14.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
<مکتوب
خادم>
خیر
خواہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ
الباقی....
”یاباقی
انت الباقی لیس الباقی الا الله“
تقریبا
بیاسی (82) سال کی سعادت بھری زندگی گزار کر...حضرت اقدس مولانا فضل الرحیم صاحب
اشرفی رحمۃ اللہ علیہ وفات پا گئے...
”اناللہ
وانا الیہ راجعون“
ان
کی زندگی کا جو خلاصہ بندہ کو سمجھ آتا ہے..وہ ہے ”خیر خواہی“ اور ”مٹھاس“..حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے..
”الدین
النصیحۃ“ (ابوداؤد)
دین
اسلام ”خیر خواہی“ کا نام ہے...ہر کسی کو ”خیر“ پہنچانے کی فکر اور جستجو جسے نصیب
ہو جائے وہ ”دین“ میں ”بڑے مقام“ والا ہے..حضرت کا بس یہی مزاج تھا اور یہی
عمل..اُن سے ملاقات بہت کم رہی..مگر جو ایک آدھ بار ہوئی..اس میں ان کے ”اخلاق
حسنہ“ اور ”مٹھاس“ نے دل و دماغ کو مسحور کر دیا..ان کے مختصر بیانات دستیاب
ہیں..آپ کوئی بیان سن لیں..آپ کی جھولی میں کوئی ”خیر“ ضرور آئے گی..پھر کمال یہ
ہے کہ..اتنے بڑے ”مناصب“ پر فائز ہونے..اور بزرگی کی عمر تک پہنچنے کے
باوجود....اپنے ”والد ماجد“ کی باتیں سب کو سناتے تھے..اور اس قدر محبت اور عاجزی
سے اپنے ”ابا جی“ کا تذکرہ فرماتے کہ..بے اختیار ان کے معصومانہ لہجے پر پیار آ
جاتا..یوں لگتا کہ کوئی چھوٹا بچہ اپنے ابو کو یاد کر رہا ہے..شاید یہی ان کے
مقامات اور بلندیوں کا راز تھا..ان کے والد گرامی حضرت مفتی محمد حسن صاحب امرتسری
رحمۃ اللہ علیہ نے ”لاہور“ کو اعزاز بخشا..اور وہاں ”جامعہ اشرفیہ“ قائم
فرمایا..اور وہ امت مسلمہ کے لیے اپنی صالح اولاد بھی چھوڑ گئے..
اللہ
تعالی حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو مغفرت اور اکرام کا
عالی مقام نصیب فرمائے...ان کے فیوض، آثار اور صدقات کو تا قیامت جاری رکھے..
ان
کے اقارب سے قلبی تعزیت عرض ہے..اور آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے لیے حسب توفیق
ایصال ثواب کا اہتمام کریں..حضرت نے کئی عمدہ کتابیں تصنیف فرمائیں..ان میں سے ایک
کتاب ”جہاد“ پر بھی ہے...
والسلام
خادم۔۔۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
20.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
مکتوب
خادم
شعبان
المعظم 1447ھ
السلام
علیکم ورحمةاللہ وبرکاته!
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.....آج مغرب سے
”شعبان المعظم“ ۱۴۴۷ھ
کا مہینہ شروع ہورہا ہے..... مسنون اعمال اور معمولات کی یاد دھانی ہے...
والسلام
خادم.....
لا الہ الا الله محمد رسول الله
21.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
حضرت
قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ...اور...شَہرُالقُرّاء
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”انمول“ اور ”قیمتی“ نعمتوں میں سے ایک نعمت..”اچھے اساتذہ کرام“ کا ملنا
ہے...یہ بات انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہے کہ...وہ اپنے لیے خود اچھے اساتذہ
منتخب کرے..آپ نے کسی ”تعلیم گاہ“ میں داخلہ لیا..اب آپ کے لیے اس ”تعلیم گاہ“ کی
انتظامیہ ”اساتذہ“ کا انتخاب کرتی ہے...”استاذ“ کے علم، عمل، اخلاق، نظریہ اور
کردار کا ”طلبہ“ پر گہرا اثر ہوتا ہے..اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے
کہ..جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم کے دوران....الحمدللہ صاحب
عمل، صاحب کردار، صاحب نسبت...پاکیزہ ارواح اساتذہ کرام نصیب ہوئے..والحمدللہ رب
العالمین...سچی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی یاد آتا ہے تو دل فورا....شکر اور دعاء
کے لیے اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتا ہے..
وہاں
جن رفیع المرتبت اساتذہ کرام سے پڑھنے کی سعادت ملی..اس ”سلسلۃ الذھب“ کی آخری کڑی
بھی.....کل نگاہوں سے اوجھل ہو گئی....
حضرت
الاستاذ مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب انتقال فرما گئے....
انا
للہ وانا الیہ راجعون..اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ..
ان
سے درجہ اولی سے درجہ سادسہ تک...چار کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا....اب
ماشاءاللہ وہ جامعہ میں ”شیخ الحدیث“ کے ”منصب جلیلہ“ پر فائز تھے...قرآن مجید اور
قرأٓت کے ساتھ ان کے خصوصی اور خوبصورت تعلق کی وجہ سے...” قاری“ کے لقب سے وہ ہمیشہ
سرفراز رہے..شعبان کے مہینہ کو....امت کے اسلاف..”شہرالقُراء“ یعنی قاریوں کا مہینہ
کہتے تھے..اور اپنی کھڑکیاں، دروازے بند کر کے...قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو
جاتے تھے....کل حجاز اور اکثر دنیا میں....” یکم شعبان“طلوع ہوا تو ہمارے پیارے
حضرت قاری صاحب بھی....ملاقات کی ساری کھڑکیاں دروازے بند کر کے........روانہ ہو
گئے.......اہل قرآن برزخ اور قبر میں قرآن مجید کا خصوصی قرب پاتے ہیں.... اللہ
تعالی حضرت قاری صاحب کو اپنی مغفرت، محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ان
کے ”اقارب“ سے قلبی تعزیت ہے..اور آپ سب سے ”ایصال ثواب“ کی درخواست ہے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله