بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مجاہد
سلطان تشریف لے آئیں گے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے مُخلص اور مجاہد بندے..حضرت سلطان ابو المظفَّر، مُحی الدین اورنگزیب
عالمگیر..رحمۃاللہ علیہ..ماشاءاللہ کیا خُوب انسان تھے..بادشاہ ایسے کہ دنیا میں
بہت کم افراد کو اتنی بڑی..اور کامیاب بادشاہت ملی..تقریبا پورا ”جنوبی ایشیا“ ان
کے ”زیر حکومت“ تھا..اور انکی ریاست اُسوقت دنیا کی سب سے بڑی اور مالدار ترین معیشت
تھی..انکی ”قبر مبارک“ کے کتبے پر ان کے دو لقب لکھے ہیں..
(۱) بادشاہ (۲) غازی...جی ہاں! بے حد
بہادر اور فاتح غازی..چودہ سال کی عمر میں ہاتھی کے سامنے ڈٹ گئے..تب سلطان
شاہجہان نے انہیں ”عالمگیر“ کا لقب دیا..خوفناک جنگیں اُن کے نزدیک ایک کھیل کی
طرح تھیں..خوبصورت ایسے کہ جو دیکھے دیکھتا رہ جائے..باوقار ایسے کہ کوئی نظر نہ
ملا سکے..اور اللہ تعالی کے ولی ایسے کہ اتنی عظیم بادشاہت بھی ان کی ”ولایت“ کو
داغدار نہ کر سکی..صاحب علم ایسے کہ ”فتاویٰ عالمگیری“ کا صدیوں سے عنوان ہیں..اور
عاشق قرآن ایسے کہ قرآن مجید کی تلاوت اور کتابت میں ڈوب ڈوب جاتے تھے..فاتح ایسے
کہ کبھی شکست کا نام نہیں سنا..اور سخی ایسے کہ اپنے سوا ہر کسی کو نوازتے رہتے..
اورنگ
زیب عالمگیر..ہندوستان میں پیدا ہوئے..کہیں باہر سے نہیں آئے..ان کے والد، دادا،
پردادا سب ہندوستان کے بادشاہ تھے..اور ”بی جے پی“ اور ”آر ایس ایس“ والوں کے باپ
دادا..اُن کے غلام تھے..ہندو مشرک کی فطرت ہے کہ یہ ہر طاقتور کے سامنے جھک جاتا
ہے..اور اُسے اپنا بھگوان مان لیتا ہے..لیکن اگر خدانخواستہ خود طاقتور ہو جائے تو
پھر فورا رنگ بدل لیتا ہے..اور نیچے والوں پر ظلم ڈھاتا ہے..آپ آج دبئی، قطر، سعودیہ
چلے جائیں..سارے ہندو مشرک وہاں مسلمان آقاؤں کے سامنے ہاتھ باندھے گردن جھکائے ہر
خدمت اور ہر حکم کے لیے تیار ملیں گے..حالانکہ ان میں سے کئی انڈین آرمی کے ریٹائر
فوجی ہیں..یہ فوجی جب مقبوضہ کشمیر میں تھے تو مظلوم مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے
تھے..اور بھارت ماتا کی دُم اپنے منہ پر سجاتے تھے..مگر اب اُن کو نہ بھارت ماتا یاد
ہے اور نہ فخر والی باتیں..بی جے پی والے آجکل سلطان اورنگ زیب کی قبر مبارک
کھودنے کا مطالبہ کر رہے ہیں..بے شرم یہ نہیں سوچتے کہ وہ ان کے باپ دادا کا
بادشاہ تھا..یاد رکھو..اگر سلطان اورنگ زیب کی قبر مبارک کھود دی گئی تو وہ باہر
تشریف لے آئیں گے..پھر تمہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی..ہم مسلمان دوسرے جنم
کے قائل نہیں..مگر ”نسبت“ منتقل ہونے کے قائل ہیں..سلطان اورنگ زیب عالمگیر کی
نسبت اگر کسی مسلمان کو مل گئی تو...شرک کے اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا..اور جنوبی
ایشیا پھر اسلام کا قلعہ بن جائے گا ان شاءاللہ..
اور
تو اور اگر پاکستان میں بھی..کوئی بہادر حکمران آگیا تو تم..بلوچستان سے گلگت تک
کے قاتلانہ آپریشن بھول کر..ہاتھ باندھ لو گے، سر جھکا دو گے..ان شاءاللہ
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقابلۂ
غزوہ
بنی قریظة
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ”امت مسلمہ“ کو ”غزوہ بنی قریظہ“ جیسی نصرت اور فتوحات عطاء فرمائیں..اللہ
تعالی ”مسلمانوں“ کو حضرت سلطان ”اورنگزیب عالمگیر“ جیسے ”حکمران“ نصیب فرمائیں...یہودیوں
کو ”غزوہ بنی قریظہ“ نہیں بھول رہا...اور کبھی بھولے گا بھی نہیں..اور انڈیا کے
مشرکین کو..سلطان اورنگ زیب رحمہ اللہ تعالی نہیں بھول رہے..اور کبھی بھولیں گے بھی
نہیں...”غزوہ بنی قریظہ“ بھی کیا شان والا غزوہ تھا..سبحان اللہ....ہر غزوہ میں
پہلے مسلمان مجاہدین نکلتے تھے پھر انکی نصرت کے لئے آسمانوں سے فرشتے اترتے
تھے..مگر”غزوہ بنی قریظہ“
میں
پہلے فرشتے اترے اور مسلمانوں سے پہلے میدان جہاد میں پہنچ گئے...ان کے بعد مجاہدین
پہنچے...جو ابھی ابھی تازہ تازہ ”غزوہ احزاب“ سے فارغ ہوئے تھے..بہت تھکے ہوئے
تھے..مگر انہیں تھکاوٹ اتارنے، آرام کرنے اور گھروں میں چند دن رہنے کی اجازت بھی
نہ ملی..اللہ تعالی کے حکم سے حضرت سیدنا جبرئیل علیہ الصلٰوۃ والسلام...جنگی لباس
پہنے..سر پر عمامہ باندھے..خچر پر تشریف فرما...حاضر ہو گئے..اور اللہ تعالیٰ کا
حکم سنایا کہ سب مجاہدین ”بنی قریظہ“ کی طرف روانہ ہوں..پورا قصہ آپ نے کئی بار
سنا ہو گا..اگر نہیں سنا یا بھول گئے ہیں تو....سیرت مبارکہ کی کسی کتاب میں پڑھ لیں..یقین
کریں کہ ایمان تازہ ہو جائے گا ان شاءاللہ...غزوہ بنی قریظہ سے مسلمانوں کو
ماشاءاللہ بہت مال غنیمت ملا...اور اس مال غنیمت سے جہادی گھوڑے اور جہادی سامان
خریدا گیا..
اللہ
تعالی امت مسلمہ کو ہمت اور توفیق عطاء فرمائیں کہ وہ.....”غزوہ بنی قریظہ“ کے
مناظر کو بار بار زندہ کرے..اور اپنے آقا و مولیٰ اور ”غزوہ بنی قریظہ“ کے سالار
اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی راستے پر چلے....”مہم“کے آخری دن ہیں..تھکاوٹ
کو قریب نہ آنے دیں..اپنی محنت کو کمزور نہ پڑنے دیں...”غزوہ بنی قریظہ“ کے مال غنیمت
کی طرح..اس مقابلہ کے اموال سے ان شاءاللہ..دیگر اہم مصارف کے ساتھ ساتھ زیادہ سے
زیادہ جہادی گھوڑے بھی خریدے جائیں گے....دو رکعت نماز ادا کر کے....سورہ فاتحہ
اور خواتیم سورہ بقرہ کا نور ساتھ لیں....نیت کو اللہ تعالی کے لیے خالص کریں..اور
”مقابلہ بنی قریظہ“ کے میدان میں اتر جائیں....بسم اللہ، اللہ اکبر..
...رَبَّنَا
وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّاٙ
وَاغْفِرْ لَنَاٙ وَارْحَمْنَاٙ
اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مَحبَّت
بھرا شکریہ اور قلبی دعائیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی ہماری دعائیں قبول فرمائیں..(آمین)
گذارش
اللہ تعالی اپنے جس بندے یا بندی کے لیے دعاء کا دروازہ کھول دیتے ہیں..اس کے لیے
اللہ تعالی کی بے انتہا رحمتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے..اس لیے ”دعاء“ زیادہ سے زیادہ
مانگا کریں..اپنے لیے بھی..اور دوسروں کے لیے بھی..خاص طور پر جہاد اور دین کے دیگر
مقبول کام کرنے والوں کے لیے..
(۱) الحمدللہ جامع مسجد سبحان
اللہ بہاولپور میں اس سال سولہ سو (1600) سے زائد افراد اعتکاف میں بیٹھے ہیں..اللہ
تعالی ان سب کو ایمان کامل..مکمل مغفرت اور دارین کی کامیابی عطاء فرمائیں..
(۲) الحمدللہ..قرآن مجید کی
خدمت..جماعت کے لیے عظیم سعادت ہے..گزشتہ تقریبا دو سال میں جماعت کے زیر
انتظام..آیات جہاد کے چار سو بائیس (422) دورات تفسیر ہوئے ہیں..جن میں سینتیس
ہزار چھ سو اڑسٹھ (37668) افراد نے یہ ”مبارک دورہ“ پڑھا ہے..الحمدللہ اساتذہ تفسیر
کی تعداد تریسٹھ (63) ہو چکی ہے..اللہ تعالی اس سلسلے کو قبولیت، مقبولیت اور مزید
ترقی عطاء فرمائیں..
(۳) خدمت قرآن کے سلسلہ میں
الحمدللہ..حفظ، ناظرہ اور تجوید کی تعلیم کا بھی انتظام ہے..گزشتہ سال جماعت کے
مدارس میں حفظ، ناظرہ اور تجوید کے طلباء کی تعداد دو ہزار آٹھ سو چورانوے (2894)
تھی..اللہ تعالی قبولیت و ترقی عطاء فرمائیں..امید ہے کہ رمضان المبارک کے بعد یہ
تعداد تین ہزار سے تجاوز کر جائے گی..اللہ کرے ”جماعت“ ہر سال امت مسلمہ کو پانچ
سو نئے ”حفاظ“ دینے کی صلاحیت اور توفیق پالے..
(۴) شہداء کرام..امت مسلمہ کے
سروں کے تاج ہیں..اور ان کے ”اہل خانہ“ کی کفالت مسلمانوں کی ذمہ داری
ہے..الحمدللہ جماعت ہر مہینے پانچ سو چھیاسی (586) شہداء کرام کے گھروں کی کفالت
کرتی ہے..رمضان المبارک میں الحمدللہ اس مد پر اڑسٹھ (68) لاکھ روپے سے زائد کے
اخراجات ہوئے ہیں..ہم شرمندہ ہیں کہ وسائل کے محدود ہونے کی وجہ سے اس مد کے
ماہانہ وظائف میں زیادہ اضافہ نہیں کر پائے..اللہ تعالی وسعت، برکت اور قبولیت
عطاء فرمائیں..اور ان وظائف کی مقدار بڑھانے کی استطاعت اور توفیق عطاء فرمائیں..
(۵) الحمدللہ جماعت کے زیر
اہتمام دین کے درجنوں شعبے چل رہے ہیں..ہمارے جو کارکن اس کے لیے محنت فرماتے ہیں..اور
وہ معاونین جو اس میں حصہ ڈالتے ہیں..وہ ہمارا قلبی شکریہ قبول فرمائیں..جزاکم
اللہ خیرا..رمضان المبارک کی طاق راتوں میں آپ سب کے لیے ڈھیروں قلبی دعائیں ہیں..اللہ
تعالی وہ سب اپنے فضل سے قبول فرمائیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقبول
دعاء
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی ہمیں...بخل، بزدلی، دل کی تنگی، حرص، لالچ...اور محرومی سے اپنی پناہ اور
حفاظت نصیب فرمائیں....
(۱) کل صدقہ فطر کی بات چلی تھی...ملک
کے مقتدر دینی ادارے ہر سال..اپنے شہروں کے مقامی ریٹ کے اعتبار سے..”زکوٰۃ فطر“ کی
مقدار کا اعلان کرتے ہیں..آپ سب حضرات و خواتین اپنے علاقے کے مستند دینی ادارے سے
جاری ہونے والی ”مقدار“ کے مطابق..اخلاص، خوشی اور سعادت کے ساتھ..یہ مبارک ذکوٰۃ
ادا کریں..اور پوری کوشش کریں کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے پہلے ادا کر دیں..اور
چاہیں تو ابھی ان دنوں میں بھی ادا کر سکتے ہیں....ہم یہاں بطور نمونہ ایک ادارے کی
جاری کردہ مقدار لکھ رہے ہیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو جائے..(۱) گندم کا آٹا دو سو چالیس
(240) روپے (۲) ”جو“
سات سو (700) روپے (۳) کھجور
چوبیس سو (2400) روپے (۴) کشمش
چھ ہزار (6000)روپے..اور اگر ماشاءاللہ زیادہ مالی استطاعت ہے تو ”عجوہ کھجور“ کے
حساب سے انیس ہزار (19000) روپے... اسی طرح عمدہ کشمش بھی زیادہ مہنگی ہے..بہرحال
جو بھی اپنے لیے آگے جتنا زیادہ بھیجے گا..وہ اتنا ہی خوش نصیب ہوگا...
(۲) گزشتہ ایک مکتوب میں ہر
فرض نماز کے بعد دعاء کا عرض کیا تھا..بے شک فرض نمازوں کا وقت اور عمل بڑا خاص
ہوتا ہے..اسمیں دعائیں قبول ہوتی ہیں..مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ..فرض کا سلام
پھیرتے ہی دعاء کی جائے..آپ یہ دعاء سلام پھیرنے کے فوراً بعد بھی مانگ سکتے ہیں..تسبیحات،
آیۃالکرسی اور دیگر معمولات کے بعد بھی مانگ سکتے ہیں..اس فرض نماز کے بعد جو سنتیں
اور نوافل ہوتے ہیں وہ ادا کر کے بھی مانگ سکتے ہیں..یہ تمام صورتیں فرض نمازوں کے
بعد دعاء کو شامل ہیں..جس صورت میں زیادہ توجہ، اہتمام اور محبت کے ساتھ دعاء مانگ
سکتے ہوں مانگ لیں..یاد رکھیں..ایک فرض نماز اپنے وقت پر ادا کرنے کی توفیق مل
جانا..یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر ہر نماز کے شکرانے میں ایک اونٹ بھی ذبح کریں تو
”شکر“ کا مکمل حق ادا نہ ہو....کوشش ہونی چاہیے کہ زندگی بھر ایک نماز بھی قضا نہ
ہو..اور اگر خدانخواستہ کبھی ہو چکی ہے تو اسے فورا..ادا کرنے کی ترتیب بنائیں....نماز
کے بغیر دین اس طرح ہے جس طرح کوئی آدمی بغیر سر کے ہو....
...وَاعْفُ
عَنَّاٙ وَاغْفِرْ لَنَاٙ
وَارْحَمْنَاٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا
فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مِقْدار
زکوٰۃِ فِطْر
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی ہمیں....اپنی پکڑ، عذاب اور جہنم سے بچائیں:-
”
اَللّٰهُمَّ اَجِرْنا مِنَ النَّار“
اللہ
تعالی ہمیں مکمل معافی اور مغفرت نصیب فرمائیں:-
”اَللّٰھُمَّ
اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا“
ایک
مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں....زکوٰۃ فطر...جسے ”فطرانہ“ صدقہ فطر اور ”سرسایہ“ بھی
کہتے ہیں..یہ صاحب استطاعت مسلمانوں پر ”واجب“ ہے..اپنی طرف سے بھی اور اپنے عیال
کی طرف سے بھی..اس ”زکوٰۃ فطر“ کے بہت فضائل، مقامات اور درجات ہیں..یہ اہل ایمان
کے لیے..اللہ تعالی کی طرف سے ایک انعام ہے کہ..تھوڑا سا مال دے کر وہ پورے رمضان
کی کمی و کوتاہی کا ازالہ کر سکتے ہیں..اور بڑی برکتیں پا سکتے ہیں..” زکوٰۃ فطر“ یعنی
”فطرانہ“ کی مقدار کیا ہے؟ آج اسی پر بات کرنی ہے..فطرانہ عمومی طور پر چار چیزوں
سے ادا کیا جاتا ہے(۱) جو
(۲) کھجور
(۳) کشمش(۴) گندم کا آٹا....اگر آپ نے
خود یہی اصل چیزیں دینی ہیں تو پھر جو، کھجور اور کشمش ”ایک صاع“ کی مقدار دینی
ہوں گی..یعنی آج کل کے حساب سے ساڑھے تین کلو سے چار کلو تک..اور اگر آپ نے گندم
کا آٹا دینا ہے تو اس کی مقدار ”آدھا صاع“ ہے..یعنی پونے دو کلو سے دو کلو تک..اور
اگر آپ نے ان چیزوں کی قیمت ادا کرنی ہے تو پھر....اسی حساب سے قیمت دیں گے..یعنی
جو، کھجور اور کشمش..ساڑھے تین سے چار کلو تک کی قیمت..اور گندم میں پونے دو کلو
سے دو کلو آٹے کی قیمت..کیا آپ نے کبھی غور فرمایا کہ..فطرانہ میں کھجور وغیرہ کی
مقدار زیادہ ہے..اور گندم کی کم..وجہ دراصل یہ ہے کہ جس زمانے میں یہ مقدار مقرر
فرمائی جا رہی تھی..اسوقت گندم نایاب تھی..اور بہت کم اور بہت مہنگی ملتی تھی..جبکہ
اس کے مقابلے میں جو، کھجور اور کشمش عام دستیاب تھی اور سستی تھی..چنانچہ گندم کے
حساب سے صرف زیادہ مالدار لوگ ہی ”صدقہ فطر“ ادا کر سکتے تھے..باقی لوگ کھجور وغیرہ
سے ادا کرتے تھے..مگر بعد میں حالات بدل گئے..اب گندم کی فراوانی ہے..اور گندم
کھجور وغیرہ سے بہت سستی ہے..مگر اب ہر کسی نے گندم والے حساب کو ہی پکا پکڑ لیا
ہے..اس میں کم استطاعت والوں کے لیے تو خیر ہو گئی..مگر مالدار لوگ بھی گندم کے
حساب سے ادا کرتے ہیں..حالانکہ انہیں اپنی استطاعت کے مطابق.... کھجور یا کشمش کے
حساب سے ادا کر کے پورا اجر و ثواب حاصل کرنا چاہیے..مالدار لوگ جب سفر کرتے ہیں
تو عام لوگوں سے زیادہ اچھی اور مہنگی
کلاس کا ٹکٹ لیتے ہیں..اسیطرح ہر دنیوی معاملے میں زیادہ خرچ کرتے ہیں..مگر جب
آخرت کا معاملہ ہو تو پھر....گندم والے فطرانے پر آجاتے ہیں..حالانکہ حق تو یہ ہے
کہ....آخرت کے معاملے میں ”وی، آئی، پی“ بننے کی زیادہ محنت کریں..تاکہ اپنے مال
کا خود بھی کوئی فائدہ اٹھا سکیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اُولِی
الْأیْدِیْ وَ الْأَبْصَارْ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی کا فرمان مبارک ہے
وَ
اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ
الْاَبْصَارِ ص(45)
ترجمہ:
اور یاد کرو ہمارے بندوں..ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو..جو ”قوت والے“ اور سمجھ
رکھنے والے تھے.......
فرمایا
گیا کہ....اللہ تعالی کے عظیم پیغمبر....”اُولِی الْأیْدِی“ تھے..یعنی طاقتور، قوی..اور
مضبوط..”اُولِی الْأیْدِی“ کا لفظی معنی ہے..ہاتھوں والے..اور اس کا مطلب
ہے..جسمانی طاقت والے..مضبوط گرفت اور پکڑ والے..اپنے ہاتھوں سے کام کرنے
والے....اس آیت مبارکہ میں تین انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ ہے..مگر قوت و طاقت کی
یہ صفت سارے انبیاء علیہم السلام میں مشترک تھی..حضرت سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ
والسلام سے لے کر..حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک..سارے انبیاء
علیہم الصلوۃ والسلام..اعلی ترین درجے کی ایمانی، قلبی اور جسمانی طاقت رکھتے
تھے..اس پر قرآن مجید سے اتنے دلائل پیش کیے جا سکتے ہیں کہ..ایک پوری کتاب بن
جائے..دراصل اللہ تعالی مؤمن بندوں کو...طاقتور اور قوی دیکھنا پسند فرماتے ہیں..کیونکہ
مؤمن کی طاقت سے دین کو اور حق کو طاقت ملتی ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا
فرمان گرامی ہے:-
”المؤمن
القوی خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف“(صحیح مسلم)
ترجمہ:
طاقتور مؤمن اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ بہتر اور محبوب ہے..کمزور مؤمن سے..
پھر
یہ کہ اللہ تعالی نے خود....ایمان والوں کو قوت اور طاقت پانے اور بنانے کا حکم
فرمایا ہے....
”وَ
اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ“(الانفال 60)
چنانچہ...دین
اسلام میں...دین کی خاطر قوت بنانا..قوت پانا اور طاقتور بننے کی کوشش کرنا....ایک
اہم عبادت اور دینی حکم ہے...جماعت الحمدللہ اپنے قیام کے روز اول سے...اس دینی
حکم کو پورا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے..
الحمدللہ
اب تک لاکھوں افراد...دین کے اہم اور بلند ترین فریضے کی تربیت حاصل کر چکے ہیں..اور
اب کچھ عرصہ سے جماعت میں اس کے لیے مستقل ”شعبہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ“
قائم کر دیا گیا ہے..اس شعبے کے تحت مختصر عرصہ میں ہی..اللہ تعالی کے فضل سے..حیرت
انگیز نتائج سامنے آئے ہیں..مثلاً ایک سو کے قریب ”سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ“ سینٹرز
کا قیام..سو سے زائد افراد کا بلیک بیلٹ ہونا..دو ہزار سے زائد افراد کا تیر اندازی
اور سینکڑوں افراد کا تیراکی سیکھنا..اور صرف تین ماہ کے عرصہ میں تیر اندازی کے
(150) مقابلے....کچھ عرصہ پہلے تک مسلمان...تیر اندازی کی نعمت سے محروم اور دور
تھے..مگر اب...درجنوں افراد...خود تیر کمان اور تیر بنانے کی..الحمدللہ صلاحیت
رکھتے ہیں..اور یوں ایک مٹی ہوئی نورانی سنت..پوری آب و تاب کے ساتھ....اہل ایمان
میں..واپس آرہی ہے..والحمدللہ رب العالمین ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقابلے
کے لئے”نُور“ موجود ہے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..
اللہ
تعالی اُمت حضرت محمد....صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو..ہر جگہ بہترین ”قیادت“ نصیب
فرمائیں..چند ضروری باتیں عرض خدمت ہیں..
(۱) الحمدللہ آخری عشرہ شروع
ہو گیا ہے..آپ سب سے درد مندانہ گزارش ہے کہ جتنی بھی مصروفیت آجائے..اس عشرہ کی
کسی بھی فرض نماز کے بعد..دعاء مانگنا نہ بھولیں..نماز کے بعد...عاجزی سے ہاتھ
اٹھا لیں..سب سے پہلے اللہ تعالی سے اپنے لیے معافی اور مغفرت مانگیں..پھر غزہ اور
فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت اور نصرت کی دعاء مانگیں..اس کے بعد اپنی دینی، دنیوی
اور اخروی حاجات..مجاہدین کشمیر اور اپنی جماعت اور مہم کے لیے دعاء..جو افراد زیادہ
مشغول ہیں..وہ ان چار پانچ دعاؤں کو ہی پکا کر لیں..اگر آپ نے واقعی دل سے اس کا
اہتمام کیا تو بہت فائدہ ہوگا ان شاء اللہ..صہیونیوں پر اللہ تعالی کی مار
پڑے..انہوں نے بڑے غلط وقت میں مسلمانوں کو چھیڑا ہے..”غلط وقت“ ان کے لیے ہے
مسلمانوں کے لیے نہیں..مسلمانوں کے لیے تو یہ ”قُرب و مَحبت“ کا موسم ہے..اگر وہ
پوری طرح متوجہ ہوئے تو دشمنوں کا بیڑہ غرق ہو جائے گا ان شاء اللہ..
(۲) آخری عشرہ میں دو دعاؤں سے
بہت فیض اٹھائیں...
*
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی
*
اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ
کوشش
کریں کہ توجہ کے ساتھ تین تین سو بار روز یہ دعائیں نصیب ہو جائیں..جن کو یہ تعداد
زیادہ لگے وہ سو سو بار کر لیں..یا اکتالیس، اکیس یا سات بار....
تین
سو کے عدد سے نہ ڈریں..اللہ تعالی کے ایسے بندے اور بندیاں بھی ہمارے سلسلے میں
الحمدللہ موجود ہیں جن کو یہ تعداد بھی کم لگتی ہے..دراصل جو ذکر میں جتنی ”ترقی“
کرتا جاتا ہے اس کے ”وقت“ میں غیر معمولی برکت ہوتی چلی جاتی ہے..
(۳) قرآن مجید کی ہر سورۃ..ہر
آیت..ہر وقت ہر لمحہ سر آنکھوں پر..پھر بھی بعض سورتیں دن کی کہلاتی ہیں..اور بعض
رات کی..یعنی ان سورتوں کا فائدہ اس وقت زیادہ نصیب ہوتا ہے..آخری عشرہ میں رات
کو.....سورہ یس، سورہ ملک، سورہ الم سجدہ..سورہ واقعہ..سورہ مزمل....کا اہتمام
فرما لیں..اور دن کو..سورہ یس، سورہ الفتح، سورہ النبأ کا...اور...سورہ اخلاص..اور
مُعَوِّذَتَيْن کا دن کو بھی..اور رات کو بھی اہتمام.....جبکہ سورہ فاتحہ اور سورہ
بقرہ کی آخری دو آیات...بہت بڑا نور اور قوت کا خزانہ ہیں..جو اس مہم میں اس راز
کو سمجھ چکے ہیں وہ آگے آگے جا رہے ہیں..اور یہ راز ہر مسلمان کو پوری زندگی کام دیتا
ہے..اور قیامت کے دن بھی کام دے گا..
یاد
رکھیں ہر وقت ”اندھیروں“ کے حملے ہوتے رہتے ہیں..اللہ تعالی نے ان کے مقابلے کے لیے
”نور“ عطاء فرما دیا ہے.....اللہ تعالی ہمیں فائدہ اٹھانے والا بنا دیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله