13.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
عجیب نعمت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو...کیسی عظیم نعمتیں
عطاء فرمائی ہیں ”درود ابراہیمی“ ہی کو دیکھ لیں..کیسا نور، اجر اور سکون کا خزانہ
ہے..کوئی انسان صرف دس بار توجہ سے پڑھ لے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے..اور کتنا
کچھ پا لیتا ہے...
اس
امت کو جو ”فرائض“ ملے...انکی شان تو بے حد بلند ہے..نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور
جہاد فی سبیل اللہ...ایک ایک فرض کی حقیقت اور فضیلت کوئی ساری زندگی بیان کرتا
رہے تو عمر ختم ہو جائے..مگر حق ادا نہ ہو سکے..دراصل یہ امت اللہ تعالی کو بہت پیاری
ہے..بہت محبوب ہے...یہ ٹرمپ، مودی، نیتن یاہو تو وقتی غلاظت کا ڈھیر ہیں..چند دن
بعد ان کا نام بھی کوئی ادب سے لینے والا نہ ہوگا..مسلمانوں نے اسلام کی قدر نہیں
کی تو یہ سانپ وقتی طور پر مسلّط ہو گئے...مگر نہ اُن کا کوئی ماضی ہے اور نہ کوئی
مستقبل..یہ حقیر پانی کے بلبلے ہیں جو ختم ہو جائیں گے..جبکہ یہ امت عظیم تھی، عظیم
ہے اور عظیم رہے گی..یہ جیسے ہی جہاد کی طرف لوٹے گی..واپس ساری دنیا پر چھا جائے
گی ان شاءاللہ..بات یہ چل رہی تھی کہ.....فرائض کی تو بات ہی کیا ہے..مگر فرائض کے
علاوہ بھی اس امت کو بڑی عظیم الشان نعمتیں ملی ہوئی ہیں..ان نعمتوں میں سے ایک
”درود ابراہیمی“ ہے..اس درود کی عظمت، شان کا اندازہ اس سے لگائیں کہ..اللہ تعالی
نے اسے ”نماز“ میں رکھ دیا ہے..اور نماز تو معراج ہے معراج..بلندی ہی بلندی..”درود
ابراہیمی“ کا اجر اور اسکی تأثیر اتنی زیادہ ہے کہ...اگر یہ کسی خوش نصیب دل پر
کھل جائے تو پھر اُس کے دنیا اور آخرت میں مزے ہو جاتے ہیں..اس میں ہدایت کا عجیب
نور ہے..محبت کے عجیب جلوے ہیں..دلوں کی صفائی کی عجیب تأثیر ہے..غناء اور شفاء کا
عجیب راز ہے اور سکون تو اتنا ہے کہ بیان سے باہر....آپ اس کو پڑھتے جائیں تو اللہ
تعالی کے بھی قریب ہوتے جائیں گے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی قریب..آپ
اس کو اخلاص کے ساتھ پڑھتے جائیں آپ کی دینی، دنیوی اور اُخروی حاجات بغیر مانگے
پوری ہوتی جائیں گی..آپ اس کو محبت سے پڑھتے جائیں آپ رحمت اور برکت میں ڈوبتے جائیں
گے..اور آپ کے کام خود بخود بنتے جائیں گے..
اس
درود پاک میں ذکر اللہ بھی ہے..دعاء بھی ہے..حق رسول کی ادائیگی بھی ہے..صفات الہی
کا تذکرہ بھی ہے..اور اتنی عظیم اور وسیع رحمت ہے جو صدیوں اور زمانوں پر اور عرش
تا فرش چھائی ہوئی ہے..
رمضان
المبارک کے آخری ایام بہت قیمتی ہوتے ہیں..نفس کے شیطانی اثرات کوشش کرتے ہیں
کہ...رمضان کا آخری حصہ خراب کرا دیں..گھریلو جھگڑے، بازار کی کشش، عید کے نام پر
غفلت اور دنیوی فکریں....ایسے میں ”درود ابراہیمی“ کے نور سے استفادہ کر کے...خود
کو اندھیروں سے بچایا جا سکتا ہے...ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
12.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقبولیت،قبولیت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”ایمان“ نصیب فرمائیں...”اخلاص“ نصیب فرمائیں..
حضور
اقدس سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:-
مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ(بخاری)
ترجمہ:
جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف
کر دیے جائیں گے....
دوسری
روایت میں فرمایا کہ جس نے رمضان کا قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ..اور ایک
روایت میں ہے کہ..جس نے ”لیلۃ القدر“ میں..ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا تو
اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں..” ایمان“ اور ”احتساب“ کا کیا معنی ہے؟
کل
کے مکتوب میں مختصر عرض کر دیا تھا کہ...(ایمان کا معنی) اللہ تعالی پر، اللہ تعالی
کے دین پر اور اللہ تعالی کے احکامات پر ایمان لانا..دین اسلام کو دل اور زبان سے
قبول کرنا..بے شک ”ایمان“ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں...اور (احتساب کا معنی) ہر نیک
عمل اور ہر عبادت..اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا..اور اس پر صرف اللہ تعالی ہی سے
بدلہ چاہنا..اسی کو اخلاص کہتے ہیں..اور ”اخلاص“ کے بغیر بھی کوئی عمل قبول نہیں..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بڑے جامع، وسیع اور مؤثر ہوتے ہیں..”ایماناً و
احتساباً“ کے الفاظ میں بھی..نور اور علم کے خزانے پوشیدہ ہیں..ہم ان الفاظ میں
جتنا ڈوبتے جائیں گے..اسی قدر نور اور علم پاتے جائیں گے..ان الفاظ میں
دراصل...قبولیت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے..آئیے ان الفاظ کے چند مزیدار ترجمے
کرنے کی کوشش کرتے ہیں...
(۱) ہم نے ہر عبادت، ہر نیک
عمل اور ہر اچھا کام ایمان کے ساتھ کرنا ہے..یعنی اللہ تعالی کو مان کر کرنا ہے(ایماناً)
اور صرف اللہ تعالی کو منانے کے لیے کرنا ہے (احتساباً)
(۲) ہم نے ہر عبادت صرف اللہ
تعالی کی بندگی اور نوکری میں کرنی ہے (ایماناً)..اور اللہ تعالی ہی سے مزدوری
پانے کے لیے کرنی ہے (احتساباً)
(۳) ہم نے ہر نیکی اللہ تعالی
کی مان کر کرنی ہے (ایماناً) اور اللہ تعالی کو خوش کرنے کے لیے کرنی ہے
(احتساباً)
(۴) ہم نے ہر عبادت یقین میں
ڈوب کر کرنی ہے (ایماناً) اور دل کی خوشی اور محبت سے کرنی ہے (احتساباً)
(۵) ہم نے ہر نیکی کفر، شرک
اور انکار سے بچ کر کرنی ہے (ایماناً) اور ریا کاری، دکھاوے اور مخلوق سے کوئی بھی
صلہ پانے کے لیے نہیں کرنی (احتساباً)
اللہ
کے بندو اور بندیو! ” ایماناً و احتساباً “کی طاقت ور لہر اور آواز کو دل میں بسا
لو اور اپنی ہر عبادت اور نیکی کو مقبول اور جاندار بنا لو....
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
11.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُنَوَّرباطِنْ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کا شکر ہے..”اعتکاف“ شروع ہو گیا ہے..”جامع مسجد سبحان اللہ“ میں عجیب رونق،
بہار اور انوارات ہیں..والحمدللہ رب العالمین..
(۱) اگر اعتکاف کا پورا فائدہ
اٹھانا ہے تو دل کو پاک کر لیں..اور زبان پر قابو رکھیں..دل کو ہر مسلمان کی نفرت
اور بغض سے..ریاکاری اور شرک سے..دنیا کی محبت اور بخل سے پاک کر لیں..سب مسلمانوں
کو معاف کر دیں..اور زبان کو تلاوت، ذکر اور عبادت کے لیے وقف کر دیں..باتیں کریں
ہی نہ..یا کم از کم کریں..جو جتنا کم بولے گا اتنا ہی فائدہ اٹھائے گا ان
شاءاللہ..
(۲) اپنے چہروں پر خوشی اور
مسکراہٹ سجا لیں..استغفار اور توبہ کے وقت خوب روئیں..مگر باقی وقت اپنے رفقاء کے
لیے اپنے چہرے مسکراہٹ کے صدقہ سے بھر لیں..خصوصا جو خدمت کی سعادت حاصل کر رہے ہیں
وہ...مسکراہٹ کی نعمت چہرے پر سجائے رکھیں..کسی سے سختی یا درشتگی کا مظاہرہ نہ کریں..
(۳) دو روحانی آوازیں..نورانی
لہریں اور قیمتی صدائیں اپنے باطن..یعنی اپنی روح اور دل میں داخل کر لیں(پہلی
آواز)إِیْمَاناًوَّإِحْتِسَاباً(دوسری آواز)فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا...جب بھی نماز، تلاوت، ذکر، تعلیم اور مراقبہ شروع کرنے لگیں تو آپ کے
اندر یہ دو ایمانی اوازیں بلند ہوں...إِیْمَاناًوَّإِحْتِسَاباً..فَضْلًا مِّنَ
اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا.....کیونکہ عبادت صرف وہی قبول ہوتی ہے جو ایمان اور احتساب
کے ساتھ ہو..اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی اللہ تعالی نے تعریف
فرمائی ہے کہ وہ اپنی عبادت اور محنت میں:-
”یَبْتَغُوْنَ
فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا“[الفتح(۲۹)]
اللہ
تعالی کا فضل اور اللہ تعالی کی رضا ڈھونڈتے تھے.....
ایمان
کا مطلب ہے اللہ تعالی پر اور دین اسلام پر ایمان اور یقین اور احتساب کا مطلب ہے
کہ یہ عمل صرف اللہ تعالی کو خوش کرنے اور صرف اللہ تعالی سے بدلہ پانے کے لیے
ہے...اور میرا مقصود اللہ تعالی کی رضا اور اللہ تعالی کا فضل ہے...یقین کریں اگر
ان دو آوازوں کو آپ نے اپنے باطن اور دل میں پکا کر لیا تو ”عبادت“ کی حقیقت تک
پہنچ جائیں گے..اور زندگی روحانی مزے اور لذت سے سرشار ہو جائے گی...ان شاءاللہ..
مہم
کی محنت میں مشغول ساتھی بھی...ان دو نورانی لہروں کو اپنے باطن میں بیدار کریں..
إِیْمَاناًوَّإِحْتِسَاباً......فَضْلًا
مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
10.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تقویٰ
میں سلامتی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہی آسمانوں اور زمین کے خالق، مالک اور ”رب“ ہیں..آج جو خود کو ”زمین“ کا
مالک سمجھ بیٹھے ہیں..وہ بہت جلد مر جائیں گے..ختم ہو جائیں گے..فنا ہو جائیں
گے..اللہ تعالی کے سوا کوئی ”طاقت“ نہ سُپَّر ہے..نہ دائمی ہے..اور نہ ہی نا قابل
شکست ہے..
”یا
باقی انت الباقی لیس الباقی الا اللہ “
”لا
حول ولا قوۃ الا باللہ“
(۱) آج مغرب سے ہمارے ہاں
رمضان المبارک کا آخری عشرہ..شروع ہو جائے گا..اور اعتکاف والے بھی ”مساجد“ میں ڈیرے
ڈال دیں گے...اہل بہاولپور کی خوش نصیبی ہے کہ....شہداء کرام کی نسبتوں کی امین..”جامع
مسجد سبحان اللہ“..ان کے قریب ہے..کتنی دور دور سے مسلمان وہاں آتے ہیں..اور اللہ
تعالی کے فضل سے جھولیاں بھر کر جاتے ہیں..اس سال قریب والے بھی اعتکاف کا بھرپور
فائدہ اٹھا لیں..
(۲) سوشل میڈیا پر روز ”نیا
مواد“ درکار ہوتا ہے..اخبارات کے کالم نویسوں نے ہفتے میں دو تین نئے کالم لکھنے
ہوتے ہیں..ٹی وی اینکروں کو روزانہ کچھ نیا پیش کرنا ہوتا ہے..اس لیے ہر جنگ اور
ہر واقعے پر.....تجزیوں اور تبصروں کا طوفان برپا رہتا ہے..اللہ کے بندو! آج کل کی
جنگیں لمبی ہوتی ہیں..مہینوں اور سالوں تک ان کی پلاننگ کی جاتی ہے..پھر مہینوں
اور سالوں تک یہ جنگیں لڑی جاتی ہیں..اور سالہا سال کی لڑائی کے بعد بھی فیصلہ نہیں
ہو پاتا کہ...کون جیتا ہے اور کون ہارا ہے..مگر چونکہ روز نئی بات پیش کرنا اب
لوگوں کی مجبوری بن چکی ہے تو....اس لیے روز ہی فیصلہ کن تجزیے سامنے آجاتے ہیں....اہل
ایمان اور اہل حکمت کو چاہیے کہ وہ...ان تبصروں اور تجزیوں پر اپنا وقت ضائع نہ کریں..بے
صبرے کالم نویسوں کی مایوسیاں نہ پڑھیں..اور ویڈیو سے تو مکمل جان چھڑا لیں..کیونکہ
جس تیزی سے اب ”اے آئی“ نقلی ویڈیو بنا اور پھیلا رہی ہے..خطرہ ہے کہ..کسی دن آپ کی
اپنی کوئی ”زیبا“ یا ”نازیبا“ ویڈیو آپ کے سامنے آجائے...
اندازہ
لگائیں.....دین اور تقوی کے احکامات میں کتنی سلامتی ہے..اب ہر کوئی کہہ رہا ہے
کہ........ویڈیو بازی میں نقصان ہی نقصان ہے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
09.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
جامع
خُلاصہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمارے نامۂ اعمال کو....اعمال صالحہ سے وزنی اور بھاری بنائیں...
اللہ
تعالی کی ”تسبیح“ (یعنی پاکی بیان کرنا) اور ”تحمید“ (یعنی تعریف بیان کرنا) بھی
بھاری اور وزنی اعمال میں سے ہیں..
”سبحان
الله وبحمده سبحان الله العظيم“بسم الله وبحمده، اللهم صل على سيدنا محمد وعلى اله
وصحبه وسلم تسليما....
اہل
ایمان کو..جامع مسجد سبحان اللہ میں اعتکاف کی یاد دہانی ہے..اس بار اعتکاف میں
دورہ تفسیر آیات الجہاد بھی ہوگا ان شاءاللہ..
”صلوٰۃ
التسبیح صغریٰ“ یعنی ”مختصر صلوٰۃ تسبیح“ کی بات چل رہی تھی..آج خلاصہ نکال کر اس
موضوع کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں (ان شاءاللہ)..
(۱) نماز میں دس بار تکبیر
(اللہ اکبر)..دس بار تسبیح (سبحان اللہ) اور دس بار تحمید (الحمدللہ) پڑھنے کی حدیث
شریف میں فضیلت آئی ہے کہ..اس کی برکت سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے..اُمت کے کئی اہل
علم نے اس عمل کو...دینی اور دنیوی حاجات کے لیے اکسیر اور مجرب بتایا ہے..
(۲) نماز کے اس عمل کی روایت
ترمذی، نسائی، المستدرک، ابن حبان، ابن خزیمہ اور مسند احمد میں آئی ہے..اس کی سند
کو محدثین نے ”حسن“ یا ”صحیح“ قرار دیا ہے..تمام کتب کی روایت میں یہ تسبیحات نماز
کے اندر پڑھنے کا تذکرہ ہے..مگر ”مسند احمد“ میں نماز کا ذکر نہیں..بلکہ فرمایا گیا
کہ یہ تسبیحات پڑھ کر دعاء کی جائے تو اللہ تعالی قبولیت کا اعلان فرماتے ہیں...
(۳) یہ تسبیحات نماز میں کس
جگہ پڑھی جائیں؟ اس کا کسی روایت میں ذکر نہیں ہے اس لیے مزید آسانی ہو گئی
کہ...تسبیح اور دعاء کے کسی مقام پر پڑھ لیں مثلا رکوع یا سجدوں میں..نماز کے آغاز
میں..نماز کے اخیر میں..وغیرہ..
(۴) حدیث شریف کے الفاظ سے
معلوم ہوتا ہے کہ..مقصد اللہ تعالی کی بڑائی، پاکی اور حمد بیان کرنا ہے..اس لیے
تکبیر، تسبیح اور حمد کے کوئی بھی مسنون الفاظ پڑھ سکتے ہیں..مگر ساتھ یہ اشارہ بھی
ملتا ہے کہ..دل اور دماغ میں ان الفاظ کا معنی حاضر ہو تاکہ مقصد حاصل ہو..
(۵) یہ ایک نفل عمل ہے..اس کی
دعوت اور تلقین بھی بطور نفل رکھی جائے..شدت اور بحث نہ کی جائے..جو نہ کر سکے اس
پر نکیر نہ کی جائے..جن کے ذمہ فرض اور واجب نمازیں ہوں وہ اس طرح کے اعمال میں
وقت لگانے کی بجائے پہلے فرائض ادا کریں....
(۶) تسبیح، تحمید، تکبیر..یعنی
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر....کا ذکر بہت مفید اور مبارک عمل ہے..کوشش کرنی
چاہیے کہ ہمارے پاس اس کا بڑا ذخیرہ جمع ہو..کیونکہ یہ سستی، بزدلی اور کنجوسی کا
بھی کفارہ اور جبیرہ ہے..نماز کے اس عمل سے ہمارے پاس ان تسبیحات کا بڑا ذخیرہ جمع
ہو جائے گا ان شاء اللہ
(۷) عمل والے عمل کریں
گے..سؤالات والے بہت کچھ پوچھنا چاہیں گے تو ان سے گزارش ہے کہ کسی مستند
دارالافتاء سے پوچھ لیں..بندہ کو پیغام نہ بھیجیں...
(فاتحہ)
جن کو ”اعتکاف“ میں نکلنا مشکل ہو رہا ہے..وہ (33) بار سورہ فاتحہ توجہ سے باوضو
پڑھ کر دعاء کریں...بہت آسانی ہو جائے گی ان شاء اللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
08.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تین
نعمتیں..ایک روایت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”نعمتیں“...اور ”انعامات“ بے شمار ہیں..الحمدللہ رب العالمین..
(۱) الحمدللہ جماعت کے شعبہ سیدنا
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ...”لِدَعْوۃِ الایمان“ کے زیر اہتمام دو دن میں ”تیس
افراد“ نور اسلام میں داخل ہوئے..کفر و شرک سے تائب ہوئے..موت سے زندگی کی طرف
آئے..والحمدللہ رب العالمین...
(۲) الحمدللہ ”قاتل“ جل مرے..7
مئی 2025..ہماری مساجد، بچوں اور خواتین پر حملہ کرنے والے بزدل انڈین پائلٹوں میں
سے دو..اپنا ہی ”سخوئی فائٹر“ گرنے سے جل مرے..خبروں میں تصدیق ہو چکی ہے کہ...یہ
”پائلٹ“ 7 مئی کے...حملے میں شامل تھے..خس کم جہاں پاک..والحمدللہ رب العالمین...
(۳) الحمدللہ ”یوم الفرقان“ کا
”مقابلہ“.....نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...اللہ تعالی کی ”نصرت“ سے
”فتح یاب“ ہوا ہے...شاندار محنت اور بہترین نتیجہ..اللہ تعالی اس میں خرچ کرنے
والوں، دعوت، محنت اور ترتیب بنانے والوں...دعاء کرنے والوں کو..”اصحاب بدر“ کی
کامیاب ایمانی نسبت..اپنی کامل مغفرت اور دارین کی فلاح اور برکت عطاء فرمائیں..اس
مقابلہ کی توفیق پر اللہ تعالی کا شکر..والحمدللہ رب العالمین..
(۴) الحمدللہ”سنن الترمذی“ میں
وہ روایت موجود ہے جس کو بعض اہل علم...”صلوٰۃ التسبیح صغریٰ“ کہتے ہیں..روایت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں..
”حضرت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدہ اُم سُلَیم رضی اللہ
عنھا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں..اور انہوں
نے عرض کیا! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیں..جنہیں میں نماز میں پڑھ لیا کروں..آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! دس مرتبہ ”اللہ اکبر“ پڑھا کرو..دس مرتبہ
”سبحان اللہ“ پڑھا کرو اور دس مرتبہ ”الحمدللہ“ پڑھا کرو..پھر جو چاہے دعاء
مانگو..اللہ تعالی (تمہاری دعاء پر) فرمائیں گے نَعْم نَعْم...ہاں، ضرور ہاں...(یعنی
ہم نے قبول فرما لی)....(الترمذی)
دس
بار ”تکبیر“...دس بار ”تسبیح“...اور دس بار ”حمد“ کرنے کا حکم فرمایا...اسی کا
ترجمہ...اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ پڑھنے سے کر دیا...
اہل
علم غور کریں گے تو کافی کچھ مزید سمجھ لیں گے...اس روایت کی قدرے تفصیل اگلے
مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو
تُحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنی ہر ”نافرمانی“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..
”یُومُ
الفرقان“...”یومُ بدر الکُبریٰ“کے دن دو تحفے قبول کریں..
(۱) گناہوں اور برائیوں سے
حفاظت کے لیے قرآن مجید کے یہ مبارک الفاظ پڑھا کریں..
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“[الذمر(۱۳)]
ترجمہ:
میں اپنے رب کی نافرمانی کرنے پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں..
جب
دل میں گناہ کا خیال آئے..برائی کا ارادہ آئے..کسی برائی یا گناہ کا موقع بنے تو
فورا پڑھیں:-
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“
دل
اسی وقت پاک اور صاف ہو جاتا ہے..اور بڑے دن کے عذاب کا خوف ”نور“ بن کر دل پر
”روحانیت“ ڈالتا ہے..
یہ
مبارک کلمات ویسے بھی روزانہ چند بار پڑھنے کا معمول بنا لیں..بہت فائدہ ہوگا ان
شاءاللہ..خصوصا وہ جن سے گناہ نہیں چھوٹ رہے وہ کثرت سے ان کا ورد کیا کریں..
(۲) دوسرا نبوی تحفہ...جو حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مؤمنہ صحابیہ کو عطاء فرمایا..وہ یہ کہ
جس نماز میں بھی دس بار یہ کلمات پڑھ لیے جائیں..
..
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر..
تو
اس کے بعد ہر دعاء قبول ہوتی ہے...مرد حضرات سنن اور نوافل میں پڑھ لیا کریں..جبکہ
خواتین ہر نماز میں پڑھ سکتی ہیں...اچھا ہوگا کہ آخری قعدہ میں..درود شریف کے بعد
پڑھ لیا کریں..اور پھر دعاء پڑھا کریں..ایک دعاء یا زیادہ دعائیں...کوشش کیا کریں
کہ.....نماز کے آخر میں زیادہ سے زیادہ دعائیں...سلام سے پہلے مانگا کریں...بڑی عظیم
قبولیت کا مقام ہوتا ہے.....تسبیحات کے اس عمل کو...بعض اہل علم...
”صلوٰۃ
التّسبیح صُغْریٰ“
بھی
کہتے ہیں....بہت پرکیف اور بابرکت عمل ہے...اس عمل کی روایات اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






