14.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
<مکتوب
خادم>
خیر
خواہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ
الباقی....
”یاباقی
انت الباقی لیس الباقی الا الله“
تقریبا
بیاسی (82) سال کی سعادت بھری زندگی گزار کر...حضرت اقدس مولانا فضل الرحیم صاحب
اشرفی رحمۃ اللہ علیہ وفات پا گئے...
”اناللہ
وانا الیہ راجعون“
ان
کی زندگی کا جو خلاصہ بندہ کو سمجھ آتا ہے..وہ ہے ”خیر خواہی“ اور ”مٹھاس“..حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے..
”الدین
النصیحۃ“ (ابوداؤد)
دین
اسلام ”خیر خواہی“ کا نام ہے...ہر کسی کو ”خیر“ پہنچانے کی فکر اور جستجو جسے نصیب
ہو جائے وہ ”دین“ میں ”بڑے مقام“ والا ہے..حضرت کا بس یہی مزاج تھا اور یہی
عمل..اُن سے ملاقات بہت کم رہی..مگر جو ایک آدھ بار ہوئی..اس میں ان کے ”اخلاق
حسنہ“ اور ”مٹھاس“ نے دل و دماغ کو مسحور کر دیا..ان کے مختصر بیانات دستیاب
ہیں..آپ کوئی بیان سن لیں..آپ کی جھولی میں کوئی ”خیر“ ضرور آئے گی..پھر کمال یہ
ہے کہ..اتنے بڑے ”مناصب“ پر فائز ہونے..اور بزرگی کی عمر تک پہنچنے کے
باوجود....اپنے ”والد ماجد“ کی باتیں سب کو سناتے تھے..اور اس قدر محبت اور عاجزی
سے اپنے ”ابا جی“ کا تذکرہ فرماتے کہ..بے اختیار ان کے معصومانہ لہجے پر پیار آ
جاتا..یوں لگتا کہ کوئی چھوٹا بچہ اپنے ابو کو یاد کر رہا ہے..شاید یہی ان کے
مقامات اور بلندیوں کا راز تھا..ان کے والد گرامی حضرت مفتی محمد حسن صاحب امرتسری
رحمۃ اللہ علیہ نے ”لاہور“ کو اعزاز بخشا..اور وہاں ”جامعہ اشرفیہ“ قائم
فرمایا..اور وہ امت مسلمہ کے لیے اپنی صالح اولاد بھی چھوڑ گئے..
اللہ
تعالی حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو مغفرت اور اکرام کا
عالی مقام نصیب فرمائے...ان کے فیوض، آثار اور صدقات کو تا قیامت جاری رکھے..
ان
کے اقارب سے قلبی تعزیت عرض ہے..اور آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے لیے حسب توفیق
ایصال ثواب کا اہتمام کریں..حضرت نے کئی عمدہ کتابیں تصنیف فرمائیں..ان میں سے ایک
کتاب ”جہاد“ پر بھی ہے...
والسلام
خادم۔۔۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
20.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
مکتوب
خادم
شعبان
المعظم 1447ھ
السلام
علیکم ورحمةاللہ وبرکاته!
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.....آج مغرب سے
”شعبان المعظم“ ۱۴۴۷ھ
کا مہینہ شروع ہورہا ہے..... مسنون اعمال اور معمولات کی یاد دھانی ہے...
والسلام
خادم.....
لا الہ الا الله محمد رسول الله
21.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
حضرت
قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ...اور...شَہرُالقُرّاء
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”انمول“ اور ”قیمتی“ نعمتوں میں سے ایک نعمت..”اچھے اساتذہ کرام“ کا ملنا
ہے...یہ بات انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہے کہ...وہ اپنے لیے خود اچھے اساتذہ
منتخب کرے..آپ نے کسی ”تعلیم گاہ“ میں داخلہ لیا..اب آپ کے لیے اس ”تعلیم گاہ“ کی
انتظامیہ ”اساتذہ“ کا انتخاب کرتی ہے...”استاذ“ کے علم، عمل، اخلاق، نظریہ اور
کردار کا ”طلبہ“ پر گہرا اثر ہوتا ہے..اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے
کہ..جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم کے دوران....الحمدللہ صاحب
عمل، صاحب کردار، صاحب نسبت...پاکیزہ ارواح اساتذہ کرام نصیب ہوئے..والحمدللہ رب
العالمین...سچی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی یاد آتا ہے تو دل فورا....شکر اور دعاء
کے لیے اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتا ہے..
وہاں
جن رفیع المرتبت اساتذہ کرام سے پڑھنے کی سعادت ملی..اس ”سلسلۃ الذھب“ کی آخری کڑی
بھی.....کل نگاہوں سے اوجھل ہو گئی....
حضرت
الاستاذ مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب انتقال فرما گئے....
انا
للہ وانا الیہ راجعون..اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ..
ان
سے درجہ اولی سے درجہ سادسہ تک...چار کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا....اب
ماشاءاللہ وہ جامعہ میں ”شیخ الحدیث“ کے ”منصب جلیلہ“ پر فائز تھے...قرآن مجید اور
قرأٓت کے ساتھ ان کے خصوصی اور خوبصورت تعلق کی وجہ سے...” قاری“ کے لقب سے وہ ہمیشہ
سرفراز رہے..شعبان کے مہینہ کو....امت کے اسلاف..”شہرالقُراء“ یعنی قاریوں کا مہینہ
کہتے تھے..اور اپنی کھڑکیاں، دروازے بند کر کے...قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو
جاتے تھے....کل حجاز اور اکثر دنیا میں....” یکم شعبان“طلوع ہوا تو ہمارے پیارے
حضرت قاری صاحب بھی....ملاقات کی ساری کھڑکیاں دروازے بند کر کے........روانہ ہو
گئے.......اہل قرآن برزخ اور قبر میں قرآن مجید کا خصوصی قرب پاتے ہیں.... اللہ
تعالی حضرت قاری صاحب کو اپنی مغفرت، محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ان
کے ”اقارب“ سے قلبی تعزیت ہے..اور آپ سب سے ”ایصال ثواب“ کی درخواست ہے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
22.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُسکراتا
میدان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
والوں کی شان بڑی بلند ہوتی ہے...حضرت امام معروف کرخی قدس سرہ کا اسم گرامی آپ نے
سنا ہوگا....امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ وہ.......عَلَمُ الزُّھاد اور
”برکۃ العصر“ تھے....یعنی زاہدوں کے سردار...اور زمانے کی برکت...کسی نے حضرت امام
احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ...معروف کرخی ”کم علم“ ہیں...امام صاحب نے
فرمایا! معروف تو وہ سب کچھ پا چکے ہیں جو ”علم“ سے حاصل کیا جاتا ہے...یہ ساری
بات اس لیے لکھی کہ آج خود کو اور آپ سب کو حضرت الشیخ معروف الکرخی رحمۃ اللہ علیہ
کا ایک فرمان سنانا ہے..آپ فرمایا کرتے تھے..”اللہ تعالی اپنے جس بندے کے ساتھ ”خیر“
کا ارادہ فرماتے ہیں..اس پر ”عمل“ کا دروازہ کھول دیتے ہیں..اور ”جھگڑے“ کا دروازہ
بند کر دیتے ہیں..اور جس بندے کو (اس کے گناہوں کی وجہ) ”شر“ میں ڈالنا چاہتے ہیں
اُس پر عمل کا دروازہ بند کر کے جھگڑے کا دروازہ کھول دیتے ہیں “...
اب
ایک نظر سوشل میڈیا پر ڈالیں...جھگڑے ہی جھگڑے، بحث ہی بحث، نامناسب لفاظی.....بے
مقصد تحریریں، گالیاں، الزامات....اور دوسری طرف دیکھیں ماشاءاللہ ”آیات جہاد“ کے
تفسیری دورے....تیر اندازی کی مہکتی خوشبو..مؤمنات کے روحانی مجامع، خوشی سے
ہنہناتے گھوڑے...اور سب سے بڑھ کر اونچے پہاڑوں پر....اسلام کا سب سے اونچا فریضہ...والحمدللہ
رب العالمین...
بھائیو!
اور بہنو! عمل، عمل اور عمل..دیکھو ”وَ الْعَصْرِ“ کی تلوار ہماری ”عمر“ کاٹ رہی
ہے..”اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ“ کی لاٹھی ہمیں بیدار کر رہی ہے...کفار و
منافقین کے بس میں ہوتا تو وہ قرآن مجید سے آیات جہاد نکال دیتے..مگر قرآن مجید....”حفاظت
الہی“ میں ہے..اور اللہ تعالی اس کے لیے جن کو استعمال فرماتے ہیں...وہ زمین کے
چاند ستارے ہیں..ماشاءاللہ ”آیات الجہاد“ کی تفسیر کے ستر(۷۰) اساتذہ ہو چکے ہیں..سچی
بات ہے کہ ان کی زیارت بھی باعث سعادت و اجر ہے..ان اساتذہ کو بھی.......آنسوؤں
بھرا شکر ادا کرنا چاہیے...اور بار بار کرنا چاہیے...وہ ماشاءاللہ ایٹم بموں کا
اور زمانے کے طاغوت کا مقابلہ کر رہے ہیں.....صوبائی اور ضلعی منتظم بھائیوں
سے....ذاتی گزارش ہے کہ...تفسیر کے آخری مرحلے کے لیے ایسی جاندار محنت کریں
کہ.....اندھیرا چھٹ جائے اور غزوہ بدر کا آسمان مسکرانے لگے...”میدان بدر“ جب
مسکراتا ہے تو....اللہ تعالی راضی ہوتے ہیں..اور حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم خوش ہوتے ہیں.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
23.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مناظرہ....فوائد
و نقصانات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے محبوب ”دین اسلام“ پر مکمل ”یقین“ اور ”اعتماد“ عطاء
فرمائیں...اور ہر شک شبہے، وہم اور کفریہ وسوسے سے ہماری حفاظت فرمائیں.....
ہم
سب اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں...اگر ہم ”دین اسلام“ پر مطمئن ہیں تو ہم شکر ادا
کریں...اور ”ملحدین“ کے مناظرے نہ دیکھیں..نہ سنیں..
جاوید
اختر ملحد کو....محترم مفتی شمائل صاحب زید قدرہ نے...شکست دی..بہت خوشی کی بات
ہے...مگر میں خوشی کے باوجود وہ مناظرہ نہیں سن سکا...چند الفاظ سنے اور ان پر بھی
اللہ تعالی سے معافی مانگی...آخر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ..اپنے عظیم و برتر رب تعالی
کی شان میں ”بے ادبی“ اور گستاخی سنیں؟..کیا وقت گزاری اور لطف اندوزی کے لیے یہی
بُرا کام رہ گیا ہے؟..حضرت امام معروف الکرخی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ..
..”شبہات
میں ڈالنے والی چیزوں میں نہ پڑو..وہ تمہیں گمراہی میں ڈال دیں گی“..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صحابہ کرام کو....تقدیر کے مسئلے پر گفتگو
کرتے دیکھا تو اتنے ناراض ہوئے کہ...چہرہ مبارک انار کی طرح سرخ ہو گیا..اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ڈانٹ پلائی...اس مجلس میں شریک بعض صحابہ کرام ہمیشہ
اپنی اس مجلس پر ندامت کا اظہار فرماتے تھے.....اللہ تعالی کا قرآن مجید میں واضح
حکم ہے کہ..ایسی مجلس میں نہ بیٹھا کرو..جہاں ہماری آیات کا انکار کیا جاتا ہو..یا
ان کا مذاق اڑایا جاتا ہو..اگر تم وہاں بیٹھو گے تو انہی میں شمار کیے جاؤ گے
(مفہوم سورۃ النساء آیت ۱۴۰)
اب
غور کریں...اس مناظرے کو سننے سے آپ کو کیا ملے گا؟..ایک خبیث شرابی ملحد کے ناپاک
منہ سے....اللہ تعالی کا بار بار انکار....استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ...
سوشل
میڈیا کے وہ افراد جو اس طرح کی بحثوں اور باتوں کو پھیلا رہے ہیں..وہ شاید نہیں
سمجھ رہے کہ اس سے کتنے مسلمانوں کا یقین اور ایمان خطرے میں پڑ رہا ہے....
وجود
باری تعالی اور تقدیر وغیرہ پر الحمدللہ مسلمانوں کا ایمان پکا ہوتا ہے..انہیں اس
پر کسی مزید دلیل یا مطالعہ کی ضرورت نہیں ہوتی...عقائد اور ایمانیات کی ضروری
باتیں پڑھنا اور سمجھنا تو ہر مسلمان پر ضروری ہے..لیکن ان باتوں کی باریکیوں میں
جانا اور مخالفین کے دلائل کا رد سیکھنا یہ صرف مخصوص اہل علم کا کام ہے.....ہم
سیدھے سادے مسلمان ان میں ہرگز نہ پڑیں....اور اپنے ایمان اور یقین پر اللہ تعالی
کا شکر ادا کریں......
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
24.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بابرکت
نام
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے..ہر چیز ”بہترین“
منتخب فرمائی ہے..
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے چار بیٹیاں عطاء فرمائیں..(۱) سیدہ زینب (۲) سیدہ رقیہ (۳) سیدہ ام کلثوم (۴) سیدہ فاطمہ (رضوان اللہ علیہن)..اہل
ایمان کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کے نام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات
طاہرات، ازواج مطہرات اور صحابیات کے ناموں پر زیادہ رکھا کریں...آج ”فاطمہ“ نام
پر بات کرنی ہے..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی صاحبزادی کا اسم گرامی ”فاطمہ“ ہے..اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان انہی کے ذریعہ تا قیامت چلے گا..کتنا مبارک اور عالی
مرتبت نام ہے ”فاطمہ“..قریش کے ہاں یہ نام بہت محبوب اور مقبول تھا...اور قریش سے
بڑھ کر عربی زبان سے کون واقف تھا؟..اگر اس نام کے معنی میں کوئی عیب ہوتا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی کا یہ نام کیسے رکھتے؟ خود آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی جدہ محترمہ (دادی) کا نام بھی فاطمہ تھا..فاطمہ بنت عمرو..آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی چچی محترمہ جن کے گھر میں آپ کی پرورش ہوئی ان کا اسم گرامی بھی ”فاطمہ
بنت اسد رضی اللہ عنہا“ تھا..یہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی والدہ اور
حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی دادی ہیں..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی
صحابیات کا نام ”فاطمہ“ ہے مثلا فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا (سیدنا فاروق اعظم
رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ) فاطمہ بنت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا..فاطمہ ام البنین رضی
اللہ عنہا (یہ بھی حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ان کے چار بیٹوں
کی والدہ ہیں)..فاطمہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا (یہ حضرت سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی
اللہ عنہ کی زوجہ ہیں)...الغرض صحابیات میں دس سے زائد کا نام ”فاطمہ“ ہے..اگر کوئی
سوچے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی عظمت اور احترام کو ملحوظ رکھتے
ہوئے..یہ نام نہیں رکھنا چاہیے تو یہ بات بھی غلط ہے...کسی کا نام رکھنا ادب اور
احترام کے منافی نہیں ہے...آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!
”سَمُّوا
بِأسْمِی“ (بخاری)
”میرے
نام پر نام رکھا کرو“...(یعنی محمد، احمد)
اور
فرمایا!
”تَسَمُّوْابِأَسْمَاءِ
الأنبیاء“ (ابو داؤد)
”انبیاء
علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ناموں پر نام رکھا کرو“
باقی
رہا یہ کہ ”فاطمہ“ کا معنی کیا ہے؟ تو یہ ایک دلچسپ اور مفصل موضوع ہے..کبھی موقع
ملا تو عرض کریں گے ان شاءاللہ...ویسے اتنی بڑی ہستیوں کا اس نام کو منتخب
کرنا....کیا ایک مسلمان کا دل کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے؟..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
25.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بَس
دو خواہشیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی تمام ”مسلمانوں“ کی اولاد کو ”مسلمان“ بنائیں...”مسلمان“ رکھیں..اور ہم تمام
مسلمانوں کی نسلوں میں قیامت تک ”اسلام“ کو جاری رکھیں...
اپنی
اولاد اور نسل میں اسلام جاری رکھنے کی فکر....حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام
کی فکر ہے..
”وَ
لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ“
”جہاد“
اور ”آیات جہاد“ کے انکار نے..بے شمار مسلمانوں کو..الحاد، کفر اور انکار کی طرف
دھکیل دیا ہے..افسوس کہ مسلمانوں کے بچے ”کافر“ بن رہے ہیں..پچیس سال قبل شروع
ہونے والے ”دورہ آیات الجہاد“ کو اللہ تعالی نے ”رنگ“ لگا دیا ہے..الحمدللہ ابھی
چند ہفتوں میں ایک سو اڑتیس (۱۳۸)
مقامات
پر یہ مبارک دورہ ہوا..اور کئی جگہ پر جاری ہے..
..وَ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَات..
دین
کی خاطر قربانی کا جذبہ..دین پر جان و مال لگانے کا ذوق..دین کی خاطر خوف
سہنے..اور دباؤ برداشت کرنے کی طاقت..اور دین کو ساری دنیا پر غالب کرنے کا
جنون....یہ وہ چیزیں ہیں جو مسلمانوں کو اور ان کی نسلوں کو....دین اسلام پر ثابت
قدم رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے...
اور
”آیات جہاد“ میں یہی سب کچھ.....اللہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو سکھایا
ہے..اللہ کرے مسلمان...اس دورے کی مزید قدر کریں..اور اس سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب
ہوں..یہ دورہ پڑھانے والوں....پڑھنے والوں اور اس کے انعقاد میں کسی بھی طرح کی
محنت، کوشش اور ”تعاون“ کرنے والوں کو.....اللہ تعالی بہت، بہت، بہت جزائے خیر
عطاء فرمائیں..اللہ تعالی ان سب کو اپنی محبت کی مٹھاس..اپنی رحمت و مغفرت کی
ٹھنڈک، مقبول ایمان....کامیاب زندگی..رزق حلال کی فراوانی..جہاد پر استقامت اور مزیدار
میٹھا ”حسن خاتمہ“ عطاء فرمائیں...
جو
مسلمان اس بار یہ دورہ نہیں پڑھ سکے وہ...جلد اسے پڑھنے کی ترتیب بنائیں..الحمدللہ
پورا سال یہ دورہ جاری رہتا ہے...الحمدللہ...آیات جہاد کی مختصر تفسیر بھی....”فتح
الجواد“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے..آپ اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں..پانچویں صدی
ہجری کے ایک عالم فرماتے تھے کہ...دنیا میں بس دو ہی خواہشیں ہیں..پہلی خواہش قرآن
و سنت کا علم پڑھنا اور پھیلانا اور دوسری خواہش جہاد اور رباط....وہ دعاء کرتے
تھے کہ یا اللہ میری زندگی انہی دو کاموں میں ہی لگائے رکھنا..اور مجھے بہترین موت
عطاء فرمانا...
”واَکْرَمُ
مَوْتٍ لِلْفَتٰی قَتْلُ کَافِرٍ“
(ترجمہ)
جوانمرد مسلمان کے لیے سب سے معزز اور اونچی موت...کافر کے ہاتھوں قتل ہونا ہے..
ایمان....علم...جہاد..رباط...اور
شہادت..
سبحان
الله وبحمده، سبحان الله العظيم..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
میرا
بھی اک سُؤال ہے؟
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں قرآن مجید میں ”تدبر“ کی توفیق عطاء فرمائیں..” تدبر“ کہتے ہیں اچھی
طرح سے غور و فکر کرنے کو...دل کی آنکھیں کھول کر سمجھنے کو...اللہ تعالی کی
عظمت..اور اللہ تعالی کے کلام کی صداقت کو ذہن میں رکھ کر......اچھی طرح سے قرآن
مجید سمجھنے کو......
سورہ
”محمد“...جس کا دوسرا نام سورہ ”القتال“ بھی ہے...اس میں یہ راز سمجھایا گیا ہے
کہ...بد نصیب لوگوں کے دلوں پر تالے ہوتے ہیں..اس لیے وہ قرآن مجید کو نہیں سمجھ
سکتے...
اَفَلَا
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(محمد۲۴)
..”
تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں “..
اس
میں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ.......انسان اپنے بڑے سے بڑے مسائل کا حل...قرآن مجید
سے لے سکتا ہے...مگر شرط یہ ہے کہ ایمان، یقین اور کھلے سینے کے ساتھ قرآن مجید کی
طرف رجوع کرے...
قرآن
مجید.....ایک زندہ، بولتی ہوئی سچی کتاب ہے...کوئی سمجھ کر تو دیکھے..کوئی ”تدبر“
تو کرے..
آج
سؤال یہ پوچھنا ہے کہ... آخر مسلمانوں میں ”تیر اندازی“ کیسے ختم ہو گئی؟...کیوں
ختم ہو گئی؟...اس دن ایک ستر سالہ بزرگ فرما رہے تھے کہ..آج زندگی میں پہلی بار تیر
چلایا ہے...اور ہاتھ میں کمان اٹھائی ہے...یعنی ”تیر اندازی“ کا نام و نشان تک مٹ
گیا.....یہ ”سانحہ“ ان لوگوں کے لیے ”معمولی بات“ ہو سکتی ہے...جنہوں نے قرآن مجید
کی تفسیر نہ پڑھی ہو....جنہوں نے حدیث شریف کی کتابیں نہ پڑھی ہوں...جنہوں نے ”سیرت
طیبہ“ کا مطالعہ نہ کیا ہو..جنہوں نے صحابہ کرام کے حالات زندگی نہ پڑھے
ہوں.....وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کون سی اہم بات ہے کہ...را کٹ اور میزائل کے زمانے
میں ”تیر اندازی“ کرتے رہو....مگر جنہوں نے.....تفسیر، حدیث اور سیرت پڑھی
ہو...حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تیر اندازی کے ساتھ محبت دیکھی ہو....تیر
اندازی کے فضائل پڑھے ہوں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے تاکیدیں پڑھی ہوں.....وہ ضرور سوچتے ہیں
کہ....آخر مسلمان اس نعمت سے یکسر کیوں محروم ہو گئے؟ اگر آپ کہیں کہ دنیا میں اس
کا رواج نہیں رہا تو یہ غلط ہے..دنیا میں کئی جگہ اب بھی ”تیر اندازی“ ہوتی ہے...ٹیمیں
بنتی ہیں..مقابلے ہوتے ہیں..حتی کہ عالمی سطح کے مقابلے بھی ہوتے ہیں.....اگر
مسلمان بھی اس کو اپنا کھیل بنا کر کھیلتے رہتے تو کیا رکاوٹ تھی؟
بات
دراصل یہ ہے کہ..... مسلمانوں کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے توڑنے کے لیے...ہر اس چیز
کو مسلم معاشرے سے ختم کیا گیا...جس چیز کو دیکھ کر مسلمانوں کو ”جہاد“ یا اپنا
”ماضی“ یاد آئے......اس موضوع پر باقی باتیں...پھر کبھی ان شاءاللہ..فی الحال اتنی
گزارش ہے کہ....احادیث مبارکہ میں ”تیر اندازی“ کے فضائل پڑھیں...اور عمل کے لیے
دعاء اور کوشش کریں.....اگر آپ ”جم“ جاتے ہیں..یا کوئی انگریزی کھیل کھیلتے ہیں تو
اس کی جگہ آپ ”تیر اندازی“ کو لے آئیں....یقین جانیں بہت برکت اور فوائد ملیں گے
ان شاء اللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
27.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تیر
اندازی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے مبارک اور عظیم نام سے....اور اللہ تعالی کی توفیق سے..آج ”تیر اندازی“
پر کچھ بات کرتے ہیں..آپ کی آسانی کے لیے...ترتیب کے ساتھ خلاصہ عرض خدمت ہے..
(۱) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں...مسلمانوں
کو ”قوت“ بنانے کا حکم فرمایا ہے..دیکھیے سورہ انفال کی آیت رقم(۶۰) حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے ”قوت“ کی تفسیر ”تیر اندازی“ سے فرمائی ہے..دیکھیے صحیح مسلم...اسی لیے
اہل علم فرماتے ہیں کہ
”وَهٰذَا
الْفَضْلُ لِلْرَمِيْ باقٍ اِلٰى قِيامِ السَّاعَةِ“
یعنی..تیر
اندازی کے فضائل قیامت تک ہیں...یعنی اس کی جنگی ضرورت رہے یا نہ رہے..چونکہ یہ
اللہ تعالی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے..تو اس کی فضیلت..اور
اس کے فضائل قیامت تک رہیں گے....
(۲) تیر اندازی کا حکم قرآن مجید
میں ہے...احادیث مبارکہ میں ہے..تو یہ بھی ایک ”دینی علم“ ہے..مسلمانوں کو چاہیے
کہ اس علم کو پڑھیں بھی...اور سیکھیں بھی..
(۳) اہل علم نے ”تیر اندازی“
کے فضائل، احکام اور آداب پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں لکھی ہیں طلبہ علم ان
کتابوں کو حاصل کریں..اور اس مٹے ہوئے علم کو اچھی طرح پڑھیں..
(۴) تیر اندازی کے فضائل کا
مختصر خلاصہ.....احادیث مبارکہ سے درج ذیل ہے..
•
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر اندازی فرماتے تھے..ایک بار تو اتنے تیر چلائے کہ
کمان ٹوٹ گئی..جو حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے رکھ لی • تیر اندازی حضرت سیدنا
اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وراثت ہے..ملاحظہ فرمائیے بخاری شریف • تیر اندازی
کی مجلس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں..سبحان اللہ..وہ کتنی معزز اور روحانی مجلس ہوتی
ہے جس میں حضرات ملائکہ شامل ہوں..حضرات ملائکہ کے اعزاز اور احترام کے لیے...اہل
علم نے ”تیر اندازی“ کے باقاعدہ آداب لکھے ہیں...جیسے کسی مجلس میں قوم کے سردار
اور حاکم شریک ہوں تو اس مجلس کے آداب عام مجلس سے الگ ہوتے ہیں... • تیر اندازی
سے ”ھم اور غم“ ختم ہوتے ہیں..یعنی پریشانیاں، تفکرات، ٹینشن اور غم، گھٹن سے
انسان کو آزادی ملتی ہے..علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ..اگر تیر
اندازی کی صرف یہی ایک فضیلت ہوتی تو بھی یہ کافی تھی...(کیونکہ پریشانیاں اور
ھموم و غموم انسان کو مار دیتے ہیں، گرا دیتے ہیں)
(۵) آج اسی قدر پر اکتفا کرتے
ہیں....باقی آئندہ ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
28.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
نِعمَتِ
الٰہی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ”تیر اندازی“ ہے..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو
نصیب فرمائیں...
خود
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں اسے ”نعمت الہی“ قرار دیا
ہے...اور ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”سنت“ قرار دیا ہے...”تیر
اندازی“ کے مقام کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ دعاء دی:-
”اَللّٰهُمَّ
سَدِّدْ رَمْيَهُ وأَجِبْ دَعْوَتَہُ“
ترجمہ:
”یا اللہ ان کی تیر اندازی بہترین فرما دیجئے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرمائیے“
اس
کے بعد سے ان کا کوئی تیر نشانے سے خطا نہیں ہوتا تھا اور ہر دعاء قبول ہوتی تھی...اور
غزوہ اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا...اے سعد! میرے ماں باپ آپ
پر قربان، تیر چلاؤ..
حقیقی
بات یہ ہے کہ آج جو لوگ..اللہ تعالی کے فضل سے امت میں ”تیر اندازی“ کا ”احیا“ کر
رہے ہیں..یہ لوگ اس امت کے ”خیر خواہ“ ہیں..حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ نے اپنے گورنروں کو باقاعدہ حکم جاری فرمایا کہ......مسلمانوں کو ”تیر اندازی“
سکھائی جائے اور آپ فرماتے تھے..
”اَلْمِعْرَاضُ
رَوضَۃٌ مِن رِیاضِ الجَنَّۃِ“
ترجمہ:
تیر اندازی کا ہدف، جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے.....
یعنی
جب کوئی تیر اندازی سیکھنے کے لیے...کوئی ”ہدف“ کھڑا کرتا ہے..تو تیر انداز اپنا تیر
اس پر چلانے کے بعد.....تیر واپس اٹھانے کے لیے..اور نشانہ دیکھنے کے لیے اس کی
طرف چلتا ہے..تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ جنت کے باغ میں چل رہا ہے...اس چلنے پر اس
کو اجر ملے گا....اور یہ عمل جنت میں کام آنے والا عمل ہے...”تیر اندازی“ کے فضائل
اور فوائد بہت زیادہ ہیں..اس لیے حضرات صحابہ کرام نے اس پر بہت محنت فرمائی..اور
اس میں ایسی مہارت حاصل کی..جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی..اسی نسبت سے مسلمانوں
میں بڑے بڑے ماہر تیر انداز پیدا ہوئے اور انہوں نے اس مبارک عمل کے اصول و ضوابط
بھی مقرر کیے....
تیر
اندازی کے ساتھ جو نسبت، جو فضیلت اور جو علم منسلک ہو چکا ہے..اس کا تقاضا یہی ہے
کہ یہ عمل ہر زمانے کے مسلمانوں میں جاری رہے..آج کل اگرچہ یہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن
جیسے جیسے اس میں شوق اور مہارت بڑھتی جائے گی..یہ سستا بھی ہوتا جائے گا..
الحمدللہ
اس وقت بھی کئی افراد خود کمان..اور سستے تیر بنانا شروع ہو گئے ہیں..جماعت کا ایک
شعبہ بھی اس پر کام کر رہا ہے..اس شعبے کا ”تیر کمان“ کارخانہ ”کچھوے“ کی طرح تیز
رفتاری سے تیر اور کمانیں بنا رہا ہے..اور مزید تجربات کر رہا ہے تاکہ..مسلمان بغیر
کسی بوجھ کے....اس مبارک نورانی عمل سے جڑ جائیں...الحمدللہ ثم الحمدللہ تھوڑی سی
محنت اور توجہ سے...اس وقت ہزاروں مسلمان...اس عمل کو اپنا چکے ہیں..
..والحمدللہ
رب العالمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
29.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تیر
اندازی کے ارکان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”حق“ کی توفیق عطاء فرمائیں..اور ہر ”باطل“ سے ہماری حفاظت
فرمائیں..”حق“ اور ”باطل“ کا دائرہ بہت وسیع ہے..یہاں تک کہ ”کھیلوں“ میں بھی حق
اور باطل ہوتا ہے..کئی روایات میں آیا ہے کہ.....ہر کھیل باطل ہے، فضول ہے، بھول
ہے سوائے چار کھیلوں کے (۱)تیر
اندازی (۲)گھڑ
سواری (۳)تیراکی
(۴)خاوند
اور بیوی کا باہم کھیلنا، دل لگی کرنا..........ان میں سے تین کا تعلق......جہاد
اور مؤمن کی مضبوطی سے ہے..اور ایک کا تعلق عفت، پاکدامنی اور تقوی سے ہے...ان
مبارک اور مفید کھیلوں سے مسلمانوں کو جو انعامات ملتے ہیں..ان کی تفصیل بڑی دلکش
ہے..اور ان پر انسان جو خرچ کرتا ہے..اس پر اجر کا وعدہ ہے..اور خرچ کیا ہوا مال
ضرور واپس ملتا ہے....اس وقت مسلمانوں میں جو کھیل ”رواج“ پاچکے ہیں ان میں کئی
گناہ اور خرابیاں شامل ہوچکی ہیں..کسی میں جوا ہے، کسی میں وقت کا ضیاع اور کسی
میں بے پردگی، بےستری اور غفلت وغیرہ....اس لیے اہل علم، اہل منبر اور اہل دعوت کو
چاہیے کہ وہ...تیر اندازی، گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ کے فضائل پڑھیں، سمجھیں،
اپنائیں اور ان کی دعوت مسلمانوں میں عام کریں.....یہ پرانے اور قیمتی تحفے
مسلمانوں میں جاری ہوں گے تو مسلمان نئے زمانے میں زیادہ اچھی ترقی کرسکیں
گے.........جن قوموں کا ماضی اچھا ہو...شاندار اور تابناک ہو...وہ قومیں کبھی اپنے
ماضی سے کٹ کر.....اپنے حال اور مستقبل میں ترقی نہیں کر سکتیں..آج تیر اندازی کے
مکتوبات کا سلسلہ........تیر اندازی کے اصول پر مشتمل چند اشعار کے ذریعے مکمل
کرتے ہیں....مزید ”ان شاءاللہ“ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ علمی، تحریری اور
تبلیغی مواد بھی تیار کرنے کی کوشش کریں گے...ملاحظہ فرمائیے چند اشعار..
”الرَّمی
اَفْضَلَ ما اوصی الرسول بہ -:- واشجع النّاسِ من بالرمی یفتخِرُ“
ترجمہ:
تیر اندازی ان چیزوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی
ہے...افضل عمل ہے..اور لوگوں میں زیادہ بہادر وہ ہے جو اپنی تیر اندازی پر فخر کر
سکے (یعنی بہت ماہر ہو)
أَرْكَانهُ
خمسۃٌ القَبْضُ اَوُّلها -:- وَالعَقْدُ، وَالْمَدُّ وَلْإِطْلَاقُ والنَّظْرُ...
ترجمہ:
تیر اندازی کے پانچ فرائض ہیں (۱)”اَلقَبْضُ“
(یعنی الٹے ہاتھ سے کمان کے اگلے حصے کو پکڑنا) (۲)”العَقْدُ“ (یعنی سیدھے
ہاتھ سے تیر اور تانت یعنی رسی کو پکڑنا)(۳)”الْمَدُّ“ (یعنی تیر کو اپنی طرف کھینچنا) (۴)”الْإِطْلَاقُ“ (یعنی تیر
کو ہدف کی طرف چھوڑنا) (۵)”النَّظْرُ“
(یعنی آنکھ سے نشانہ باندھنا)....
دراصل
ان پانچ ”ارکان“ کے طریقے ”اہل فن“ اور اہل علم نے مقرر فرمائے ہیں کہ..کتنی
انگلیاں استعمال ہوں..نشانہ ایک آنکھ بند کر کے لیں یا دونوں آنکھیں کھلی ہوں..تیر
کو کتنا کھینچا جائے..اگلا ہاتھ سخت رکھیں یا نرم وغیرہ......الحمدللہ سارا علم
کتابوں میں موجود ہے...ملاحظہ فرما لیں..مکتوب طویل ہو گیا اور ایک شعر رہ
گیا....معذرت.....
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
30.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مناظرہ
کے فضائل
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے سچے دین کی طرف ”دعوت“ دینے کے لیے...”مناظرہ“ کرنا...ایک عظیم عمل
ہے...اس عمل کا ثبوت قرآن مجید سے ہے:
وَ
جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنْ (النحل (125))
ترجمہ:
اور ان کفار کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے بحث کرو...
اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں...کئی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ”مناظروں“ کو بیان
فرمایا ہے..مگر صرف اتنا حصہ جسے سننا اور پڑھنا....ایمان کے لیے مفید ہے.....حضرت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ساتھ ایک زبردست مناظرہ فرمایا....علامہ
ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ضروری تفصیل...”جامع بیان العلم و فضلہ“ میں
ذکر کی ہے....حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ”خوارج“ کے ساتھ
مناظرہ فرمایا.....امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے ”مناظرے“ آپ حضرات نے
سنے ہوں گے....حضرت اقدس مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہندوؤں کے ساتھ
مناظرے..مشہور اور متداول ہیں.....”مناظرہ“ کو اہل علم نے دلوں کی شفاء....اور اطمینان
کا ذریعہ قرار دیا ہے...اہل سنت کے نزدیک...پہلے دعوت ہے...پھر نصیحت اور وعظ
ہے....اور پھر ضرورت پڑنے پر مناظرہ....
”مناظرہ“
ایک مشکل اور مہارت طلب کام ہے..اس لیے ہر کسی کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے..اہل
علم نے ”فن مناظرہ“ پر کتابیں لکھی ہیں...پہلے دینی مدارس میں ”ماہر مناظرین کرام“
نہایت اہتمام سے یہ علم پڑھاتے تھے....بندہ نے بھی الحمدللہ....زمانے کے ممتاز
”مناظرین کرام“ سے یہ ”علم“ کئی بار پڑھا ہے...تمام اساتذہ کرام یہی فرماتے تھے
کہ...”مناظرہ“ صرف ضرورت کے تحت کیا جائے..اور صرف وہی کرے جو اس میں مکمل مہارت
رکھتا ہو....
یہ
ساری تفصیل اس لیے عرض کی کہ.....ایک سابق مکتوب سے یہ نہ سمجھا جائے کہ بندہ نے
”مناظرہ“ کی مخالفت کی ہے..اس مکتوب میں مطمئن اہل اسلام کو...یہ مناظرہ سننے سے
منع کیا تھا کہ.....کفریہ باتیں سننے سے دل پر برا اثر پڑتا ہے..اور جب آپ کا دل ایمان
پر مطمئن ہے تو آپ کو.....کسی ملحد کافر کی بکواس سننے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے لیے
بس اتنی خبر کافی ہے کہ مناظرہ ہوا.....حق غالب ہوا، باطل ذلیل و رسوا
ہوا...والحمدللہ رب العالمین..
اگر
کسی کو کوئی آکر کہے کہ...تمہارا باپ نہیں ہے..تمہارا باپ نہیں ہے..تو کیا وہ مزے
لے کر سنتا رہے گا؟...تو پھر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کے وجود کا انکار...بار بار
کیوں سنیں؟..
کچھ
شرارتی ملحد...اس مناظرے کو....مسلمانوں کے دلوں میں شبہات ڈالنے کے لیے پھیلا رہے
تھے.....اس لیے اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے لیے وہ مکتوب لکھا تھا..جس کا
الحمدللہ بہت فائدہ ہوا...اور بے شمار مسلمانوں کا یہ ذہن بن گیا کہ...کفر اور
گستاخی کی باتوں کو.....بلا ضرورت کبھی نہیں سنیں گے...والحمدللہ رب العالمین...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
12.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
محرومی
سے حفاظت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنے فضل سے...ہمیں دین کے کام میں لگائے رکھیں..اور ہمیں محروم نہ فرمائیں....
”ذٰلِكَ
فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ“
دین
کے کام کی توفیق ملنا.....یہ بڑی سعادت اور خوش بختی ہے..اور اللہ تعالی کی ”محبت“
کی ایک علامت ہے..نہ اللہ تعالی کسی کے محتاج..نہ اللہ تعالی کا دین کسی کا
محتاج....
...”اللّٰهُ
اَحَدٌ، اَللّٰهُ الصَّمَد“...
اگر
ہم دین کا کام نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟دنیا یہاں رہ جانی ہے..قبر تیزی سے قریب
آرہی ہے.....زندگی ایک منٹ نہیں رکتی....دنیا کے جھگڑے ختم نہیں ہوتے...اللہ تعالی
کسی انسان کو چھوڑ دیں....پھینک دیں تو اس کی پوری عمر فضولیات میں ضائع ہو جاتی
ہے..
اس
لیے.....جن کو دین کے کام کی توفیق ملتی ہے..ان کو ہر وقت شکر گزاری میں ڈوبے رہنا
چاہیے....اور محرومی کے ڈر سے.....استغفار کرتے رہنا چاہیے...
وَ
اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ[محمد (۳۸)]
ترجمہ:
اگر تم نخرے کرو گے تو اللہ تعالی تمہیں ہٹا کر اور لوگوں کو لے آئیں گے.....
دو
رکعت ادا کر کے.....شکر اور شکرانہ....الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ کا والہانہ
ورد...اور دو رکعت ادا کر کے.......توفیق، نصرت، قبولیت اور کامیابی کا سؤال..پھر
ان شاءاللہ.......کام بھی آسان.....اور راستہ اور منزل بھی آسان..
