب اور نفل قربانی آسان ہوگئی ہے...اس مہم کی برکت سے آپ ان کی دعوت کر سکتے ہیں جن کی زیارت بھی قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہے...یعنی اللہ تعالی کے راستے کے غازی...اور وہ جن کے گھروں سے شہداء قبول کئے گئے...اور وہ جو پورے دین کی محنت میں مگن ہیں...ماشاءاللہ، لا قوۃ الا باللہ.....ولا حول ولا قوۃ الا باللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله


 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

عِزَّت والے کام میں شرمانا

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ہمیں ”تکبیر“ بلند کرنے والا بنائے.....

...اللہ اکبر کبیرا...

اللہ تعالی معاف فرمائیں...ماحول کسقدر بدل گیا...ذی الحجہ کا چاند نظر آتا تھا تو مسلمانوں کے ہر گھر سے تکبیر کی آواز بلند ہوتی تھی...لوگ راستوں میں، گلیوں میں اور بازاروں میں بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے...مساجد میں خاص طور سے تکبیر کی آواز گونجتی تھی.....بخاری شریف میں ہے کہ...حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بازار تشریف لے جاتے اور ”تکبیر“ کہتے تو بازار والے بھی ان کے ساتھ تکبیر بلند کرنے لگتے....

مگر اب مسلمانوں کو ”تکبیر“ کہتے ہوئے شرم آتی ہے...استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ...تکبیر کی برکت سے مسلمانوں کو بلندی ملتی تھی...وہ اللہ تعالی کا ذکر دیوانوں کی طرح کرتے تھے...اور وہ ”تکبیر“ کے ایسے ماہر ہو چکے تھے کہ جب میدان جہاد میں جاکر تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہتے تو دشمن پر خوف، رعب اور رعشہ طاری ہو جاتا...آپ حدیث شریف کی کتابیں دیکھیں...فقہاء کرام کی تشریحات دیکھیں...عشرہ ذی الحجہ میں تکبیرات کی بہت تاکید ملے گی...اور یہ سنت مسلمانوں میں جاری بھی رہی...شاید استعماری قبضے کے بعد مسلمانوں کے مزاج میں غلامی آگئی کہ....گناہ سے نہیں شرماتے...مگر اپنے رب کا نام بلند کرنے سے شرماتے ہیں...عشرہ ذی الحجہ میں ”تکبیر“ کہنے کے کئی صیغے صحابہ کرام سے ثابت ہیں...آپ کوئی بھی ”صیغہ“ اختیار کر لیں...یا سب صیغوں سے برکت حاصل کریں...چند صیغے یہ ہیں...

(1) اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیراً...

(2) اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.....

(3) اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.....

(4) اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیرا، اَللّٰهُ أَكْبَرُ کبیرا، اَللّٰهُ أَكْبَرُ و اَجَلُّ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

بازاروں میں تکبیر

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کی....اس دنیا میں بے انتہا قیمتی نعمت...”گرمیوں کے روزے“ ہیں...خصوصاً ذی الحجہ کے پہلے نو دن کے روزے...اور پھر خاص طور پر نو ذی الحجہ کا روزہ...جس دل میں سچی محبت ہو بس وہی دل اس قیمتی نعمت کی قدر سمجھ سکتا ہے...ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ...

* جب حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری امت کو یہ بات سمجھا دی کہ...”ذی الحجہ“ کے پہلے دس دن کے اعمال....اللہ تعالی کو باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں...اور ان دنوں کے اعمال باقی دنوں کے اعمال سے بہت بڑے، وزنی اور زیادہ قیمتی ہیں...تو پھر بات ہی ختم ہو گئی...اب سچے مسلمانوں کو تو...بس ایک ہی فکر لگ جانی چاہیے کہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرلیں..جیسے گھر کے دروازے کے پاس سیل لگ گئی ہو...ایک لاکھ والی چیز ایک روپے میں...اور ایک کروڑ والی چیز سو روپے میں مل رہی ہو تو......لوگ کسطرح سے بھاگ بھاگ کر جائیں گے....بس اسیطرح ان دنوں اعمال صالحہ کی فکر اور دوڑ لگ جائے...آنکھ کھلے تو بس یہی فکر کہ کون کون سا عمل کرنا ہے...اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر کبیرا......

