21.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُسکراتا
میدان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
والوں کی شان بڑی بلند ہوتی ہے...حضرت امام معروف کرخی قدس سرہ کا اسم گرامی آپ نے
سنا ہوگا....امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ وہ.......عَلَمُ الزُّھاد اور
”برکۃ العصر“ تھے....یعنی زاہدوں کے سردار...اور زمانے کی برکت...کسی نے حضرت امام
احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ...معروف کرخی ”کم علم“ ہیں...امام صاحب نے
فرمایا! معروف تو وہ سب کچھ پا چکے ہیں جو ”علم“ سے حاصل کیا جاتا ہے...یہ ساری
بات اس لیے لکھی کہ آج خود کو اور آپ سب کو حضرت الشیخ معروف الکرخی رحمۃ اللہ علیہ
کا ایک فرمان سنانا ہے..آپ فرمایا کرتے تھے..”اللہ تعالی اپنے جس بندے کے ساتھ ”خیر“
کا ارادہ فرماتے ہیں..اس پر ”عمل“ کا دروازہ کھول دیتے ہیں..اور ”جھگڑے“ کا دروازہ
بند کر دیتے ہیں..اور جس بندے کو (اس کے گناہوں کی وجہ) ”شر“ میں ڈالنا چاہتے ہیں
اُس پر عمل کا دروازہ بند کر کے جھگڑے کا دروازہ کھول دیتے ہیں “...
اب
ایک نظر سوشل میڈیا پر ڈالیں...جھگڑے ہی جھگڑے، بحث ہی بحث، نامناسب لفاظی.....بے
مقصد تحریریں، گالیاں، الزامات....اور دوسری طرف دیکھیں ماشاءاللہ ”آیات جہاد“ کے
تفسیری دورے....تیر اندازی کی مہکتی خوشبو..مؤمنات کے روحانی مجامع، خوشی سے
ہنہناتے گھوڑے...اور سب سے بڑھ کر اونچے پہاڑوں پر....اسلام کا سب سے اونچا فریضہ...والحمدللہ
رب العالمین...
بھائیو!
اور بہنو! عمل، عمل اور عمل..دیکھو ”وَ الْعَصْرِ“ کی تلوار ہماری ”عمر“ کاٹ رہی
ہے..”اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ“ کی لاٹھی ہمیں بیدار کر رہی ہے...کفار و
منافقین کے بس میں ہوتا تو وہ قرآن مجید سے آیات جہاد نکال دیتے..مگر قرآن مجید....”حفاظت
الہی“ میں ہے..اور اللہ تعالی اس کے لیے جن کو استعمال فرماتے ہیں...وہ زمین کے
چاند ستارے ہیں..ماشاءاللہ ”آیات الجہاد“ کی تفسیر کے ستر(۷۰) اساتذہ ہو چکے ہیں..سچی
بات ہے کہ ان کی زیارت بھی باعث سعادت و اجر ہے..ان اساتذہ کو بھی.......آنسوؤں
بھرا شکر ادا کرنا چاہیے...اور بار بار کرنا چاہیے...وہ ماشاءاللہ ایٹم بموں کا
اور زمانے کے طاغوت کا مقابلہ کر رہے ہیں.....صوبائی اور ضلعی منتظم بھائیوں
سے....ذاتی گزارش ہے کہ...تفسیر کے آخری مرحلے کے لیے ایسی جاندار محنت کریں
کہ.....اندھیرا چھٹ جائے اور غزوہ بدر کا آسمان مسکرانے لگے...”میدان بدر“ جب
مسکراتا ہے تو....اللہ تعالی راضی ہوتے ہیں..اور حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم خوش ہوتے ہیں.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
حضرت
قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ...اور...شَہرُالقُرّاء
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”انمول“ اور ”قیمتی“ نعمتوں میں سے ایک نعمت..”اچھے اساتذہ کرام“ کا ملنا
ہے...یہ بات انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہے کہ...وہ اپنے لیے خود اچھے اساتذہ
منتخب کرے..آپ نے کسی ”تعلیم گاہ“ میں داخلہ لیا..اب آپ کے لیے اس ”تعلیم گاہ“ کی
انتظامیہ ”اساتذہ“ کا انتخاب کرتی ہے...”استاذ“ کے علم، عمل، اخلاق، نظریہ اور
کردار کا ”طلبہ“ پر گہرا اثر ہوتا ہے..اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے
کہ..جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم کے دوران....الحمدللہ صاحب
عمل، صاحب کردار، صاحب نسبت...پاکیزہ ارواح اساتذہ کرام نصیب ہوئے..والحمدللہ رب
العالمین...سچی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی یاد آتا ہے تو دل فورا....شکر اور دعاء
کے لیے اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتا ہے..
وہاں
جن رفیع المرتبت اساتذہ کرام سے پڑھنے کی سعادت ملی..اس ”سلسلۃ الذھب“ کی آخری کڑی
بھی.....کل نگاہوں سے اوجھل ہو گئی....
حضرت
الاستاذ مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب انتقال فرما گئے....
انا
للہ وانا الیہ راجعون..اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ..
ان
سے درجہ اولی سے درجہ سادسہ تک...چار کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا....اب
ماشاءاللہ وہ جامعہ میں ”شیخ الحدیث“ کے ”منصب جلیلہ“ پر فائز تھے...قرآن مجید اور
قرأٓت کے ساتھ ان کے خصوصی اور خوبصورت تعلق کی وجہ سے...” قاری“ کے لقب سے وہ ہمیشہ
سرفراز رہے..شعبان کے مہینہ کو....امت کے اسلاف..”شہرالقُراء“ یعنی قاریوں کا مہینہ
کہتے تھے..اور اپنی کھڑکیاں، دروازے بند کر کے...قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو
جاتے تھے....کل حجاز اور اکثر دنیا میں....” یکم شعبان“طلوع ہوا تو ہمارے پیارے
حضرت قاری صاحب بھی....ملاقات کی ساری کھڑکیاں دروازے بند کر کے........روانہ ہو
گئے.......اہل قرآن برزخ اور قبر میں قرآن مجید کا خصوصی قرب پاتے ہیں.... اللہ
تعالی حضرت قاری صاحب کو اپنی مغفرت، محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ان
کے ”اقارب“ سے قلبی تعزیت ہے..اور آپ سب سے ”ایصال ثواب“ کی درخواست ہے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
20.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
مکتوب
خادم
شعبان
المعظم 1447ھ
السلام
علیکم ورحمةاللہ وبرکاته!
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.....آج مغرب سے
”شعبان المعظم“ ۱۴۴۷ھ
کا مہینہ شروع ہورہا ہے..... مسنون اعمال اور معمولات کی یاد دھانی ہے...
والسلام
خادم.....
لا الہ الا الله محمد رسول الله
14.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
<مکتوب
خادم>
خیر
خواہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ
الباقی....
”یاباقی
انت الباقی لیس الباقی الا الله“
تقریبا
بیاسی (82) سال کی سعادت بھری زندگی گزار کر...حضرت اقدس مولانا فضل الرحیم صاحب
اشرفی رحمۃ اللہ علیہ وفات پا گئے...
”اناللہ
وانا الیہ راجعون“
ان
کی زندگی کا جو خلاصہ بندہ کو سمجھ آتا ہے..وہ ہے ”خیر خواہی“ اور ”مٹھاس“..حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے..
”الدین
النصیحۃ“ (ابوداؤد)
دین
اسلام ”خیر خواہی“ کا نام ہے...ہر کسی کو ”خیر“ پہنچانے کی فکر اور جستجو جسے نصیب
ہو جائے وہ ”دین“ میں ”بڑے مقام“ والا ہے..حضرت کا بس یہی مزاج تھا اور یہی
عمل..اُن سے ملاقات بہت کم رہی..مگر جو ایک آدھ بار ہوئی..اس میں ان کے ”اخلاق
حسنہ“ اور ”مٹھاس“ نے دل و دماغ کو مسحور کر دیا..ان کے مختصر بیانات دستیاب ہیں..آپ
کوئی بیان سن لیں..آپ کی جھولی میں کوئی ”خیر“ ضرور آئے گی..پھر کمال یہ ہے
کہ..اتنے بڑے ”مناصب“ پر فائز ہونے..اور بزرگی کی عمر تک پہنچنے کے باوجود....اپنے
”والد ماجد“ کی باتیں سب کو سناتے تھے..اور اس قدر محبت اور عاجزی سے اپنے ”ابا جی“
کا تذکرہ فرماتے کہ..بے اختیار ان کے معصومانہ لہجے پر پیار آ جاتا..یوں لگتا کہ
کوئی چھوٹا بچہ اپنے ابو کو یاد کر رہا ہے..شاید یہی ان کے مقامات اور بلندیوں کا
راز تھا..ان کے والد گرامی حضرت مفتی محمد حسن صاحب امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے
”لاہور“ کو اعزاز بخشا..اور وہاں ”جامعہ اشرفیہ“ قائم فرمایا..اور وہ امت مسلمہ کے
لیے اپنی صالح اولاد بھی چھوڑ گئے..
اللہ
تعالی حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو مغفرت اور اکرام کا
عالی مقام نصیب فرمائے...ان کے فیوض، آثار اور صدقات کو تا قیامت جاری رکھے..
ان
کے اقارب سے قلبی تعزیت عرض ہے..اور آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے لیے حسب توفیق ایصال
ثواب کا اہتمام کریں..حضرت نے کئی عمدہ کتابیں تصنیف فرمائیں..ان میں سے ایک کتاب
”جہاد“ پر بھی ہے...
والسلام
خادم۔۔۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
30.12.2025
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
<مکتوب
خادم>
محبوبانہ
اداؤں والا
السلام
عليكم ورحمه الله وبركاته
اللہ
تعالیٰ کی شان دیکھیں… جس نے *”ابو عبیدہ“* جیسے پیارے، محبوب، بہادر اور عجیب بندے پیدا فرمائے……
یا
اللہ! اُمت کے آنسو خشک ہی نہیں ہو رہے… معلوم نہیں کتنے لوگ رو رہے ہیں اُس ”نقاب
والے“ سپاہی کو…اُس شیروں کی چال چلنے والے ”مجاہد“ کو……
یا
اللہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے ہمیں… اپنے ایسے محبوب بندوں کا زمانہ نصیب فرمایا… میں
*”ابو عبیدہ“* پر بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں… مگر وہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹتے ہی نہیں
کہ… کچھ لکھ سکوں… قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ… ہم نے موسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام پر اپنی محبت ڈال دی تھی…:-
*”وَأَلْقَيْتُ
عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي“*
*”ابو
عبیدہ“* کو بھی اُمید ہے… یہی نعمت ملی… اُنکی محبوبانہ ادائیں تو دیکھیں…یہ رب کی
عطاء کے بغیر کہاں مل سکتی ہیں؟…شہادت بھی محبت والی اداؤں سے بھرپور……اپنی ہم سفر
کا ہاتھ تھاما… بیٹیوں کو سینے میں چھپایا… بیٹے کی انگلی پکڑی… اُمت مسلمہ کی طرف
مسکرا کر دیکھا……اور رب کی رحمتوں میں گم ہو گیا… *”ابو عبیدہ“* کے ایک روحانی
دوست نے ان کی اصل تصویر پر لکھ دیا…
”بے
حجابانہ وہ سامنے آگئے“……
یہ
پڑھتے ہی پھر آنکھیں بھیگ گئیں… اور یہ پوری نظم نہایت سلیقے سے *”ابو عبیدہ“* کی
زندگی اور شان پر منطبق ہوتی گئی…
”میرے
رشک قمر تو نے پہلی نظر“……
میں
سوچ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس بندے کو دنیا میں اتنی ”محبت“ اور ”عزیمت“
عطاء فرمائی تھی…اب جب وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوا ہوگا تو… اللہ تعالیٰ
نے اُس پر اپنی کتنی محبت برسائی ہوگی.
”مثالی
محبت“ کا یہ نسخہ آسان نہیں ہے…اس کے لیے بڑی محنت… بڑی قربانی، بڑا اخلاص… اور
بڑا دل چاہیے… یہ اُن کو نہیں ملتی جو لوگوں کے ”محبوب“ بننا چاہتے ہیں… یہ اُن کو
ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے کچھ بھی نہیں چاہتے……
او
نیتن یاہو! دنیا کو اپنی "بدبو" اور تاریکی سے بھرنے والے… تو کتنا بد
نصیب ہے کہ… *”ابو عبیدہ“* جیسے فرشتہ صفت، ولی، صدیق، شہید کا خون بھی… تیرے سر
لکھا گیا……
والسلام
خادم
*لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
29.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون
السلام
علیکم ورحمة الله وبرکاته...
اللہ
تعالی...امت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرمائیں..اُمت کے ”خواص“...خیر
خواہ ”اولیاء کرام“ اٹھتے جا رہے ہیں...”انا للّٰہ وانا الیہ راجعون“..
قطب
العصر..حضرت اقدس مولانا، مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب...بھی ”انتقال“ فرما
گئے..جب سے خبر سنی ہے..زبان اور دل بار بار پڑھتے ہیں:-
”انا
للّٰہ وانا الیہ راجعون“
وہ
ان ”اللہ والوں“ میں سے تھے جنہیں دیکھ کر ”اللہ تعالی“ یاد آتے ہیں..وہ ان ”اولیاء
کرام“ میں سے تھے جو ”ولایت“ کی پہچان بن جاتے ہیں..وہ ان علماء کرام میں سے تھے
جو اپنے علم پر عمل کی بدولت ”دینی علوم“ کی ”آبرو“ بن جاتے ہیں...وہ دین کے ہر
شعبے کی محبت سے سرشار تھے..اور خود کو دین کی خدمت...اور امت کی خیر خواہی کے لیے
”وقف“ فرما چکے تھے..
زمانہ
طالبعلمی...ان کا پہلا تعارف یہ ملا کہ وہ....جہاد فی سبیل اللہ پر بھی بیعت لیتے
ہیں..دل بہت خوش ہوا..پھر کراچی میں ہی زیارت ہو گئی..وہ اس وقت مجمع اور ہجوم سے
کٹ کر..لکھنے میں زیادہ مشغول رہتے...ماشاءاللہ بڑی جاندار، شاندار اور ضروری کتابیں
انہوں نے لکھیں...پھر آہستہ آہستہ مجمع اور ہجوم ان کے گرد بڑھتا گیا..اور وہ
مقبولیت، محبوبیت اور مرجعیت کا مرقع بن گئے...بڑے بڑے اہل علم نے ان سے تعلق جوڑ
لیا..اور ”کربوغہ شریف“ کی خانقاہ....دلوں کو آباد کرتے کرتے...خود بھی آباد ہو گئی..
کامیاب
زندگی بہت مشکل زندگی ہوتی ہے..آزمائش، مجاہدہ، درد، مشغولیت اور تفکرات سے بھری
ہوتی ہے...یہ دنیا ویسے ہی مؤمن کے لیے ”قید خانہ“ ہے...
حضرت
شاہ صاحب نے...دین کے لیے..اور امت کے لیے بہت محنت فرمائی...اور اپنے دین کو اللہ
تعالی کے لیے خالص رکھا..اور اس میں ”دنیوی اغراض“ کو قریب نہ آنے دیا....اس لیے
آج ان کی جدائی کا غم دلوں اور کلیجوں کو چیر رہا ہے....اللہ تعالی ان کو مغفرت،
محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں...اور ان کے اہل خانہ اور اہل صدمہ کو
صبر و اجر عطاء فرمائیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.12.2025
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
رجب
الحرام۱۴۴۷ھ
السلام
علیکم ورحمة الله وبرکاته...
اللَّهُمَّ
بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ....
الحمدللہ رجب الحرام ۱۴۴۷ھ کا چاند ہو گیا ہے...چاند رات کے اعمال کی یاددہانی
ہے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