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
13.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُنوَّر
روشنی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنی مدد و نصرت...اور فتح نصیب فرمائیں:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
آج
کل الحمدللہ ان عظیم کلمات کے ورد کی توفیق مل رہی ہے:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
یہ
کلمات....شہنشاہ اعظم، مالک الملک..اللہ جل شانہ کا کلام ہیں..نہ کوئی اللہ تعالی
کی عظمت کا اندازہ لگا سکتا ہے..اور نہ اللہ تعالی کے کلام کی عظمت کا..یہ بات سوچ
کر پڑھیں:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اللہ
تعالی کا کلام ”نور“ ہے..اصل ”روحانیت“ ہے..روشنی ہے..زندگی ہے اور ہدایت ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
الحمدللہ
”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ ہمارے لیے اللہ تعالی کی رحمت بن کر آتی ہے..اور ہمیں اس
میں الحمدللہ طرح طرح کے انعامات ملتے ہیں..اس سال کے انعامات میں سے ایک..ان وجد
آفرین کلمات کا ورد ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
ان
مبارک کلمات کو سمجھنے کے لیے...تھوڑی سی تکلیف کریں..کچھ دیر نور سے بھرے ہوئے
”مصحف شریف“ کے ساتھ بیٹھیں...اسمیں سے ”اٹھائیسواں پارہ“ نکالیں..اس پارے میں
”سورہ الصف“ نکالیں...اللہ تعالی توفیق دیں تو ساری ہی پڑھ لیں...اور سمجھ لیں..زندگی
کے یہ لمحات قیمتی اور یادگار ہو جائیں گے.....آپ جب اس مبارک ”سورہ“ کی آیت رقم
(13) پر پہنچیں گے..تو یہ کلمات آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اللہ
تعالی کی نصرت مل جائے تو اور کیا چاہیے؟ اور فتح مل جائے تو پھر خوشی کے کیا
ٹھکانے؟....مگر یہ ”نصرت“ اور ”فتح“ کون سی ہے..اور کس عمل سے ملتی ہے؟ یہ سمجھنے
کے لیے آپ کو آیت رقم (۱۰) سے...(۱۳) تک پورا مضمون پڑھنا
ہوگا.. پھر آپ کےدل میں اتریں گے یہ کلمات:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
شکر
ادا کریں کہ....اللہ تعالی نے آپ کو ”فریضہ جہاد“ کے انکار سے بچایا ہے..اب آپ
پورے یقین سے پڑھ سکتے ہیں....
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
14.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مبارک
نتیجہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ کو ”یقین“ کی نعمت نصیب فرمائیں...اللہ تعالی پر یقین...حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین...اللہ تعالی کی باتوں پر یقین...اللہ تعالی کے
وعدوں پر یقین...آخرت پر یقین...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
تھوڑی
سی توجہ فرمائیں...سورہ الصف آیت (۱۰) میں..اللہ
تعالی بڑے پیار سے ہمیں ”کامیاب تاجر“ بننے کی دعوت دے رہے ہیں...اے ایمان والو! کیا
تمہیں ایک ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا دے گی....آہ! دردناک!
درد! آہ عذاب!
کیا
آپ نے کبھی دنیا کا درد دیکھا ہے؟ کتنا سخت ہوتا ہے؟ تو پھر آخرت کا درد کیسا
ہوگا؟ دنیا کا کوئی ”بزنس“...کوئی تجارت..عذاب اور درد سے نہیں بچا سکتی..بڑے بڑے
ارب پتی تاجر روز درد اٹھاتے ہیں..مگر جو ”تجارت“ اللہ تعالی سمجھا رہے ہیں وہ یقینا
دردناک عذاب سے بچائے گی...وہ تجارت کیا ہے؟ فرمایا ایمان لے آؤ اور اپنی جان اور
مال کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ میں لگا دو...پھر کیا ہوگا؟...سمجھایا کہ پھر تم پر دنیا
اور آخرت کے انعامات کے دروازے پورے پورے کھول دیے جائیں گے (۱) تم خیر حاصل کر لو گے (۲) تمہیں سارے گناہوں سے معافی
اور مغفرت مل جائے گی (۳) تمہیں
خوبصورت پانی کے کناروں والی جنت ملے گی (۴) بڑے زبردست محلات اور کوٹھیاں ہمیشہ کے لیے
تمہارے نام ہو جائیں گی...(۵) تمہیں
اصل کامیابی ملے گی........واہ! ماشاءاللہ، سبحان اللہ...جان اور مال جہاد پر
لگانے کے اتنے زیادہ.....اور اتنے بڑے انعامات؟..فرمایا! یہی نہیں ایک اور چیز بھی
ملے گی....اور اسی دنیا میں ملے گی..اور وہ چیز تمہیں پسند بھی بہت ہے..اور وہ ہے:
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
”اللہ
تعالی کی مدد.....اور فوری فتوحات“
...اللہ
تعالی کا پکا وعدہ...اللہ تعالی کا سچا وعدہ...اللہ تعالی کا میٹھا وعدہ...
اس
آیت مبارکہ کو....ہر کوئی اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے..جبکہ حقیقت میں یہ
”جہاد فی سبیل اللہ“ کا انعام ہے...جان اور مال کی قربانی کا انعام ہے...حضرات
صحابہ کرام نے مکمل یقین کیا...اور پوری جان...اور سارا مال لگا دیا...پھر کیا
تھا؟ وہ دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالی کی نصرت سے ”فاتح عالم“ بن گئے....اسی مبارک
عمل..اور اسی مبارک نتیجے کی یاد دہانی کے لیے..اور اسکی برکت سمیٹنے کے لیے ہم
اپنی ادنی سی مہم میں پڑھ رہے ہیں...
...نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...
یا
اللہ ”یقین“ نصیب فرما!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
18.02.2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مرحبا!
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے بندوں اور بندیوں کو......اللہ تعالی کا مہینہ ”مبارک“ ہو..
اللہ
تعالی ”سورہ فاتحہ“ کے وسیلہ سے...رمضان المبارک ہم سب پر کھول دیں..اس کی حقیقت،
مغفرت اور برکات ہمیں نصیب فرما دیں...اور اس مہینہ کی روٹھی ہوئی فتوحات....امت
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس عطاء فرما دیں.....
آج
مغرب سے استقبال رمضان....چاند رات کے معمولات..اور ”شہر رمضان“ کے مطالعہ کی یاد
دہانی ہے....
”تصویر
بازی“....”ویڈیو بازی“ سے ”پرہیز“ بہت ”نفع مند“ رہے گا ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
معمول
سے ہٹ کر
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ان کو ”مغفرت“ اور ”عزت“ کا عالی مقام نصیب فرمائے..ہمارے وہ پیارے ساتھی
اور رفقاء...جو پچھلے سال کی مہم میں ہمارے ساتھ شریک تھے...بھائی حذیفہ شہید.....(قائدانہ
صلاحیتوں سے بھرپور ایک خاموش مخلص سپاہی) مولانا عبدالعزیز ایثار.....(دلوں کے
تار ہلانے والے فنا فی الدعوۃ مبلغ اور انتھک خطیب)...بھائی عبدالستار (محنت،
استقامت اور سیاست کا شاہکار مجاہد)........اور بھی بہت سے اللہ والے دیوانے..
یہ
تین حضرات جن کا تذکرہ آیا....یہ تو مہم کی انتظامی مجلس اور قیادت کا حصہ ہوتے
تھے.....معلوم نہیں..ہم میں سے کس کس کی یہ ”آخری مہم“ ہوگی...اس لیے بھرپور
”فائدہ“ اٹھا لیں..
دن
رات محنت کریں...اس مہم کی برکت سے بے شمار نیکیاں وجود پاتی ہیں...اور بڑے بڑے
کام سر انجام ہوتے ہیں...اس لیے اسے ”معمولی“ نہ سمجھیں...بلکہ اللہ تعالی کی رضا
کے لیے”معمول“ سے ہٹ کر محنت کریں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
25.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو
گذارشات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ سب کو ہمیشہ کے لیے...”اہل ایمان“ ، ”اہل اخلاص“ اور ”اہل فلاح“
میں شامل فرمائے...آج دو باتیں عرض کرنی ہیں..
(۱) وہ مسلمان مرد اور خواتین
جن کا..رمضان المبارک ٹھیک نہیں جا رہا..وہ اپنی ”نماز“ کا جائزہ لیں...”نماز“ کا
معاملہ ٹھیک کر لیں..رمضان المبارک ملنا اور کھلنا شروع ہو جائے گا ان
شاءاللہ..مرد حضرات باجماعت نماز...باتوجہ نماز..لمبی اور زیادہ نماز...اور ایسی
ترتیب کہ کوئی نماز بغیر جماعت کے نہ ہو...یقین کریں اگر آپ نے نماز کو اس کا مقام
دیا..نماز کے اہتمام کو ترجیح دی تو اللہ تعالی آپ کے سارے کام ٹھیک فرما دیں
گے..اور آپ کو ایسی مثالی زندگی عطاء فرمائیں گے کہ...پھر کوئی فکر، مرض اور ذمہ
داری آپ کو نماز سے غافل نہیں کر سکے گی...اور آپ دین و دنیا میں ہر لمحہ ترقی
کرتے جائیں گے ان شاءاللہ..اس لیے ہمیشہ کے لیے پانچ فرض نمازوں کو اپنی زندگی کا
سب سے اہم اور ضروری کام بنا لیں..یہی گزارش خواتین (المؤمنات) سے ہے..البتہ وہ
باجماعت نماز کی جگہ..ہر نماز ”اول وقت“ میں ادا کرنا اپنی لازمی اور پسندیدہ ذمہ
داری بنا لیں..
(۲) الحمدللہ ”انفاق فی سبیل
اللہ“ مہم سے پہلے ہی..ان دو ”اوراد“ کا ورد شروع ہو گیا تھا..
•
”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
•”تَوَكَّلْتُ
عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ
وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ
مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا“
الحمدللہ
ثم الحمدللہ ثم الحمدللہ...اتنا فائدہ ہوا کہ بتا نہیں سکتا..ویسے بھی اپنے حالات
بتانے کا معمول نہیں ہے..
”ماشاءاللہ،
لا حول ولا قوۃ الا باللہ، حسبنا اللہ ونعم الوکیل“
جب
یہ اوراد دل میں پکے ہو گئے تو ”مہم“ کے لیے رفقاء کرام کو پیش کر دیئے...یقینا
جنہوں نے انہیں معمول بنایا..انہوں نے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا..مگر......فائدہ
اٹھانے والے شاید تھوڑے ہیں..اس لیے مہم ابھی تک زور نہیں پکڑ رہی...اللہ کے بندو!
ان روحانی خزانوں سے فائدہ اٹھا لو.....یہ بہت اونچے کلمات ہیں..اور ان کے ظاہری،
باطنی، دنیوی، اخروی، جسمانی، قلبی.......علانیہ اور مخفی فوائد بے شمار ہیں.....مگر
نیت خالص.....اللہ تعالی کی رضا کی ہو....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
گُنبَدبلا
رہے ہیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ”حرمین شریفین “مسجد اقصی اور تمام مساجد کی حفاظت فرمائیں...حضرت سیدنا سفیان
بن عیینہ رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے کہ:
”اذا
اغار العدو علی موضع فذلک الموضع رباط اربعین سنۃ“
ترجمہ:”
اگر دشمن مسلمانوں کی کسی جگہ پر حملہ کر دے تو وہ جگہ اگلے چالیس سال تک ”رباط“
کا مقام بن جاتی ہے“...
یعنی
وہاں پر قیام رباط ہوگا...اور ایک دن کا رباط.....دنیا وما فیہا سے افضل اور بہتر
ہے..اور اگر کسی جگہ دشمن دو بار حملہ کر چکا ہو تو وہ جگہ...اگلے ایک سو بیس سال
تک ”مقام رباط“ ہوگی...اکثر اہل علم ”فضائل رباط“کی کتب میں یہ روایت ذکر فرماتے ہیں...اور
مسجد اقصی کے فضائل، مناقب..اور وہاں نماز اور اعتکاف کی فضیلت میں بھی......علماء
کرام یہ روایت بیان کرتے ہیں..
اب
سات مئی 2025 کی رات یاد کریں..جب اس دور کے ابوجہل اور اس کے لشکر نے...چند مبارک
مساجد پر حملہ کیا....جامع مسجد سبحان اللہ! کے خوبصورت اور پیارے گنبد....میزائلوں
سے گرائے گئے..حالانکہ ان مساجد میں...نہ کوئی عسکری تربیت تھی..اور نہ کوئی فوجی
چھاؤنی..
اہل
ایمان....اور اہل رباط کے ایمان اور جرأت کو سلام کہ..اتنے بڑے حملے کے
باوجود....وہاں اذان بھی جاری رہی..اور باجماعت نماز بھی..البتہ ان حملوں نے...ان
مساجد کی شان اور مقام کو اور زیادہ بڑھا دیا..
اب
ماشاءاللہ جامع مسجد ”سبحان اللہ“ کے گنبد...فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ..دوبارہ بلند
ہو رہے ہیں....اور دین کے دیوانوں کو....اپنے شاندار ”اعتکاف“ کی طرف بلا رہے ہیں...کتنے
خوش قسمت ہوں گے وہ افراد جو اس سال وہاں ”اعتکاف“ کی سعادت پائیں گے..اور
”اعتکاف“ کے ساتھ ساتھ ”رباط“ کا اجر بھی حاصل کریں گے...حدیث شریف کی کتابوں میں
”رباط“ کے فضائل پر ایک نظر ڈالیں....دل نور اور سرور سے بھر جائے گا ان شاء
اللہ...
مغرب
سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
27.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مِنَ
القَلِیلِ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے ”شکر گزار“ بندوں میں سے بنائیں...ارشاد فرمایا:-
”وَقَلِیْلٌ
مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ“ [سورۃ سبا آیت (13)]
ترجمہ:
اور کم ہیں میرے ”شکر گزار“ (قدردان) بندے..
...”
قلیل“ عربی زبان میں کم اور تھوڑے کو کہتے ہیں..اور ”کثیر“ زیادہ کو...
حضرات
محدثین کرام نے ایک واقعہ لکھا ہے..
حضرت
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے اللہ تعالی سے دعاء مانگی..
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنْ عِبادِكَ القَلِيْلِ“
”
یا اللہ مجھے اپنے تھوڑے بندوں میں سے بنا دیں“
دوسری
روایت میں دعاء کے الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلنِی مِنَ القَلِيْلِ“
”یا
اللہ مجھے تھوڑوں میں سے بنا دیں“
تیسری
روایت میں الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنَ الأقَلِّیْنَ“
اس
کا ترجمہ بھی وہی ہے.. حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا! تمہیں یہ دعاء کہاں
سے ملی؟ اس نے کہا..اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”وَقَلِيلٌ
مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ“
ترجمہ:
اور میرے ”شکر گزار“ بندے تھوڑے ہیں..
تو
میں یہ مانگ رہا ہوں کہ مجھے بھی ان تھوڑے بندوں میں شامل فرما لیں...اس پر حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعریف فرمائی اور بطور تواضع فرمایا...
”سب
لوگ عمر سے زیادہ علم رکھتے ہیں“ (مصنف ابن ابی شیبہ)
ہاں
بے شک حقیقی ”شکر گزار“....قدر دان بندے بہت تھوڑے ہیں..اور یہی تھوڑے بڑے کامیاب
ہیں.....قرآن مجید نے ”قلیل“ اور ”کثیر“ کے موضوع کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے..اور
خاص طور پر پانچ ایسی نعمتوں کا ذکر کیا ہے..جن پر لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہیں..ایک
مؤمن جب یہ آیات پڑھتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ.....وہ بھی
ان تھوڑے کامیاب بندوں میں شامل ہو جائے....وہ نعمتیں کون سی ہیں؟ ”شکر گزاری“ کا
طریقہ کیا ہے؟ کوشش کریں گے کہ ”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ کی برکت سے...قرآن مجید
کا یہ عالی شان موضوع سمجھ لیں..اور اپنی زندگیوں میں ایک اچھی تبدیلی لے آئیں ان
شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
28.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
درخواست..پانچ نعمتیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے نزدیک ایک ”مسلمان“ کی ”حرمت“ کعبہ شریف کی ”حرمت“ سے زیادہ ہے..حضور
اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:-
”وَالَّذی
نَفْسِی بِيَدِهِ لَقَتْلُ مُؤْمِنٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ زَوَالِ
الدُّنيا“ (النسائی)
ترجمہ:
”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے..ایک مؤمن کا قتل اللہ تعالی کے نزدیک
ساری دنیا کے ختم ہو جانے سے بھی بڑا (یعنی سخت) ہے“
حالیہ
پاک، افغان جنگ پر تمام اہل ایمان کو شدید تشویش، پریشانی اور غم ہے..اللہ تعالی
دونوں مسلمان پڑوسیوں کو ایمان، حکمت اور عقل سلیم عطاء فرمائیں..خدانخواستہ یہ
جنگ پھیل گئی تو.....اہل اسلام کو شدید نقصان ہوگا...تمام اہل دل مسلمانوں سے
درخواست ہے کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں..اور کوئی بھی
اس لڑائی میں مزید تیل ڈال کر اسے نہ بھڑکائے...دونوں طرف مسلمانوں کی جانیں جا رہی
ہیں..مسلمانوں کی قوت ضائع ہو رہی ہے..اور مسلمانوں کے دشمن خوشیاں منا رہے ہیں...ہم
دونوں طرف کے حکمرانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر آپسمیں برادرانہ
مذاکرات کریں..مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کریں..اور ایک دوسرے کے مددگار بنیں....مشرکین
اور یہود و نصاری اس جنگ کو مزید بھڑکانا چاہتے ہیں..انکی سازشوں سے خود کو بچائیں..اور
یاد رکھیں کہ..آپ سب نے اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا ہے..اور اپنے اعمال کا حساب دینا
ہے..
•گزشتہ
مکتوب میں عرض کیا تھا کہ...پانچ نعمتوں پر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے..چنانچہ وہ
ان پانچ نعمتوں کے بارے نقصان میں رہتے ہیں..قرآن مجید نے یہ پانچ نعمتیں ذکر
فرمائی ہیں اور ساتھ ارشاد فرمایا ہے!
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ۠“
کہ
تم ان کا بہت کم شکر ادا کرتے ہو..
وہ
پانچ نعمتیں یہ ہیں..
(۱)”سَمَعْ“ یعنی سننے کی صلاحیت
(۲)”بَصَرْ“
یعنی دیکھنے کی طاقت (۳)”فُؤَادْ“
یعنی دل..(۴)”مَکَانْ“
یعنی رہائش (۵)”مَعَاشْ“
یعنی روزی...
آپ
خود کو اور آس پاس دیکھیں..ان پانچ نعمتوں کا شکر، قدر اور صحیح استعمال کرنے والے
واقعی بے حد تھوڑے نظر آئیں گے...بلکہ اکثر کو تو ان نعمتوں کا احساس تک نہیں
ہوتا.....باقی تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مشکل
حالات میں کامیابی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی امت حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر رحم فرمائیں..رحمت فرمائیں..اسلام
کو غلبہ...اور مسلمانوں کو ”تمکین فی الأرض“ عطاء فرمائیں..بے شک:
”اِنَّ
اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“
دنیا
کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں..طاقتوروں کے کمزور ہونے اور کمزوروں کے طاقتور ہونے
کا وقت قریب آرہا ہے..ہمارا موضوع چل رہا تھا!
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ“
کہ
تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو..
”شکر“
کا اصلی معنی اور مفہوم ہے....نعمتوں کا صحیح استعمال..مسلمانوں نے جب اپنی جانوں
اور مال کا صحیح استعمال کیا تو وہ دنیا پر چھا گئے..پھر جب نعمتوں کا غلط استعمال
کیا تو دنیا میں مغلوب ہو گئے....لیکن یہ زمین اللہ تعالی نے کافروں کے لیے نہیں
بنائی..ہاں ان کو کبھی کبھار اس زمین پر غلبہ اور اقتدار مل جاتا ہے...مگر یہ دائمی
نہیں ہوتا..زمین اپنے اوپر کسی کو ”سپر پاور“ زیادہ عرصہ نہیں رہنے دیتی..آج کوئی
تو کل کوئی..اور یہ یقینی ہے کہ مسلمانوں نے دوبارہ ”غلبہ“ پانا ہے..ایسا غلبہ جو
پہلے والے غلبے سے بھی زیادہ بڑا اور وسیع ہوگا..ان شاءاللہ...آج بڑی عجیب خبریں
آرہی ہیں..اس لیے:
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ“
کا
جو موضوع شروع کیا تھا وہ پھر کسی مکتوب میں مکمل کریں گے ان شاءاللہ..
فی
الحال ضروری گزارش یہ ہے کہ..حالات اگر خراب اور ہنگامی ہو جائیں تو ”اہل ایمان“
اپنی عبادت، اپنی دعاء.....اور اپنی دینی محنت اور بڑھا دیتے ہیں..تاکہ..اللہ تعالی
کی رحمت اور نصرت متوجہ ہو...اور اگر موت آئے تو اچھی، بہترین اور مزیدار موت
ہو...قسم ہے زمانے کی...تمام انسان خسارے میں جا رہے ہیں...مگر وہ کامیاب ہیں
جو...ایمان، اعمال صالحہ، حق کے کام اور دعوت اور استقامت کی تلقین میں لگے ہوئے ہیں.....
...اللہ
تعالی ہمیں ”خسارے“ سے بچائیں...اور دارین کی ”کامیابی“ نصیب فرمائیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
یَوْمُ
الْفُرْقَان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے وعدے کے مطابق..مسلمانوں کو بڑی عظیم الشان فتوحات عطاء فرمائیں...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
”فارس“
کی فتح بھی...بڑی فتوحات میں شامل ہے..ایران، عراق وغیرہ علاقوں کو ”فارس“ کہا
جاتا تھا...حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ”دور خلافت“ میں ”فارس“ یعنی ”ایران“
مسلمانوں نے فتح کر لیا..بہت ایمان افروز تاریخ ہے..جنگ قادسیہ...اور جنگ
نہاوند..حضرات صحابہ کرام کی مثالی بہادری اور قربانی...فاتح ایران سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شاندار جہادی قیادت..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
ایران....حضرات
صحابہ کرام کے مقبول جہاد کی نشانی ہے..اور جہاد کا ایک نتیجہ اللہ تعالی نے یہ بیان
فرمایا ہے!
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
الحمدللہ
انفاق مہم جاری ہے..” یوم بدر “ ”یوم الفرقان “..سترہ رمضان..اس مہم کا پہلا
مقابلہ ہے..اور مقابلے کا نام ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اس
مقابلے کا ایصال ثواب...مجاہدین غزوہ بدر، شہداء غزوہ بدر..اور تمام صحابہ کرام
اور صحابیات...رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام...بے شک ہم ان کے ”مقروض“ ہیں..ساری
امت ان کی ”مقروض“ ہے..اور ہم ان کی ”روشنی“ اور ”نسبت“ کے محتاج ہیں..”ایصال
ثواب“ بہت عجیب عمل ہے..یہ قرضے اتارتا ہے..اور نسبت دلواتا ہے..ان کا پورا قرضہ
کوئی اتار نہیں سکتا...مگر اس کی کوشش اپنی طاقت کے مطابق کی جا سکتی ہے...دو رکعت
ادا کریں..پھر 313 بار پڑھیں...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اور
پھر خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے (16) اور (17) رمضان...بھرپور محنت کریں..اور
آخر میں اس محنت و عبادت کا ایصال ثواب کر دیں...اور اللہ تعالی سے امیدوار رہیں
کہ..وہ ہمیں....اور ساری امت کو نصیب فرمائیں گے...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
مغرب
سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو
تُحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنی ہر ”نافرمانی“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..
”یُومُ
الفرقان“...”یومُ بدر الکُبریٰ“کے دن دو تحفے قبول کریں..
(۱) گناہوں اور برائیوں سے
حفاظت کے لیے قرآن مجید کے یہ مبارک الفاظ پڑھا کریں..
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“[الذمر(۱۳)]
ترجمہ:
میں اپنے رب کی نافرمانی کرنے پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں..
جب
دل میں گناہ کا خیال آئے..برائی کا ارادہ آئے..کسی برائی یا گناہ کا موقع بنے تو
فورا پڑھیں:-
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“
دل
اسی وقت پاک اور صاف ہو جاتا ہے..اور بڑے دن کے عذاب کا خوف ”نور“ بن کر دل پر
”روحانیت“ ڈالتا ہے..
یہ
مبارک کلمات ویسے بھی روزانہ چند بار پڑھنے کا معمول بنا لیں..بہت فائدہ ہوگا ان
شاءاللہ..خصوصا وہ جن سے گناہ نہیں چھوٹ رہے وہ کثرت سے ان کا ورد کیا کریں..
(۲) دوسرا نبوی تحفہ...جو حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مؤمنہ صحابیہ کو عطاء فرمایا..وہ یہ کہ
جس نماز میں بھی دس بار یہ کلمات پڑھ لیے جائیں..
..
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر..
تو
اس کے بعد ہر دعاء قبول ہوتی ہے...مرد حضرات سنن اور نوافل میں پڑھ لیا کریں..جبکہ
خواتین ہر نماز میں پڑھ سکتی ہیں...اچھا ہوگا کہ آخری قعدہ میں..درود شریف کے بعد
پڑھ لیا کریں..اور پھر دعاء پڑھا کریں..ایک دعاء یا زیادہ دعائیں...کوشش کیا کریں
کہ.....نماز کے آخر میں زیادہ سے زیادہ دعائیں...سلام سے پہلے مانگا کریں...بڑی عظیم
قبولیت کا مقام ہوتا ہے.....تسبیحات کے اس عمل کو...بعض اہل علم...
”صلوٰۃ
التّسبیح صُغْریٰ“
بھی
کہتے ہیں....بہت پرکیف اور بابرکت عمل ہے...اس عمل کی روایات اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
08.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تین
نعمتیں..ایک روایت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”نعمتیں“...اور ”انعامات“ بے شمار ہیں..الحمدللہ رب العالمین..
(۱) الحمدللہ جماعت کے شعبہ سیدنا
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ...”لِدَعْوۃِ الایمان“ کے زیر اہتمام دو دن میں ”تیس
افراد“ نور اسلام میں داخل ہوئے..کفر و شرک سے تائب ہوئے..موت سے زندگی کی طرف
آئے..والحمدللہ رب العالمین...
(۲) الحمدللہ ”قاتل“ جل مرے..7
مئی 2025..ہماری مساجد، بچوں اور خواتین پر حملہ کرنے والے بزدل انڈین پائلٹوں میں
سے دو..اپنا ہی ”سخوئی فائٹر“ گرنے سے جل مرے..خبروں میں تصدیق ہو چکی ہے کہ...یہ
”پائلٹ“ 7 مئی کے...حملے میں شامل تھے..خس کم جہاں پاک..والحمدللہ رب العالمین...
(۳) الحمدللہ ”یوم الفرقان“ کا
”مقابلہ“.....نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...اللہ تعالی کی ”نصرت“ سے
”فتح یاب“ ہوا ہے...شاندار محنت اور بہترین نتیجہ..اللہ تعالی اس میں خرچ کرنے
والوں، دعوت، محنت اور ترتیب بنانے والوں...دعاء کرنے والوں کو..”اصحاب بدر“ کی
کامیاب ایمانی نسبت..اپنی کامل مغفرت اور دارین کی فلاح اور برکت عطاء فرمائیں..اس
مقابلہ کی توفیق پر اللہ تعالی کا شکر..والحمدللہ رب العالمین..
(۴) الحمدللہ”سنن الترمذی“ میں
وہ روایت موجود ہے جس کو بعض اہل علم...”صلوٰۃ التسبیح صغریٰ“ کہتے ہیں..روایت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں..
”حضرت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدہ اُم سُلَیم رضی اللہ
عنھا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں..اور انہوں
نے عرض کیا! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیں..جنہیں میں نماز میں پڑھ لیا کروں..آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! دس مرتبہ ”اللہ اکبر“ پڑھا کرو..دس مرتبہ
”سبحان اللہ“ پڑھا کرو اور دس مرتبہ ”الحمدللہ“ پڑھا کرو..پھر جو چاہے دعاء
مانگو..اللہ تعالی (تمہاری دعاء پر) فرمائیں گے نَعْم نَعْم...ہاں، ضرور ہاں...(یعنی
ہم نے قبول فرما لی)....(الترمذی)
دس
بار ”تکبیر“...دس بار ”تسبیح“...اور دس بار ”حمد“ کرنے کا حکم فرمایا...اسی کا
ترجمہ...اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ پڑھنے سے کر دیا...
اہل
علم غور کریں گے تو کافی کچھ مزید سمجھ لیں گے...اس روایت کی قدرے تفصیل اگلے
مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
09.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
جامع
خُلاصہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمارے نامۂ اعمال کو....اعمال صالحہ سے وزنی اور بھاری بنائیں...
اللہ
تعالی کی ”تسبیح“ (یعنی پاکی بیان کرنا) اور ”تحمید“ (یعنی تعریف بیان کرنا) بھی
بھاری اور وزنی اعمال میں سے ہیں..
”سبحان
الله وبحمده سبحان الله العظيم“بسم الله وبحمده، اللهم صل على سيدنا محمد وعلى اله
وصحبه وسلم تسليما....
اہل
ایمان کو..جامع مسجد سبحان اللہ میں اعتکاف کی یاد دہانی ہے..اس بار اعتکاف میں
دورہ تفسیر آیات الجہاد بھی ہوگا ان شاءاللہ..
”صلوٰۃ
التسبیح صغریٰ“ یعنی ”مختصر صلوٰۃ تسبیح“ کی بات چل رہی تھی..آج خلاصہ نکال کر اس
موضوع کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں (ان شاءاللہ)..
(۱) نماز میں دس بار تکبیر
(اللہ اکبر)..دس بار تسبیح (سبحان اللہ) اور دس بار تحمید (الحمدللہ) پڑھنے کی حدیث
شریف میں فضیلت آئی ہے کہ..اس کی برکت سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے..اُمت کے کئی اہل
علم نے اس عمل کو...دینی اور دنیوی حاجات کے لیے اکسیر اور مجرب بتایا ہے..
(۲) نماز کے اس عمل کی روایت
ترمذی، نسائی، المستدرک، ابن حبان، ابن خزیمہ اور مسند احمد میں آئی ہے..اس کی سند
کو محدثین نے ”حسن“ یا ”صحیح“ قرار دیا ہے..تمام کتب کی روایت میں یہ تسبیحات نماز
کے اندر پڑھنے کا تذکرہ ہے..مگر ”مسند احمد“ میں نماز کا ذکر نہیں..بلکہ فرمایا گیا
کہ یہ تسبیحات پڑھ کر دعاء کی جائے تو اللہ تعالی قبولیت کا اعلان فرماتے ہیں...
(۳) یہ تسبیحات نماز میں کس
جگہ پڑھی جائیں؟ اس کا کسی روایت میں ذکر نہیں ہے اس لیے مزید آسانی ہو گئی
کہ...تسبیح اور دعاء کے کسی مقام پر پڑھ لیں مثلا رکوع یا سجدوں میں..نماز کے آغاز
میں..نماز کے اخیر میں..وغیرہ..
(۴) حدیث شریف کے الفاظ سے
معلوم ہوتا ہے کہ..مقصد اللہ تعالی کی بڑائی، پاکی اور حمد بیان کرنا ہے..اس لیے
تکبیر، تسبیح اور حمد کے کوئی بھی مسنون الفاظ پڑھ سکتے ہیں..مگر ساتھ یہ اشارہ بھی
ملتا ہے کہ..دل اور دماغ میں ان الفاظ کا معنی حاضر ہو تاکہ مقصد حاصل ہو..
(۵) یہ ایک نفل عمل ہے..اس کی
دعوت اور تلقین بھی بطور نفل رکھی جائے..شدت اور بحث نہ کی جائے..جو نہ کر سکے اس
پر نکیر نہ کی جائے..جن کے ذمہ فرض اور واجب نمازیں ہوں وہ اس طرح کے اعمال میں
وقت لگانے کی بجائے پہلے فرائض ادا کریں....
(۶) تسبیح، تحمید، تکبیر..یعنی
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر....کا ذکر بہت مفید اور مبارک عمل ہے..کوشش کرنی
چاہیے کہ ہمارے پاس اس کا بڑا ذخیرہ جمع ہو..کیونکہ یہ سستی، بزدلی اور کنجوسی کا
بھی کفارہ اور جبیرہ ہے..نماز کے اس عمل سے ہمارے پاس ان تسبیحات کا بڑا ذخیرہ جمع
ہو جائے گا ان شاء اللہ
(۷) عمل والے عمل کریں
گے..سؤالات والے بہت کچھ پوچھنا چاہیں گے تو ان سے گزارش ہے کہ کسی مستند
دارالافتاء سے پوچھ لیں..بندہ کو پیغام نہ بھیجیں...
(فاتحہ)
جن کو ”اعتکاف“ میں نکلنا مشکل ہو رہا ہے..وہ (33) بار سورہ فاتحہ توجہ سے باوضو
پڑھ کر دعاء کریں...بہت آسانی ہو جائے گی ان شاء اللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
10.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تقویٰ
میں سلامتی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہی آسمانوں اور زمین کے خالق، مالک اور ”رب“ ہیں..آج جو خود کو ”زمین“ کا
مالک سمجھ بیٹھے ہیں..وہ بہت جلد مر جائیں گے..ختم ہو جائیں گے..فنا ہو جائیں
گے..اللہ تعالی کے سوا کوئی ”طاقت“ نہ سُپَّر ہے..نہ دائمی ہے..اور نہ ہی نا قابل
شکست ہے..
”یا
باقی انت الباقی لیس الباقی الا اللہ “
”لا
حول ولا قوۃ الا باللہ“
(۱) آج مغرب سے ہمارے ہاں
رمضان المبارک کا آخری عشرہ..شروع ہو جائے گا..اور اعتکاف والے بھی ”مساجد“ میں ڈیرے
ڈال دیں گے...اہل بہاولپور کی خوش نصیبی ہے کہ....شہداء کرام کی نسبتوں کی امین..”جامع
مسجد سبحان اللہ“..ان کے قریب ہے..کتنی دور دور سے مسلمان وہاں آتے ہیں..اور اللہ
تعالی کے فضل سے جھولیاں بھر کر جاتے ہیں..اس سال قریب والے بھی اعتکاف کا بھرپور
فائدہ اٹھا لیں..
(۲) سوشل میڈیا پر روز ”نیا
مواد“ درکار ہوتا ہے..اخبارات کے کالم نویسوں نے ہفتے میں دو تین نئے کالم لکھنے
ہوتے ہیں..ٹی وی اینکروں کو روزانہ کچھ نیا پیش کرنا ہوتا ہے..اس لیے ہر جنگ اور
ہر واقعے پر.....تجزیوں اور تبصروں کا طوفان برپا رہتا ہے..اللہ کے بندو! آج کل کی
جنگیں لمبی ہوتی ہیں..مہینوں اور سالوں تک ان کی پلاننگ کی جاتی ہے..پھر مہینوں
اور سالوں تک یہ جنگیں لڑی جاتی ہیں..اور سالہا سال کی لڑائی کے بعد بھی فیصلہ نہیں
ہو پاتا کہ...کون جیتا ہے اور کون ہارا ہے..مگر چونکہ روز نئی بات پیش کرنا اب
لوگوں کی مجبوری بن چکی ہے تو....اس لیے روز ہی فیصلہ کن تجزیے سامنے آجاتے ہیں....اہل
ایمان اور اہل حکمت کو چاہیے کہ وہ...ان تبصروں اور تجزیوں پر اپنا وقت ضائع نہ کریں..بے
صبرے کالم نویسوں کی مایوسیاں نہ پڑھیں..اور ویڈیو سے تو مکمل جان چھڑا لیں..کیونکہ
جس تیزی سے اب ”اے آئی“ نقلی ویڈیو بنا اور پھیلا رہی ہے..خطرہ ہے کہ..کسی دن آپ کی
اپنی کوئی ”زیبا“ یا ”نازیبا“ ویڈیو آپ کے سامنے آجائے...
اندازہ
لگائیں.....دین اور تقوی کے احکامات میں کتنی سلامتی ہے..اب ہر کوئی کہہ رہا ہے
کہ........ویڈیو بازی میں نقصان ہی نقصان ہے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
11.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُنَوَّرباطِنْ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کا شکر ہے..”اعتکاف“ شروع ہو گیا ہے..”جامع مسجد سبحان اللہ“ میں عجیب رونق،
بہار اور انوارات ہیں..والحمدللہ رب العالمین..
(۱) اگر اعتکاف کا پورا فائدہ
اٹھانا ہے تو دل کو پاک کر لیں..اور زبان پر قابو رکھیں..دل کو ہر مسلمان کی نفرت
اور بغض سے..ریاکاری اور شرک سے..دنیا کی محبت اور بخل سے پاک کر لیں..سب مسلمانوں
کو معاف کر دیں..اور زبان کو تلاوت، ذکر اور عبادت کے لیے وقف کر دیں..باتیں کریں
ہی نہ..یا کم از کم کریں..جو جتنا کم بولے گا اتنا ہی فائدہ اٹھائے گا ان
شاءاللہ..
(۲) اپنے چہروں پر خوشی اور
مسکراہٹ سجا لیں..استغفار اور توبہ کے وقت خوب روئیں..مگر باقی وقت اپنے رفقاء کے
لیے اپنے چہرے مسکراہٹ کے صدقہ سے بھر لیں..خصوصا جو خدمت کی سعادت حاصل کر رہے ہیں
وہ...مسکراہٹ کی نعمت چہرے پر سجائے رکھیں..کسی سے سختی یا درشتگی کا مظاہرہ نہ کریں..
(۳) دو روحانی آوازیں..نورانی
لہریں اور قیمتی صدائیں اپنے باطن..یعنی اپنی روح اور دل میں داخل کر لیں(پہلی
آواز)إِیْمَاناًوَّإِحْتِسَاباً(دوسری آواز)فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا...جب بھی نماز، تلاوت، ذکر، تعلیم اور مراقبہ شروع کرنے لگیں تو آپ کے
اندر یہ دو ایمانی اوازیں بلند ہوں...إِیْمَاناًوَّإِحْتِسَاباً..فَضْلًا مِّنَ
اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا.....کیونکہ عبادت صرف وہی قبول ہوتی ہے جو ایمان اور احتساب
کے ساتھ ہو..اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی اللہ تعالی نے تعریف
فرمائی ہے کہ وہ اپنی عبادت اور محنت میں:-
”یَبْتَغُوْنَ
فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا“[الفتح(۲۹)]
اللہ
تعالی کا فضل اور اللہ تعالی کی رضا ڈھونڈتے تھے.....
ایمان
کا مطلب ہے اللہ تعالی پر اور دین اسلام پر ایمان اور یقین اور احتساب کا مطلب ہے
کہ یہ عمل صرف اللہ تعالی کو خوش کرنے اور صرف اللہ تعالی سے بدلہ پانے کے لیے
ہے...اور میرا مقصود اللہ تعالی کی رضا اور اللہ تعالی کا فضل ہے...یقین کریں اگر
ان دو آوازوں کو آپ نے اپنے باطن اور دل میں پکا کر لیا تو ”عبادت“ کی حقیقت تک
پہنچ جائیں گے..اور زندگی روحانی مزے اور لذت سے سرشار ہو جائے گی...ان شاءاللہ..
مہم
کی محنت میں مشغول ساتھی بھی...ان دو نورانی لہروں کو اپنے باطن میں بیدار کریں..
إِیْمَاناًوَّإِحْتِسَاباً......فَضْلًا
مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
12.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقبولیت،قبولیت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”ایمان“ نصیب فرمائیں...”اخلاص“ نصیب فرمائیں..
حضور
اقدس سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:-
مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ(بخاری)
ترجمہ:
جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف
کر دیے جائیں گے....
دوسری
روایت میں فرمایا کہ جس نے رمضان کا قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ..اور ایک
روایت میں ہے کہ..جس نے ”لیلۃ القدر“ میں..ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا تو
اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں..” ایمان“ اور ”احتساب“ کا کیا معنی ہے؟
کل
کے مکتوب میں مختصر عرض کر دیا تھا کہ...(ایمان کا معنی) اللہ تعالی پر، اللہ تعالی
کے دین پر اور اللہ تعالی کے احکامات پر ایمان لانا..دین اسلام کو دل اور زبان سے
قبول کرنا..بے شک ”ایمان“ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں...اور (احتساب کا معنی) ہر نیک
عمل اور ہر عبادت..اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا..اور اس پر صرف اللہ تعالی ہی سے
بدلہ چاہنا..اسی کو اخلاص کہتے ہیں..اور ”اخلاص“ کے بغیر بھی کوئی عمل قبول نہیں..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بڑے جامع، وسیع اور مؤثر ہوتے ہیں..”ایماناً و
احتساباً“ کے الفاظ میں بھی..نور اور علم کے خزانے پوشیدہ ہیں..ہم ان الفاظ میں
جتنا ڈوبتے جائیں گے..اسی قدر نور اور علم پاتے جائیں گے..ان الفاظ میں
دراصل...قبولیت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے..آئیے ان الفاظ کے چند مزیدار ترجمے
کرنے کی کوشش کرتے ہیں...
(۱) ہم نے ہر عبادت، ہر نیک
عمل اور ہر اچھا کام ایمان کے ساتھ کرنا ہے..یعنی اللہ تعالی کو مان کر کرنا ہے(ایماناً)
اور صرف اللہ تعالی کو منانے کے لیے کرنا ہے (احتساباً)
(۲) ہم نے ہر عبادت صرف اللہ
تعالی کی بندگی اور نوکری میں کرنی ہے (ایماناً)..اور اللہ تعالی ہی سے مزدوری
پانے کے لیے کرنی ہے (احتساباً)
(۳) ہم نے ہر نیکی اللہ تعالی
کی مان کر کرنی ہے (ایماناً) اور اللہ تعالی کو خوش کرنے کے لیے کرنی ہے
(احتساباً)
(۴) ہم نے ہر عبادت یقین میں
ڈوب کر کرنی ہے (ایماناً) اور دل کی خوشی اور محبت سے کرنی ہے (احتساباً)
(۵) ہم نے ہر نیکی کفر، شرک
اور انکار سے بچ کر کرنی ہے (ایماناً) اور ریا کاری، دکھاوے اور مخلوق سے کوئی بھی
صلہ پانے کے لیے نہیں کرنی (احتساباً)
اللہ
کے بندو اور بندیو! ” ایماناً و احتساباً “کی طاقت ور لہر اور آواز کو دل میں بسا
لو اور اپنی ہر عبادت اور نیکی کو مقبول اور جاندار بنا لو....
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
13.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
عجیب نعمت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو...کیسی عظیم نعمتیں
عطاء فرمائی ہیں ”درود ابراہیمی“ ہی کو دیکھ لیں..کیسا نور، اجر اور سکون کا خزانہ
ہے..کوئی انسان صرف دس بار توجہ سے پڑھ لے تو کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے..اور کتنا
کچھ پا لیتا ہے...
اس
امت کو جو ”فرائض“ ملے...انکی شان تو بے حد بلند ہے..نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور
جہاد فی سبیل اللہ...ایک ایک فرض کی حقیقت اور فضیلت کوئی ساری زندگی بیان کرتا
رہے تو عمر ختم ہو جائے..مگر حق ادا نہ ہو سکے..دراصل یہ امت اللہ تعالی کو بہت پیاری
ہے..بہت محبوب ہے...یہ ٹرمپ، مودی، نیتن یاہو تو وقتی غلاظت کا ڈھیر ہیں..چند دن
بعد ان کا نام بھی کوئی ادب سے لینے والا نہ ہوگا..مسلمانوں نے اسلام کی قدر نہیں
کی تو یہ سانپ وقتی طور پر مسلّط ہو گئے...مگر نہ اُن کا کوئی ماضی ہے اور نہ کوئی
مستقبل..یہ حقیر پانی کے بلبلے ہیں جو ختم ہو جائیں گے..جبکہ یہ امت عظیم تھی، عظیم
ہے اور عظیم رہے گی..یہ جیسے ہی جہاد کی طرف لوٹے گی..واپس ساری دنیا پر چھا جائے
گی ان شاءاللہ..بات یہ چل رہی تھی کہ.....فرائض کی تو بات ہی کیا ہے..مگر فرائض کے
علاوہ بھی اس امت کو بڑی عظیم الشان نعمتیں ملی ہوئی ہیں..ان نعمتوں میں سے ایک
”درود ابراہیمی“ ہے..اس درود کی عظمت، شان کا اندازہ اس سے لگائیں کہ..اللہ تعالی
نے اسے ”نماز“ میں رکھ دیا ہے..اور نماز تو معراج ہے معراج..بلندی ہی بلندی..”درود
ابراہیمی“ کا اجر اور اسکی تأثیر اتنی زیادہ ہے کہ...اگر یہ کسی خوش نصیب دل پر
کھل جائے تو پھر اُس کے دنیا اور آخرت میں مزے ہو جاتے ہیں..اس میں ہدایت کا عجیب
نور ہے..محبت کے عجیب جلوے ہیں..دلوں کی صفائی کی عجیب تأثیر ہے..غناء اور شفاء کا
عجیب راز ہے اور سکون تو اتنا ہے کہ بیان سے باہر....آپ اس کو پڑھتے جائیں تو اللہ
تعالی کے بھی قریب ہوتے جائیں گے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی قریب..آپ
اس کو اخلاص کے ساتھ پڑھتے جائیں آپ کی دینی، دنیوی اور اُخروی حاجات بغیر مانگے
پوری ہوتی جائیں گی..آپ اس کو محبت سے پڑھتے جائیں آپ رحمت اور برکت میں ڈوبتے جائیں
گے..اور آپ کے کام خود بخود بنتے جائیں گے..
اس
درود پاک میں ذکر اللہ بھی ہے..دعاء بھی ہے..حق رسول کی ادائیگی بھی ہے..صفات الہی
کا تذکرہ بھی ہے..اور اتنی عظیم اور وسیع رحمت ہے جو صدیوں اور زمانوں پر اور عرش
تا فرش چھائی ہوئی ہے..
رمضان
المبارک کے آخری ایام بہت قیمتی ہوتے ہیں..نفس کے شیطانی اثرات کوشش کرتے ہیں
کہ...رمضان کا آخری حصہ خراب کرا دیں..گھریلو جھگڑے، بازار کی کشش، عید کے نام پر
غفلت اور دنیوی فکریں....ایسے میں ”درود ابراہیمی“ کے نور سے استفادہ کر کے...خود
کو اندھیروں سے بچایا جا سکتا ہے...ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
14.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بابرکت
اور اچھی زندگی کا ایک راز
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ سب کو ”موت“ کا ارادہ نصیب فرمائیں..موت یعنی مرنے کا ارادہ نصیب
ہو جائے تو زندگی بہت اچھی ہو جاتی ہے..بابرکت ہو جاتی ہے..
اچھا
ایک بات بتائیں..کیا ہمارا ”حرمین شریفین“ جانے کا ارادہ ہے یا نہیں؟ یقینا اکثر
مسلمان اس کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ..اس کی آرزو رکھتے ہیں..حالانکہ یقینی نہیں کہ
وہاں جاسکیں گے یا نہیں ؟..ہر مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا گھر دیکھنے کی آرزو
ہے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ اطہر دیکھنے کی خواہش ہے..تو پھر ”مرنے“
کا ارادہ کیوں نہیں؟ حالانکہ موت یقینی ہے..اور مرنے کے بعد مؤمن اللہ تعالی کے
پاس چلا جاتا ہے...دراصل ہم نے ”موت“ کو ایک ”آفت“ سمجھ رکھا ہے..اور ہم موت کو
”سلامتی“ کے خلاف سمجھتے ہیں..حالانکہ قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ..”موت“ اور ”سلامتی“
ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں..
اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں جن کو ”سلامتی“ دینے کا قطعی اعلان فرمایا..موت کا مزہ تو
انہوں نے بھی چکھا..”سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ“..”
سَلٰمٌ
عَلٰى نُوْحٍ“..”سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ“وغیرہ آیات دیکھ لیں..بلکہ حضرت سیدنا
یحیی علیہ الصلٰوۃ والسلام اور حضرت سیدنا عیسی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے تذکرہ میں
فرمایا گیا کہ..ان پر سلامتی جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن ان پر موت آئے گی..اور
جس دن وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے..معلوم ہوا کہ...موت میں بھی سلامتی ہوتی ہے..جو
صرف ایمان والوں کو ملتی ہے..جبکہ کافر زندگی میں بھی سلامتی سے محروم ہیں..اور
موت کی سلامتی بھی انہیں نہیں ملے گی..آپ قرآن مجید میں ”سلامتی“ کا مضمون پڑھیں..آپ
کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے کھل جائیں گے..قرآن مجید سمجھاتا ہے کہ..اللہ تعالی
”السلام“ ہیں..سلامتی صرف اللہ تعالی عطاء فرما سکتے ہیں..اور سلامتی کا مفہوم بہت
میٹھا اور بہت وسیع ہے..اسی لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ہر وقت ایک دوسرے کو
سلامتی کی دعاء دیتے رہا کریں..”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “..
سلامتی
کا مطلب ہے اللہ تعالی کے عذاب سے بچنا..کفر، شرک اور گناہوں سے بچنا..ناقابل
برداشت تکلیفوں سے بچنا..جہنم اور عذاب قبر سے بچنا..گمراہی، محتاجی، معذوری اور
بربادی سے بچنا..بری موت سے بچنا...اور اللہ تعالی کی ناراضی سے بچنا..باقی ”اچھی
موت“ تو مؤمن کے لیے تحفہ ہے..اور موت ضرور آنی ہے..آج یہ موضوع چھیڑنے کی ضرورت یوں
محسوس ہوئی کہ..کئی خوفزدہ لبرل دانشور مسلمانوں کو ڈرا رہے ہیں..کوئی کہہ رہا ہے
کہ ”مسلم ورلڈ“ کا اختتام قریب ہے..کوئی کہہ رہا ہے کہ فورا ٹرمپ کے قدموں میں گر
جاؤ تاکہ وہ ایٹمی حملہ نہ کر دے..ان پاگلوں کو کون سمجھائے کہ موت تو ضرور آئے گی..ایٹمی
حملے سے نہ آئی تو ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے آجائے گی..تو پھر موت کے خوف سے..بے ایمانی
کی باتیں کرنا کہاں جائز ہے؟ باقی رہے مسلمان تو وہ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب یہ
دنیا ختم ہونے والی ہوگی..اس سے پہلے کوئی ”مسلم دنیا“ کو ختم نہیں کر
سکتا..مسلمانوں کو چاہیے کہ...موت کا ہمیشہ ارادہ رکھا کریں..موت کی ہمیشہ تیاری کیا
کریں..اس عمل کی برکت سے..زندگی بہت اچھی، آسان اور بابرکت ہو جاتی ہے..اور اگر کسی
کو ”شوق شہادت“ نصیب ہو جائے تو اس کے کیا ہی کہنے...پھر اس کو کیا فکر کہ موت کیسے
اور کب آئے گی؟ وہ تو خود اس کی تلاش اور آرزو میں ہے..
عجیب
بات ہے..دنیا میں مکان بنانے کا ارادہ ہر کسی کا ہے..حالانکہ یہ مکان یہاں رہ جائے
گا اور موت کا ارادہ نہیں....جو لازمی حقیقت ہے..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقابلۂ
وفا
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ...نیکیوں میں اور خیر کے کاموں میں ایک
دوسرے سے ”مقابلہ“ کریں..
”فَاسْتَبِقُوا
الْخَیْرٰتِ“ [البقرہ (۱۴۸)]
کافر
قومیں جو کرتی ہیں...وہ کرتی رہیں..تم ان کو نہ دیکھو کہ..ان کا رخ کس طرف ہے..تم
”خیر“ کے پیچھے دوڑو..اور اس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو..اللہ اکبر
کبیرا...
بس
یہ آیت مبارکہ نازل ہونی تھی کہ....حضرات صحابہ کرام اور حضرات صحابیات (رضوان
اللہ علیہم اجمعین) میں ایسے مقابلے شروع ہوئے کہ...تاریخ ان کی مثال لانے سے عاجز
آگئی..
جہاد
میں مقابلے..مال خرچ کرنے میں مقابلے..عبادت میں مقابلے..خدمت میں مقابلے..اور
قربانی میں مقابلے....مکتوب میں گنجائش کم ہوتی ہے..ورنہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر
کچھ تفصیل سے عرض کرتا...اللہ تعالی ہمیں دنیا داری، مالداری، ذخیرہ اندوزی، شہرت
اور نام و نمود کے ناجائز مقابلوں سے بچا کر....”خیرات“ یعنی اعمال صالحہ میں
مقابلے کا ذوق نصیب فرما دیں..
لیجئے
”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ کا دوسرا مقابلہ آپہنچا ہے..”مقابلۂ وفا“..اپنے ان پیارے
اور عظیم شہداء کے ایصال ثواب کے لیے..جو سات مئی کی رات..بزدل مشرکین کے حملے کا
نشانہ بنے..وہ قرآن پڑھتے ہنستے مسکراتے بچے..وہ شرم و حیا اور علم و عمل کی جامع خواتین..وہ اہل عزم و اہل
وفا ہمارے بھائی.....اللہ اکبر کبیرا...کیسی مثالی قربانی ہے..اور کیسی قابل رشک
سعادت...خوف اور دھمکیوں کے ماحول میں جنہوں نے حضرات صحابہ کرام کی راہ چلتے
ہوئے....ڈرنے اور بھاگنے سے انکار کر دیا..اور ”حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ“ کا نعرۂ مستانہ لگا کر...بہادری
اور شجاعت کی داستان اپنے خون سے رقم کر دی...وہ رات کتنی عجیب تھی..ہر طرف ان
شہداء کرام کی خوشبو مچل رہی تھی..جہاں سے جنازے اٹھائے جا رہے تھے وہاں شکر کی کیفیت
تھی..اور جہاں سے میزائل پھینکے گئے تھے وہاں ماتم کا سماں تھا...شہداء کرام کی
کرامات ایسی ظاہر ہوئیں کہ..پھول جیسے معصوم بچے دشمن پر میزائل بن کر
برسے..”المؤمنات“ کا لشکر دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں وجود پا گیا..اور
وہ دن ہے اور آج کا دن ہے کہ..دشمن اپنے
مُرداروں کی تعداد میں روز اضافہ پاتا ہے اور وہ جگہ جہاں ویرانی پھیلائی گئی تھی
وہاں آج ایسی آبادی ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی..ماشاءاللہ لا قوۃ الا
باللہ..تبارک اللہ..
ہم
پر لازم ہے کہ ہم ان بلند مرتبت شہداء کرام کے ساتھ ”اظہار وفا“ کریں..کیا معلوم
اس عمل کی برکت سے ہمیں بھی ”اعلی قبولیت“ نصیب ہو جائے...چھبیس اور ستائیس رمضان المبارک....”مقابلۂ وفا“ کی جنونی محنت...اور ”شہداء غزوہ ہند سات مئی“ کے لیے اس
کا ایصال ثواب..خصوصا ”المؤمنات“......اپنی بانی باجی جان شہیدہ رحمۃ اللہ علیہا
کے لیے...اپنی محبت کا ثبوت..اپنی دعاء اور محنت سے دیں...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
16.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بڑی
اہم بات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی..اُن پر اپنی رحمتوں کا اضافہ فرمائیں..اُن کے درجات بلند فرمائیں...وہ اس
امت کے ”امین“ تھے..سابقین اولین میں سے تھے..مہاجرین کرام میں سے تھے..بدر اور بیعت
رضوان والے تھے..وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مایا ناز سپہ سالاروں میں سے
تھے..شام اور بیت المقدس کے فاتح تھے..حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ
عنہ..ان کا اسم گرامی ”عامر“ تھا...مگر ”ابو عبیدہ“ کہلاتے تھے..ان کے فضائل،
مناقب اور کارنامے اس قدر زیادہ اور اونچے ہیں کہ....مجھے ان کا نام مبارک لکھتے
ہوئے..سعادت، شرف اور خوشی کا احساس ہو رہا ہے..وہ لوگ جو دین کا تھوڑا بہت کام کر
کے تھک جاتے ہیں..یا خود کو کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں..یا اپنی خدمات کا بدلہ دنیا میں
چاہنے لگتے ہیں..ان کو اپنی اصلاح کے لیے حضرت سیدنا عامر ابو عبیدہ بن جراح رضی
اللہ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرناچاہیے..ان شاءاللہ کئی امراض سے افاقہ ہو جائے
گا..آج ان کا تذکرہ اس مقصد سے ہوا ہے کہ....انہوں نے ایک بڑے راز کی بات ارشاد
فرمائی ہے..وہ یہ کہ......
گناہ
ہو جانا ہلاکت نہیں ہے..ہلاکت یہ ہے کہ کوئی مسلمان گناہ کر کے یہ سمجھ لے کہ اب میری
مغفرت نہیں ہوگی......یعنی مایوس ہو جائے..اور فرمایا کہ گناہ کی ہلاکت یہ ہے
کہ....اس کے بعد انسان کوئی نیکی نہ کرے..
مطلب
یہ ہے کہ...اگر کسی مسلمان سے خدانخواستہ گناہ ہو جائے تو وہ فورا نیکی کرے..بلکہ
اپنی نیکیوں کو بڑھا دے..اس طرح وہ ہلاکت اور خسارے سے بچ جائے گا..
بہت
اہم بات ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے بڑی بشارت ہے..بے شک اللہ تعالی معاف
فرمانے سے نہیں تھکتے..نہیں اکتاتے..اس لیے کوئی گناہ گار کبھی توبہ، استغفار نہ
چھوڑے..بلکہ شیطان جس قدر زیادہ گناہ کروائے..مؤمن اسی قدر اپنی توبہ اور اپنا
استغفار بڑھاتا جائے..اور گناہ کے بعد اتنی زیادہ نیکیاں کرے کہ وہ گناہ بھی..اللہ
تعالی کی رحمت سے نیکی بن جائے..بس خطرہ ان کے لیے ہے جو گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھیں..یا
گناہ کو نیکی اور اپنا حق سمجھ لیں..اللہ تعالی ایسی حالت سے ہماری حفاظت فرمائیں...
(گزارش)
چند سال پہلے ”اہل اعتکاف“ کے لیے ایک بیان کی توفیق ملی تھی..احباب کی فرمائش
پر...وہ پیش کیا جا رہا ہے..خود بھی توجہ سے سنیں اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک
بھی پہنچائیں..جزاکم اللہ خیرا...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
17.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
”مقابلۂ
وفا“ کے تحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے عظیم نام سے...”مقابلۂ وفا“کے مبارک موقع پر...چند مختصر تحفے اور ہدایا
پیش خدمت ہیں...دیکھیں ایک مکتوب میں پورے ہوتے ہیں یا زیادہ میں..اللہ تعالی اس
مکتوب کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائیں..اور اس کا ثواب حضرت باجی جان شہیدہ اور
”شہداء غزوہ ہند“(سات مئی)کو اپنے فضل سے بڑھا چڑھا کر عطاء فرمائیں...
(۱) اپنی نماز اچھی کرنا چاہتے
ہیں تو..ہر نماز شروع کرنے سے پہلے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ لیا کریں..ویسے
بھی ”بسم اللہ“ کی بہت زیادہ عادت ڈالیں..ہر اچھا کام ”بسم اللہ“ کی طاقت اور برکت
سے شروع کیا کریں..نماز سے زیادہ اچھا کام کیا ہوگا؟..ایک امام صاحب نے شکایت کی
کہ نماز میں اور فاتحہ میں اٹک جاتا ہوں..زبان لڑکھڑا جاتی ہے..ان سے عرض کیا..نماز
کی نیت کے بعد ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ کر نماز شروع کیا کریں..الحمدللہ ان
کا مسئلہ فورا حل ہو گیا..یہ عمل نماز کے قبولیت اور توجہ کے لیے بھی نافع ہے..
(۲) جب بھی کسی مجلس میں..گاڑی
میں..یا کہیں بھی بیٹھیں تو ”بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ“ پڑھ لیا کریں..اس
مجلس میں بڑی خیر ہو جائے گی..غیبت جیسے خبیث گناہ سے حفاظت رہے گی ان
شاءاللہ..”رسولِ اللہ“کے ساتھ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پڑھ لیا کریں..پوری
دعاء یوں ہو گی..بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ
وسلم..اس عمل کے فوائد بے شمار ہیں..
(۳) جب بھی قرآن مجید کی تلاوت
شروع کرنے لگیں..ہمیشہ پہلے ”سورہ فاتحہ“ پڑھ لیا کریں..تلاوت کھل جائے گی..بڑی
برکت اور فتوحات ملیں گی ان شاءاللہ..جب کوئی حاجت ہو تو ایک بار یا تین یا سات
بار سورہ فاتحہ اور ایک بار درود ابراہیمی پڑھ کر دعاء کر لیا کریں کہ یا اللہ
سورہ فاتحہ کے وسیلے سے میرے گناہ معاف فرما اور میری یہ حاجت پوری فرما...یہ بہت
عجیب، طاقتور اور کرشماتی عمل ہے..اگر حاجت کوئی زیادہ مشکل اور سخت ہو تو ”فاتحہ“
کی تعداد بڑھا دیں..
(۴) اللہ تعالی نے زمین کو پیدا
فرمایا ہے..زمین کے کروڑوں نظام قائم فرمائے ہیں..کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی روشنی،
کبھی اندھیرا..کبھی تیز ہوا، کبھی حبس..کبھی پانی ہی پانی اور کبھی خشکی وغیرہ..انسان
کا جسم بھی مٹی سے بنا ہے..اللہ تعالی نے اس میں کروڑوں نظام رکھے ہیں..اگر ہماری
توجہ اپنی صحت اور طبیعت کی طرف مستقل ہو گئی تو بڑی پریشانی ہوگی..کیونکہ جسم میں
حالات بدلتے رہتے ہیں..کبھی بخار، کبھی ٹھنڈک، کبھی خون تیز، کبھی سست..کبھی پانی،
کبھی خشکی..اس لیے اچھا ہوگا کہ ذہن کو صحت اور طبیعت کی طرف لگانے کی بجائے ”مصروفیات“
پر لگا دیں..خود کو اتنا مصروف کر لیں کہ بیمار ہونے کا ٹائم ہی نہ ملے..انسان کو
اللہ تعالی نے کام کے لیے پیدا فرمایا ہے..اور کام اتنے ہیں کہ عمر چھوٹی پڑ
جائے..مثلا رات کے تین گھنٹے باقی ہیں..اس میں وضو، تلاوت، نوافل، صلوٰۃ التسبیح،
تسبیحات، دعاء، سحری کی پے در پے ترتیب ہوگی تو...توجہ بدن کی طرف جائے گی ہی نہیں..یہ
ایک چھوٹی سی مثال تھی..مقصد یہ ہے کہ..زندگی اللہ تعالی کے لیے وقف اور مصروف کر
دیں اور روز روز نئے میڈیکل ٹیسٹ کرا کے..خود کو ڈاکٹروں، حکیموں اور عاملوں کا
محتاج نہ بنائیں..باقی تحفے اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
18.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تُحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہم سب کو..”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا اہل بنائیں..”مقابلۂ وفا“کے
تحائف اور ہدایا کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں..اللہ تعالی قبول فرمائیں..نافع بنائیں..
(۱) جب اپنے بُرے اعمال کی وجہ
سے اللہ تعالی کے عذاب کا خطرہ محسوس ہو تو..استغفار بڑھا دیں..روزانہ کم از کم
بارہ سو یا چار ہزار بار...اور ان کلمات کی کثرت کریں..اہل علم نے لکھا ہے کہ ”بنی
اسرائیل“ ان کلمات کی برکت سے صدیوں تک عذاب سے بچے رہے..کلمات یہ ہیں:-
”مَاشَاءَ
اللّٰهُ، لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ، حَسْبُنَا الّٰلهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ“
ان
کلمات کے ورد کے اتنے فضائل اور فوائد ہیں کہ پورا رسالہ لکھا جا سکتا ہے..
(۲) اگر دنیا کے ”غنی ترین“
اور ”مالدار ترین“ انسان بننا چاہتے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس
دعاء کو اپنا معمول بنا لیں..یقین کریں دنیا کے مالدار ترین اور غنی ترین انسان بن
جائیں گے ان شاءاللہ..
”اَلّٰلهُمَّ
قَنِّعْنِيْ بِمَا رَزَقْتَنِيْ وَبَارِكْ لِيْ فِيْمَآ اَعْطَيْتَنِيْ وَاخْلُفْ
عَلٰى كُلِّ غَآئِبَةٍ لِّىْ بِخَيْرٍ“
ترجمہ:
یا اللہ مجھے جو دیا ہے اس پر مجھے قناعت
عطاء فرما دیں اور اس میں برکت عطاء فرما دیں اور میری ہر غائب چیز پر خیر کے ساتھ
نگران بن جائیں...
اس
دعاء کو جتنی کثرت، جتنے یقین اور جتنی عاجزی سے مانگیں گے اسی قدر نفع پائیں گے
جو جتنا مانگے گا وہ اتنا ”غنی“ ہوتا جائے گا..
(۳) اگر غصے کی بیماری ہو تو
روزانہ ایک سو بار”يَا عَفُوُّ يَا رَءُوْفُ“پڑھ کر سینے پر دم کریں..بالکل ٹھیک
ہو جائیں گےان شاء اللہ..اور اگر کسی عذاب والے گناہ میں مبتلا ہوں تو اسے روزانہ
تین سوبار پڑھا کریں..عجیب الہامی عمل ہے..
(۴) اگر شیطان حملہ آور ہو
جائے(حرام شہوت، خیانت، وسوسے، بددینی، بدگمانی، سخت بے چینی، درد، عبادت سے بد دلی
وغیرہ) تو فورا پڑھیں:-
”اَلّٰلهُمَّ
اخْسَأْ شَيْطَانِىْ وَفُكَّ رِهَانِىْ“
ترجمہ:
یا اللہ میرے شیطان کو ذلیل کر کے بھگا دیں اور میری گردن آزاد فرما دیں..اگر کسی
اور پر شیطان کو مسلط دیکھیں یا..کسی بچے کو سخت روتے دیکھے تو اس پر یہی دعاء یوں
پڑھ دیں:-
”اَلّٰلهُمَّ
اخْسَاْ شَيْطَانَهٗ وَفُكَّ رِهَانَهٗ“(عورت ہو تو شَیْطانَهَا..رِهَانَہَا)
حیران
کن تأثیر دیکھیں گے ان شاءاللہ..
(۵) اگر جنات یا عفریت حملہ کریں..جاگتے
ہوئے یا نیند میں تو یہ آیت چند بار پڑھیں فورا بھاگ جائیں گے ان شاءاللہ:-
”وَ
اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰـكِنَّ
اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ“[یوسف(۲۱)]
اور
یہ آیت بھی پڑھ سکتے ہیں..
”اَفَغَیْرَ
دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ
طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ“[العمران(۸۳)]
تحفے
تو ابھی کئی باقی ہیں..اور بڑے قیمتی ہیں..مگر مکتوب میں گنجائش نہ رہی..اللہ تعالی
حضرت باجی جان شہیدہ کو مغفرت، شہادت اور اکرام کا بلند مقام عطاء فرمائیں...اور
تمام ”شہداء کرام“ کو بھی..آمین یا ارحم الراحمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
19.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
خبریں
اور ہدیے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں علم نافع اور حکمت عطاء فرمائیں...الحمدللہ”مقابلۂ وفا“بہت ”باوفا“
رہا..اس میں انفاق، محنت، دعاء اور فکر کرنے والوں کو اللہ تعالی اپنے ”کامیاب“
اور ”محبوب“ بندوں میں ہمیشہ کے لیے شامل فرما دیں..مقابلے کی کامیابی کی خوشی اور
شکر میں تحائف اور ہدایا کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں..اللہ تعالی قبول فرمائیں..نافع
بنائیں..پہلے کچھ اچھی خبریں..
•
الحمدللہ انڈیا کا چھٹا سیٹلائٹ بھی راستے میں تباہ ہو گیا ہے..اب تک اس پروگرام
پر اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں..اور چھ کوششیں ناکام ہو چکی ہیں..اتنے پیسوں سے اپنی
غریب عوام کے لیے ”بیت الخلاء“ ہی بنا دیتے تو دنیا میں بدبو کچھ کم ہو جاتی..لیکن
دنیا میں بدبو پھیلانے کے لیے انڈیا کا ”بالی وڈ“ بھی مسلسل سرگرم ہے..مسلمان فلمیں
نہ دیکھا کریں..خصوصا انڈین فلمیں تو ایمان اور حیا کے لیے ”زہر قاتل“ کی طرح ہیں...
•
الحمدللہ پاکستان اور افغانستان میں عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے..دل سے دعاء کریں کہ
یہ ”جنگ بندی“ مستقل ہو جائے....خبریں اور بھی ہیں مگر اب تحائف...
(۱) اکثر مسلمان جو سخت مصائب
اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں..یہ دراصل ان کی ”غلط دعاؤں“ کا نتیجہ ہوتا ہے..بے
صبری اور جلد بازی میں معلوم نہیں کیا کیا مانگ لیتے ہیں..اور پھر ان ”دعاؤں“ کے
وبال کا شکار ہو جاتے ہیں..یہ بڑا اہم اور مفصل موضوع ہے..بس اتنا سمجھ لیں
کہ..”دعاء“ سب سے عظیم ذات کے ساتھ ”رابطہ“ ہوتا ہے..اور قبولیت کی گھڑی کا پتا نہیں
ہوتا..اس لیے ادب سے اور سوچ سمجھ کر مانگا کریں..بد دعاء سے پرہیز کریں..زیادہ
کوشش مسنون دعاؤں کی کیا کریں..ہر دعاء میں ”خیر و عافیت“ کا لفظ جوڑا کریں..اور
رمضان کے آخری لمحات میں اپنی غلط دعاؤں پر رو رو کر استغفار کریں کہ..یا اللہ جتنی
غلط اور نقصان دہ دعائیں مانگی ہیں وہ معاف فرما..اور ان کے وبال سے باہر
نکال..اور آئندہ ہمیشہ صحیح دعاء کی توفیق عطاء فرما...
(۲) جو خاوند اور بیوی چاہتے
ہوں کہ ان کے دل خیر کے ساتھ جڑ جائیں وہ چپکے سے ایک دوسرے کے لیے استغفار کیا کریں..زیادہ
سے زیادہ اور سچا استغفار..مثلاً..عورتیں یوں مانگیں..اَلّٰلهُمَّ اغْفِرْلِىْ
وَلِزَوْجِىْ اَسْتَغْفِرُالّٰلهَ لِىْ وَلِزَوْجِىْ..اور مرد یوں مانگیں..اَلّٰلهُمَّ
اغْفِرْ لِىْ وَلِزَوْجَتِىْ اَسْتَغْفِرُالّٰلهَ لِىْ وَلِزَوْجَتِىْ..الفاظ یاد
نہ ہوں تو اپنی زبان میں ایک دوسرے کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت اور معافی مانگیں..یہ
جس قدر زیادہ ہوگا..اسی قدر محبت بڑھے گی..اور ایک دوسرے کے عیب اور شکایات کسی
اور کے سامنے نہ کریں..لباس کو بے لباس نہ کریں..
(۳) رزق کی وسعت کے مزے لینے
ہوں تو اس دعاء کا روز کم از کم چار یا سات بار اور خصوصا جمعہ کے دن اہتمام کریں..
اَللّٰهُمَّ
يَا غَنِيُّ يَا حَمِيْدُ، يَا مُبْدِئُ يَا مُعِيْدُ، يَا رَحِيْمُ يَا وَدُوْدُ اَغْنِنِيْ
بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَبِطَاعَتِكَ عَنْ مَّعْصِيَتِكَ وَبِفَضْلِكَ
عَمَّنَ سِوَاكَ..
اول
آخر کم از کم چار بار درود شریف...یہ بڑا عجیب اور مجرب عمل ہے..مغرب سے جمعہ شریف
اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
30.06.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
انا
للہ وانا الیہ راجعون
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
الباقی........
”یا
باقی انت الباقی لیس الباقی الا اللہ“
بندہ
کے بہت ہی پیارے بڑے بھائی جان....حکیم محمد طاہر انور صاحب...انتقال فرما گئے ہیں..
”انا
للہ وانا الیہ راجعون“
”اللھم
لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ“
ان
کی نماز جنازہ ان شاءاللہ...ابھی رات گیارہ بجے جامع مسجد عثمان و علی رضی اللہ
عنہما میں ادا کی جائے گی...وہ اس مسجد کے متولی اور بے لوث خادم تھے...”مسجد“ سے
”مزار“ تک ان کا یہ اچانک سفر دل کو زخمی کر گیا ہے...ہم اللہ تعالی کی تقدیر پر
راضی ہیں..
اور
کہتے ہیں..
انا
للہ وانا الیہ راجعون..
آس
پاس والے اہل ایمان نماز جنازہ میں بھرپور شرکت فرمائیں..اور دور والے ایصال ثواب
کا اہتمام کریں.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
19.04.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ذوالقعدہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنا فضل اور اپنی رضاء نصیب فرمائیں..ذوالقعدہ کا چاند ہو گیا ہے.....آج یکم
ذی القعدہ ہے..رات کو رہ جانے والے معمولات ظہر کا وقت داخل ہونے تک ادا کیے جا
سکتے ہیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
05.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
پانچ
باتیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہی ہر کام بہترین بنانے والے ہیں..
”وَ
كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا“
ایمان
والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے..
”حَسْبُنَا اللّٰهُ
وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ“
(۱) *حجامہ کا سنہری موقع* آج ”5مئی“بروز منگل...”ذوالقعدہ“کی سترہ تاریخ
ہے..چاند کی سترہ تاریخ اور منگل کا دن جمع ہو جائے تو...”حجامہ“کا نفع اور فائدہ
کئی گنا بڑھ جاتا ہے...اللہ تعالی ہم سب کو اس سے بھرپور ”فائدہ“ نصیب فرمائیں...
(۲) گزشتہ تین دن”المؤمنات“ کے
کام پر اللہ تعالی کی خصوصی رحمت اور نصرت نازل ہوئی..والحمدللہ رب العالمین.......ماشاءاللہ
لا قوۃ الا باللہ..ہزاروں خواتین تک ”دین کامل“ کا پیغام پہنچا..مزید دو ہزار دو
سو سے زائد خواتین کو..” المؤمنات“ کی رکنیت نصیب ہوئی..اللہ تعالی ہمیں اور سب
”مؤمنات“ کو اپنا فضل اور اپنی رضاء نصیب فرمائیں...
(۳)” اہل جماعت “ 7/مئی کے
حوالہ سے پرجوش اور منتظر ہیں..اللہ تعالی ان کے ”ایمانی جذبات“ کو مزید قبولیت
اور ترقی عطاء فرمائیں..ہم لوگ اپنی طرف سے مقرر کر کے کوئی دن نہیں مناتے..اس لیے
کوئی ”مرکزی اجتماع“ نہیں رکھا گیا..اپنے اپنے مقام پر البتہ..اپنی سہولت سے
اجتماع..اور ایصال ثواب کی مجالس رکھ لیں..ہمارے
”شہداء کرام“ دین کا کام کرتے کرتے..اس بلند مقام پر پہنچے ہیں..ہم سب بھی دین کے
کام میں چھٹی اور ناغہ نہ کریں....مکمل اخلاص، شرح صدر اور اطمینان سے کام کرتے رہیں...
(۴) ہمارے مخلص، صالح، گمنام
اور بے حد قیمتی ساتھی...حضرت مولانا سلمان ازہر صاحب...ٹریفک حادثے میں شہید ہو
گئے ہیں..انا للہ وانا الیہ راجعون..اللهم اغفرله، وارحمه، اللهم لا تحرمنا اجره
ولا تفتنا بعده، اللهم اجرنا في مصيبتنا واخلف لنا خيرا..
انڈیا
والے....ان کی حادثاتی شہادت پر خوشیاں منا رہے ہیں..جس سے ان شاءاللہ ان کے درجات
مزید بلند ہوں گے...دشمن، ”دشمنی“ کرتا ہے تو یار اپنی ”یاری“ بڑھا دیتا ہے..
ان
کے لیے ”ایصال ثواب“ کی گزارش ہے..
(۵) حرمت والے مہینے چل رہے ہیں...ان
کا احترام کریں..حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ”صلوٰۃ و سلام“ کی
کثرت کریں...استغفار بہت بڑھا دیں...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
06.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقام
علم و شہادت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے ”شہداء“ کو جو ”مقام“ عطاء فرمایا ہے..اگر دنیا کے انسان اس کی ایک جھلک
دیکھ لیں تو پھر....وہ اس کی طرف یوں دوڑیں جیسے ماں...اپنے جدا ہونے والے بچے کو
واپس آتا دیکھ کر دوڑتی ہے......ہمارے زمانے کے اکابر علماء میں سے..ایک ”عالم
ربانی“ کل ”چارسدہ“ میں شہید کر دیے گئے..ان کی جدائی پر...
..انا
لله وانا اليه راجعون..اللهم لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده..
مقبول
محدث، مرجع مدرس، پر اثر خطیب و واعظ، مقام محبوبیت پر فائز...ولی کامل، عالم با
عمل، علم کی بلندیوں کے مسافر، اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک..حضرت سیدنا و مولانا
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی اور عاشق...حضرت اقدس مولانا محمد ادریس
صاحب..نور اللہ مرقدہ..وہ اپنے گھر سے تیار ہو کر نکلے...طلبہ آنکھیں بچھا کر ان کی
”خالی مسند“ کو مشتاق نظروں سے دیکھ رہے تھے....مگر آج انہوں نے ”مسند حدیث“ پر نہیں..”
مسند شہادت“ پر ”رونق افروز“ ہونا تھا....طلبہ اور امت کے اہل ایمان روتے رہ گئے
جبکہ..حضرت مسکراتے ہوئے اونچی پرواز فرما گئے...
دین
کے علم کا بہت اونچا مقام ہے..قاتلوں، ظالموں اور منافقوں کا کیا پتا؟ اس دین کی
پہلی وحی....”علم دین“ کے حکم کی نازل ہوئی..اور پہاڑ کی بلندی پر نازل ہوئی....”اِقْرَاْ
بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ“....اس لیے علماء کا مقام ہمیشہ کے لیے بلند
ہے..کسی کو اس کی سمجھ ہوتی تو وہ ان پر گولی چلانے سے پہلے ہی شرم اور شرمندگی سے
مر جاتا...مگر دنیا میں ”بدبختوں“ کی کوئی کمی نہیں..وہ ”اللہ والوں“ پر زبان بھی چلاتے ہیں..اور گولیاں بھی برسا دیتے
ہیں..مگر گولیاں کھانے والے اونچے اُڑ جاتے ہیں..جبکہ گولیاں مارنے اور مروانے
والے نیچے گر جاتے ہیں...”اسفل سافلین“سے بھی نیچے..”تحت الثرٰی“سے بھی نیچے...
شہید
کی روح جب نکلتی ہے تو وہ اپنے اونچے مقام کو بھی دیکھ لیتا ہے..اور اپنے قاتلوں
اور ان کی بدبختی کو بھی..چنانچہ وہ مسکرا دیتا ہے..اللہ تعالی کی ہر بات حق
ہے..فرمایا شہید کو ”مُردہ“ مت کہو..شہید کو مُردہ نہ سمجھو..اس پر کوئی کہہ سکتا
تھا کہ شاید یہ ان کے احترام اور اعزاز کے لیے حکم ہے..فرمایا نہیں بلکہ وہ ”زندہ“
ہے..
یا
اللہ وہ زندہ ہے تو بولتا کیوں نہیں؟ چلتا کیوں نہیں؟..فرمایا..تمہیں اس کی زندگی
کا ”شعور“ نہیں..وَّ لٰـكِنْ
لَّا تَشْعُرُوْنَ..یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ ہمیں شہید کی زندگی کا ”شعور“ نہیں..شعور
ہوتا تو اسے دفن کون کرتا؟ اور بہت سے تکوینی راز بھی کھل جاتے..عام زندہ آدمی تو
زیادہ سے زیادہ ملکوں کا سفر کر سکتا ہے..یا زمین کے مدار میں موجود سیارچوں
کا..جبکہ شہید تو ”جہانوں“ کا سفر کرتا ہے..
..دیکھا
نہیں..حقیقی شہداء کے قاتل کیسے برباد ہوتے ہیں؟..آخر پچھلے سال (10) مئی کو انڈیا
کیوں چوہے کی طرح کانپ رہا تھا....جل رہا تھا...ان شاءاللہ ”حضرت“ کے قاتلوں اور
ان کے سرپرستوں کا انجام بھی بہت عبرت ناک ہوگا....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
09.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اور
تم میں سے کچھ کو.....
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے بھاری انعامات میں سے ایک انعام کا تذکرہ...سورہ اٰل عمران کی آیت (۱۴۰) میں موجود ہے...آیت مبارکہ
کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں...
(اے
ایمان والو) اگر تمہیں زخم (اور نقصانات) پہنچے ہیں تو (اس سے پہلے تمہارے ہاتھوں
سے) ان کافروں کو بھی زخم (اور نقصانات) پہنچ چکے ہیں..اور ہم دنوں کو لوگوں کے
درمیان پھیرتے رہتے ہیں اور یہ (دشمنوں کے ہاتھوں سے تمہیں تکلیف پہنچنے کا
معاملہ) اس لیے ہوتا ہے تاکہ اللہ تعالی ایمان والوں کی پہچان کرا دے اور تم میں
کچھ لوگوں کو شہادت کا مقام عطا فرمائے اور اللہ تعالی ظالموں سے محبت نہیں فرماتے
[اٰل عمران (۱۴۰)]
آیت
مبارکہ اور اس کے ترجمے کو دو چار بار غور سے پڑھیں..آپ کو سات مئی 2025 کا پورا
واقعہ سمجھ میں آ جائے گا......اللہ اکبر کبیرا..کیسی عجیب رات تھی..اوپر سے
آگ..اور عرش سے خوشبو برس رہی تھی..خوفناک دھماکے مگر ان کے درمیان اٹھنے والے
”اللہ اکبر“ کے نعرے..عجیب مناظر تھے..بالکل ماضی کے مناظر کی جھلک..قرآن مجید کے
بیان فرمودہ مناظر کا عکس..ارادہ بنا کہ اُن آیات کو لکھ دوں جن کا فیض اور عکس
اُس دن...جامع مسجد سبحان اللہ پر اُتر رہا تھا..مگر مکتوب میں اتنی گنجائش نہیں
ہوتی...بس ایک آیت مبارکہ کا ترجمہ لکھ دیا ہے اس میں بہت کچھ ہے..اللہ تعالی جو
تم پر کبھی..کافروں کا وار چلنے دیتے ہیں تو..یہ اس لیے نہیں کہ وہ حق پر ہیں..یا
نعوذ باللہ..وہ اللہ تعالی کے محبوب ہیں..بلکہ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے
تم میں سے کچھ کو ”شہادت“ سے نوازنا ہوتا ہے..اور کچھ کو ایمان کامل سے....وہ ایمان
جو آزمائش کی آگ میں مسکراتا ہے اور راضی رہتا ہے..
دشمنوں
کے اس بیس منٹ کے بزدلانہ حملے میں..الحمدللہ اللہ تعالی نے بہت قیمتی تحفے قبول
فرمائے..چھینا کچھ نہیں..مگر دے بہت کچھ دیا..
اپنے
”شہداء کرام“ کی قسمت پر رشک آتا ہے..اور ان کی میٹھی یادوں کے زخم دل کو چیرتے ہیں..تین
مساجد شہید ہوئیں..وہ بھی واپس تشریف لے آئیں..مزید بارہ مساجد اور تعمیر ہو گئیں..معصوم
شہید بچوں نے..دشمن کو تباہ و برباد کیا تو شہید بہنوں بیٹیوں نے المؤمنات کا لشکر
کھڑا کر دیا..دعوت ایمان کو نئی زندگی ملی..اور دیوانوں کی تعداد میں الحمدللہ بے
پناہ اضافہ ہوا....ہاں بے شک رب تعالی نے سب کچھ سمجھا دیا ہے..اللہ تعالی ہمیں
سمجھنے والا بنا دیں.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
17.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بازارِ
عِشْق
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کا شکر..بے حد شُکر....عشق کا بازار لگ گیا...سچے عاشقوں کو مبارک...دل کی
گہرائی سے مبارک-:-
”وَ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ“
ترجمہ:
اور وہ جو ایمان والے ہیں ناں وہ اللہ تعالی سے بہت ”شدید مَحَبَّت“ رکھتے ہیں....
کبھی
تنہائی ملے..آنسو نصیب ہوں..دل خواہشات سے پاک ہو تو..اللہ، اللہ، اللہ..پڑھتے جائیں
اور کہتے جائیں اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ..اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ، اَشَدُّ حُبًّا
لِّلّٰهِ..
الحمدللہ..عشرہ
ذی الحجہ کا آغاز ہو گیا ہے...فقیروں کے زخمی دلوں پر ٹھنڈک پڑی ہے..اب تو محبت،
محبت اور محبت..ہر عمل ان کو محبوب..محبوب ہی نہیں ”محبوب ترین“..اللہ تعالی کا
شاہی اعلان...شہنشاہی انعام...اب مٹی بھی سونا...اور سونا ہیرے...ہائے بے چارہ
سونا..بے چارے ہیرے..ان کی ”محبت“ کے مقابلے میں کیا قیمت؟ مگر دنیا کے اندھیرے میں
بات سمجھانے کے لیے انہی کی مثال دینی پڑتی ہے....”عشرہ ذی الحجہ“ کے فضائل کا
”علم“ تو اکثر مسلمانوں کو ہے..مگر جب تک ”علم“ پر ”حکمت“ کی آنکھ نہ
کُھلے..اُسوقت تک اونچی باتیں دلوں میں نہیں اُترتیں....قرآن و سنت میں غور کریں
تو ان دنوں کی اتنی فضیلت ہے کہ....کوئی مسلمان ایک لمحہ ضائع نہ کرے..ہر سانس کے
ساتھ نیکی...ہر سانس کے ساتھ تکبیر، تسبیح، تہلیل...اے مسلمانو! یہ دن گزارنے کے
نہیں کمانے کے ہیں..بچانے کے نہیں لٹانے کے ہیں..تھکنے کے نہیں تھکانے کے ہیں.........ہو
سکے تو ”افضل ایام الدنیا“ کتاب کا مطالعہ فرما لیں..
بندہ
کے لیے بھی دعاء فرما دیں...اللہ تعالی اس ”بازار عشق“ سے وافر حصہ مجھے اور آپ سب
کو عطاء فرما دیں....اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو اس بازار کی سب سے قیمتی چیز نصیب
فرما دیں....اور وہ چیز ہے.....اللہ تعالی کی سچی اور مقبول محبت...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
18.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مَحبَّتْ
کی بارش
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کو.....”عشرۂ ذی الحجہ“ کے اعمال...بہت زیادہ محبوب ہیں...آئیے آج اس بات کو
سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں...علم سمجھنا اور سمجھانا بھی بڑا نیک عمل ہے..حضرت سیدنا
و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ دیکھیں! فرمایا
”مَا
مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ
الْأَيَّامِ الْعَشْرِ“
دنوں
میں سے کسی بھی دن کا ”نیک عمل“....اللہ تعالی کے ہاں زیادہ محبوب نہیں...ان دس
دنوں کے عمل سے..
یہ
تو ہوا لفظی ترجمہ....خلاصہ اس کا یہ نکلے گا کہ..ان دس دنوں کے نیک اعمال..اللہ
تعالی کو باقی تمام دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں.....یعنی ایک مسلمان کو پورے
سال میں چاند کے حساب سے (355) یا (354) دن ملتے ہیں..ہر مسلمان ان دنوں میں نیک
اعمال کرتا ہے..روزانہ نمازیں، کبھی روزے، زکوۃ..جھاد..انفاق..ذکر اذکار، صدقات وغیرہ.....مؤمن
کا ہر نیک عمل اللہ تعالی کو ”محبوب“ ہے..مگر ”ذوالحجہ“ کے پہلے دس دنوں...عشق و
محبت کے پیاسوں کے لیے ”لوٹ بازار“ لگا دیا جاتا ہے..اب اس کا ہر نیک عمل....اللہ
تعالی کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے بھی زیادہ محبوب ہوتا ہے..یعنی ایک بار ”سبحان
اللہ“ کہنے پر..”اللہ اکبر“ بولنے پر...وہ ”محبت الٰہی“ برستی ہے جو باقی دنوں کے
بڑے بڑے مشکل اعمال پر بھی نہیں برستی....اب غور کریں...حدیث شریف میں”أَحَبُّ“ کا
لفظ آیا ہے..اس کا ترجمہ ہے ”زیادہ محبوب“...یہ نہیں فرمایا کہ...ان دنوں کے اعمال
زیادہ ضروری ہیں یا..زیادہ افضل ہیں..یا زیادہ قیمتی ہیں یا..زیادہ اجر والے ہیں..بلکہ
فرمایا ”زیادہ محبوب“ ہیں...اللہ اکبر..”مَحبَّتْ“ کا لفظ دل کے تار ہلا دیتا
ہے..کوئی سچا عاشق ہو تو وہ ”أَحَبُّ“ کا لفظ پڑھ کر ”وجد“ میں آجائے..کیونکہ اصل
چیز تو ان کی ”مَحبَّتْ“ ہے..ارے ”مَحبَّتْ“ مل جائے تو پھر اور کیا چاہیے؟ پھر تو
نہ کوئی پوچھ تاچھ نہ کوئی حساب کتاب..کوئی اپنے ”محبوب“ سے بھی حساب کتاب کرتا
ہے؟ محبوب کو تو بے حساب دیا جاتا ہے..غور کریں..”أَحَبُّ“ کے لفظ نے سارے جھگڑے
بھی مٹا دیے کہ رمضان افضل ہے یا یہ دس دن؟..بابا رمضان، رمضان ہے..اور یہ عشرہ،
عشرہ ہے..وہاں رحمت و مغفرت کا دریا موجیں مار رہا ہے اور فرض روزے ادا ہو رہے
جبکہ..اس عشرہ میں مَحبَّتْ کے جام بھر بھر کر پلائے جا رہے ہیں..اور ہر اچھی ادا
پر ان کی طرف سے مَحبَّتْ برستی ہے..ہر اچھا قول، ہر اچھا خرچ، ہر اچھی عادت، ہر
اچھا عمل..
یا
اللہ ہم نااہل ”پیاسوں“ کو بھی...اپنی مَحبَّتْ کا شربت پلا دیجئے...
یاد
رکھیں...اس عشرہ میں ”مَحبَّتْ“ کا سب سے بڑا ذخیرہ...حُجّاج کو ”حج“ میں..اور باقی
مسلمانوں کو ”قربانی“ سے ملتا ہے..قربانی میں بخل نہ کریں..بڑھ چڑھ کر واجب اور
نفل قربانی کر کے...”مقابلہ مَحبَّتْ“ میں آگے آگے رہیں....
”حدیث
مَحبَّتْ“ کی باقی تشریح اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
<مکتوب خادم>
پیار کا موسم
السلام علیکم ورحمة اللہ
وبرکاته...
اللہ تعالی نے اپنے حبیب
صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو ”رمضان المبارک“ عطاء فرمایا..”عشرہ ذی الحجہ“ عطاء
فرمایا..”جمعہ شریف“ عطاء فرمایا...”عیدالفطر“ اور ”عید الاضحیٰ“ عطاء فرمائی...والحمدللہ
رب العالمین..
حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ...کسی بھی دن کے اعمال صالحہ...اللہ تعالی کے نزدیک
عشرہ ذی الحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں..تو صحابہ کرام نے پوچھا...یا رسول
اللہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا...جہاد
فی سبیل اللہ بھی نہیں..یعنی ان دنوں کا ہر عمل صالح جہاد سے بھی زیادہ محبوب
ہے..ہاں البتہ..ایک صورت مستثنیٰ فرمائی..وہ یہ کہ کوئی شخص اپنا مال اور اپنی جان
لے کر جہاد میں اترا....مال بھی قربان ہو گیا..جان بھی قربان ہو گئی..بس اس کا
عمل.....ان دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہے...یہ حدیث بخاری شریف اور دیگر کتب میں
سند صحیح کے ساتھ موجود ہے...تفصیل اس کی بہت ہے مگر..آئیے اختصار کی کوشش کرتے ہیں..
(۱) اعمال صالحہ کے زیادہ
محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ..وہ عمل کرنے والا اللہ تعالی کی زیادہ محبت اور توجہ
پاتا ہے..
(۲) صحابہ کرام کی دینی تربیت
کا یہ نتیجہ تھا کہ..وہ جہاد فی سبیل اللہ ہی کو اللہ تعالی کا سب سے محبوب ترین
عمل سمجھتے تھے..اس لیے انہوں نے سؤال عرض کیا...فرمایا گیا کہ اس دس روزہ ”بازار
عشق“ کا قانون الگ ہے..اللہ تعالی ہمیں بھی حضرات صحابہ کرام والا جہادی نظریہ نصیب
فرمائیں...
(۳) یہ دس دن کا ”بازار عشق“
دراصل اللہ تعالی کے وسیع پیار کا موسم ہے..ہر بوڑھا، بچہ، عورت، مرد اور معذور
مسلمان اس میں محبت کے جام بھر بھر کر پی سکتے ہیں..جہاد عورتوں، معذوروں پر فرض
نہیں (سوائے چند صورتوں کے)
(۴) ان دس دنوں کی ”قدر و قیمت“
کا بڑھ جانا...باقی دنوں کے اعمال کی قیمت نہیں گھٹاتا..
ہر دن، ہر رات، ہر عمل
صالح اللہ تعالی کو محبوب ہے..بس یہ ان کا فضل اور سخاوت کہ ان دنوں کے اعمال کی
قدر بڑھا دی..اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بس ان دنوں ”اعمال صالحہ“ کریں اور باقی
دنوں میں چھوڑ دیں...بلکہ مطلب یہ ہے کہ..ان دنوں میں ”اعمال صالحہ“ بڑھا دیں..
(۵) ان دنوں کے ”اعمال صالحہ“
کو بڑھانے کے کئی طریقے ہیں..مثلاً نیت...توجہ...فکر...اعمال صالحہ کی
معلومات....” احب الأعمال الى الله“ کا زیادہ اہتمام......اہل علم تو ان پانچ
الفاظ سے پوری بات سمجھ چکے ہوں گے...باقی جو میری طرح ”اُمّی“ ہیں..ان کے لیے تفصیل
اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ....
آج کی آخری بات یہ ہے کہ
جو والدین کا حق ادا نہیں کر سکے اور والدین وفات پا چکے ہیں تو تلافی کا بہترین
ذریعہ والدین کی طرف سے ”قربانی“ ہے..اس کا اجر و ثواب عام دنوں کی ہزار دیگوں سے
بھی بہت بڑھ کر ہے.....ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله الاالله
محمد رسول الله
20.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بھائی
حذیفہ شہید رحمۃ اللہ علیہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی زیادہ توبہ کرنے والوں سے ”مَحبَّت“ فرماتے ہیں..
”اِنَّ
اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ“
اے
عظیم مسلمان بھائیو..بیٹو! بزرگو! اللہ تعالی کی ”محبت“ اور ”پیار“ کے دن چل رہے ہیں..نور
والی راتیں چل رہی ہیں..اپنے گناہ چھوڑنے..استغفار کے آنسو بہانے، توبہ کرنے اور
اپنے رب کو منانے کا بہترین موقع ہے..ہمت کریں..ایمان اور ایمانداری اختیار کریں...
اب
آئیے کل کے مکتوب کی بات آگے چلاتے ہیں....(۱) ان دس دنوں کے کچھ اعمال
تو ایسے ہیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال و عمل سے ارشاد فرمائے
ہیں مثلاً •حج بیت اللہ •قربانی •تکبیر، تھلیل، تحمید کی کثرت..یعنی اللہ اکبر، لا
الہ الا اللہ، الحمدللہ....اچھا ہوگا روز ہزار بار تیسرا کلمہ..یا تین سو بار..اور
تین سو بار تکبیر اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ
الحمد • نو تاریخ تک روزانہ روزہ...خصوصاً عرفہ کے دن کا روزہ..جن کے ذمہ رمضان
المبارک کے قضا روزے ہوں وہ ان دنوں...اُن کو ادا کر لیں...فرض بھی ادا ہوگا..محبت
بھی زیادہ ملے گی ان شاءاللہ...اسی طرح کئی اعمال احادیث میں آئے ہیں..کتاب ”افضل
ایام الدنیا“ میں دیکھ لیں...(۲) اعمال
صالحہ بڑھانے کے لیے کل پانچ طریقے عرض کیے تھے • `نیت` نیت کے ذریعہ ایک مسلمان
اپنے ہر اچھے عمل کو عبادت بنا سکتا ہے..اور ہر عبادت کی قیمت بڑھا سکتا ہے..اس لیے
ان دنوں اللہ تعالی کی رضا کی نیت ہر عمل میں تازہ کریں...اسی طرح ہر خدمت، حتی کہ
کھانا پکانے اور روزی کمانے میں بھی..اللہ تعالی کی رضا کی نیت کر لیں • `توجہ` اپنے اعمال صالحہ میں اللہ تعالی کی طرف
توجہ بڑھا دیں..مثلا سجدہ میں ”سبحان ربی الاعلی“...مکمل توجہ، عاجزی اور محبت سے
پڑھا کریں..یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے..اسی طرح سب اعمال میں کریں...یاد رکھیں
”توجہ“ سے ”توجہ“ ملتی ہے • `فکر` ان دنوں اور راتوں میں خود پر یہ فکر سوار رکھیں
کہ میں نے زیادہ سے زیادہ نیکی کرنی ہے..گناہ سے بچنا ہے..محبوب کی محبت پانی
ہے..فکر سے بہت سے دروازے کھلتے ہیں..سوچا کریں اس ٹائم کون سی نیکی کروں؟• `اعمال
صالحہ کی معلومات` قرآن و سنت میں دیکھیں کہ اعمال صالحہ کون سے ہیں؟..خصوصا ہمیشہ
باقی رہنے والے اعمال معلوم کریں اور ان کو اپنائیں..اور یہ دیکھیں کہ کون سا ”عمل
صالح“ ابھی تک میں نہیں کر سکا..وہ اب کرلوں• `احب الاعمال الی اللہ` کچھ اعمال ایسے
ہیں، جو ہر حال میں..اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہیں..مثلاً وقت پر فرض نماز..جہاد
فی سبیل اللہ..والدین کی خدمت وغیرہ..ان اعمال کو ان ایام میں زیادہ کریں
تاکہ”اَحبَُ“ جمع (یعنی پلس) ”أَحبُّ“ مل جائے..اس کی کچھ تفصیل اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ..
`ایک اہم بات` ہمارے پیارے بھائی حذیفہ شہید
فرمایا کرتے تھے..شیخ! کراچی والے تو ”مکتوب“ سے ”اسٹارٹ“ ہوتے ہیں..ہفتے میں ایک
ضرور کر دیا کریں..آج کا مکتوب بھائی حذیفہ شہید کے ایصال ثواب کے لیے کراچی والوں
کو ہے کہ...نفل قربانی مہم میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیں...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اَحَبُّ
+ أَحَبُّ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی بہت بڑے، سب سے بڑے..اللہ اکبر کبیرا..ہم بہت چھوٹے، ادنی، احقر، اصغر..مٹی
کے کھلونے..ایک پتھر سر پر لگ جائے..یا ڈینگی مچھر کاٹ لے..یا چیونٹی ناک اور کان
میں گھس جائے تو مر جاتے ہیں....اللہ تعالی ”باقی“....ہم ”فانی“....وہ بے عیب،
بےنقص، بےکمی اور ہم سر تاپا عیب ہی عیب...اورکمزوری سے بھرے ہوئے...اللہ تعالی
اپنی کوئی نعمت..ہمیں دوسروں سے تھوڑی زیادہ دے دیتا ہے تو ہم اکڑ جاتے ہیں..سنبھالے
نہیں سنبھلتے..مال، حُسن، عقل، اختیارات اور طاقت...مگر پھر یہ سب کچھ ختم ہو جاتا
ہے..اور ہم مٹی میں دفن کر دیے جاتے ہیں..
دنیا
بہت چھوٹی جگہ ہے..بےحد چھوٹی..عارضی، وقتی، فانی....جبکہ آخرت بہت بڑی ہے..دائمی،
باقی....ہمیشہ رہنے والی..وہاں ہر جنتی کی اپنی الگ سلطنت ہوگی، بادشاہت ہوگی....”وَّ
مُلْكًا كَبِیْرًا“.....جنتی فارغ نہیں ہوں گے...بلکہ بڑی بڑی سلطنتوں کے بااختیار
حاکم ہوں گے.......فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ....انہیں اپنی جنت میں یہ اختیار حاصل
ہوگا کہ وہ کہیں گے ”ہو جا“..تو ہو جائے گا...”جنت“ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کا
بہت عظیم جہان ہے..اللہ تعالی کے مخلص بندے ہمیشہ اللہ تعالی کی ”محبت“ کی تلاش، پیاس
اور جستجو میں رہتے ہیں...حضرات صحابہ کرام اسی ”محبت“ کی تلاش میں..حضرت آقا محمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے....”أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى
اللَّهِ“..یا رسول اللہ کون سا عمل...ہمارے رب تعالی کو زیادہ محبوب ہے؟...ان کے
اس سؤال پر ان میں سے ہر ایک کے حسب حال...محبَّت کے راز ارشاد فرما دیے جاتے..
یہ
”علم و معرفت“ کا پورا ایک باب ہے..آپ قرآن مجید میں دیکھیں کہ..کن اعمال پر اللہ
تعالی نے ”محبت“ کا اعلان فرمایا ہے...اسی طرح احادیث مبارکہ میں دیکھیں کہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کن اعمال اور اقوال کو.....”احب الأعمال“..اور ”احب
الأقوال“ قرار دیا ہے...”عشرہ ذی الحجہ“ میں ہر عمل اللہ تعالی کے نزدیک ”احب
الاعمال“ ہے...یعنی محبوب ترین عمل....اب اگر ہم ان دنوں میں...ان اعمال کا اہتمام
کریں جو ہر حال میں ”احب الاعمال“ ہیں تو.....ہمارے پاس محبت ہی محبت جمع ہو جائے
گی..ہم اللہ تعالی کی محبت کے بے حد محتاج ہیں..بے حد مشتاق ہیں...وہ اتنے عظیم ہو
کر ہم سے محبت فرمائیں تو اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے؟..قرآن و حدیث
میں ”احب الاعمال“ دیکھیں..پھر خاص ان دنوں میں بھی...ان کا اہتمام کریں..تب ہمیں
احب + احب....یعنی..محبوب ترین..جمع (پلس)...محبوب ترین عمل نصیب ہو جائے گا..جبکہ
”یوم النحر“ یعنی دس ذی الحجہ کی قربانی تو.....اَحبُّ، +اَحبُّ، +اَحَبُّ
ہے..اللہ تعالی ہمارا سینہ کھول دیں..
مغرب
سے جمعہ شریف....مقابلہ حُسن...مقابلۂ محبت برائے نفل قربانی..مرحبا!.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
22.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
معاہدہ
سیدنا آدم (علیہ الصلٰواۃ والسلام)
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کا شکر....ایمان پر...اسلام پر...قرآن پر..حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
پر..تمام ملائکہ پر..تمام انبیاء کرام پر..تمام آسمانی کتابوں پر..آخرت کے دن
پر..اور تقدیر پر کہ..ہر تقدیر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے..
① ان مبارک اور پیارے
دنوں میں کل بروز جمعرات..ایک عظیم نعمت نصیب ہوئی..ایک پورا ہندو خاندان....”نور
اسلام“سے ”منور“ہوا..(9) افراد نے اسلام قبول کیا..والحمدللہ رب العالمین..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ...صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..
② ہمارے پیارے غزہ
کے عظیم مسلمان..پکے سچے مسلمان..مظلوم و مجبور مسلمان..ان تک ”ہدیہ“پہنچانے والے
سب سے معتمد اور امانتدار ادارے نے ”قربانیوں“ کے لیے رابطہ کیا تھا...ایک حصہ
`235` ڈالر..پوری گائے `1645` ڈالر..یعنی ایک پوری گائے تقریباً چار لاکھ باسٹھ
ہزار `4٬62000` روپے...الحمدللہ ثم الحمدللہ..ایک سو گائے انکی خدمت میں پیش کرنے
کی سعادت..اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائی..اللہ تعالیٰ قبول فرمائے..ان ایک سو گائے میں
ممکن ہے وہ بچھڑا بھی..غزہ والے تناول فرما لیں..جسکی تلاش میں یہودی مارے، مارے
پھرتے ہیں...
اللہ
اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد...
③ کل بروز ہفتہ..اور
پرسوں بروز اتوار....”مقابلۂ محبت“ ہے..نفل قربانی زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی
محنت..اور اس محنت کا ایصال ثواب..حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم..سے لے
کر حضرت سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام تک تمام انبیاء کرام علیہم الصلٰواۃ
والسلام کو......بھائیو، بہنو! بڑے دن ہیں..بڑا مقابلہ ہے..اور بڑا ایصال ثواب
ہے..جو جتنی محنت کرے گا اسیقدر نقد اور آخرت میں انعام پائے گا ان شاءاللہ..
ہم
مسلمان ہیں...ہمارا معاہدہ..تمام انبیاء کرام پر ایمان لانے کا ہے..کسی ایک نبی کا
انکار بھی کفر ہے.......یہ معاہدہ سیدنا آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام...تا سیدنا محمد
صلی اللہ علیہ وسلم ہے....یہی کامیابی والا معاہدہ ہے....یہی اصل معاہدہ ہے....
....
اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
23.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
انتظار
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں زیادہ سے زیادہ...” مقبول سجدوں“ کی توفیق عطاء فرمائیں....
① اللہ تعالی ان سب
مسلمانوں کو...دارین کی عزت، سعادت اور عافیت عطاء فرمائیں..جو اچھی بات سنتے ہیں..اور
مانتے ہیں..الحمدللہ آج ”نفل قربانی“ مہم کی بڑی اچھی کارگزاری آرہی
ہے..الحمدللہ..جماعت کا مالیاتی نظام ”امانت“ پر مبنی ہے..ایک ایک قربانی کی نگرانی
کی جاتی ہے..اور اسے محنت کے ساتھ مستحقین تک پہنچایا جاتا ہے..ماشاءاللہ لا حول
ولا قوۃ الا باللہ...
② ” واجب قربانی“ دینے
کے لیے بہت سے مسلمان رابطہ کرتے ہیں..جماعت نے احتیاط کی وجہ سے یہ سلسلہ اس وقت
بند کیا تھا جب...واجب قربانیوں کی آمد پانچ ہزار سے بھی اوپر پہنچ چکی تھی.....اہل
ایمان کی آسانی کے لیے ان شاءاللہ اگلے سال..تمام تر شرعی احتیاطی تدابیر اختیار
کر کے....واجب قربانی بھی وصول کی جائے گی..مگر فی الحال ایک مخصوص تعداد رکھی
جائے گی ان شاءاللہ..
③ غزہ کے لیے کئی
مسلمان رابطہ فرما رہے ہیں کہ...وہاں قربانی دینی ہے..گزارش ہے کہ اب اس کا وقت نہیں
رہا...اللہ تعالی آپ کی ”نیت“ اور ”جذبے“ کو قبول فرمائیں...
④ جس مسلمان کے
ذمہ...رمضان کے فرض روزے ہوں..یا فرض نمازیں..یا ”سجدۂ تلاوت“وہ ان دنوں کو غنیمت
جان کر...اپنی جان کی خلاصی کا عمل شروع کریں..ہمت کر کے ایک ایک قضا ”روزہ“ ادا
کرتے جائیں...ہر نماز کے ساتھ ایک قضاء نماز بھی ادا کر لیا کریں..” نوافل“ اور
”سنن زوائد“ کی جگہ اپنے ”فرائض“ پورے کریں..اس کے لیے اللہ تعالی سے مدد اور توفیق
بھی مانگا کریں.. اور جب تک سارے روزے، ساری رکعتیں..سارے سجدے ادا نہ کر لیں...اس
وقت تک اس کے لیے فکر مند رہیں...
⑤ عید کے دن کی
قربانی...عجیب عاشقانہ اور محبوبانہ عمل ہے..اس عمل سے اصل تو اللہ تعالی کی محبت
ملتی ہے..ساتھ رزق میں بھی بے انتہا برکت ہوتی ہے..اس لیے اس عمل کو عشق و محبت کے
مکمل جذبے سے ادا کریں..دکھاوے سے بچیں..ویڈیو اور تصویر بازی سے اسے آلودہ نہ کریں..شوق
سے انتظار کریں کہ کب وہ لمحہ آئے گا..جب اتنی محبت اور اتنا اجر ہمیں نصیب ہوگا
ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
24.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
بڑا راز
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے لیے ”قربانی “...اللہ، اللہ، اللہ..بوڑھا باپ اپنے خوبصورت، پیارے، چلتے
پھرتے بیٹے کو اللہ تعالی کے لیے قربان کرنے جا رہا ہے...باپ بھی خوش اور مطمئن..بیٹا
بھی خوش اور مطمئن..اللہ تعالی کے لیے قربانی..اللہ، اللہ، اللہ..اے نبی! ہم نے آپ
کو دنیا اور آخرت میں ”کوثر“ دے دی..”کوثر“ یعنی خیر کا سب سے بڑا
خزانہ...”اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ“..یہ ”خزانہ“ حضرت آقا محمد مدنی صلی
اللہ علیہ وسلم کے علاوہ نہ کسی کو ملا..نہ ملے گا..اب اس پر شکر کیسے ادا کرنا
ہے؟..”فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ“..نماز اور اونٹ کی قربانی سے...اللہ تعالی کے
لیے قربانی...بہت بڑا شکر ہے..اللہ، اللہ، اللہ...
اپنی
لاڈلی، پیاری اور عظیم بیٹی سے خاص طور پر فرمایا جا رہا ہے..بیٹی جب تمہاری قربانی
ذبح ہو رہی ہو پاس کھڑی رہا کرو..اس کے خون کے پہلے قطرے کے ٹپکنے سے تمہارے سارے
گناہ معاف کر دیے جائیں گے..حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے پوچھا..یہ
فضیلت ہم اہل بیت کے لیے ہے یا سارے مسلمانوں کے لیے؟..فرمایا..ہمارے لیے بھی
ہے..اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی..
اللہ
اکبر..قربانی کا منظر..مغفرت کا نظارہ ہے..پاس کھڑے رہ کر محبت و مغفرت کے اس منظر
کو دیکھنا ہے..قسم سے کسی کا دل ایمان والا ہو تو یہی ایک حدیث ”قربانی“ کا عاشق
بنانے کے لیے کافی ہے..میں اس میں غور کرتا ہوں تو دل میں معانی کا سیلاب اُمڈ آتا
ہے..مگر الفاظ نہیں ملتے کہ اس کیفیت کو لکھ سکوں..سوچیں کہ کہنے والے کون؟ جن سے
کہا جا رہا ہے وہ کون؟..کوئی پاس ہو یا دور..قربانی تو ہو جاتی ہے..پھر ساتھ کھڑے
رہنے کا حکم کس لیے؟ پھر خون اور اس کے قطرے اور مغفرت کا تذکرہ..اللہ، اللہ،
اللہ..
اے
مسلمان! پھر بھی قربانی میں بخل، تنگی اور بے رغبتی؟ اور اس بارے سب سے بڑی حدیث
اور ہے..کوئی مسلمان حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتے
ہوئے اسے پڑھے تو ”قربانی“ کے بارے میں..اُسکی قسمت، اس کا نصیب اور اس کا سینہ
کھل جائے..صرف ترجمہ لکھ رہا ہوں..ایک ایک جملے کو پڑھتے جائیں..اور اس کی کیفیت میں
ڈوبتے جائیں..فرمایا:-
”یوم
النحر یعنی دس ذی الحجہ کے دن..اولاد آدم کا کوئی عمل..اللہ تعالی کے نزدیک قربانی
سے زیادہ محبوب نہیں..وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور
کُھروں کے ساتھ آئے گا..اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے..اللہ تعالی کے
ہاں مقام (قبول) پا لیتا ہے...اس لیے ”خوش دلی“ سے قربانی کیا کرو (ترمذی،ابن
ماجہ)
ہائے
کاش مسلمان.....”قربانی“ کو ”ولیمے“ جتنی اہمیت ہی دے دیتے تو کہاں سے کہاں پہنچ
جاتے...حالانکہ ”ولیمہ“ نہ واجب ہے نہ ضروری..جبکہ قربانی..واجب ہے..اور یہ ”محبت“
کے رازوں میں سے ایک بڑا راز ہے......یہ کسی پر کُھل جائے تو وہ پورا سال پیسہ پیسہ
جوڑے اور غربت کے باوجود....قربانی کر کے محبت، مغفرت، برکت اور وسعت پائے..آخر
موبائل بھی تو خریدے جاتے ہیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تکبیر
کی نورانی لہریں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی”المتکبّر“ ہیں...سب سے بڑے اور بڑائی والے..وہ پسند نہیں فرماتے کہ ”مخلوق“
میں سے کوئی خود کو بڑا سمجھے..تکبر کرے..وہ ”تکبُّر“ کرنے والوں سے نفرت فرماتے ہیں..انہیں
کچھ ڈھیل دیتے ہیں اور پھر ذلیل کر کے..ہمیشہ کی ذلت میں پھینک دیتے ہیں..
..اِنَّهٗ
لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ“..[النحل(۲۳)]
”تکبُّر“
کا علاج..” تکبیر“ ہے..اللہ تعالی کو بڑا ماننا..اللہ کو بڑا سمجھنا..اللہ تعالی کی
بڑائی بیان کرنا..خود کو اور دوسروں کو اللہ تعالی کے سامنے جھکانا..اللہ تعالی کے
ہر ”حکم“ کو بڑا ماننا..اور اللہ تعالی کی بڑائی میں گُم ہو جانا..
”وَ
رَبَّكَ فَكَبِّرْ“[المدثر(۳)]
اس
کا لفظی ترجمہ ”خطرناک“ ہے..مگر ہم انسانوں کے حال کی حقیقت ہے..”وَ رَبَّكَ
فَكَبِّرْ“اور تو اپنے رب کو بڑا بنا...آدمی سوچتا ہے کہ..استغفراللہ یہ کیا
بات ہوئی؟..رب تو ہے ہی بڑا...اُسے بڑا
بنانے کا کیا مطلب؟..مطلب واضح ہے کہ بے شک رب بڑا ہے..سب سے بڑا ہے..مگر کیا
تمہارے دل میں بھی بڑا ہے؟..تمہاری آنکھوں میں بھی بڑا ہے؟ تمہارے خیالات اور
احساسات میں بھی بڑا ہے؟ ہاں وہ بے شک بڑا ہے..مگر تمہیں اس کی بڑائی اور کبریائی
کا فائدہ اور نور تب نصیب ہوگا جب تم اُسے..اپنے دل میں اور اپنی آنکھوں میں بھی
بڑا بناؤ گے..بڑا سمجھو گے.. اگر بنا لو گے تو پھر تم ”تکبیر“ کے نور اور لہروں میں
ایسے ڈوبو گے، ایسے ڈوبو گے کہ تمہیں سرور آ جائے گا..کیونکہ تم نے حقیقت کو پا لیا
اور اللہ تعالی کی ”وحدانیت“ اور ”تکبر“ سب سے بڑی حقیقت ہے...
..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..
تم
”تکبر“ کرو گے تو ذلیل ہو جاؤ گے..تم ”تکبیر“ کہو گے تو عزت پاؤ گے..”تکبر“ والوں
کو اپنی بڑائی دکھانے، سمجھانے اور منوانے کے لیے کیسی کیسی ذلتیں اٹھانی پڑتی ہیں..پھر
کچھ نام، شہرت وغیرہ مل بھی جاتی ہے..مگر بے حد عارضی..جبکہ ”تکبیر“ والے بس اللہ
تعالی کی بڑائی بولتے ہیں، اللہ تعالی کی بڑائی سمجھاتے ہیں..اللہ تعالی کے سامنے
جھکتے ہیں..اور اللہ تعالی کی مانتے ہیں..وہ اپنے اندر اللہ تعالی کو بڑا بناتے
اور مانتے جاتے ہیں اور اللہ تعالی ان کو ”عزت“ اور ”کامیابی“ دیتے جاتے ہیں....
..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..
کوئی
کہہ سکتا ہے کہ..اللہ تعالی کو سب ہی بڑا مانتے ہیں..یہ بات سچ نہیں..اگر ایسا
ہوتا تو کوئی کفر کیوں کرتا..کوئی شرک کیوں کرتا..کوئی تکبر کیوں کرتا ہے..کوئی ”میں
میں“ کیوں کرتا..ہم دنیا میں جن کو واقعی اپنا بڑا مانتے ہیں..ان کے ساتھ ہمارا
معاملہ کیا ہوتا ہے؟..ہم ان کے سامنے ان کی نافرمانی نہیں کرتے..ہم ان سے شرم اور
حیا کرتے ہیں..ہم ان کی بات کا یقین کرتے ہیں..اگر کسی بات پر قسم کھا لیں تو اس
بات کو ”حرف آخر“ مانتے ہیں..ہم ان کے
بارے بخل نہیں کرتے..ہم ان پر جان نچھاور کرتے ہیں..کیا اللہ تعالی کے ساتھ بھی ہمارا
یہی معاملہ ہے؟حالانکہ وہ سب سے بڑا ہے..اور ہمارا مالک ہے..وہ قسمیں کھا کھا کر
ہمیں جو کچھ سمجھاتا ہے اور بتاتا ہے..ہم اس پر بھی کان نہیں لگاتے..ہم جب اکیلے
اس کے سامنے ہوتے ہیں تو خود کو ہر گناہ کے لیے آزاد سمجھتے ہیں..وہ ہمیں ”میرا
بندہ“!...”میرا بندہ“! کہہ کر بلاتا ہے مگر ہم اپنے نفس اور اپنی خواہشات میں ڈوبے
رہتے ہیں..ارے اپنے دل کی دنیا بدلو..اللہ اکبر کا نور دل میں اُتارو..”تکبیر“
پڑھو اور ”تکبیر“ کو دل میں بسا لو...
..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..
کافروں،
مشرکوں کو چھوڑیں....مسلمانوں کو ہی دیکھ لیں..ہر چیز کی بڑائی ان کے دلوں میں بہت
بڑی بن جاتی ہے..دنیا، مال و دولت، اپنی عزت، اپنی بیماری، اپنی پریشانی...ہر چیز
بہت بڑی..دل میں اگر نہیں تو اللہ تعالی کی ”بڑائی“ نہیں..بڑائی ہوتی تو کبھی تو
اس سے خوش اور راضی ہو جاتے..اس نے ہمارے لیے آگے کیا کیا تیار فرما رکھا ہے..اس
نے موت کی صورت میں ہم سے اپنی ملاقات کا وعدہ کر رکھا ہے..اس نے ہم سے بڑی بڑی
نعمتوں اور جنتوں کا وعدہ کر رکھا ہے..کبھی ہم نے یقین کیا؟ ہم نے تو بس اپنی وقتی
حاجت، خواہش اور ضرورت اس سے پوری کرانی ہوتی ہے..وہ پوری نہ ہو تو ناراض، مایوس
اور غمزدہ..ہائے ہم نے اپنے رب کی عظمت اور بڑائی کو سمجھا ہوتا تو اس کی ”تقدیر“
پر شکوے کیوں کرتے؟ اللہ تعالی ہمیں ”تکبیر“ کی نعمت عطاء فرمائیں..
..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..
”غزہ“والوں
کو مبارک ہو..انہوں نے ”تکبیر“ کی بلندی کو پا لیا..وہ ”اللہ اکبر“ کے علاوہ کسی
کے سامنے نہیں جھکتے..کٹ جاتے ہیں..مگر اللہ تعالی کے سوا کسی کو بڑا نہیں
مانتے..کشمیر والوں کو مبارک..مجاہدین کو مبارک..دنیا میں مظلوم اور اکیلے..مگر
”تکبیر“ کی نعمت سے سرفراز..یہ جب مرتے ہیں ”تکبیر“ کی لہروں میں بلند سے بلند
ہوتے چلے جاتے ہیں..رب کی اصل نعمتیں پاتے ہیں..ہمیشہ کی کامیابی سمیٹتے ہیں..مگر
وہ نام کے مسلمان..جو اپنی فانی زندگی..فانی عہدوں اور فانی عیش کے لیے..” تکبیر“
کو توڑتے ہیں..کافروں کو بڑا مانتے ہیں..حقیر سائنس کی پوجا کرتے ہیں..دنیا کی
طاقتوں سے ڈرتے ہیں..اور ان کے سامنے جھکتے ہیں..یہ کہاں جائیں گے؟ مرنے کے بعد ان
کو ”تکبیر“ سنائی دے گی..اللہ اکبر ، اللہ اکبر.. مگر ان کے پاس تکبیر کی لہروں میں
سفر کا ٹکٹ نہیں ہوگا..انہوں نے جن کو بڑا مانا تھا وہ تو وہاں ہوں گے نہیں....وہ
”ذلتوں“ کے آگ والے عذاب میں گرے پڑے ہوں گے.... اے مسلمانو! ایام تشریق شروع ہو
گئے..آج فجر سے ہر نماز کے بعد ”تکبیر“ واجب ہوگی....آپ سب کو حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کا سچا ”امتی“ ہونا مبارک....آپ سب کو ”تکبیر“ مبارک.. ”تکبیر“ پڑھنا مبارک..
”تکبیر“ سوچنا مبارک..تکبیر پر یقین رکھنا مبارک.. ”تکبیر“ پر عمل کرنا مبارک..
..اللہ
اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله