30.12.2025
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
<مکتوب
خادم>
محبوبانہ
اداؤں والا
السلام
عليكم ورحمه الله وبركاته
اللہ
تعالیٰ کی شان دیکھیں… جس نے *”ابو عبیدہ“* جیسے پیارے، محبوب، بہادر اور عجیب بندے پیدا فرمائے……
یا
اللہ! اُمت کے آنسو خشک ہی نہیں ہو رہے… معلوم نہیں کتنے لوگ رو رہے ہیں اُس ”نقاب
والے“ سپاہی کو…اُس شیروں کی چال چلنے والے ”مجاہد“ کو……
یا
اللہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے ہمیں… اپنے ایسے محبوب بندوں کا زمانہ نصیب فرمایا… میں
*”ابو عبیدہ“* پر بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں… مگر وہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹتے ہی نہیں
کہ… کچھ لکھ سکوں… قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ… ہم نے موسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام پر اپنی محبت ڈال دی تھی…:-
*”وَأَلْقَيْتُ
عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي“*
*”ابو
عبیدہ“* کو بھی اُمید ہے… یہی نعمت ملی… اُنکی محبوبانہ ادائیں تو دیکھیں…یہ رب کی
عطاء کے بغیر کہاں مل سکتی ہیں؟…شہادت بھی محبت والی اداؤں سے بھرپور……اپنی ہم سفر
کا ہاتھ تھاما… بیٹیوں کو سینے میں چھپایا… بیٹے کی انگلی پکڑی… اُمت مسلمہ کی طرف
مسکرا کر دیکھا……اور رب کی رحمتوں میں گم ہو گیا… *”ابو عبیدہ“* کے ایک روحانی
دوست نے ان کی اصل تصویر پر لکھ دیا…
”بے
حجابانہ وہ سامنے آگئے“……
یہ
پڑھتے ہی پھر آنکھیں بھیگ گئیں… اور یہ پوری نظم نہایت سلیقے سے *”ابو عبیدہ“* کی
زندگی اور شان پر منطبق ہوتی گئی…
”میرے
رشک قمر تو نے پہلی نظر“……
میں
سوچ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس بندے کو دنیا میں اتنی ”محبت“ اور ”عزیمت“
عطاء فرمائی تھی…اب جب وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوا ہوگا تو… اللہ تعالیٰ
نے اُس پر اپنی کتنی محبت برسائی ہوگی.
”مثالی
محبت“ کا یہ نسخہ آسان نہیں ہے…اس کے لیے بڑی محنت… بڑی قربانی، بڑا اخلاص… اور
بڑا دل چاہیے… یہ اُن کو نہیں ملتی جو لوگوں کے ”محبوب“ بننا چاہتے ہیں… یہ اُن کو
ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے کچھ بھی نہیں چاہتے……
او
نیتن یاہو! دنیا کو اپنی "بدبو" اور تاریکی سے بھرنے والے… تو کتنا بد
نصیب ہے کہ… *”ابو عبیدہ“* جیسے فرشتہ صفت، ولی، صدیق، شہید کا خون بھی… تیرے سر
لکھا گیا……
والسلام
خادم
*لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
29.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون
السلام
علیکم ورحمة الله وبرکاته...
اللہ
تعالی...امت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرمائیں..اُمت کے ”خواص“...خیر
خواہ ”اولیاء کرام“ اٹھتے جا رہے ہیں...”انا للّٰہ وانا الیہ راجعون“..
قطب
العصر..حضرت اقدس مولانا، مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب...بھی ”انتقال“ فرما
گئے..جب سے خبر سنی ہے..زبان اور دل بار بار پڑھتے ہیں:-
”انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون“
وہ
ان ”اللہ والوں“ میں سے تھے جنہیں دیکھ کر ”اللہ تعالی“ یاد آتے ہیں..وہ ان ”اولیاء
کرام“ میں سے تھے جو ”ولایت“ کی پہچان بن جاتے ہیں..وہ ان علماء کرام میں سے تھے
جو اپنے علم پر عمل کی بدولت ”دینی علوم“ کی ”آبرو“ بن جاتے ہیں...وہ دین کے ہر
شعبے کی محبت سے سرشار تھے..اور خود کو دین کی خدمت...اور امت کی خیر خواہی کے لیے
”وقف“ فرما چکے تھے..
زمانہ
طالبعلمی...ان کا پہلا تعارف یہ ملا کہ وہ....جہاد فی سبیل اللہ پر بھی بیعت لیتے
ہیں..دل بہت خوش ہوا..پھر کراچی میں ہی زیارت ہو گئی..وہ اس وقت مجمع اور ہجوم سے
کٹ کر..لکھنے میں زیادہ مشغول رہتے...ماشاءاللہ بڑی جاندار، شاندار اور ضروری کتابیں
انہوں نے لکھیں...پھر آہستہ آہستہ مجمع اور ہجوم ان کے گرد بڑھتا گیا..اور وہ
مقبولیت، محبوبیت اور مرجعیت کا مرقع بن گئے...بڑے بڑے اہل علم نے ان سے تعلق جوڑ
لیا..اور ”کربوغہ شریف“ کی خانقاہ....دلوں کو آباد کرتے کرتے...خود بھی آباد ہو گئی..
کامیاب
زندگی بہت مشکل زندگی ہوتی ہے..آزمائش، مجاہدہ، درد، مشغولیت اور تفکرات سے بھری
ہوتی ہے...یہ دنیا ویسے ہی مؤمن کے لیے ”قید خانہ“ ہے...
حضرت
شاہ صاحب نے...دین کے لیے..اور امت کے لیے بہت محنت فرمائی...اور اپنے دین کو اللہ
تعالی کے لیے خالص رکھا..اور اس میں ”دنیوی اغراض“ کو قریب نہ آنے دیا....اس لیے
آج ان کی جدائی کا غم دلوں اور کلیجوں کو چیر رہا ہے....اللہ تعالی ان کو مغفرت،
محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں...اور ان کے اہل خانہ اور اہل صدمہ کو
صبر و اجر عطاء فرمائیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
رجب
الحرام۱۴۴۷ھ
السلام
علیکم ورحمة الله وبرکاته...
اللَّهُمَّ
بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ....
الحمدللہ رجب الحرام ۱۴۴۷ھ کا چاند ہو گیا ہے...چاند رات کے اعمال کی یاددہانی
ہے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
15.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مَحْرَم
راز
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے...”اولیاء کرام“ کا ”محب“ بنائے، محبوب بنائے..سلسلہ عالیہ نقشبندیہ
کے شیخ العصر، مرجع الزمان حضرت مولانا حافظ ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی...”فنا“
سے ”بقا“ کی جانب سفر فرما گئے...انا للّٰہ وانا الیہ راجعون...”نقشبندی“ سلسلہ
تصوف بھی بہت عجیب ہے..تیز تر مگر نازک ترین...یہ کسی کسی کو ہضم ہوتا ہے..لیکن جب
ہضم ہو جائے تو اس کی پرواز بہت بلند ہوتی ہے....حضرت اقدس مولانا حافظ غلام حبیب
صاحب نقشبندی قدس سرہ...اس مبارک اور عالی سلسلے کے ”بادشاہ“ اور ”مرشد عالم“
تھے..الحمدللہ زمانہ طالب علمی میں ان سے استفادہ کا شرف ملا..ان کا ”بیان“ تفسیر
قرآن ہوتا تھا..ہر جملے کے ساتھ کسی آیت مبارکہ کو جوڑتے چلے جاتے اور زمین و
آسمان کے درمیانی فاصلے کو مٹا دیتے..
حضرت
حافظ ذوالفقار احمد صاحب رحمہ اللہ تعالی نے ان کے فیض کو جذب کیا اور ماشاءاللہ
چھا گئے...ایک ہی دن میں..حضرت مرشد عالم کے جانشین..حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب
نقشبندی..اور حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندی..اہل دنیا کو روتا چھوڑ
گئے..انا للہ وانا الیہ راجعون...اجتماعی نقصان اور اجتماعی صدمہ ہے..اس لیے دونوں
حضرات کے اہل و عیال کے ساتھ ساتھ..تمام اہل ارض سے ”تعزیت“ ہے...چکوال کے عالمی
نقشبندی اجتماع میں...چند بار شرکت کا موقع ملا...الحمدللہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ پر
بیان کی توفیق ملی...وہاں محبت اور موافقت ایسی ہوتی تھی کہ....”جہاد“کے نکات کھل
کھل کر خود زبان پر آ جاتے تھے...والحمدللہ رب العالمین..اللہ تعالی نے جن کو اپنے
پاس بلا لیا..ان کو مغفرت اور اکرام و محبت کا عالی مقام نصیب فرمائیں..اور جو ان
کے ”جانشین“ بنیں گے..اللہ تعالی ان کو ”راہ مستقیم“ پر مضبوطی اور ترقی عطاء
فرمائیں.....
”ذکر
اللہ“بلا شبہ عظیم و اکبر ہے..اور اس کے قبول ہونے کی علامت..شریعت کے تمام
احکامات پر مضبوطی کا حاصل ہونا ہے..اللہ تعالی ”نقشبندیوں“ میں اس راز کے ”محرم
راز“ زیادہ فرمائیں..کیونکہ....داغستان کے پہاڑوں سے لے کر..البانیہ کی وادیوں
تک..اور سائبیریا کے برف زاروں سے لے کر..ترکی کی خانقاہوں تک..یہ ”راز“ مخفی ہوتا
جا رہا ہے..اور حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب کے ”وصال“ سے..ایک بڑا ”خلاء“ دل کو
”رلا“ رہا ہے....انا للہ وانا الیہ راجعون.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
13.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
*سُبحَان
اللہ اور سُبُّوحٌ میں فرق*
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”مقبول تسبیح“ کی توفیق عطاء فرمائیں...سبحان اللہ وبحمدہ.....
”سُبُّوحٌ
قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوح“
آج
اس مبارک تسبیح کے سلسلے کا آخری سبق ہے اس لیے خصوصی توجہ فرمائیں...
(۱) حضرت امام احمد بن حنبل
رحمہ اللہ تعالی ”کتاب الزھد“ میں روایت ذکر فرماتے ہیں کہ...حضرت سیدنا سلیمان بن
داؤد علیہما السلام کے ایک ہزار محلات تھے..ان محلات کا بالائی حصہ شیشے سے اور
نچلا حصہ فولاد سے بنا ہوا تھا..ایک بار آپ (اپنے میلوں پھیلے تخت پر) ہوا میں سفر
فرما رہے تھے کہ آپ کا گزر ایک کسان پر سے ہوا...کسان نے آپ (کے تخت) کو دیکھا تو
(بطور رشک، حسرت اور تمنا کے) کہا کہ داؤد علیہ السلام کے بیٹے کو بہت بڑی سلطنت
نصیب ہوئی ہے..ہوا نے اس کی یہ بات اٹھا کر حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام کے
کانوں تک پہنچا دی..آپ فوراً اترے اور اس کسان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا؛
میں
نے تمہاری بات سن لی ہے..اور میں تمہیں یہ سمجھانے کے لیے آیا ہوں کہ..تم ایسی چیز
کی تمنا نہ کرو جو تمہارے بس میں نہیں ہے..(اور یاد رکھو کہ) کسی بندے کا ایک بار
تسبیح پڑھنا جسے اللہ تعالی قبول فرما لیں..یہ آل داؤد کی سلطنت سے بہتر ہے..(کیونکہ
مال و سلطنت ختم ہو جائے گی مگر تسبیح کا اجر و ثواب ختم نہیں ہوگا) اس پر کسان نے
کہا..اللہ تعالی آپ کا غم دور کر دے جیسے آپ نے میرا غم دور کر دیا..(کتاب الزُھد)
(۲) تسبیح کہتے ہیں..اللہ تعالی
کی پاکی اور عظمت بیان کرنے کو...یعنی اللہ تعالی ہر عیب، کمی، کمزوری، نقص، جسم،
تشبیہ اور برائی سے پاک ہیں....
(۳) ”سبحان اللہ“ کہنا یہ بھی
تسبیح ہے...”سُبُّوحٌ“ یہ بھی تسبیح ہے..اور ”قدوس“ کہنا یہ بھی تقدیس و تسبیح
ہے...سب سے افضل تسبیح..”سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم “..اور بہت اعلی
تسبیح.....”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوح“ ہے....
(۴) ”سبحان اللہ“ بھی تسبیح....”سُبُّوحٌ“
بھی تسبیح..مگر ان دونوں میں فرق ہے..”سُبحان“ اللہ تعالی کا ”نام“ نہیں
ہے..”سُبُّوحٌ“ اللہ تعالی کا صفاتی نام ہے..”سبحان اللہ“ اسم فعل ہے..اور
”سُبُّوحٌ“ اسم صفت..
(۵)”سبحان اللہ“ اسم فعل ہے..یعنی
لفظ کے اعتبار سے ”اسم“ اور معنی کے اعتبار سے ”فعل“..جب کسی ”کام“ کا کوئی ”نام“
رکھ لیا جائے تو اسے ”اسم فعل“ کہتے ہیں..تسبیح کرنا یعنی اللہ تعالی کی پاکی بیان
کرنا ایک ”کام“ ہے..اس کام کا نام ”سبحان اللہ“ رکھ لیا گیا..چنانچہ ”سبحان اللہ“
کا ترجمہ یوں بنے گا....میں اللہ تعالی کی پاکی بیان کرتا ہوں...جب کہ ”سُبُّوحٌ“
اسم ہے یعنی اللہ تعالی کا نام اور اللہ تعالی کی صفت..اللہ تعالی”سُبُّوحٌ“ ہیں..یعنی
وہ ذات جو پاک ہے..اور جس کی پاکی بیان کی جاتی ہے..اس لیے آپ ”سُبُّوحٌ“ کو پکار
سکتے ہیں..اور ”ورد“ کر سکتے ہیں یاسُبُّوحٌ، یاسُبُّوحٌ....مگر ”سبحان“ کو نہیں
پکار سکتے کہ”یا سُبحانُ“...
بس
یہ موضوع مکمل ہوا..سمجھنے والوں کا بھی بھلا....اور نہ سمجھنے والوں کا بھی
بھلا..اللہ تعالی ہم سب کو ”مقبول تسبیح“ نصیب فرمائیں..”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ
الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوح“..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
10.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
*تسبیح
اور تقدیس*
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں...اپنے اسم مبارک”سُبُّوحٌ“..اور ”قدوس“ کا فیض وافر نصیب فرمائیں..ہمارے
دل میں، ہماری روح میں، ہمارے جسم میں..ہماری دنیا میں..ہماری قبرمیں..ہمارے حشر میں
اور جنت میں..
”سُبُّوحٌ
قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوح“
”سُبُّوحٌ“اللہ
تعالی کا نام ہے...صفاتی نام..یہ نام حدیث صحیح سے ثابت ہے..اور ”قدوس“ اللہ تعالی
کا نام ہے ”صفاتی نام“ یہ نام قرآن مجید کی سورہ الحشر آیت (23) میں آیا ہے..
”سُبُّوحٌ“
میں اللہ تعالی کی تسبیح ہے..اور ”قدوس“ میں اللہ تعالی کی ”تقدیس“ ہے..
”تسبیح“کہتے
ہیں....اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ تعالی کی ذات....پاک ہے..ہر شرک سے اور ہر شریک
سے..ہر عیب سے اور کمی سے..ہر کمزوری سے اور ہر مشابہت سے...اللہ تعالی ہر اس چیز
سے بلند اور دور ہے جو چیز ”معبود حقیقی“ کی شان کے خلاف ہو....خلاصہ یہ ہوا کہ
”تسبیح“ میں ”تنزیہ ذات“ ہے کہ...پاکی کی صفت اللہ تعالی کی ذات میں شامل ہے..جبکہ
”تقدیس“ میں بھی اللہ تعالی کی پاکی کا بیان ہے..مگر یہ پاکی....اللہ تعالی کی
”صفات“ میں ہے کہ وہ ہر ظلم، گناہ، برائی، بدی اور فنا سے پاک ہے....”القدوس“ کے
لفظ میں دو چیزیں لازمی طور پر شامل ہیں..ایک طاہر یعنی پاک ہونا..اور ایک بابرکت
اور مبارک ہونا..ساتھ ساتھ اس میں تعظیم بھی ہے..یہ بات یاد رکھیں کہ....”تسبیح“
صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے...سبحان، سبوح اور تسبیح کا کسی ”غیر اللہ“ کے لیے
استعمال نہیں ہو سکتا...مگر ”تقدیس“ مجازی طور پر غیر اللہ کی جائز ہے...جیسے قرآن
مجید نے شام و فلسطین کی زمین کو ”ارض مقدس“فرمایا ہے...اسیطرح وفات پاجانے والوں
کو یہ دعاء دینا بھی جائز ہے کہ...قُدِّسَ سِرُّہ یا...قُدِّسَ رُوحُہٗ...یا
قَدَّسَ اللہ سرّہ...اس کا آسان مطلب یہ ہوتا ہے کہ..اللہ تعالی مرحوم کی روح، قبر
اور آخرت کو پاک فرمائیں اور اسمیں برکت نصیب فرمائیں...
”سبوح“
اور ”قدوس“ دونوں بہت بھاری، وزنی اور مؤثر ”اسماء الحسنی“ ہیں..دونوں کو جوڑ کر
پڑھنے سے دونوں کی تأثیر ملتی ہے اور انسان کے اندر طہارت، پاکیزگی، قوت اور نور
آجاتا ہے..تسبیح میں ”حمد“ شامل ہو تو وہ ”تقدیس“ بھی بن جاتی ہے..مثلا سبحان اللہ
وبحمدہ..اور ”تقدیس“ میں تو تسبیح ویسے ہی شامل ہے..”سبحان الملک القدوس“ بندہ نے
اہل علم کی مفصل گفتگو کو...مذکورہ بالا چند اشارات میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے...جو
سمجھ گئے وہ بھی ٹھیک...جو نہ سمجھ سکے وہ بھی ٹھیک...مگر سب ہی دل سے پکاریں...
”سُبُّوحٌ
قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوح“
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
09.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
*منگل
اور سترہ تاریخ*
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنی نعمتوں سے...فائدہ اٹھانے والا بنائیں..ہمیں اپنی نعمتوں کے قابل
بنائیں..آج ”تسبیح“ اور ”تقدیس“ کے درمیان فرق پر مکتوب لکھنا تھا..مگر ”حجامہ“ کی
خاص تاریخ آگئی..چاند کی سترہ تاریخ اور ساتھ منگل کا دن....یعنی سونے پر سہاگہ..یہ
تاریخ اور دن جمع ہو جائیں تو ”حجامہ“ کے روحانی فوائد بھی بڑھ جاتے ہیں...اور
جسمانی فوائد بھی...اللہ تعالی مجھے بھی ”نعمت شفاء“ نصیب فرمائیں اور آپ سب کو بھی......اور
ہمیں آج ”سنت حجامہ“ کا پورا پورا فیض..اپنے فضل سے نصیب فرمائیں....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






