23.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
انتظار
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں زیادہ سے زیادہ...” مقبول سجدوں“ کی توفیق عطاء فرمائیں....
① اللہ تعالی ان سب
مسلمانوں کو...دارین کی عزت، سعادت اور عافیت عطاء فرمائیں..جو اچھی بات سنتے ہیں..اور
مانتے ہیں..الحمدللہ آج ”نفل قربانی“ مہم کی بڑی اچھی کارگزاری آرہی
ہے..الحمدللہ..جماعت کا مالیاتی نظام ”امانت“ پر مبنی ہے..ایک ایک قربانی کی نگرانی
کی جاتی ہے..اور اسے محنت کے ساتھ مستحقین تک پہنچایا جاتا ہے..ماشاءاللہ لا حول
ولا قوۃ الا باللہ...
② ” واجب قربانی“ دینے
کے لیے بہت سے مسلمان رابطہ کرتے ہیں..جماعت نے احتیاط کی وجہ سے یہ سلسلہ اس وقت
بند کیا تھا جب...واجب قربانیوں کی آمد پانچ ہزار سے بھی اوپر پہنچ چکی تھی.....اہل
ایمان کی آسانی کے لیے ان شاءاللہ اگلے سال..تمام تر شرعی احتیاطی تدابیر اختیار
کر کے....واجب قربانی بھی وصول کی جائے گی..مگر فی الحال ایک مخصوص تعداد رکھی
جائے گی ان شاءاللہ..
③ غزہ کے لیے کئی
مسلمان رابطہ فرما رہے ہیں کہ...وہاں قربانی دینی ہے..گزارش ہے کہ اب اس کا وقت نہیں
رہا...اللہ تعالی آپ کی ”نیت“ اور ”جذبے“ کو قبول فرمائیں...
④ جس مسلمان کے
ذمہ...رمضان کے فرض روزے ہوں..یا فرض نمازیں..یا ”سجدۂ تلاوت“وہ ان دنوں کو غنیمت
جان کر...اپنی جان کی خلاصی کا عمل شروع کریں..ہمت کر کے ایک ایک قضا ”روزہ“ ادا
کرتے جائیں...ہر نماز کے ساتھ ایک قضاء نماز بھی ادا کر لیا کریں..” نوافل“ اور
”سنن زوائد“ کی جگہ اپنے ”فرائض“ پورے کریں..اس کے لیے اللہ تعالی سے مدد اور توفیق
بھی مانگا کریں.. اور جب تک سارے روزے، ساری رکعتیں..سارے سجدے ادا نہ کر لیں...اس
وقت تک اس کے لیے فکر مند رہیں...
⑤ عید کے دن کی
قربانی...عجیب عاشقانہ اور محبوبانہ عمل ہے..اس عمل سے اصل تو اللہ تعالی کی محبت
ملتی ہے..ساتھ رزق میں بھی بے انتہا برکت ہوتی ہے..اس لیے اس عمل کو عشق و محبت کے
مکمل جذبے سے ادا کریں..دکھاوے سے بچیں..ویڈیو اور تصویر بازی سے اسے آلودہ نہ کریں..شوق
سے انتظار کریں کہ کب وہ لمحہ آئے گا..جب اتنی محبت اور اتنا اجر ہمیں نصیب ہوگا
ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
22.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
معاہدہ
سیدنا آدم (علیہ الصلٰواۃ والسلام)
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کا شکر....ایمان پر...اسلام پر...قرآن پر..حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
پر..تمام ملائکہ پر..تمام انبیاء کرام پر..تمام آسمانی کتابوں پر..آخرت کے دن
پر..اور تقدیر پر کہ..ہر تقدیر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے..
① ان مبارک اور پیارے
دنوں میں کل بروز جمعرات..ایک عظیم نعمت نصیب ہوئی..ایک پورا ہندو خاندان....”نور
اسلام“سے ”منور“ہوا..(9) افراد نے اسلام قبول کیا..والحمدللہ رب العالمین..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ...صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..
② ہمارے پیارے غزہ
کے عظیم مسلمان..پکے سچے مسلمان..مظلوم و مجبور مسلمان..ان تک ”ہدیہ“پہنچانے والے
سب سے معتمد اور امانتدار ادارے نے ”قربانیوں“ کے لیے رابطہ کیا تھا...ایک حصہ
`235` ڈالر..پوری گائے `1645` ڈالر..یعنی ایک پوری گائے تقریباً چار لاکھ باسٹھ
ہزار `4٬62000` روپے...الحمدللہ ثم الحمدللہ..ایک سو گائے انکی خدمت میں پیش کرنے
کی سعادت..اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائی..اللہ تعالیٰ قبول فرمائے..ان ایک سو گائے میں
ممکن ہے وہ بچھڑا بھی..غزہ والے تناول فرما لیں..جسکی تلاش میں یہودی مارے، مارے
پھرتے ہیں...
اللہ
اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد...
③ کل بروز ہفتہ..اور
پرسوں بروز اتوار....”مقابلۂ محبت“ ہے..نفل قربانی زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی
محنت..اور اس محنت کا ایصال ثواب..حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم..سے لے
کر حضرت سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام تک تمام انبیاء کرام علیہم الصلٰواۃ
والسلام کو......بھائیو، بہنو! بڑے دن ہیں..بڑا مقابلہ ہے..اور بڑا ایصال ثواب
ہے..جو جتنی محنت کرے گا اسیقدر نقد اور آخرت میں انعام پائے گا ان شاءاللہ..
ہم
مسلمان ہیں...ہمارا معاہدہ..تمام انبیاء کرام پر ایمان لانے کا ہے..کسی ایک نبی کا
انکار بھی کفر ہے.......یہ معاہدہ سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام...تا سیدنا محمد
صلی اللہ علیہ وسلم ہے....یہی کامیابی والا معاہدہ ہے....یہی اصل معاہدہ ہے....
....
اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اَحَبُّ
+ أَحَبُّ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی بہت بڑے، سب سے بڑے..اللہ اکبر کبیرا..ہم بہت چھوٹے، ادنی، احقر، اصغر..مٹی
کے کھلونے..ایک پتھر سر پر لگ جائے..یا ڈینگی مچھر کاٹ لے..یا چیونٹی ناک اور کان
میں گھس جائے تو مر جاتے ہیں....اللہ تعالی ”باقی“....ہم ”فانی“....وہ بے عیب،
بےنقص، بےکمی اور ہم سر تاپا عیب ہی عیب...اورکمزوری سے بھرے ہوئے...اللہ تعالی
اپنی کوئی نعمت..ہمیں دوسروں سے تھوڑی زیادہ دے دیتا ہے تو ہم اکڑ جاتے ہیں..سنبھالے
نہیں سنبھلتے..مال، حُسن، عقل، اختیارات اور طاقت...مگر پھر یہ سب کچھ ختم ہو جاتا
ہے..اور ہم مٹی میں دفن کر دیے جاتے ہیں..
دنیا
بہت چھوٹی جگہ ہے..بےحد چھوٹی..عارضی، وقتی، فانی....جبکہ آخرت بہت بڑی ہے..دائمی،
باقی....ہمیشہ رہنے والی..وہاں ہر جنتی کی اپنی الگ سلطنت ہوگی، بادشاہت ہوگی....”وَّ
مُلْكًا كَبِیْرًا“.....جنتی فارغ نہیں ہوں گے...بلکہ بڑی بڑی سلطنتوں کے بااختیار
حاکم ہوں گے.......فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ....انہیں اپنی جنت میں یہ اختیار حاصل
ہوگا کہ وہ کہیں گے ”ہو جا“..تو ہو جائے گا...”جنت“ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کا
بہت عظیم جہان ہے..اللہ تعالی کے مخلص بندے ہمیشہ اللہ تعالی کی ”محبت“ کی تلاش، پیاس
اور جستجو میں رہتے ہیں...حضرات صحابہ کرام اسی ”محبت“ کی تلاش میں..حضرت آقا محمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے....”أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى
اللَّهِ“..یا رسول اللہ کون سا عمل...ہمارے رب تعالی کو زیادہ محبوب ہے؟...ان کے
اس سؤال پر ان میں سے ہر ایک کے حسب حال...محبَّت کے راز ارشاد فرما دیے جاتے..
یہ
”علم و معرفت“ کا پورا ایک باب ہے..آپ قرآن مجید میں دیکھیں کہ..کن اعمال پر اللہ
تعالی نے ”محبت“ کا اعلان فرمایا ہے...اسی طرح احادیث مبارکہ میں دیکھیں کہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کن اعمال اور اقوال کو.....”احب الأعمال“..اور ”احب
الأقوال“ قرار دیا ہے...”عشرہ ذی الحجہ“ میں ہر عمل اللہ تعالی کے نزدیک ”احب
الاعمال“ ہے...یعنی محبوب ترین عمل....اب اگر ہم ان دنوں میں...ان اعمال کا اہتمام
کریں جو ہر حال میں ”احب الاعمال“ ہیں تو.....ہمارے پاس محبت ہی محبت جمع ہو جائے
گی..ہم اللہ تعالی کی محبت کے بے حد محتاج ہیں..بے حد مشتاق ہیں...وہ اتنے عظیم ہو
کر ہم سے محبت فرمائیں تو اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے؟..قرآن و حدیث
میں ”احب الاعمال“ دیکھیں..پھر خاص ان دنوں میں بھی...ان کا اہتمام کریں..تب ہمیں
احب + احب....یعنی..محبوب ترین..جمع (پلس)...محبوب ترین عمل نصیب ہو جائے گا..جبکہ
”یوم النحر“ یعنی دس ذی الحجہ کی قربانی تو.....اَحبُّ، +اَحبُّ، +اَحَبُّ
ہے..اللہ تعالی ہمارا سینہ کھول دیں..
مغرب
سے جمعہ شریف....مقابلہ حُسن...مقابلۂ محبت برائے نفل قربانی..مرحبا!.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
20.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بھائی
حذیفہ شہید رحمۃ اللہ علیہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی زیادہ توبہ کرنے والوں سے ”مَحبَّت“ فرماتے ہیں..
”اِنَّ
اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ“
اے
عظیم مسلمان بھائیو..بیٹو! بزرگو! اللہ تعالی کی ”محبت“ اور ”پیار“ کے دن چل رہے ہیں..نور
والی راتیں چل رہی ہیں..اپنے گناہ چھوڑنے..استغفار کے آنسو بہانے، توبہ کرنے اور
اپنے رب کو منانے کا بہترین موقع ہے..ہمت کریں..ایمان اور ایمانداری اختیار کریں...
اب
آئیے کل کے مکتوب کی بات آگے چلاتے ہیں....(۱) ان دس دنوں کے کچھ اعمال
تو ایسے ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و عمل سے ارشاد فرمائے
ہیں مثلاً •حج بیت اللہ •قربانی •تکبیر، تھلیل، تحمید کی کثرت..یعنی اللہ اکبر، لا
الہ الا اللہ، الحمدللہ....اچھا ہوگا روز ہزار بار تیسرا کلمہ..یا تین سو بار..اور
تین سو بار تکبیر اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ
الحمد • نو تاریخ تک روزانہ روزہ...خصوصاً عرفہ کے دن کا روزہ..جن کے ذمہ رمضان
المبارک کے قضا روزے ہوں وہ ان دنوں...اُن کو ادا کر لیں...فرض بھی ادا ہوگا..محبت
بھی زیادہ ملے گی ان شاءاللہ...اسی طرح کئی اعمال احادیث میں آئے ہیں..کتاب ”افضل
ایام الدنیا“ میں دیکھ لیں...(۲) اعمال
صالحہ بڑھانے کے لیے کل پانچ طریقے عرض کیے تھے • `نیت` نیت کے ذریعہ ایک مسلمان
اپنے ہر اچھے عمل کو عبادت بنا سکتا ہے..اور ہر عبادت کی قیمت بڑھا سکتا ہے..اس لیے
ان دنوں اللہ تعالی کی رضا کی نیت ہر عمل میں تازہ کریں...اسی طرح ہر خدمت، حتی کہ
کھانا پکانے اور روزی کمانے میں بھی..اللہ تعالی کی رضا کی نیت کر لیں • `توجہ` اپنے اعمال صالحہ میں اللہ تعالی کی طرف
توجہ بڑھا دیں..مثلا سجدہ میں ”سبحان ربی الاعلی“...مکمل توجہ، عاجزی اور محبت سے
پڑھا کریں..یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے..اسی طرح سب اعمال میں کریں...یاد رکھیں
”توجہ“ سے ”توجہ“ ملتی ہے • `فکر` ان دنوں اور راتوں میں خود پر یہ فکر سوار رکھیں
کہ میں نے زیادہ سے زیادہ نیکی کرنی ہے..گناہ سے بچنا ہے..محبوب کی محبت پانی
ہے..فکر سے بہت سے دروازے کھلتے ہیں..سوچا کریں اس ٹائم کون سی نیکی کروں؟• `اعمال
صالحہ کی معلومات` قرآن و سنت میں دیکھیں کہ اعمال صالحہ کون سے ہیں؟..خصوصا ہمیشہ
باقی رہنے والے اعمال معلوم کریں اور ان کو اپنائیں..اور یہ دیکھیں کہ کون سا ”عمل
صالح“ ابھی تک میں نہیں کر سکا..وہ اب کرلوں• `احب الاعمال الی اللہ` کچھ اعمال ایسے
ہیں، جو ہر حال میں..اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہیں..مثلاً وقت پر فرض نماز..جہاد
فی سبیل اللہ..والدین کی خدمت وغیرہ..ان اعمال کو ان ایام میں زیادہ کریں
تاکہ”اَحبَُ“ جمع (یعنی پلس) ”أَحبُّ“ مل جائے..اس کی کچھ تفصیل اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ..
`ایک اہم بات` ہمارے پیارے بھائی حذیفہ شہید
فرمایا کرتے تھے..شیخ! کراچی والے تو ”مکتوب“ سے ”اسٹارٹ“ ہوتے ہیں..ہفتے میں ایک
ضرور کر دیا کریں..آج کا مکتوب بھائی حذیفہ شہید کے ایصال ثواب کے لیے کراچی والوں
کو ہے کہ...نفل قربانی مہم میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیں...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
<مکتوب خادم>
پیار کا موسم
السلام علیکم ورحمة اللہ
وبرکاته...
اللہ تعالی نے اپنے حبیب
صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو ”رمضان المبارک“ عطاء فرمایا..”عشرہ ذی الحجہ“ عطاء
فرمایا..”جمعہ شریف“ عطاء فرمایا...”عیدالفطر“ اور ”عید الاضحیٰ“ عطاء فرمائی...والحمدللہ
رب العالمین..
حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ...کسی بھی دن کے اعمال صالحہ...اللہ تعالی کے نزدیک
عشرہ ذی الحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں..تو صحابہ کرام نے پوچھا...یا رسول
اللہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا...جہاد
فی سبیل اللہ بھی نہیں..یعنی ان دنوں کا ہر عمل صالح جہاد سے بھی زیادہ محبوب
ہے..ہاں البتہ..ایک صورت مستثنیٰ فرمائی..وہ یہ کہ کوئی شخص اپنا مال اور اپنی جان
لے کر جہاد میں اترا....مال بھی قربان ہو گیا..جان بھی قربان ہو گئی..بس اس کا
عمل.....ان دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہے...یہ حدیث بخاری شریف اور دیگر کتب میں
سند صحیح کے ساتھ موجود ہے...تفصیل اس کی بہت ہے مگر..آئیے اختصار کی کوشش کرتے ہیں..
(۱) اعمال صالحہ کے زیادہ
محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ..وہ عمل کرنے والا اللہ تعالی کی زیادہ محبت اور توجہ
پاتا ہے..
(۲) صحابہ کرام کی دینی تربیت
کا یہ نتیجہ تھا کہ..وہ جہاد فی سبیل اللہ ہی کو اللہ تعالی کا سب سے محبوب ترین
عمل سمجھتے تھے..اس لیے انہوں نے سؤال عرض کیا...فرمایا گیا کہ اس دس روزہ ”بازار
عشق“ کا قانون الگ ہے..اللہ تعالی ہمیں بھی حضرات صحابہ کرام والا جہادی نظریہ نصیب
فرمائیں...
(۳) یہ دس دن کا ”بازار عشق“
دراصل اللہ تعالی کے وسیع پیار کا موسم ہے..ہر بوڑھا، بچہ، عورت، مرد اور معذور
مسلمان اس میں محبت کے جام بھر بھر کر پی سکتے ہیں..جہاد عورتوں، معذوروں پر فرض
نہیں (سوائے چند صورتوں کے)
(۴) ان دس دنوں کی ”قدر و قیمت“
کا بڑھ جانا...باقی دنوں کے اعمال کی قیمت نہیں گھٹاتا..
ہر دن، ہر رات، ہر عمل
صالح اللہ تعالی کو محبوب ہے..بس یہ ان کا فضل اور سخاوت کہ ان دنوں کے اعمال کی
قدر بڑھا دی..اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بس ان دنوں ”اعمال صالحہ“ کریں اور باقی
دنوں میں چھوڑ دیں...بلکہ مطلب یہ ہے کہ..ان دنوں میں ”اعمال صالحہ“ بڑھا دیں..
(۵) ان دنوں کے ”اعمال صالحہ“
کو بڑھانے کے کئی طریقے ہیں..مثلاً نیت...توجہ...فکر...اعمال صالحہ کی
معلومات....” احب الأعمال الى الله“ کا زیادہ اہتمام......اہل علم تو ان پانچ
الفاظ سے پوری بات سمجھ چکے ہوں گے...باقی جو میری طرح ”اُمّی“ ہیں..ان کے لیے تفصیل
اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ....
آج کی آخری بات یہ ہے کہ
جو والدین کا حق ادا نہیں کر سکے اور والدین وفات پا چکے ہیں تو تلافی کا بہترین
ذریعہ والدین کی طرف سے ”قربانی“ ہے..اس کا اجر و ثواب عام دنوں کی ہزار دیگوں سے
بھی بہت بڑھ کر ہے.....ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله الاالله
محمد رسول الله
18.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مَحبَّتْ
کی بارش
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کو.....”عشرۂ ذی الحجہ“ کے اعمال...بہت زیادہ محبوب ہیں...آئیے آج اس بات کو
سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں...علم سمجھنا اور سمجھانا بھی بڑا نیک عمل ہے..حضرت سیدنا
و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ دیکھیں! فرمایا
”مَا
مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ
الْأَيَّامِ الْعَشْرِ“
دنوں
میں سے کسی بھی دن کا ”نیک عمل“....اللہ تعالی کے ہاں زیادہ محبوب نہیں...ان دس
دنوں کے عمل سے..
یہ
تو ہوا لفظی ترجمہ....خلاصہ اس کا یہ نکلے گا کہ..ان دس دنوں کے نیک اعمال..اللہ
تعالی کو باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں.....یعنی ایک مسلمان کو پورے
سال میں چاند کے حساب سے (355) یا (354) دن ملتے ہیں..ہر مسلمان ان دنوں میں نیک
اعمال کرتا ہے..روزانہ نمازیں، کبھی روزے، زکوۃ..جھاد..انفاق..ذکر اذکار، صدقات وغیرہ.....مؤمن
کا ہر نیک عمل اللہ تعالی کو ”محبوب“ ہے..مگر ”ذوالحجہ“ کے پہلے دس دنوں...عشق و
محبت کے پیاسوں کے لیے ”لوٹ بازار“ لگا دیا جاتا ہے..اب اس کا ہر نیک عمل....اللہ
تعالی کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے بھی زیادہ محبوب ہوتا ہے..یعنی ایک بار ”سبحان
اللہ“ کہنے پر..”اللہ اکبر“ بولنے پر...وہ ”محبت الٰہی“ برستی ہے جو باقی دنوں کے
بڑے بڑے مشکل اعمال پر بھی نہیں برستی....اب غور کریں...حدیث شریف میں”أَحَبُّ“ کا
لفظ آیا ہے..اس کا ترجمہ ہے ”زیادہ محبوب“...یہ نہیں فرمایا کہ...ان دنوں کے اعمال
زیادہ ضروری ہیں یا..زیادہ افضل ہیں..یا زیادہ قیمتی ہیں یا..زیادہ اجر والے ہیں..بلکہ
فرمایا ”زیادہ محبوب“ ہیں...اللہ اکبر..”مَحبَّتْ“ کا لفظ دل کے تار ہلا دیتا
ہے..کوئی سچا عاشق ہو تو وہ ”أَحَبُّ“ کا لفظ پڑھ کر ”وجد“ میں آجائے..کیونکہ اصل
چیز تو ان کی ”مَحبَّتْ“ ہے..ارے ”مَحبَّتْ“ مل جائے تو پھر اور کیا چاہیے؟ پھر تو
نہ کوئی پوچھ تاچھ نہ کوئی حساب کتاب..کوئی اپنے ”محبوب“ سے بھی حساب کتاب کرتا
ہے؟ محبوب کو تو بے حساب دیا جاتا ہے..غور کریں..”أَحَبُّ“ کے لفظ نے سارے جھگڑے
بھی مٹا دیے کہ رمضان افضل ہے یا یہ دس دن؟..بابا رمضان، رمضان ہے..اور یہ عشرہ،
عشرہ ہے..وہاں رحمت و مغفرت کا دریا موجیں مار رہا ہے اور فرض روزے ادا ہو رہے
جبکہ..اس عشرہ میں مَحبَّتْ کے جام بھر بھر کر پلائے جا رہے ہیں..اور ہر اچھی ادا
پر ان کی طرف سے مَحبَّتْ برستی ہے..ہر اچھا قول، ہر اچھا خرچ، ہر اچھی عادت، ہر
اچھا عمل..
یا
اللہ ہم نااہل ”پیاسوں“ کو بھی...اپنی مَحبَّتْ کا شربت پلا دیجئے...
یاد
رکھیں...اس عشرہ میں ”مَحبَّتْ“ کا سب سے بڑا ذخیرہ...حُجّاج کو ”حج“ میں..اور باقی
مسلمانوں کو ”قربانی“ سے ملتا ہے..قربانی میں بخل نہ کریں..بڑھ چڑھ کر واجب اور
نفل قربانی کر کے...”مقابلہ مَحبَّتْ“ میں آگے آگے رہیں....
”حدیث
مَحبَّتْ“ کی باقی تشریح اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
17.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بازارِ
عِشْق
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کا شکر..بے حد شُکر....عشق کا بازار لگ گیا...سچے عاشقوں کو مبارک...دل کی
گہرائی سے مبارک-:-
”وَ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ“
ترجمہ:
اور وہ جو ایمان والے ہیں ناں وہ اللہ تعالی سے بہت ”شدید مَحَبَّت“ رکھتے ہیں....
کبھی
تنہائی ملے..آنسو نصیب ہوں..دل خواہشات سے پاک ہو تو..اللہ، اللہ، اللہ..پڑھتے جائیں
اور کہتے جائیں اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ..اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ، اَشَدُّ حُبًّا
لِّلّٰهِ..
الحمدللہ..عشرہ
ذی الحجہ کا آغاز ہو گیا ہے...فقیروں کے زخمی دلوں پر ٹھنڈک پڑی ہے..اب تو محبت،
محبت اور محبت..ہر عمل ان کو محبوب..محبوب ہی نہیں ”محبوب ترین“..اللہ تعالی کا
شاہی اعلان...شہنشاہی انعام...اب مٹی بھی سونا...اور سونا ہیرے...ہائے بے چارہ
سونا..بے چارے ہیرے..ان کی ”محبت“ کے مقابلے میں کیا قیمت؟ مگر دنیا کے اندھیرے میں
بات سمجھانے کے لیے انہی کی مثال دینی پڑتی ہے....”عشرہ ذی الحجہ“ کے فضائل کا
”علم“ تو اکثر مسلمانوں کو ہے..مگر جب تک ”علم“ پر ”حکمت“ کی آنکھ نہ
کُھلے..اُسوقت تک اونچی باتیں دلوں میں نہیں اُترتیں....قرآن و سنت میں غور کریں
تو ان دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ....کوئی مسلمان ایک لمحہ ضائع نہ کرے..ہر سانس کے
ساتھ نیکی...ہر سانس کے ساتھ تکبیر، تسبیح، تہلیل...اے مسلمانو! یہ دن گزارنے کے
نہیں کمانے کے ہیں..بچانے کے نہیں لٹانے کے ہیں..تھکنے کے نہیں تھکانے کے ہیں.........ہو
سکے تو ”افضل ایام الدنیا“ کتاب کا مطالعہ فرما لیں..
بندہ
کے لیے بھی دعاء فرما دیں...اللہ تعالی اس ”بازار عشق“ سے وافر حصہ مجھے اور آپ سب
کو عطاء فرما دیں....اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس بازار کی سب سے قیمتی چیز نصیب
فرما دیں....اور وہ چیز ہے.....اللہ تعالی کی سچی اور مقبول محبت...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله

.jpg)