* ان دنوں کا خاص عمل ”تکبیر“ ہے...یعنی ”اللہ اکبر“ کہہ کر اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنا....صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ان دنوں بازاروں میں جاکر بلند آواز سے ”تکبیر“ کہتے تھے...افسوس اب تو مسلمانوں کے بازاروں میں ”تکبیر“ کی آواز سنائی نہیں دیتی...ان دنوں کی ”تکبیر“ کے الفاظ اور ترتیب میں تھوڑی سی تفصیل ہے جو اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مبارک عشرہ

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کا شکر ہے....ذوالحجہ ١٤٤٥ھ کا چاند نظر آگیا ہے.....

”وَ الْفَجْرِوَ لَیَالٍ عَشْرٍ“

وہ دس راتیں...جنکی اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے...آج رات سے شروع ہو گئیں.....اور اب ہر نیک عمل کا وزن....ہمارے تصور سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے..

اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ.....

بس اب اس ”تکبیر“ کو سنبھال لیجیۓ اور اسے ”ورد زبان“....اور ”ورد دل“ بنا لیجیۓ......پہلی بار تین مرتبہ ”اللہ اکبر“ پھر ”کلمہ توحید“ پھر دوبار اللہ اکبر اور پھر اللہ تعالی کی حمد.....

اگر آپ کے پاس ”افضل ایام الدنیا“ کتاب موجود ہو تو ایک نظر دیکھ لیں..تاکہ اس مبارک عشرے کی کچھ حقیقت دل میں اتر جائے....

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ایمان اور اعمال صالحہ کا ”حرص“ عطاء فرمائے..

اور دنیا کے حرص سے میری اور آپ کی حفاظت فرمائے...

...چاند رات کے معمولات کی یاددہانی ہے...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

لا الہ الااللہ.....وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ”قبول“ فرمائیں...آج اس ”مبارک مہم“ کا آخری ”مکتوب“ ہے... اس لئے چند باتیں ترتیب سے پیش خدمت ہیں....

(۱) ہماری اس مہم کی ”دعاء“:-

”بِسْمِ اللّٰهِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰهِ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰهِ“......”وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا“....

الحمدللہ اس ”دعاء“ کی بے شمار ”برکات“ نصیب ہوئیں...وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ....

(۲) یکم شعبان ١٤٤٥ھ سے ”مہم“ اور ”توکل“ کے اسباق ساتھ ساتھ چلتے رہے...اللہ تعالی کی اس رحمت اور عنایت پر جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے...وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ...

(۳) ”مہم“ پر ”توکل علی اللہ“ کی بارش برستی رہی...پہلی بار تمام مطلوبہ اہداف عبور ہوئے...ہزاروں نئے افراد قافلے میں شامل ہوئے...اور ”ایمان کی بہاریں“ انگڑائیاں لینے لگیں...وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ...

(٤) ”توکل علی اللہ“ پر ”اٹھاون“ کے قریب مکتوبات...اور ایک مضمون ہوا...مگر یہ عظیم الشان موضوع مکمل نہ ہو سکا...پھر ”اہل محبت“ اور ”سالکین“ کی تڑپ رنگ لائی...آخری سبق میں مکمل خلاصہ آگیا...اور اس خلاصے پر مشتمل یہ دعاء آخری سبق بن گئی...

...وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ...

اس سے ہم نے یہ سیکھ لیا کہ...ہر کارنامہ، ہر کامیابی اور خیر والا ہر عمل صرف اور صرف ”اللہ تعالی“ کی ”توفیق“ سے ممکن ہے...اور ”توفیق“ ملتی ہے اللہ تعالی پر ”توکل“ کرنے سے...اور ”توکل“ نصیب ہوتا ہے...”انابت“ سے...پس جو اللہ تعالی کی طرف جتنا زیادہ رجوع کرتا ہے...ہر وقت رجوع کرتا ہے...ہر وقت اللہ تعالی سے مانگتا ہے...اور صرف اللہ تعالی سے مانگتا ہے...اور اسباب ہونے کے باوجود ”دعاء“ اور ”رجوع الی اللہ“ سے غافل نہیں ہوتا تو ایسا شخص ”منیب“ ہے...

اسے اسکی”انابت“ کی برکت سے ”توکل“ جیسی عظیم نعمت و قوت ملتی ہے...اور جب ”توکل“ آجاتا ہے تو پھر ”توفیق“ کے بڑے بڑے دروازے کھل جاتے ہیں.....وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ...

(۵) دعاء کریں...کوشش کریں کہ رمضان المبارک اور مہم کا اختتام شاندار ہو...اس لئے ”ڈھیلے“ نہ پڑیں اور ”عید“ بھی مسلمانوں والی کریں...اور اللہ تعالی کی اس ”توفیق“ پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ...اس نے آپ کو اپنے دین کے کام کے لئے ”چن“ لیا ہے...”منتخب“ فرمایا ہے...اور آپ کو حضرت محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا ”سپاہی“ اور ”خادم“ بنایا ہے...وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ....

بندہ کی طرف سے آپ کو...اہل غزہ کو...اہل کشمیر کو...اور تمام اہل اسلام کو........عید کی پیشگی ”مبارک“...

”تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ“

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

توفیق اور توکّل

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی سے ”دو نعمتیں“ بہت مانگا کریں...(1) توفیق اور (2) توکل...یہ دو نعمتیں جن کو مل جائیں وہ بڑے ”خاص بندے“ بن جاتے ہیں...اس لئے کہ انسان کوئی بھی اچھا اور بڑا کام...اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر نہیں کر سکتا...اور اللہ تعالی کی توفیق ان کو ملتی ہے جو اللہ تعالی پر یقین، بھروسہ اور اعتماد رکھتے ہیں...یعنی ”توکل“ کرتے ہیں...صیغہ ”تَوَكَّلْتُ“ کی چوتھی آیت...سورہ ھود کی آیت رقم (۸۸) ہے...اسمیں  حضرت سیدنا شعیب علیہ الصلوٰۃ والسلام...اپنی قوم کو سمجھا رہے ہیں کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں...تمہارے فائدے اور اصلاح کے لئے کر رہا ہوں...مجھے تم سے کوئی ذاتی غرض نہیں ہے...اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم سے دنیا چھڑوا دوں اور خود ”دنیا پرست“ بن جاؤں...مجھے اللہ تعالی نے جو حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہوا ہے...اور جو روحانی نعمتیں عطاء فرما رکھی ہیں وہ میرے لئے کافی ہیں...میں تمہارے اس قدر پرکشش ماحول کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوں...کیونکہ اس عیاشی میں تمہارے لئے ہلاکت ہے...انسان کے پاس پیسہ آتا ہے تو وہ ماحول اور معاشرے کے ساتھ بہہ جاتا ہے...اور انہی کی رسومات اور فیشن کو اپنا لیتا ہے...میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ تمہارے طریقے پر چلوں...میری یہ ”دعوت“ اور میری یہ ”استقامت“ صرف اور صرف اللہ تعالی کی توفیق سے ہے...اور میرا بھروسہ اور اعتماد اللہ تعالی پر ہے...یعنی مجھے اللہ تعالی کی طرف سے ”توفیق“ بھی نصیب ہے...اور اللہ تعالی پر ”توکل“ بھی حاصل ہے...اس لئے میری کامیابی یقینی ہے...تم بھی کامیابی چاہتے ہو تو اسی طریقے پر آجاؤ...نہیں آؤ گے تو تباہ ہو جاؤ گے...اس آیت مبارکہ میں جو ”دعاء“ ہے وہ بہت شاندار، مؤثر اور جامع دعاء ہے...اس ”دعاء“ کے ساتھ جڑنے والوں کو توفیق بھی ملتی ہے...توکل بھی نصیب ہوتا ہے...اور ”انابت“ بھی حاصل ہوتی ہے......

وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ (ھود ۸۸)

ترجمہ: میری ہر ”توفیق“ اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہے اسی پر میں ”توکل“ کرتا ہوں اور اسی کی طرف ”رجوع“ کرتا ہوں......

معلوم ہوا مؤمن کی بڑی اور خاص کامیابی اس میں ہے کہ وہ.....

صرف ایک اللہ تعالی سے مانگے...اور صرف ایک اللہ تعالی پر بھروسہ اور توکل کرے...

جیسا کہ فرمایا ”اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ“...اور فرمایا ”فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ“ یا اللہ ”توفیق“ نصیب فرما... یا اللہ ”توکل“ نصیب فرما....بحق قولک الکریم...

...وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مخلوق قبضے میں

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی پر ”توکل“ کرنے سے دل کا ہر خوف دور ہو جاتا ہے...”صیغہ تَوَكَّلْتُ“ کی تیسری آیت دیکھیں...

”اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ“ (ھود ۵٦)

ترجمہ: (حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم سے کہا) بے شک میں اللہ تعالی پر ”توکل“ (یعنی بھروسہ) رکھتا ہوں جو کہ میرا اور تمہارا ”رب“ ہے...زمین پر چلنے والی ہر مخلوق اللہ تعالی ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے..بے شک میرا پروردگار (ہر معاملہ میں) برحق ہے...

حضرت سیدنا ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم...قوم عاد...طاقت، قوت، صنعت و حرفت اور معیشت میں اپنی مثال آپ...مگر ایمان سے محروم...اور اپنے کفر اور طاقت پر مطمئن بلکہ متکبر...وہ اللہ تعالی کے ”نبی“ کو اپنے معاشرے پر بوجھ سمجھ رہے تھے...اور ان سے کہہ رہے تھے کہ...آپ ہمارے بتوں، خداؤں اور بزرگوں کی پکڑ میں آچکے ہیں...اب ہمیں آپ کو اور آپ کے کام کو مٹانا ہی پڑے گا...تب حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پرسوز آواز گونجی:-

”فَكِـيْدُوْنِىْ جَـمِيْعًا ثُـمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ“

تم سب مل کر میرے خلاف جو سازش کرنا چاہتے ہو...کر گزرو...اور مجھ پر کوئی رحم نہ کھاؤ...میں تمہاری طاقت اور تمہاری شرارت سے بے فکر ہوں...کیونکہ”اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ“ میں نے اللہ تعالی پر توکل کر لیا ہے...اور زمین کی ہر مخلوق اور ہر چیز میرے رب کے قبضے میں ہے...تمہارے بے جان بت مجھ پر کیا جادو کریں گے؟میرا رب تو ہر جاندار کا مالک ہے...

اس آیت مبارکہ سے بہت جامع اور مؤثر دعاء معلوم ہوئی...

”اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ“

توکل کی یہ دعاء...اور آیت مبارکہ...اُن آیات میں سے ہے جنہیں ”حفاظت“ کے لئے پڑھا جاتا ہے...زمین پر حرکت کرنے والی ہر چیز کی پیشانی...اللہ تعالی نے پکڑ رکھی ہے...تو پھر کوئی چیز اللہ تعالی کے حکم کے بغیر کس طرح سے نقصان پہنچا سکتی ہے...ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی سفلی طاقتوں سے ہرگز نہ ڈرے...کسی نقلی معبود یا بھگوان کا خوف دل میں نہ آنے دے...کسی جن، دیو اور پری سے نہ ڈرے...کسی جادو، منتر، ٹونے اور قبر سے خوف نہ کھائے...کسی جادوگر، نجومی، عامل، شعبدہ باز اور ٹیلی پیتھر سے نہ گھبرائے...کسی رکاوٹ، بندش، وہم اور وسوسے کی فکر نہ کرے...بلکہ یقین سے کہے...

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ

”مقابلہ خیبر“ کی شاندار کامیابی اور قبولیت کے لئے بھی...اس عظیم آیت مبارکہ کا فیض حاصل کریں...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله