29.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تیر
اندازی کے ارکان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”حق“ کی توفیق عطاء فرمائیں..اور ہر ”باطل“ سے ہماری حفاظت
فرمائیں..”حق“ اور ”باطل“ کا دائرہ بہت وسیع ہے..یہاں تک کہ ”کھیلوں“ میں بھی حق
اور باطل ہوتا ہے..کئی روایات میں آیا ہے کہ.....ہر کھیل باطل ہے، فضول ہے، بھول
ہے سوائے چار کھیلوں کے (۱)تیر
اندازی (۲)گھڑ
سواری (۳)تیراکی
(۴)خاوند
اور بیوی کا باہم کھیلنا، دل لگی کرنا..........ان میں سے تین کا تعلق......جہاد
اور مؤمن کی مضبوطی سے ہے..اور ایک کا تعلق عفت، پاکدامنی اور تقوی سے ہے...ان
مبارک اور مفید کھیلوں سے مسلمانوں کو جو انعامات ملتے ہیں..ان کی تفصیل بڑی دلکش
ہے..اور ان پر انسان جو خرچ کرتا ہے..اس پر اجر کا وعدہ ہے..اور خرچ کیا ہوا مال
ضرور واپس ملتا ہے....اس وقت مسلمانوں میں جو کھیل ”رواج“ پاچکے ہیں ان میں کئی
گناہ اور خرابیاں شامل ہوچکی ہیں..کسی میں جوا ہے، کسی میں وقت کا ضیاع اور کسی
میں بے پردگی، بےستری اور غفلت وغیرہ....اس لیے اہل علم، اہل منبر اور اہل دعوت کو
چاہیے کہ وہ...تیر اندازی، گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ کے فضائل پڑھیں، سمجھیں،
اپنائیں اور ان کی دعوت مسلمانوں میں عام کریں.....یہ پرانے اور قیمتی تحفے
مسلمانوں میں جاری ہوں گے تو مسلمان نئے زمانے میں زیادہ اچھی ترقی کرسکیں
گے.........جن قوموں کا ماضی اچھا ہو...شاندار اور تابناک ہو...وہ قومیں کبھی اپنے
ماضی سے کٹ کر.....اپنے حال اور مستقبل میں ترقی نہیں کر سکتیں..آج تیر اندازی کے
مکتوبات کا سلسلہ........تیر اندازی کے اصول پر مشتمل چند اشعار کے ذریعے مکمل
کرتے ہیں....مزید ”ان شاءاللہ“ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ علمی، تحریری اور
تبلیغی مواد بھی تیار کرنے کی کوشش کریں گے...ملاحظہ فرمائیے چند اشعار..
”الرَّمی
اَفْضَلَ ما اوصی الرسول بہ -:- واشجع النّاسِ من بالرمی یفتخِرُ“
ترجمہ:
تیر اندازی ان چیزوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی
ہے...افضل عمل ہے..اور لوگوں میں زیادہ بہادر وہ ہے جو اپنی تیر اندازی پر فخر کر
سکے (یعنی بہت ماہر ہو)
أَرْكَانهُ
خمسۃٌ القَبْضُ اَوُّلها -:- وَالعَقْدُ، وَالْمَدُّ وَلْإِطْلَاقُ والنَّظْرُ...
ترجمہ:
تیر اندازی کے پانچ فرائض ہیں (۱)”اَلقَبْضُ“
(یعنی الٹے ہاتھ سے کمان کے اگلے حصے کو پکڑنا) (۲)”العَقْدُ“ (یعنی سیدھے
ہاتھ سے تیر اور تانت یعنی رسی کو پکڑنا)(۳)”الْمَدُّ“ (یعنی تیر کو اپنی طرف کھینچنا) (۴)”الْإِطْلَاقُ“ (یعنی تیر
کو ہدف کی طرف چھوڑنا) (۵)”النَّظْرُ“
(یعنی آنکھ سے نشانہ باندھنا)....
دراصل
ان پانچ ”ارکان“ کے طریقے ”اہل فن“ اور اہل علم نے مقرر فرمائے ہیں کہ..کتنی
انگلیاں استعمال ہوں..نشانہ ایک آنکھ بند کر کے لیں یا دونوں آنکھیں کھلی ہوں..تیر
کو کتنا کھینچا جائے..اگلا ہاتھ سخت رکھیں یا نرم وغیرہ......الحمدللہ سارا علم
کتابوں میں موجود ہے...ملاحظہ فرما لیں..مکتوب طویل ہو گیا اور ایک شعر رہ
گیا....معذرت.....
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
28.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
نِعمَتِ
الٰہی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ”تیر اندازی“ ہے..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو
نصیب فرمائیں...
خود
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں اسے ”نعمت الہی“ قرار دیا
ہے...اور ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”سنت“ قرار دیا ہے...”تیر
اندازی“ کے مقام کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ دعاء دی:-
”اَللّٰهُمَّ
سَدِّدْ رَمْيَهُ وأَجِبْ دَعْوَتَہُ“
ترجمہ:
”یا اللہ ان کی تیر اندازی بہترین فرما دیجئے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرمائیے“
اس
کے بعد سے ان کا کوئی تیر نشانے سے خطا نہیں ہوتا تھا اور ہر دعاء قبول ہوتی تھی...اور
غزوہ اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا...اے سعد! میرے ماں باپ آپ
پر قربان، تیر چلاؤ..
حقیقی
بات یہ ہے کہ آج جو لوگ..اللہ تعالی کے فضل سے امت میں ”تیر اندازی“ کا ”احیا“ کر
رہے ہیں..یہ لوگ اس امت کے ”خیر خواہ“ ہیں..حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ نے اپنے گورنروں کو باقاعدہ حکم جاری فرمایا کہ......مسلمانوں کو ”تیر اندازی“
سکھائی جائے اور آپ فرماتے تھے..
”اَلْمِعْرَاضُ
رَوضَۃٌ مِن رِیاضِ الجَنَّۃِ“
ترجمہ:
تیر اندازی کا ہدف، جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے.....
یعنی
جب کوئی تیر اندازی سیکھنے کے لیے...کوئی ”ہدف“ کھڑا کرتا ہے..تو تیر انداز اپنا تیر
اس پر چلانے کے بعد.....تیر واپس اٹھانے کے لیے..اور نشانہ دیکھنے کے لیے اس کی
طرف چلتا ہے..تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ جنت کے باغ میں چل رہا ہے...اس چلنے پر اس
کو اجر ملے گا....اور یہ عمل جنت میں کام آنے والا عمل ہے...”تیر اندازی“ کے فضائل
اور فوائد بہت زیادہ ہیں..اس لیے حضرات صحابہ کرام نے اس پر بہت محنت فرمائی..اور
اس میں ایسی مہارت حاصل کی..جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی..اسی نسبت سے مسلمانوں
میں بڑے بڑے ماہر تیر انداز پیدا ہوئے اور انہوں نے اس مبارک عمل کے اصول و ضوابط
بھی مقرر کیے....
تیر
اندازی کے ساتھ جو نسبت، جو فضیلت اور جو علم منسلک ہو چکا ہے..اس کا تقاضا یہی ہے
کہ یہ عمل ہر زمانے کے مسلمانوں میں جاری رہے..آج کل اگرچہ یہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن
جیسے جیسے اس میں شوق اور مہارت بڑھتی جائے گی..یہ سستا بھی ہوتا جائے گا..
الحمدللہ
اس وقت بھی کئی افراد خود کمان..اور سستے تیر بنانا شروع ہو گئے ہیں..جماعت کا ایک
شعبہ بھی اس پر کام کر رہا ہے..اس شعبے کا ”تیر کمان“ کارخانہ ”کچھوے“ کی طرح تیز
رفتاری سے تیر اور کمانیں بنا رہا ہے..اور مزید تجربات کر رہا ہے تاکہ..مسلمان بغیر
کسی بوجھ کے....اس مبارک نورانی عمل سے جڑ جائیں...الحمدللہ ثم الحمدللہ تھوڑی سی
محنت اور توجہ سے...اس وقت ہزاروں مسلمان...اس عمل کو اپنا چکے ہیں..
..والحمدللہ
رب العالمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
27.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تیر
اندازی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے مبارک اور عظیم نام سے....اور اللہ تعالی کی توفیق سے..آج ”تیر اندازی“
پر کچھ بات کرتے ہیں..آپ کی آسانی کے لیے...ترتیب کے ساتھ خلاصہ عرض خدمت ہے..
(۱) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں...مسلمانوں
کو ”قوت“ بنانے کا حکم فرمایا ہے..دیکھیے سورہ انفال کی آیت رقم(۶۰) حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے ”قوت“ کی تفسیر ”تیر اندازی“ سے فرمائی ہے..دیکھیے صحیح مسلم...اسی لیے
اہل علم فرماتے ہیں کہ
”وَهٰذَا
الْفَضْلُ لِلْرَمِيْ باقٍ اِلٰى قِيامِ السَّاعَةِ“
یعنی..تیر
اندازی کے فضائل قیامت تک ہیں...یعنی اس کی جنگی ضرورت رہے یا نہ رہے..چونکہ یہ
اللہ تعالی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے..تو اس کی فضیلت..اور
اس کے فضائل قیامت تک رہیں گے....
(۲) تیر اندازی کا حکم قرآن مجید
میں ہے...احادیث مبارکہ میں ہے..تو یہ بھی ایک ”دینی علم“ ہے..مسلمانوں کو چاہیے
کہ اس علم کو پڑھیں بھی...اور سیکھیں بھی..
(۳) اہل علم نے ”تیر اندازی“
کے فضائل، احکام اور آداب پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں لکھی ہیں طلبہ علم ان
کتابوں کو حاصل کریں..اور اس مٹے ہوئے علم کو اچھی طرح پڑھیں..
(۴) تیر اندازی کے فضائل کا
مختصر خلاصہ.....احادیث مبارکہ سے درج ذیل ہے..
•
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر اندازی فرماتے تھے..ایک بار تو اتنے تیر چلائے کہ
کمان ٹوٹ گئی..جو حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے رکھ لی • تیر اندازی حضرت سیدنا
اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وراثت ہے..ملاحظہ فرمائیے بخاری شریف • تیر اندازی
کی مجلس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں..سبحان اللہ..وہ کتنی معزز اور روحانی مجلس ہوتی
ہے جس میں حضرات ملائکہ شامل ہوں..حضرات ملائکہ کے اعزاز اور احترام کے لیے...اہل
علم نے ”تیر اندازی“ کے باقاعدہ آداب لکھے ہیں...جیسے کسی مجلس میں قوم کے سردار
اور حاکم شریک ہوں تو اس مجلس کے آداب عام مجلس سے الگ ہوتے ہیں... • تیر اندازی
سے ”ھم اور غم“ ختم ہوتے ہیں..یعنی پریشانیاں، تفکرات، ٹینشن اور غم، گھٹن سے
انسان کو آزادی ملتی ہے..علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ..اگر تیر
اندازی کی صرف یہی ایک فضیلت ہوتی تو بھی یہ کافی تھی...(کیونکہ پریشانیاں اور
ھموم و غموم انسان کو مار دیتے ہیں، گرا دیتے ہیں)
(۵) آج اسی قدر پر اکتفا کرتے
ہیں....باقی آئندہ ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
میرا
بھی اک سُؤال ہے؟
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں قرآن مجید میں ”تدبر“ کی توفیق عطاء فرمائیں..” تدبر“ کہتے ہیں اچھی
طرح سے غور و فکر کرنے کو...دل کی آنکھیں کھول کر سمجھنے کو...اللہ تعالی کی
عظمت..اور اللہ تعالی کے کلام کی صداقت کو ذہن میں رکھ کر......اچھی طرح سے قرآن
مجید سمجھنے کو......
سورہ
”محمد“...جس کا دوسرا نام سورہ ”القتال“ بھی ہے...اس میں یہ راز سمجھایا گیا ہے
کہ...بد نصیب لوگوں کے دلوں پر تالے ہوتے ہیں..اس لیے وہ قرآن مجید کو نہیں سمجھ
سکتے...
اَفَلَا
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(محمد۲۴)
..”
تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں “..
اس
میں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ.......انسان اپنے بڑے سے بڑے مسائل کا حل...قرآن مجید
سے لے سکتا ہے...مگر شرط یہ ہے کہ ایمان، یقین اور کھلے سینے کے ساتھ قرآن مجید کی
طرف رجوع کرے...
قرآن
مجید.....ایک زندہ، بولتی ہوئی سچی کتاب ہے...کوئی سمجھ کر تو دیکھے..کوئی ”تدبر“
تو کرے..
آج
سؤال یہ پوچھنا ہے کہ... آخر مسلمانوں میں ”تیر اندازی“ کیسے ختم ہو گئی؟...کیوں
ختم ہو گئی؟...اس دن ایک ستر سالہ بزرگ فرما رہے تھے کہ..آج زندگی میں پہلی بار تیر
چلایا ہے...اور ہاتھ میں کمان اٹھائی ہے...یعنی ”تیر اندازی“ کا نام و نشان تک مٹ
گیا.....یہ ”سانحہ“ ان لوگوں کے لیے ”معمولی بات“ ہو سکتی ہے...جنہوں نے قرآن مجید
کی تفسیر نہ پڑھی ہو....جنہوں نے حدیث شریف کی کتابیں نہ پڑھی ہوں...جنہوں نے ”سیرت
طیبہ“ کا مطالعہ نہ کیا ہو..جنہوں نے صحابہ کرام کے حالات زندگی نہ پڑھے
ہوں.....وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کون سی اہم بات ہے کہ...را کٹ اور میزائل کے زمانے
میں ”تیر اندازی“ کرتے رہو....مگر جنہوں نے.....تفسیر، حدیث اور سیرت پڑھی
ہو...حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تیر اندازی کے ساتھ محبت دیکھی ہو....تیر
اندازی کے فضائل پڑھے ہوں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے تاکیدیں پڑھی ہوں.....وہ ضرور سوچتے ہیں
کہ....آخر مسلمان اس نعمت سے یکسر کیوں محروم ہو گئے؟ اگر آپ کہیں کہ دنیا میں اس
کا رواج نہیں رہا تو یہ غلط ہے..دنیا میں کئی جگہ اب بھی ”تیر اندازی“ ہوتی ہے...ٹیمیں
بنتی ہیں..مقابلے ہوتے ہیں..حتی کہ عالمی سطح کے مقابلے بھی ہوتے ہیں.....اگر
مسلمان بھی اس کو اپنا کھیل بنا کر کھیلتے رہتے تو کیا رکاوٹ تھی؟
بات
دراصل یہ ہے کہ..... مسلمانوں کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے توڑنے کے لیے...ہر اس چیز
کو مسلم معاشرے سے ختم کیا گیا...جس چیز کو دیکھ کر مسلمانوں کو ”جہاد“ یا اپنا
”ماضی“ یاد آئے......اس موضوع پر باقی باتیں...پھر کبھی ان شاءاللہ..فی الحال اتنی
گزارش ہے کہ....احادیث مبارکہ میں ”تیر اندازی“ کے فضائل پڑھیں...اور عمل کے لیے
دعاء اور کوشش کریں.....اگر آپ ”جم“ جاتے ہیں..یا کوئی انگریزی کھیل کھیلتے ہیں تو
اس کی جگہ آپ ”تیر اندازی“ کو لے آئیں....یقین جانیں بہت برکت اور فوائد ملیں گے
ان شاء اللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
25.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بَس
دو خواہشیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی تمام ”مسلمانوں“ کی اولاد کو ”مسلمان“ بنائیں...”مسلمان“ رکھیں..اور ہم تمام
مسلمانوں کی نسلوں میں قیامت تک ”اسلام“ کو جاری رکھیں...
اپنی
اولاد اور نسل میں اسلام جاری رکھنے کی فکر....حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام
کی فکر ہے..
”وَ
لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ“
”جہاد“
اور ”آیات جہاد“ کے انکار نے..بے شمار مسلمانوں کو..الحاد، کفر اور انکار کی طرف
دھکیل دیا ہے..افسوس کہ مسلمانوں کے بچے ”کافر“ بن رہے ہیں..پچیس سال قبل شروع
ہونے والے ”دورہ آیات الجہاد“ کو اللہ تعالی نے ”رنگ“ لگا دیا ہے..الحمدللہ ابھی
چند ہفتوں میں ایک سو اڑتیس (۱۳۸)
مقامات
پر یہ مبارک دورہ ہوا..اور کئی جگہ پر جاری ہے..
..وَ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَات..
دین
کی خاطر قربانی کا جذبہ..دین پر جان و مال لگانے کا ذوق..دین کی خاطر خوف
سہنے..اور دباؤ برداشت کرنے کی طاقت..اور دین کو ساری دنیا پر غالب کرنے کا
جنون....یہ وہ چیزیں ہیں جو مسلمانوں کو اور ان کی نسلوں کو....دین اسلام پر ثابت
قدم رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے...
اور
”آیات جہاد“ میں یہی سب کچھ.....اللہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو سکھایا
ہے..اللہ کرے مسلمان...اس دورے کی مزید قدر کریں..اور اس سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب
ہوں..یہ دورہ پڑھانے والوں....پڑھنے والوں اور اس کے انعقاد میں کسی بھی طرح کی
محنت، کوشش اور ”تعاون“ کرنے والوں کو.....اللہ تعالی بہت، بہت، بہت جزائے خیر
عطاء فرمائیں..اللہ تعالی ان سب کو اپنی محبت کی مٹھاس..اپنی رحمت و مغفرت کی
ٹھنڈک، مقبول ایمان....کامیاب زندگی..رزق حلال کی فراوانی..جہاد پر استقامت اور مزیدار
میٹھا ”حسن خاتمہ“ عطاء فرمائیں...
جو
مسلمان اس بار یہ دورہ نہیں پڑھ سکے وہ...جلد اسے پڑھنے کی ترتیب بنائیں..الحمدللہ
پورا سال یہ دورہ جاری رہتا ہے...الحمدللہ...آیات جہاد کی مختصر تفسیر بھی....”فتح
الجواد“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے..آپ اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں..پانچویں صدی
ہجری کے ایک عالم فرماتے تھے کہ...دنیا میں بس دو ہی خواہشیں ہیں..پہلی خواہش قرآن
و سنت کا علم پڑھنا اور پھیلانا اور دوسری خواہش جہاد اور رباط....وہ دعاء کرتے
تھے کہ یا اللہ میری زندگی انہی دو کاموں میں ہی لگائے رکھنا..اور مجھے بہترین موت
عطاء فرمانا...
”واَکْرَمُ
مَوْتٍ لِلْفَتٰی قَتْلُ کَافِرٍ“
(ترجمہ)
جوانمرد مسلمان کے لیے سب سے معزز اور اونچی موت...کافر کے ہاتھوں قتل ہونا ہے..
ایمان....علم...جہاد..رباط...اور
شہادت..
سبحان
الله وبحمده، سبحان الله العظيم..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
24.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بابرکت
نام
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے..ہر چیز ”بہترین“
منتخب فرمائی ہے..
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے چار بیٹیاں عطاء فرمائیں..(۱) سیدہ زینب (۲) سیدہ رقیہ (۳) سیدہ ام کلثوم (۴) سیدہ فاطمہ (رضوان اللہ علیہن)..اہل
ایمان کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کے نام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات
طاہرات، ازواج مطہرات اور صحابیات کے ناموں پر زیادہ رکھا کریں...آج ”فاطمہ“ نام
پر بات کرنی ہے..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی صاحبزادی کا اسم گرامی ”فاطمہ“ ہے..اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان انہی کے ذریعہ تا قیامت چلے گا..کتنا مبارک اور عالی
مرتبت نام ہے ”فاطمہ“..قریش کے ہاں یہ نام بہت محبوب اور مقبول تھا...اور قریش سے
بڑھ کر عربی زبان سے کون واقف تھا؟..اگر اس نام کے معنی میں کوئی عیب ہوتا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی کا یہ نام کیسے رکھتے؟ خود آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی جدہ محترمہ (دادی) کا نام بھی فاطمہ تھا..فاطمہ بنت عمرو..آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی چچی محترمہ جن کے گھر میں آپ کی پرورش ہوئی ان کا اسم گرامی بھی ”فاطمہ
بنت اسد رضی اللہ عنہا“ تھا..یہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی والدہ اور
حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی دادی ہیں..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی
صحابیات کا نام ”فاطمہ“ ہے مثلا فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا (سیدنا فاروق اعظم
رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ) فاطمہ بنت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا..فاطمہ ام البنین رضی
اللہ عنہا (یہ بھی حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ان کے چار بیٹوں
کی والدہ ہیں)..فاطمہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا (یہ حضرت سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی
اللہ عنہ کی زوجہ ہیں)...الغرض صحابیات میں دس سے زائد کا نام ”فاطمہ“ ہے..اگر کوئی
سوچے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی عظمت اور احترام کو ملحوظ رکھتے
ہوئے..یہ نام نہیں رکھنا چاہیے تو یہ بات بھی غلط ہے...کسی کا نام رکھنا ادب اور
احترام کے منافی نہیں ہے...آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!
”سَمُّوا
بِأسْمِی“ (بخاری)
”میرے
نام پر نام رکھا کرو“...(یعنی محمد، احمد)
اور
فرمایا!
”تَسَمُّوْابِأَسْمَاءِ
الأنبیاء“ (ابو داؤد)
”انبیاء
علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ناموں پر نام رکھا کرو“
باقی
رہا یہ کہ ”فاطمہ“ کا معنی کیا ہے؟ تو یہ ایک دلچسپ اور مفصل موضوع ہے..کبھی موقع
ملا تو عرض کریں گے ان شاءاللہ...ویسے اتنی بڑی ہستیوں کا اس نام کو منتخب
کرنا....کیا ایک مسلمان کا دل کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے؟..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
23.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مناظرہ....فوائد
و نقصانات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے محبوب ”دین اسلام“ پر مکمل ”یقین“ اور ”اعتماد“ عطاء
فرمائیں...اور ہر شک شبہے، وہم اور کفریہ وسوسے سے ہماری حفاظت فرمائیں.....
ہم
سب اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں...اگر ہم ”دین اسلام“ پر مطمئن ہیں تو ہم شکر ادا
کریں...اور ”ملحدین“ کے مناظرے نہ دیکھیں..نہ سنیں..
جاوید
اختر ملحد کو....محترم مفتی شمائل صاحب زید قدرہ نے...شکست دی..بہت خوشی کی بات
ہے...مگر میں خوشی کے باوجود وہ مناظرہ نہیں سن سکا...چند الفاظ سنے اور ان پر بھی
اللہ تعالی سے معافی مانگی...آخر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ..اپنے عظیم و برتر رب تعالی
کی شان میں ”بے ادبی“ اور گستاخی سنیں؟..کیا وقت گزاری اور لطف اندوزی کے لیے یہی
بُرا کام رہ گیا ہے؟..حضرت امام معروف الکرخی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ..
..”شبہات
میں ڈالنے والی چیزوں میں نہ پڑو..وہ تمہیں گمراہی میں ڈال دیں گی“..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صحابہ کرام کو....تقدیر کے مسئلے پر گفتگو
کرتے دیکھا تو اتنے ناراض ہوئے کہ...چہرہ مبارک انار کی طرح سرخ ہو گیا..اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ڈانٹ پلائی...اس مجلس میں شریک بعض صحابہ کرام ہمیشہ
اپنی اس مجلس پر ندامت کا اظہار فرماتے تھے.....اللہ تعالی کا قرآن مجید میں واضح
حکم ہے کہ..ایسی مجلس میں نہ بیٹھا کرو..جہاں ہماری آیات کا انکار کیا جاتا ہو..یا
ان کا مذاق اڑایا جاتا ہو..اگر تم وہاں بیٹھو گے تو انہی میں شمار کیے جاؤ گے
(مفہوم سورۃ النساء آیت ۱۴۰)
اب
غور کریں...اس مناظرے کو سننے سے آپ کو کیا ملے گا؟..ایک خبیث شرابی ملحد کے ناپاک
منہ سے....اللہ تعالی کا بار بار انکار....استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ...
سوشل
میڈیا کے وہ افراد جو اس طرح کی بحثوں اور باتوں کو پھیلا رہے ہیں..وہ شاید نہیں
سمجھ رہے کہ اس سے کتنے مسلمانوں کا یقین اور ایمان خطرے میں پڑ رہا ہے....
وجود
باری تعالی اور تقدیر وغیرہ پر الحمدللہ مسلمانوں کا ایمان پکا ہوتا ہے..انہیں اس
پر کسی مزید دلیل یا مطالعہ کی ضرورت نہیں ہوتی...عقائد اور ایمانیات کی ضروری
باتیں پڑھنا اور سمجھنا تو ہر مسلمان پر ضروری ہے..لیکن ان باتوں کی باریکیوں میں
جانا اور مخالفین کے دلائل کا رد سیکھنا یہ صرف مخصوص اہل علم کا کام ہے.....ہم
سیدھے سادے مسلمان ان میں ہرگز نہ پڑیں....اور اپنے ایمان اور یقین پر اللہ تعالی
کا شکر ادا کریں......
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله






