14.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
<مکتوب
خادم>
خیر
خواہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ
الباقی....
”یاباقی
انت الباقی لیس الباقی الا الله“
تقریبا
بیاسی (82) سال کی سعادت بھری زندگی گزار کر...حضرت اقدس مولانا فضل الرحیم صاحب
اشرفی رحمۃ اللہ علیہ وفات پا گئے...
”اناللہ
وانا الیہ راجعون“
ان
کی زندگی کا جو خلاصہ بندہ کو سمجھ آتا ہے..وہ ہے ”خیر خواہی“ اور ”مٹھاس“..حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے..
”الدین
النصیحۃ“ (ابوداؤد)
دین
اسلام ”خیر خواہی“ کا نام ہے...ہر کسی کو ”خیر“ پہنچانے کی فکر اور جستجو جسے نصیب
ہو جائے وہ ”دین“ میں ”بڑے مقام“ والا ہے..حضرت کا بس یہی مزاج تھا اور یہی
عمل..اُن سے ملاقات بہت کم رہی..مگر جو ایک آدھ بار ہوئی..اس میں ان کے ”اخلاق
حسنہ“ اور ”مٹھاس“ نے دل و دماغ کو مسحور کر دیا..ان کے مختصر بیانات دستیاب
ہیں..آپ کوئی بیان سن لیں..آپ کی جھولی میں کوئی ”خیر“ ضرور آئے گی..پھر کمال یہ
ہے کہ..اتنے بڑے ”مناصب“ پر فائز ہونے..اور بزرگی کی عمر تک پہنچنے کے
باوجود....اپنے ”والد ماجد“ کی باتیں سب کو سناتے تھے..اور اس قدر محبت اور عاجزی
سے اپنے ”ابا جی“ کا تذکرہ فرماتے کہ..بے اختیار ان کے معصومانہ لہجے پر پیار آ
جاتا..یوں لگتا کہ کوئی چھوٹا بچہ اپنے ابو کو یاد کر رہا ہے..شاید یہی ان کے
مقامات اور بلندیوں کا راز تھا..ان کے والد گرامی حضرت مفتی محمد حسن صاحب امرتسری
رحمۃ اللہ علیہ نے ”لاہور“ کو اعزاز بخشا..اور وہاں ”جامعہ اشرفیہ“ قائم
فرمایا..اور وہ امت مسلمہ کے لیے اپنی صالح اولاد بھی چھوڑ گئے..
اللہ
تعالی حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کو مغفرت اور اکرام کا
عالی مقام نصیب فرمائے...ان کے فیوض، آثار اور صدقات کو تا قیامت جاری رکھے..
ان
کے اقارب سے قلبی تعزیت عرض ہے..اور آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے لیے حسب توفیق
ایصال ثواب کا اہتمام کریں..حضرت نے کئی عمدہ کتابیں تصنیف فرمائیں..ان میں سے ایک
کتاب ”جہاد“ پر بھی ہے...
والسلام
خادم۔۔۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
20.01.2026
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
مکتوب
خادم
شعبان
المعظم 1447ھ
السلام
علیکم ورحمةاللہ وبرکاته!
اَللّٰھُمَّ
بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.....آج مغرب سے
”شعبان المعظم“ ۱۴۴۷ھ
کا مہینہ شروع ہورہا ہے..... مسنون اعمال اور معمولات کی یاد دھانی ہے...
والسلام
خادم.....
لا الہ الا الله محمد رسول الله
21.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
حضرت
قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ...اور...شَہرُالقُرّاء
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”انمول“ اور ”قیمتی“ نعمتوں میں سے ایک نعمت..”اچھے اساتذہ کرام“ کا ملنا
ہے...یہ بات انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہے کہ...وہ اپنے لیے خود اچھے اساتذہ
منتخب کرے..آپ نے کسی ”تعلیم گاہ“ میں داخلہ لیا..اب آپ کے لیے اس ”تعلیم گاہ“ کی
انتظامیہ ”اساتذہ“ کا انتخاب کرتی ہے...”استاذ“ کے علم، عمل، اخلاق، نظریہ اور
کردار کا ”طلبہ“ پر گہرا اثر ہوتا ہے..اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے
کہ..جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم کے دوران....الحمدللہ صاحب
عمل، صاحب کردار، صاحب نسبت...پاکیزہ ارواح اساتذہ کرام نصیب ہوئے..والحمدللہ رب
العالمین...سچی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی یاد آتا ہے تو دل فورا....شکر اور دعاء
کے لیے اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتا ہے..
وہاں
جن رفیع المرتبت اساتذہ کرام سے پڑھنے کی سعادت ملی..اس ”سلسلۃ الذھب“ کی آخری کڑی
بھی.....کل نگاہوں سے اوجھل ہو گئی....
حضرت
الاستاذ مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب انتقال فرما گئے....
انا
للہ وانا الیہ راجعون..اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ..
ان
سے درجہ اولی سے درجہ سادسہ تک...چار کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا....اب
ماشاءاللہ وہ جامعہ میں ”شیخ الحدیث“ کے ”منصب جلیلہ“ پر فائز تھے...قرآن مجید اور
قرأٓت کے ساتھ ان کے خصوصی اور خوبصورت تعلق کی وجہ سے...” قاری“ کے لقب سے وہ ہمیشہ
سرفراز رہے..شعبان کے مہینہ کو....امت کے اسلاف..”شہرالقُراء“ یعنی قاریوں کا مہینہ
کہتے تھے..اور اپنی کھڑکیاں، دروازے بند کر کے...قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو
جاتے تھے....کل حجاز اور اکثر دنیا میں....” یکم شعبان“طلوع ہوا تو ہمارے پیارے
حضرت قاری صاحب بھی....ملاقات کی ساری کھڑکیاں دروازے بند کر کے........روانہ ہو
گئے.......اہل قرآن برزخ اور قبر میں قرآن مجید کا خصوصی قرب پاتے ہیں.... اللہ
تعالی حضرت قاری صاحب کو اپنی مغفرت، محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ان
کے ”اقارب“ سے قلبی تعزیت ہے..اور آپ سب سے ”ایصال ثواب“ کی درخواست ہے...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
22.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُسکراتا
میدان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
والوں کی شان بڑی بلند ہوتی ہے...حضرت امام معروف کرخی قدس سرہ کا اسم گرامی آپ نے
سنا ہوگا....امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ وہ.......عَلَمُ الزُّھاد اور
”برکۃ العصر“ تھے....یعنی زاہدوں کے سردار...اور زمانے کی برکت...کسی نے حضرت امام
احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ...معروف کرخی ”کم علم“ ہیں...امام صاحب نے
فرمایا! معروف تو وہ سب کچھ پا چکے ہیں جو ”علم“ سے حاصل کیا جاتا ہے...یہ ساری
بات اس لیے لکھی کہ آج خود کو اور آپ سب کو حضرت الشیخ معروف الکرخی رحمۃ اللہ علیہ
کا ایک فرمان سنانا ہے..آپ فرمایا کرتے تھے..”اللہ تعالی اپنے جس بندے کے ساتھ ”خیر“
کا ارادہ فرماتے ہیں..اس پر ”عمل“ کا دروازہ کھول دیتے ہیں..اور ”جھگڑے“ کا دروازہ
بند کر دیتے ہیں..اور جس بندے کو (اس کے گناہوں کی وجہ) ”شر“ میں ڈالنا چاہتے ہیں
اُس پر عمل کا دروازہ بند کر کے جھگڑے کا دروازہ کھول دیتے ہیں “...
اب
ایک نظر سوشل میڈیا پر ڈالیں...جھگڑے ہی جھگڑے، بحث ہی بحث، نامناسب لفاظی.....بے
مقصد تحریریں، گالیاں، الزامات....اور دوسری طرف دیکھیں ماشاءاللہ ”آیات جہاد“ کے
تفسیری دورے....تیر اندازی کی مہکتی خوشبو..مؤمنات کے روحانی مجامع، خوشی سے
ہنہناتے گھوڑے...اور سب سے بڑھ کر اونچے پہاڑوں پر....اسلام کا سب سے اونچا فریضہ...والحمدللہ
رب العالمین...
بھائیو!
اور بہنو! عمل، عمل اور عمل..دیکھو ”وَ الْعَصْرِ“ کی تلوار ہماری ”عمر“ کاٹ رہی
ہے..”اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ“ کی لاٹھی ہمیں بیدار کر رہی ہے...کفار و
منافقین کے بس میں ہوتا تو وہ قرآن مجید سے آیات جہاد نکال دیتے..مگر قرآن مجید....”حفاظت
الہی“ میں ہے..اور اللہ تعالی اس کے لیے جن کو استعمال فرماتے ہیں...وہ زمین کے
چاند ستارے ہیں..ماشاءاللہ ”آیات الجہاد“ کی تفسیر کے ستر(۷۰) اساتذہ ہو چکے ہیں..سچی
بات ہے کہ ان کی زیارت بھی باعث سعادت و اجر ہے..ان اساتذہ کو بھی.......آنسوؤں
بھرا شکر ادا کرنا چاہیے...اور بار بار کرنا چاہیے...وہ ماشاءاللہ ایٹم بموں کا
اور زمانے کے طاغوت کا مقابلہ کر رہے ہیں.....صوبائی اور ضلعی منتظم بھائیوں
سے....ذاتی گزارش ہے کہ...تفسیر کے آخری مرحلے کے لیے ایسی جاندار محنت کریں
کہ.....اندھیرا چھٹ جائے اور غزوہ بدر کا آسمان مسکرانے لگے...”میدان بدر“ جب
مسکراتا ہے تو....اللہ تعالی راضی ہوتے ہیں..اور حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ
وسلم خوش ہوتے ہیں.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
23.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مناظرہ....فوائد
و نقصانات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے محبوب ”دین اسلام“ پر مکمل ”یقین“ اور ”اعتماد“ عطاء
فرمائیں...اور ہر شک شبہے، وہم اور کفریہ وسوسے سے ہماری حفاظت فرمائیں.....
ہم
سب اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں...اگر ہم ”دین اسلام“ پر مطمئن ہیں تو ہم شکر ادا
کریں...اور ”ملحدین“ کے مناظرے نہ دیکھیں..نہ سنیں..
جاوید
اختر ملحد کو....محترم مفتی شمائل صاحب زید قدرہ نے...شکست دی..بہت خوشی کی بات
ہے...مگر میں خوشی کے باوجود وہ مناظرہ نہیں سن سکا...چند الفاظ سنے اور ان پر بھی
اللہ تعالی سے معافی مانگی...آخر ہمیں کیا ضرورت ہے کہ..اپنے عظیم و برتر رب تعالی
کی شان میں ”بے ادبی“ اور گستاخی سنیں؟..کیا وقت گزاری اور لطف اندوزی کے لیے یہی
بُرا کام رہ گیا ہے؟..حضرت امام معروف الکرخی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ..
..”شبہات
میں ڈالنے والی چیزوں میں نہ پڑو..وہ تمہیں گمراہی میں ڈال دیں گی“..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار صحابہ کرام کو....تقدیر کے مسئلے پر گفتگو
کرتے دیکھا تو اتنے ناراض ہوئے کہ...چہرہ مبارک انار کی طرح سرخ ہو گیا..اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ڈانٹ پلائی...اس مجلس میں شریک بعض صحابہ کرام ہمیشہ
اپنی اس مجلس پر ندامت کا اظہار فرماتے تھے.....اللہ تعالی کا قرآن مجید میں واضح
حکم ہے کہ..ایسی مجلس میں نہ بیٹھا کرو..جہاں ہماری آیات کا انکار کیا جاتا ہو..یا
ان کا مذاق اڑایا جاتا ہو..اگر تم وہاں بیٹھو گے تو انہی میں شمار کیے جاؤ گے
(مفہوم سورۃ النساء آیت ۱۴۰)
اب
غور کریں...اس مناظرے کو سننے سے آپ کو کیا ملے گا؟..ایک خبیث شرابی ملحد کے ناپاک
منہ سے....اللہ تعالی کا بار بار انکار....استغفراللہ، استغفراللہ، استغفراللہ...
سوشل
میڈیا کے وہ افراد جو اس طرح کی بحثوں اور باتوں کو پھیلا رہے ہیں..وہ شاید نہیں
سمجھ رہے کہ اس سے کتنے مسلمانوں کا یقین اور ایمان خطرے میں پڑ رہا ہے....
وجود
باری تعالی اور تقدیر وغیرہ پر الحمدللہ مسلمانوں کا ایمان پکا ہوتا ہے..انہیں اس
پر کسی مزید دلیل یا مطالعہ کی ضرورت نہیں ہوتی...عقائد اور ایمانیات کی ضروری
باتیں پڑھنا اور سمجھنا تو ہر مسلمان پر ضروری ہے..لیکن ان باتوں کی باریکیوں میں
جانا اور مخالفین کے دلائل کا رد سیکھنا یہ صرف مخصوص اہل علم کا کام ہے.....ہم
سیدھے سادے مسلمان ان میں ہرگز نہ پڑیں....اور اپنے ایمان اور یقین پر اللہ تعالی
کا شکر ادا کریں......
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
24.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بابرکت
نام
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے..ہر چیز ”بہترین“
منتخب فرمائی ہے..
آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے چار بیٹیاں عطاء فرمائیں..(۱) سیدہ زینب (۲) سیدہ رقیہ (۳) سیدہ ام کلثوم (۴) سیدہ فاطمہ (رضوان اللہ علیہن)..اہل
ایمان کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کے نام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات
طاہرات، ازواج مطہرات اور صحابیات کے ناموں پر زیادہ رکھا کریں...آج ”فاطمہ“ نام
پر بات کرنی ہے..
حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے لاڈلی صاحبزادی کا اسم گرامی ”فاطمہ“ ہے..اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان انہی کے ذریعہ تا قیامت چلے گا..کتنا مبارک اور عالی
مرتبت نام ہے ”فاطمہ“..قریش کے ہاں یہ نام بہت محبوب اور مقبول تھا...اور قریش سے
بڑھ کر عربی زبان سے کون واقف تھا؟..اگر اس نام کے معنی میں کوئی عیب ہوتا تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی کا یہ نام کیسے رکھتے؟ خود آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی جدہ محترمہ (دادی) کا نام بھی فاطمہ تھا..فاطمہ بنت عمرو..آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی چچی محترمہ جن کے گھر میں آپ کی پرورش ہوئی ان کا اسم گرامی بھی ”فاطمہ
بنت اسد رضی اللہ عنہا“ تھا..یہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی والدہ اور
حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی دادی ہیں..آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی
صحابیات کا نام ”فاطمہ“ ہے مثلا فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا (سیدنا فاروق اعظم
رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ) فاطمہ بنت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا..فاطمہ ام البنین رضی
اللہ عنہا (یہ بھی حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور ان کے چار بیٹوں
کی والدہ ہیں)..فاطمہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا (یہ حضرت سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی
اللہ عنہ کی زوجہ ہیں)...الغرض صحابیات میں دس سے زائد کا نام ”فاطمہ“ ہے..اگر کوئی
سوچے کہ حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی عظمت اور احترام کو ملحوظ رکھتے
ہوئے..یہ نام نہیں رکھنا چاہیے تو یہ بات بھی غلط ہے...کسی کا نام رکھنا ادب اور
احترام کے منافی نہیں ہے...آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!
”سَمُّوا
بِأسْمِی“ (بخاری)
”میرے
نام پر نام رکھا کرو“...(یعنی محمد، احمد)
اور
فرمایا!
”تَسَمُّوْابِأَسْمَاءِ
الأنبیاء“ (ابو داؤد)
”انبیاء
علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ناموں پر نام رکھا کرو“
باقی
رہا یہ کہ ”فاطمہ“ کا معنی کیا ہے؟ تو یہ ایک دلچسپ اور مفصل موضوع ہے..کبھی موقع
ملا تو عرض کریں گے ان شاءاللہ...ویسے اتنی بڑی ہستیوں کا اس نام کو منتخب
کرنا....کیا ایک مسلمان کا دل کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے؟..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
25.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بَس
دو خواہشیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی تمام ”مسلمانوں“ کی اولاد کو ”مسلمان“ بنائیں...”مسلمان“ رکھیں..اور ہم تمام
مسلمانوں کی نسلوں میں قیامت تک ”اسلام“ کو جاری رکھیں...
اپنی
اولاد اور نسل میں اسلام جاری رکھنے کی فکر....حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام
کی فکر ہے..
”وَ
لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ“
”جہاد“
اور ”آیات جہاد“ کے انکار نے..بے شمار مسلمانوں کو..الحاد، کفر اور انکار کی طرف
دھکیل دیا ہے..افسوس کہ مسلمانوں کے بچے ”کافر“ بن رہے ہیں..پچیس سال قبل شروع
ہونے والے ”دورہ آیات الجہاد“ کو اللہ تعالی نے ”رنگ“ لگا دیا ہے..الحمدللہ ابھی
چند ہفتوں میں ایک سو اڑتیس (۱۳۸)
مقامات
پر یہ مبارک دورہ ہوا..اور کئی جگہ پر جاری ہے..
..وَ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَات..
دین
کی خاطر قربانی کا جذبہ..دین پر جان و مال لگانے کا ذوق..دین کی خاطر خوف
سہنے..اور دباؤ برداشت کرنے کی طاقت..اور دین کو ساری دنیا پر غالب کرنے کا
جنون....یہ وہ چیزیں ہیں جو مسلمانوں کو اور ان کی نسلوں کو....دین اسلام پر ثابت
قدم رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے...
اور
”آیات جہاد“ میں یہی سب کچھ.....اللہ رب العالمین نے اپنے بندوں کو سکھایا
ہے..اللہ کرے مسلمان...اس دورے کی مزید قدر کریں..اور اس سے زیادہ سے زیادہ فیض یاب
ہوں..یہ دورہ پڑھانے والوں....پڑھنے والوں اور اس کے انعقاد میں کسی بھی طرح کی
محنت، کوشش اور ”تعاون“ کرنے والوں کو.....اللہ تعالی بہت، بہت، بہت جزائے خیر
عطاء فرمائیں..اللہ تعالی ان سب کو اپنی محبت کی مٹھاس..اپنی رحمت و مغفرت کی
ٹھنڈک، مقبول ایمان....کامیاب زندگی..رزق حلال کی فراوانی..جہاد پر استقامت اور مزیدار
میٹھا ”حسن خاتمہ“ عطاء فرمائیں...
جو
مسلمان اس بار یہ دورہ نہیں پڑھ سکے وہ...جلد اسے پڑھنے کی ترتیب بنائیں..الحمدللہ
پورا سال یہ دورہ جاری رہتا ہے...الحمدللہ...آیات جہاد کی مختصر تفسیر بھی....”فتح
الجواد“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے..آپ اس سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں..پانچویں صدی
ہجری کے ایک عالم فرماتے تھے کہ...دنیا میں بس دو ہی خواہشیں ہیں..پہلی خواہش قرآن
و سنت کا علم پڑھنا اور پھیلانا اور دوسری خواہش جہاد اور رباط....وہ دعاء کرتے
تھے کہ یا اللہ میری زندگی انہی دو کاموں میں ہی لگائے رکھنا..اور مجھے بہترین موت
عطاء فرمانا...
”واَکْرَمُ
مَوْتٍ لِلْفَتٰی قَتْلُ کَافِرٍ“
(ترجمہ)
جوانمرد مسلمان کے لیے سب سے معزز اور اونچی موت...کافر کے ہاتھوں قتل ہونا ہے..
ایمان....علم...جہاد..رباط...اور
شہادت..
سبحان
الله وبحمده، سبحان الله العظيم..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
میرا
بھی اک سُؤال ہے؟
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں قرآن مجید میں ”تدبر“ کی توفیق عطاء فرمائیں..” تدبر“ کہتے ہیں اچھی
طرح سے غور و فکر کرنے کو...دل کی آنکھیں کھول کر سمجھنے کو...اللہ تعالی کی
عظمت..اور اللہ تعالی کے کلام کی صداقت کو ذہن میں رکھ کر......اچھی طرح سے قرآن
مجید سمجھنے کو......
سورہ
”محمد“...جس کا دوسرا نام سورہ ”القتال“ بھی ہے...اس میں یہ راز سمجھایا گیا ہے
کہ...بد نصیب لوگوں کے دلوں پر تالے ہوتے ہیں..اس لیے وہ قرآن مجید کو نہیں سمجھ
سکتے...
اَفَلَا
یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(محمد۲۴)
..”
تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں “..
اس
میں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ.......انسان اپنے بڑے سے بڑے مسائل کا حل...قرآن مجید
سے لے سکتا ہے...مگر شرط یہ ہے کہ ایمان، یقین اور کھلے سینے کے ساتھ قرآن مجید کی
طرف رجوع کرے...
قرآن
مجید.....ایک زندہ، بولتی ہوئی سچی کتاب ہے...کوئی سمجھ کر تو دیکھے..کوئی ”تدبر“
تو کرے..
آج
سؤال یہ پوچھنا ہے کہ... آخر مسلمانوں میں ”تیر اندازی“ کیسے ختم ہو گئی؟...کیوں
ختم ہو گئی؟...اس دن ایک ستر سالہ بزرگ فرما رہے تھے کہ..آج زندگی میں پہلی بار تیر
چلایا ہے...اور ہاتھ میں کمان اٹھائی ہے...یعنی ”تیر اندازی“ کا نام و نشان تک مٹ
گیا.....یہ ”سانحہ“ ان لوگوں کے لیے ”معمولی بات“ ہو سکتی ہے...جنہوں نے قرآن مجید
کی تفسیر نہ پڑھی ہو....جنہوں نے حدیث شریف کی کتابیں نہ پڑھی ہوں...جنہوں نے ”سیرت
طیبہ“ کا مطالعہ نہ کیا ہو..جنہوں نے صحابہ کرام کے حالات زندگی نہ پڑھے
ہوں.....وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کون سی اہم بات ہے کہ...را کٹ اور میزائل کے زمانے
میں ”تیر اندازی“ کرتے رہو....مگر جنہوں نے.....تفسیر، حدیث اور سیرت پڑھی
ہو...حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تیر اندازی کے ساتھ محبت دیکھی ہو....تیر
اندازی کے فضائل پڑھے ہوں..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے تاکیدیں پڑھی ہوں.....وہ ضرور سوچتے ہیں
کہ....آخر مسلمان اس نعمت سے یکسر کیوں محروم ہو گئے؟ اگر آپ کہیں کہ دنیا میں اس
کا رواج نہیں رہا تو یہ غلط ہے..دنیا میں کئی جگہ اب بھی ”تیر اندازی“ ہوتی ہے...ٹیمیں
بنتی ہیں..مقابلے ہوتے ہیں..حتی کہ عالمی سطح کے مقابلے بھی ہوتے ہیں.....اگر
مسلمان بھی اس کو اپنا کھیل بنا کر کھیلتے رہتے تو کیا رکاوٹ تھی؟
بات
دراصل یہ ہے کہ..... مسلمانوں کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ سے توڑنے کے لیے...ہر اس چیز
کو مسلم معاشرے سے ختم کیا گیا...جس چیز کو دیکھ کر مسلمانوں کو ”جہاد“ یا اپنا
”ماضی“ یاد آئے......اس موضوع پر باقی باتیں...پھر کبھی ان شاءاللہ..فی الحال اتنی
گزارش ہے کہ....احادیث مبارکہ میں ”تیر اندازی“ کے فضائل پڑھیں...اور عمل کے لیے
دعاء اور کوشش کریں.....اگر آپ ”جم“ جاتے ہیں..یا کوئی انگریزی کھیل کھیلتے ہیں تو
اس کی جگہ آپ ”تیر اندازی“ کو لے آئیں....یقین جانیں بہت برکت اور فوائد ملیں گے
ان شاء اللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
27.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تیر
اندازی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے مبارک اور عظیم نام سے....اور اللہ تعالی کی توفیق سے..آج ”تیر اندازی“
پر کچھ بات کرتے ہیں..آپ کی آسانی کے لیے...ترتیب کے ساتھ خلاصہ عرض خدمت ہے..
(۱) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں...مسلمانوں
کو ”قوت“ بنانے کا حکم فرمایا ہے..دیکھیے سورہ انفال کی آیت رقم(۶۰) حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے ”قوت“ کی تفسیر ”تیر اندازی“ سے فرمائی ہے..دیکھیے صحیح مسلم...اسی لیے
اہل علم فرماتے ہیں کہ
”وَهٰذَا
الْفَضْلُ لِلْرَمِيْ باقٍ اِلٰى قِيامِ السَّاعَةِ“
یعنی..تیر
اندازی کے فضائل قیامت تک ہیں...یعنی اس کی جنگی ضرورت رہے یا نہ رہے..چونکہ یہ
اللہ تعالی کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے..تو اس کی فضیلت..اور
اس کے فضائل قیامت تک رہیں گے....
(۲) تیر اندازی کا حکم قرآن مجید
میں ہے...احادیث مبارکہ میں ہے..تو یہ بھی ایک ”دینی علم“ ہے..مسلمانوں کو چاہیے
کہ اس علم کو پڑھیں بھی...اور سیکھیں بھی..
(۳) اہل علم نے ”تیر اندازی“
کے فضائل، احکام اور آداب پر سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتابیں لکھی ہیں طلبہ علم ان
کتابوں کو حاصل کریں..اور اس مٹے ہوئے علم کو اچھی طرح پڑھیں..
(۴) تیر اندازی کے فضائل کا
مختصر خلاصہ.....احادیث مبارکہ سے درج ذیل ہے..
•
آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تیر اندازی فرماتے تھے..ایک بار تو اتنے تیر چلائے کہ
کمان ٹوٹ گئی..جو حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے رکھ لی • تیر اندازی حضرت سیدنا
اسماعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کی وراثت ہے..ملاحظہ فرمائیے بخاری شریف • تیر اندازی
کی مجلس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں..سبحان اللہ..وہ کتنی معزز اور روحانی مجلس ہوتی
ہے جس میں حضرات ملائکہ شامل ہوں..حضرات ملائکہ کے اعزاز اور احترام کے لیے...اہل
علم نے ”تیر اندازی“ کے باقاعدہ آداب لکھے ہیں...جیسے کسی مجلس میں قوم کے سردار
اور حاکم شریک ہوں تو اس مجلس کے آداب عام مجلس سے الگ ہوتے ہیں... • تیر اندازی
سے ”ھم اور غم“ ختم ہوتے ہیں..یعنی پریشانیاں، تفکرات، ٹینشن اور غم، گھٹن سے
انسان کو آزادی ملتی ہے..علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ..اگر تیر
اندازی کی صرف یہی ایک فضیلت ہوتی تو بھی یہ کافی تھی...(کیونکہ پریشانیاں اور
ھموم و غموم انسان کو مار دیتے ہیں، گرا دیتے ہیں)
(۵) آج اسی قدر پر اکتفا کرتے
ہیں....باقی آئندہ ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
28.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
نِعمَتِ
الٰہی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ”تیر اندازی“ ہے..اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو
نصیب فرمائیں...
خود
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں اسے ”نعمت الہی“ قرار دیا
ہے...اور ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”سنت“ قرار دیا ہے...”تیر
اندازی“ کے مقام کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ دعاء دی:-
”اَللّٰهُمَّ
سَدِّدْ رَمْيَهُ وأَجِبْ دَعْوَتَہُ“
ترجمہ:
”یا اللہ ان کی تیر اندازی بہترین فرما دیجئے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرمائیے“
اس
کے بعد سے ان کا کوئی تیر نشانے سے خطا نہیں ہوتا تھا اور ہر دعاء قبول ہوتی تھی...اور
غزوہ اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا...اے سعد! میرے ماں باپ آپ
پر قربان، تیر چلاؤ..
حقیقی
بات یہ ہے کہ آج جو لوگ..اللہ تعالی کے فضل سے امت میں ”تیر اندازی“ کا ”احیا“ کر
رہے ہیں..یہ لوگ اس امت کے ”خیر خواہ“ ہیں..حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ
عنہ نے اپنے گورنروں کو باقاعدہ حکم جاری فرمایا کہ......مسلمانوں کو ”تیر اندازی“
سکھائی جائے اور آپ فرماتے تھے..
”اَلْمِعْرَاضُ
رَوضَۃٌ مِن رِیاضِ الجَنَّۃِ“
ترجمہ:
تیر اندازی کا ہدف، جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے.....
یعنی
جب کوئی تیر اندازی سیکھنے کے لیے...کوئی ”ہدف“ کھڑا کرتا ہے..تو تیر انداز اپنا تیر
اس پر چلانے کے بعد.....تیر واپس اٹھانے کے لیے..اور نشانہ دیکھنے کے لیے اس کی
طرف چلتا ہے..تو یہ ایسا ہے، جیسا کہ وہ جنت کے باغ میں چل رہا ہے...اس چلنے پر اس
کو اجر ملے گا....اور یہ عمل جنت میں کام آنے والا عمل ہے...”تیر اندازی“ کے فضائل
اور فوائد بہت زیادہ ہیں..اس لیے حضرات صحابہ کرام نے اس پر بہت محنت فرمائی..اور
اس میں ایسی مہارت حاصل کی..جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی..اسی نسبت سے مسلمانوں
میں بڑے بڑے ماہر تیر انداز پیدا ہوئے اور انہوں نے اس مبارک عمل کے اصول و ضوابط
بھی مقرر کیے....
تیر
اندازی کے ساتھ جو نسبت، جو فضیلت اور جو علم منسلک ہو چکا ہے..اس کا تقاضا یہی ہے
کہ یہ عمل ہر زمانے کے مسلمانوں میں جاری رہے..آج کل اگرچہ یہ تھوڑا مہنگا ہے لیکن
جیسے جیسے اس میں شوق اور مہارت بڑھتی جائے گی..یہ سستا بھی ہوتا جائے گا..
الحمدللہ
اس وقت بھی کئی افراد خود کمان..اور سستے تیر بنانا شروع ہو گئے ہیں..جماعت کا ایک
شعبہ بھی اس پر کام کر رہا ہے..اس شعبے کا ”تیر کمان“ کارخانہ ”کچھوے“ کی طرح تیز
رفتاری سے تیر اور کمانیں بنا رہا ہے..اور مزید تجربات کر رہا ہے تاکہ..مسلمان بغیر
کسی بوجھ کے....اس مبارک نورانی عمل سے جڑ جائیں...الحمدللہ ثم الحمدللہ تھوڑی سی
محنت اور توجہ سے...اس وقت ہزاروں مسلمان...اس عمل کو اپنا چکے ہیں..
..والحمدللہ
رب العالمین..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
29.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تیر
اندازی کے ارکان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں ”حق“ کی توفیق عطاء فرمائیں..اور ہر ”باطل“ سے ہماری حفاظت
فرمائیں..”حق“ اور ”باطل“ کا دائرہ بہت وسیع ہے..یہاں تک کہ ”کھیلوں“ میں بھی حق
اور باطل ہوتا ہے..کئی روایات میں آیا ہے کہ.....ہر کھیل باطل ہے، فضول ہے، بھول
ہے سوائے چار کھیلوں کے (۱)تیر
اندازی (۲)گھڑ
سواری (۳)تیراکی
(۴)خاوند
اور بیوی کا باہم کھیلنا، دل لگی کرنا..........ان میں سے تین کا تعلق......جہاد
اور مؤمن کی مضبوطی سے ہے..اور ایک کا تعلق عفت، پاکدامنی اور تقوی سے ہے...ان
مبارک اور مفید کھیلوں سے مسلمانوں کو جو انعامات ملتے ہیں..ان کی تفصیل بڑی دلکش
ہے..اور ان پر انسان جو خرچ کرتا ہے..اس پر اجر کا وعدہ ہے..اور خرچ کیا ہوا مال
ضرور واپس ملتا ہے....اس وقت مسلمانوں میں جو کھیل ”رواج“ پاچکے ہیں ان میں کئی
گناہ اور خرابیاں شامل ہوچکی ہیں..کسی میں جوا ہے، کسی میں وقت کا ضیاع اور کسی
میں بے پردگی، بےستری اور غفلت وغیرہ....اس لیے اہل علم، اہل منبر اور اہل دعوت کو
چاہیے کہ وہ...تیر اندازی، گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ کے فضائل پڑھیں، سمجھیں،
اپنائیں اور ان کی دعوت مسلمانوں میں عام کریں.....یہ پرانے اور قیمتی تحفے
مسلمانوں میں جاری ہوں گے تو مسلمان نئے زمانے میں زیادہ اچھی ترقی کرسکیں
گے.........جن قوموں کا ماضی اچھا ہو...شاندار اور تابناک ہو...وہ قومیں کبھی اپنے
ماضی سے کٹ کر.....اپنے حال اور مستقبل میں ترقی نہیں کر سکتیں..آج تیر اندازی کے
مکتوبات کا سلسلہ........تیر اندازی کے اصول پر مشتمل چند اشعار کے ذریعے مکمل
کرتے ہیں....مزید ”ان شاءاللہ“ اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ علمی، تحریری اور
تبلیغی مواد بھی تیار کرنے کی کوشش کریں گے...ملاحظہ فرمائیے چند اشعار..
”الرَّمی
اَفْضَلَ ما اوصی الرسول بہ -:- واشجع النّاسِ من بالرمی یفتخِرُ“
ترجمہ:
تیر اندازی ان چیزوں میں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی
ہے...افضل عمل ہے..اور لوگوں میں زیادہ بہادر وہ ہے جو اپنی تیر اندازی پر فخر کر
سکے (یعنی بہت ماہر ہو)
أَرْكَانهُ
خمسۃٌ القَبْضُ اَوُّلها -:- وَالعَقْدُ، وَالْمَدُّ وَلْإِطْلَاقُ والنَّظْرُ...
ترجمہ:
تیر اندازی کے پانچ فرائض ہیں (۱)”اَلقَبْضُ“
(یعنی الٹے ہاتھ سے کمان کے اگلے حصے کو پکڑنا) (۲)”العَقْدُ“ (یعنی سیدھے
ہاتھ سے تیر اور تانت یعنی رسی کو پکڑنا)(۳)”الْمَدُّ“ (یعنی تیر کو اپنی طرف کھینچنا) (۴)”الْإِطْلَاقُ“ (یعنی تیر
کو ہدف کی طرف چھوڑنا) (۵)”النَّظْرُ“
(یعنی آنکھ سے نشانہ باندھنا)....
دراصل
ان پانچ ”ارکان“ کے طریقے ”اہل فن“ اور اہل علم نے مقرر فرمائے ہیں کہ..کتنی
انگلیاں استعمال ہوں..نشانہ ایک آنکھ بند کر کے لیں یا دونوں آنکھیں کھلی ہوں..تیر
کو کتنا کھینچا جائے..اگلا ہاتھ سخت رکھیں یا نرم وغیرہ......الحمدللہ سارا علم
کتابوں میں موجود ہے...ملاحظہ فرما لیں..مکتوب طویل ہو گیا اور ایک شعر رہ
گیا....معذرت.....
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
30.01.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مناظرہ
کے فضائل
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے سچے دین کی طرف ”دعوت“ دینے کے لیے...”مناظرہ“ کرنا...ایک عظیم عمل
ہے...اس عمل کا ثبوت قرآن مجید سے ہے:
وَ
جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنْ (النحل (125))
ترجمہ:
اور ان کفار کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے بحث کرو...
اللہ
تعالی نے قرآن مجید میں...کئی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے ”مناظروں“ کو بیان
فرمایا ہے..مگر صرف اتنا حصہ جسے سننا اور پڑھنا....ایمان کے لیے مفید ہے.....حضرت
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے ساتھ ایک زبردست مناظرہ فرمایا....علامہ
ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ضروری تفصیل...”جامع بیان العلم و فضلہ“ میں
ذکر کی ہے....حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ”خوارج“ کے ساتھ
مناظرہ فرمایا.....امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے ”مناظرے“ آپ حضرات نے
سنے ہوں گے....حضرت اقدس مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہندوؤں کے ساتھ
مناظرے..مشہور اور متداول ہیں.....”مناظرہ“ کو اہل علم نے دلوں کی شفاء....اور اطمینان
کا ذریعہ قرار دیا ہے...اہل سنت کے نزدیک...پہلے دعوت ہے...پھر نصیحت اور وعظ
ہے....اور پھر ضرورت پڑنے پر مناظرہ....
”مناظرہ“
ایک مشکل اور مہارت طلب کام ہے..اس لیے ہر کسی کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے..اہل
علم نے ”فن مناظرہ“ پر کتابیں لکھی ہیں...پہلے دینی مدارس میں ”ماہر مناظرین کرام“
نہایت اہتمام سے یہ علم پڑھاتے تھے....بندہ نے بھی الحمدللہ....زمانے کے ممتاز
”مناظرین کرام“ سے یہ ”علم“ کئی بار پڑھا ہے...تمام اساتذہ کرام یہی فرماتے تھے
کہ...”مناظرہ“ صرف ضرورت کے تحت کیا جائے..اور صرف وہی کرے جو اس میں مکمل مہارت
رکھتا ہو....
یہ
ساری تفصیل اس لیے عرض کی کہ.....ایک سابق مکتوب سے یہ نہ سمجھا جائے کہ بندہ نے
”مناظرہ“ کی مخالفت کی ہے..اس مکتوب میں مطمئن اہل اسلام کو...یہ مناظرہ سننے سے
منع کیا تھا کہ.....کفریہ باتیں سننے سے دل پر برا اثر پڑتا ہے..اور جب آپ کا دل ایمان
پر مطمئن ہے تو آپ کو.....کسی ملحد کافر کی بکواس سننے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے لیے
بس اتنی خبر کافی ہے کہ مناظرہ ہوا.....حق غالب ہوا، باطل ذلیل و رسوا
ہوا...والحمدللہ رب العالمین..
اگر
کسی کو کوئی آکر کہے کہ...تمہارا باپ نہیں ہے..تمہارا باپ نہیں ہے..تو کیا وہ مزے
لے کر سنتا رہے گا؟...تو پھر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کے وجود کا انکار...بار بار
کیوں سنیں؟..
کچھ
شرارتی ملحد...اس مناظرے کو....مسلمانوں کے دلوں میں شبہات ڈالنے کے لیے پھیلا رہے
تھے.....اس لیے اپنے مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے لیے وہ مکتوب لکھا تھا..جس کا
الحمدللہ بہت فائدہ ہوا...اور بے شمار مسلمانوں کا یہ ذہن بن گیا کہ...کفر اور
گستاخی کی باتوں کو.....بلا ضرورت کبھی نہیں سنیں گے...والحمدللہ رب العالمین...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
12.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
محرومی
سے حفاظت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنے فضل سے...ہمیں دین کے کام میں لگائے رکھیں..اور ہمیں محروم نہ فرمائیں....
”ذٰلِكَ
فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ“
دین
کے کام کی توفیق ملنا.....یہ بڑی سعادت اور خوش بختی ہے..اور اللہ تعالی کی ”محبت“
کی ایک علامت ہے..نہ اللہ تعالی کسی کے محتاج..نہ اللہ تعالی کا دین کسی کا
محتاج....
...”اللّٰهُ
اَحَدٌ، اَللّٰهُ الصَّمَد“...
اگر
ہم دین کا کام نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟دنیا یہاں رہ جانی ہے..قبر تیزی سے قریب
آرہی ہے.....زندگی ایک منٹ نہیں رکتی....دنیا کے جھگڑے ختم نہیں ہوتے...اللہ تعالی
کسی انسان کو چھوڑ دیں....پھینک دیں تو اس کی پوری عمر فضولیات میں ضائع ہو جاتی
ہے..
اس
لیے.....جن کو دین کے کام کی توفیق ملتی ہے..ان کو ہر وقت شکر گزاری میں ڈوبے رہنا
چاہیے....اور محرومی کے ڈر سے.....استغفار کرتے رہنا چاہیے...
وَ
اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ[محمد (۳۸)]
ترجمہ:
اگر تم نخرے کرو گے تو اللہ تعالی تمہیں ہٹا کر اور لوگوں کو لے آئیں گے.....
دو
رکعت ادا کر کے.....شکر اور شکرانہ....الحمدللہ، الحمدللہ، الحمدللہ کا والہانہ
ورد...اور دو رکعت ادا کر کے.......توفیق، نصرت، قبولیت اور کامیابی کا سؤال..پھر
ان شاءاللہ.......کام بھی آسان.....اور راستہ اور منزل بھی آسان..
مغرب
سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
13.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مُنوَّر
روشنی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنی مدد و نصرت...اور فتح نصیب فرمائیں:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
آج
کل الحمدللہ ان عظیم کلمات کے ورد کی توفیق مل رہی ہے:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
یہ
کلمات....شہنشاہ اعظم، مالک الملک..اللہ جل شانہ کا کلام ہیں..نہ کوئی اللہ تعالی
کی عظمت کا اندازہ لگا سکتا ہے..اور نہ اللہ تعالی کے کلام کی عظمت کا..یہ بات سوچ
کر پڑھیں:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اللہ
تعالی کا کلام ”نور“ ہے..اصل ”روحانیت“ ہے..روشنی ہے..زندگی ہے اور ہدایت ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
الحمدللہ
”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ ہمارے لیے اللہ تعالی کی رحمت بن کر آتی ہے..اور ہمیں اس
میں الحمدللہ طرح طرح کے انعامات ملتے ہیں..اس سال کے انعامات میں سے ایک..ان وجد
آفرین کلمات کا ورد ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
ان
مبارک کلمات کو سمجھنے کے لیے...تھوڑی سی تکلیف کریں..کچھ دیر نور سے بھرے ہوئے
”مصحف شریف“ کے ساتھ بیٹھیں...اسمیں سے ”اٹھائیسواں پارہ“ نکالیں..اس پارے میں
”سورہ الصف“ نکالیں...اللہ تعالی توفیق دیں تو ساری ہی پڑھ لیں...اور سمجھ لیں..زندگی
کے یہ لمحات قیمتی اور یادگار ہو جائیں گے.....آپ جب اس مبارک ”سورہ“ کی آیت رقم
(13) پر پہنچیں گے..تو یہ کلمات آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اللہ
تعالی کی نصرت مل جائے تو اور کیا چاہیے؟ اور فتح مل جائے تو پھر خوشی کے کیا
ٹھکانے؟....مگر یہ ”نصرت“ اور ”فتح“ کون سی ہے..اور کس عمل سے ملتی ہے؟ یہ سمجھنے
کے لیے آپ کو آیت رقم (۱۰) سے...(۱۳) تک پورا مضمون پڑھنا
ہوگا.. پھر آپ کےدل میں اتریں گے یہ کلمات:-
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
شکر
ادا کریں کہ....اللہ تعالی نے آپ کو ”فریضہ جہاد“ کے انکار سے بچایا ہے..اب آپ
پورے یقین سے پڑھ سکتے ہیں....
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
14.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مبارک
نتیجہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ کو ”یقین“ کی نعمت نصیب فرمائیں...اللہ تعالی پر یقین...حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین...اللہ تعالی کی باتوں پر یقین...اللہ تعالی کے
وعدوں پر یقین...آخرت پر یقین...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
تھوڑی
سی توجہ فرمائیں...سورہ الصف آیت (۱۰) میں..اللہ
تعالی بڑے پیار سے ہمیں ”کامیاب تاجر“ بننے کی دعوت دے رہے ہیں...اے ایمان والو! کیا
تمہیں ایک ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا دے گی....آہ! دردناک!
درد! آہ عذاب!
کیا
آپ نے کبھی دنیا کا درد دیکھا ہے؟ کتنا سخت ہوتا ہے؟ تو پھر آخرت کا درد کیسا
ہوگا؟ دنیا کا کوئی ”بزنس“...کوئی تجارت..عذاب اور درد سے نہیں بچا سکتی..بڑے بڑے
ارب پتی تاجر روز درد اٹھاتے ہیں..مگر جو ”تجارت“ اللہ تعالی سمجھا رہے ہیں وہ یقینا
دردناک عذاب سے بچائے گی...وہ تجارت کیا ہے؟ فرمایا ایمان لے آؤ اور اپنی جان اور
مال کو ”جہاد فی سبیل اللہ“ میں لگا دو...پھر کیا ہوگا؟...سمجھایا کہ پھر تم پر دنیا
اور آخرت کے انعامات کے دروازے پورے پورے کھول دیے جائیں گے (۱) تم خیر حاصل کر لو گے (۲) تمہیں سارے گناہوں سے معافی
اور مغفرت مل جائے گی (۳) تمہیں
خوبصورت پانی کے کناروں والی جنت ملے گی (۴) بڑے زبردست محلات اور کوٹھیاں ہمیشہ کے لیے
تمہارے نام ہو جائیں گی...(۵) تمہیں
اصل کامیابی ملے گی........واہ! ماشاءاللہ، سبحان اللہ...جان اور مال جہاد پر
لگانے کے اتنے زیادہ.....اور اتنے بڑے انعامات؟..فرمایا! یہی نہیں ایک اور چیز بھی
ملے گی....اور اسی دنیا میں ملے گی..اور وہ چیز تمہیں پسند بھی بہت ہے..اور وہ ہے:
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
”اللہ
تعالی کی مدد.....اور فوری فتوحات“
...اللہ
تعالی کا پکا وعدہ...اللہ تعالی کا سچا وعدہ...اللہ تعالی کا میٹھا وعدہ...
اس
آیت مبارکہ کو....ہر کوئی اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے..جبکہ حقیقت میں یہ
”جہاد فی سبیل اللہ“ کا انعام ہے...جان اور مال کی قربانی کا انعام ہے...حضرات
صحابہ کرام نے مکمل یقین کیا...اور پوری جان...اور سارا مال لگا دیا...پھر کیا
تھا؟ وہ دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالی کی نصرت سے ”فاتح عالم“ بن گئے....اسی مبارک
عمل..اور اسی مبارک نتیجے کی یاد دہانی کے لیے..اور اسکی برکت سمیٹنے کے لیے ہم
اپنی ادنی سی مہم میں پڑھ رہے ہیں...
...نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...
یا
اللہ ”یقین“ نصیب فرما!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
18.02.2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مرحبا!
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے بندوں اور بندیوں کو......اللہ تعالی کا مہینہ ”مبارک“ ہو..
اللہ
تعالی ”سورہ فاتحہ“ کے وسیلہ سے...رمضان المبارک ہم سب پر کھول دیں..اس کی حقیقت،
مغفرت اور برکات ہمیں نصیب فرما دیں...اور اس مہینہ کی روٹھی ہوئی فتوحات....امت
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس عطاء فرما دیں.....
آج
مغرب سے استقبال رمضان....چاند رات کے معمولات..اور ”شہر رمضان“ کے مطالعہ کی یاد
دہانی ہے....
”تصویر
بازی“....”ویڈیو بازی“ سے ”پرہیز“ بہت ”نفع مند“ رہے گا ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
21.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
معمول
سے ہٹ کر
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ان کو ”مغفرت“ اور ”عزت“ کا عالی مقام نصیب فرمائے..ہمارے وہ پیارے ساتھی
اور رفقاء...جو پچھلے سال کی مہم میں ہمارے ساتھ شریک تھے...بھائی حذیفہ شہید.....(قائدانہ
صلاحیتوں سے بھرپور ایک خاموش مخلص سپاہی) مولانا عبدالعزیز ایثار.....(دلوں کے
تار ہلانے والے فنا فی الدعوۃ مبلغ اور انتھک خطیب)...بھائی عبدالستار (محنت،
استقامت اور سیاست کا شاہکار مجاہد)........اور بھی بہت سے اللہ والے دیوانے..
یہ
تین حضرات جن کا تذکرہ آیا....یہ تو مہم کی انتظامی مجلس اور قیادت کا حصہ ہوتے
تھے.....معلوم نہیں..ہم میں سے کس کس کی یہ ”آخری مہم“ ہوگی...اس لیے بھرپور
”فائدہ“ اٹھا لیں..
دن
رات محنت کریں...اس مہم کی برکت سے بے شمار نیکیاں وجود پاتی ہیں...اور بڑے بڑے
کام سر انجام ہوتے ہیں...اس لیے اسے ”معمولی“ نہ سمجھیں...بلکہ اللہ تعالی کی رضا
کے لیے”معمول“ سے ہٹ کر محنت کریں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
25.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو
گذارشات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی مجھے اور آپ سب کو ہمیشہ کے لیے...”اہل ایمان“ ، ”اہل اخلاص“ اور ”اہل فلاح“
میں شامل فرمائے...آج دو باتیں عرض کرنی ہیں..
(۱) وہ مسلمان مرد اور خواتین
جن کا..رمضان المبارک ٹھیک نہیں جا رہا..وہ اپنی ”نماز“ کا جائزہ لیں...”نماز“ کا
معاملہ ٹھیک کر لیں..رمضان المبارک ملنا اور کھلنا شروع ہو جائے گا ان
شاءاللہ..مرد حضرات باجماعت نماز...باتوجہ نماز..لمبی اور زیادہ نماز...اور ایسی
ترتیب کہ کوئی نماز بغیر جماعت کے نہ ہو...یقین کریں اگر آپ نے نماز کو اس کا مقام
دیا..نماز کے اہتمام کو ترجیح دی تو اللہ تعالی آپ کے سارے کام ٹھیک فرما دیں
گے..اور آپ کو ایسی مثالی زندگی عطاء فرمائیں گے کہ...پھر کوئی فکر، مرض اور ذمہ
داری آپ کو نماز سے غافل نہیں کر سکے گی...اور آپ دین و دنیا میں ہر لمحہ ترقی
کرتے جائیں گے ان شاءاللہ..اس لیے ہمیشہ کے لیے پانچ فرض نمازوں کو اپنی زندگی کا
سب سے اہم اور ضروری کام بنا لیں..یہی گزارش خواتین (المؤمنات) سے ہے..البتہ وہ
باجماعت نماز کی جگہ..ہر نماز ”اول وقت“ میں ادا کرنا اپنی لازمی اور پسندیدہ ذمہ
داری بنا لیں..
(۲) الحمدللہ ”انفاق فی سبیل
اللہ“ مہم سے پہلے ہی..ان دو ”اوراد“ کا ورد شروع ہو گیا تھا..
•
”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
•”تَوَكَّلْتُ
عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ
وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ
مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا“
الحمدللہ
ثم الحمدللہ ثم الحمدللہ...اتنا فائدہ ہوا کہ بتا نہیں سکتا..ویسے بھی اپنے حالات
بتانے کا معمول نہیں ہے..
”ماشاءاللہ،
لا حول ولا قوۃ الا باللہ، حسبنا اللہ ونعم الوکیل“
جب
یہ اوراد دل میں پکے ہو گئے تو ”مہم“ کے لیے رفقاء کرام کو پیش کر دیئے...یقینا
جنہوں نے انہیں معمول بنایا..انہوں نے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا..مگر......فائدہ
اٹھانے والے شاید تھوڑے ہیں..اس لیے مہم ابھی تک زور نہیں پکڑ رہی...اللہ کے بندو!
ان روحانی خزانوں سے فائدہ اٹھا لو.....یہ بہت اونچے کلمات ہیں..اور ان کے ظاہری،
باطنی، دنیوی، اخروی، جسمانی، قلبی.......علانیہ اور مخفی فوائد بے شمار ہیں.....مگر
نیت خالص.....اللہ تعالی کی رضا کی ہو....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
26.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
گُنبَدبلا
رہے ہیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ”حرمین شریفین “مسجد اقصی اور تمام مساجد کی حفاظت فرمائیں...حضرت سیدنا سفیان
بن عیینہ رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے کہ:
”اذا
اغار العدو علی موضع فذلک الموضع رباط اربعین سنۃ“
ترجمہ:”
اگر دشمن مسلمانوں کی کسی جگہ پر حملہ کر دے تو وہ جگہ اگلے چالیس سال تک ”رباط“
کا مقام بن جاتی ہے“...
یعنی
وہاں پر قیام رباط ہوگا...اور ایک دن کا رباط.....دنیا وما فیہا سے افضل اور بہتر
ہے..اور اگر کسی جگہ دشمن دو بار حملہ کر چکا ہو تو وہ جگہ...اگلے ایک سو بیس سال
تک ”مقام رباط“ ہوگی...اکثر اہل علم ”فضائل رباط“کی کتب میں یہ روایت ذکر فرماتے ہیں...اور
مسجد اقصی کے فضائل، مناقب..اور وہاں نماز اور اعتکاف کی فضیلت میں بھی......علماء
کرام یہ روایت بیان کرتے ہیں..
اب
سات مئی 2025 کی رات یاد کریں..جب اس دور کے ابوجہل اور اس کے لشکر نے...چند مبارک
مساجد پر حملہ کیا....جامع مسجد سبحان اللہ! کے خوبصورت اور پیارے گنبد....میزائلوں
سے گرائے گئے..حالانکہ ان مساجد میں...نہ کوئی عسکری تربیت تھی..اور نہ کوئی فوجی
چھاؤنی..
اہل
ایمان....اور اہل رباط کے ایمان اور جرأت کو سلام کہ..اتنے بڑے حملے کے
باوجود....وہاں اذان بھی جاری رہی..اور باجماعت نماز بھی..البتہ ان حملوں نے...ان
مساجد کی شان اور مقام کو اور زیادہ بڑھا دیا..
اب
ماشاءاللہ جامع مسجد ”سبحان اللہ“ کے گنبد...فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ..دوبارہ بلند
ہو رہے ہیں....اور دین کے دیوانوں کو....اپنے شاندار ”اعتکاف“ کی طرف بلا رہے ہیں...کتنے
خوش قسمت ہوں گے وہ افراد جو اس سال وہاں ”اعتکاف“ کی سعادت پائیں گے..اور
”اعتکاف“ کے ساتھ ساتھ ”رباط“ کا اجر بھی حاصل کریں گے...حدیث شریف کی کتابوں میں
”رباط“ کے فضائل پر ایک نظر ڈالیں....دل نور اور سرور سے بھر جائے گا ان شاء
اللہ...
مغرب
سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
27.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مِنَ
القَلِیلِ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے ”شکر گزار“ بندوں میں سے بنائیں...ارشاد فرمایا:-
”وَقَلِیْلٌ
مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ“ [سورۃ سبا آیت (13)]
ترجمہ:
اور کم ہیں میرے ”شکر گزار“ (قدردان) بندے..
...”
قلیل“ عربی زبان میں کم اور تھوڑے کو کہتے ہیں..اور ”کثیر“ زیادہ کو...
حضرات
محدثین کرام نے ایک واقعہ لکھا ہے..
حضرت
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے اللہ تعالی سے دعاء مانگی..
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنْ عِبادِكَ القَلِيْلِ“
”
یا اللہ مجھے اپنے تھوڑے بندوں میں سے بنا دیں“
دوسری
روایت میں دعاء کے الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلنِی مِنَ القَلِيْلِ“
”یا
اللہ مجھے تھوڑوں میں سے بنا دیں“
تیسری
روایت میں الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنَ الأقَلِّیْنَ“
اس
کا ترجمہ بھی وہی ہے.. حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا! تمہیں یہ دعاء کہاں
سے ملی؟ اس نے کہا..اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”وَقَلِيلٌ
مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ“
ترجمہ:
اور میرے ”شکر گزار“ بندے تھوڑے ہیں..
تو
میں یہ مانگ رہا ہوں کہ مجھے بھی ان تھوڑے بندوں میں شامل فرما لیں...اس پر حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعریف فرمائی اور بطور تواضع فرمایا...
”سب
لوگ عمر سے زیادہ علم رکھتے ہیں“ (مصنف ابن ابی شیبہ)
ہاں
بے شک حقیقی ”شکر گزار“....قدر دان بندے بہت تھوڑے ہیں..اور یہی تھوڑے بڑے کامیاب
ہیں.....قرآن مجید نے ”قلیل“ اور ”کثیر“ کے موضوع کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے..اور
خاص طور پر پانچ ایسی نعمتوں کا ذکر کیا ہے..جن پر لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہیں..ایک
مؤمن جب یہ آیات پڑھتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ.....وہ بھی
ان تھوڑے کامیاب بندوں میں شامل ہو جائے....وہ نعمتیں کون سی ہیں؟ ”شکر گزاری“ کا
طریقہ کیا ہے؟ کوشش کریں گے کہ ”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ کی برکت سے...قرآن مجید
کا یہ عالی شان موضوع سمجھ لیں..اور اپنی زندگیوں میں ایک اچھی تبدیلی لے آئیں ان
شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
28.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
ایک
درخواست..پانچ نعمتیں
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے نزدیک ایک ”مسلمان“ کی ”حرمت“ کعبہ شریف کی ”حرمت“ سے زیادہ ہے..حضور
اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:-
”وَالَّذی
نَفْسِی بِيَدِهِ لَقَتْلُ مُؤْمِنٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ زَوَالِ
الدُّنيا“ (النسائی)
ترجمہ:
”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے..ایک مؤمن کا قتل اللہ تعالی کے نزدیک
ساری دنیا کے ختم ہو جانے سے بھی بڑا (یعنی سخت) ہے“
حالیہ
پاک، افغان جنگ پر تمام اہل ایمان کو شدید تشویش، پریشانی اور غم ہے..اللہ تعالی
دونوں مسلمان پڑوسیوں کو ایمان، حکمت اور عقل سلیم عطاء فرمائیں..خدانخواستہ یہ
جنگ پھیل گئی تو.....اہل اسلام کو شدید نقصان ہوگا...تمام اہل دل مسلمانوں سے
درخواست ہے کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں..اور کوئی بھی
اس لڑائی میں مزید تیل ڈال کر اسے نہ بھڑکائے...دونوں طرف مسلمانوں کی جانیں جا رہی
ہیں..مسلمانوں کی قوت ضائع ہو رہی ہے..اور مسلمانوں کے دشمن خوشیاں منا رہے ہیں...ہم
دونوں طرف کے حکمرانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر آپسمیں برادرانہ
مذاکرات کریں..مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کریں..اور ایک دوسرے کے مددگار بنیں....مشرکین
اور یہود و نصاری اس جنگ کو مزید بھڑکانا چاہتے ہیں..انکی سازشوں سے خود کو بچائیں..اور
یاد رکھیں کہ..آپ سب نے اللہ تعالی کے حضور پیش ہونا ہے..اور اپنے اعمال کا حساب دینا
ہے..
•گزشتہ
مکتوب میں عرض کیا تھا کہ...پانچ نعمتوں پر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے..چنانچہ وہ
ان پانچ نعمتوں کے بارے نقصان میں رہتے ہیں..قرآن مجید نے یہ پانچ نعمتیں ذکر
فرمائی ہیں اور ساتھ ارشاد فرمایا ہے!
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ۠“
کہ
تم ان کا بہت کم شکر ادا کرتے ہو..
وہ
پانچ نعمتیں یہ ہیں..
(۱)”سَمَعْ“ یعنی سننے کی صلاحیت
(۲)”بَصَرْ“
یعنی دیکھنے کی طاقت (۳)”فُؤَادْ“
یعنی دل..(۴)”مَکَانْ“
یعنی رہائش (۵)”مَعَاشْ“
یعنی روزی...
آپ
خود کو اور آس پاس دیکھیں..ان پانچ نعمتوں کا شکر، قدر اور صحیح استعمال کرنے والے
واقعی بے حد تھوڑے نظر آئیں گے...بلکہ اکثر کو تو ان نعمتوں کا احساس تک نہیں
ہوتا.....باقی تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مشکل
حالات میں کامیابی
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی امت حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر رحم فرمائیں..رحمت فرمائیں..اسلام
کو غلبہ...اور مسلمانوں کو ”تمکین فی الأرض“ عطاء فرمائیں..بے شک:
”اِنَّ
اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“
دنیا
کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں..طاقتوروں کے کمزور ہونے اور کمزوروں کے طاقتور ہونے
کا وقت قریب آرہا ہے..ہمارا موضوع چل رہا تھا!
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ“
کہ
تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو..
”شکر“
کا اصلی معنی اور مفہوم ہے....نعمتوں کا صحیح استعمال..مسلمانوں نے جب اپنی جانوں
اور مال کا صحیح استعمال کیا تو وہ دنیا پر چھا گئے..پھر جب نعمتوں کا غلط استعمال
کیا تو دنیا میں مغلوب ہو گئے....لیکن یہ زمین اللہ تعالی نے کافروں کے لیے نہیں
بنائی..ہاں ان کو کبھی کبھار اس زمین پر غلبہ اور اقتدار مل جاتا ہے...مگر یہ دائمی
نہیں ہوتا..زمین اپنے اوپر کسی کو ”سپر پاور“ زیادہ عرصہ نہیں رہنے دیتی..آج کوئی
تو کل کوئی..اور یہ یقینی ہے کہ مسلمانوں نے دوبارہ ”غلبہ“ پانا ہے..ایسا غلبہ جو
پہلے والے غلبے سے بھی زیادہ بڑا اور وسیع ہوگا..ان شاءاللہ...آج بڑی عجیب خبریں
آرہی ہیں..اس لیے:
”قَلِیْلًا
مَّا تَشْكُرُوْنَ“
کا
جو موضوع شروع کیا تھا وہ پھر کسی مکتوب میں مکمل کریں گے ان شاءاللہ..
فی
الحال ضروری گزارش یہ ہے کہ..حالات اگر خراب اور ہنگامی ہو جائیں تو ”اہل ایمان“
اپنی عبادت، اپنی دعاء.....اور اپنی دینی محنت اور بڑھا دیتے ہیں..تاکہ..اللہ تعالی
کی رحمت اور نصرت متوجہ ہو...اور اگر موت آئے تو اچھی، بہترین اور مزیدار موت
ہو...قسم ہے زمانے کی...تمام انسان خسارے میں جا رہے ہیں...مگر وہ کامیاب ہیں
جو...ایمان، اعمال صالحہ، حق کے کام اور دعوت اور استقامت کی تلقین میں لگے ہوئے ہیں.....
...اللہ
تعالی ہمیں ”خسارے“ سے بچائیں...اور دارین کی ”کامیابی“ نصیب فرمائیں..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
یَوْمُ
الْفُرْقَان
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے اپنے وعدے کے مطابق..مسلمانوں کو بڑی عظیم الشان فتوحات عطاء فرمائیں...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
”فارس“
کی فتح بھی...بڑی فتوحات میں شامل ہے..ایران، عراق وغیرہ علاقوں کو ”فارس“ کہا
جاتا تھا...حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ”دور خلافت“ میں ”فارس“ یعنی ”ایران“
مسلمانوں نے فتح کر لیا..بہت ایمان افروز تاریخ ہے..جنگ قادسیہ...اور جنگ
نہاوند..حضرات صحابہ کرام کی مثالی بہادری اور قربانی...فاتح ایران سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شاندار جہادی قیادت..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
ایران....حضرات
صحابہ کرام کے مقبول جہاد کی نشانی ہے..اور جہاد کا ایک نتیجہ اللہ تعالی نے یہ بیان
فرمایا ہے!
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
الحمدللہ
انفاق مہم جاری ہے..” یوم بدر “ ”یوم الفرقان “..سترہ رمضان..اس مہم کا پہلا
مقابلہ ہے..اور مقابلے کا نام ہے..
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اس
مقابلے کا ایصال ثواب...مجاہدین غزوہ بدر، شہداء غزوہ بدر..اور تمام صحابہ کرام
اور صحابیات...رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام...بے شک ہم ان کے ”مقروض“ ہیں..ساری
امت ان کی ”مقروض“ ہے..اور ہم ان کی ”روشنی“ اور ”نسبت“ کے محتاج ہیں..”ایصال
ثواب“ بہت عجیب عمل ہے..یہ قرضے اتارتا ہے..اور نسبت دلواتا ہے..ان کا پورا قرضہ
کوئی اتار نہیں سکتا...مگر اس کی کوشش اپنی طاقت کے مطابق کی جا سکتی ہے...دو رکعت
ادا کریں..پھر 313 بار پڑھیں...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
اور
پھر خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے (16) اور (17) رمضان...بھرپور محنت کریں..اور
آخر میں اس محنت و عبادت کا ایصال ثواب کر دیں...اور اللہ تعالی سے امیدوار رہیں
کہ..وہ ہمیں....اور ساری امت کو نصیب فرمائیں گے...
”نَصْرٌ
مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“
مغرب
سے جمعہ شریف اور مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
دو
تُحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی اپنی ہر ”نافرمانی“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..
”یُومُ
الفرقان“...”یومُ بدر الکُبریٰ“کے دن دو تحفے قبول کریں..
(۱) گناہوں اور برائیوں سے
حفاظت کے لیے قرآن مجید کے یہ مبارک الفاظ پڑھا کریں..
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“[الذمر(۱۳)]
ترجمہ:
میں اپنے رب کی نافرمانی کرنے پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں..
جب
دل میں گناہ کا خیال آئے..برائی کا ارادہ آئے..کسی برائی یا گناہ کا موقع بنے تو
فورا پڑھیں:-
”إِنِّیْۤ
اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ“
دل
اسی وقت پاک اور صاف ہو جاتا ہے..اور بڑے دن کے عذاب کا خوف ”نور“ بن کر دل پر
”روحانیت“ ڈالتا ہے..
یہ
مبارک کلمات ویسے بھی روزانہ چند بار پڑھنے کا معمول بنا لیں..بہت فائدہ ہوگا ان
شاءاللہ..خصوصا وہ جن سے گناہ نہیں چھوٹ رہے وہ کثرت سے ان کا ورد کیا کریں..
(۲) دوسرا نبوی تحفہ...جو حضرت
آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مؤمنہ صحابیہ کو عطاء فرمایا..وہ یہ کہ
جس نماز میں بھی دس بار یہ کلمات پڑھ لیے جائیں..
..
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر..
تو
اس کے بعد ہر دعاء قبول ہوتی ہے...مرد حضرات سنن اور نوافل میں پڑھ لیا کریں..جبکہ
خواتین ہر نماز میں پڑھ سکتی ہیں...اچھا ہوگا کہ آخری قعدہ میں..درود شریف کے بعد
پڑھ لیا کریں..اور پھر دعاء پڑھا کریں..ایک دعاء یا زیادہ دعائیں...کوشش کیا کریں
کہ.....نماز کے آخر میں زیادہ سے زیادہ دعائیں...سلام سے پہلے مانگا کریں...بڑی عظیم
قبولیت کا مقام ہوتا ہے.....تسبیحات کے اس عمل کو...بعض اہل علم...
”صلوٰۃ
التّسبیح صُغْریٰ“
بھی
کہتے ہیں....بہت پرکیف اور بابرکت عمل ہے...اس عمل کی روایات اگلے مکتوب میں ان
شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
08.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
تین
نعمتیں..ایک روایت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کی ”نعمتیں“...اور ”انعامات“ بے شمار ہیں..الحمدللہ رب العالمین..
(۱) الحمدللہ جماعت کے شعبہ سیدنا
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ...”لِدَعْوۃِ الایمان“ کے زیر اہتمام دو دن میں ”تیس
افراد“ نور اسلام میں داخل ہوئے..کفر و شرک سے تائب ہوئے..موت سے زندگی کی طرف
آئے..والحمدللہ رب العالمین...
(۲) الحمدللہ ”قاتل“ جل مرے..7
مئی 2025..ہماری مساجد، بچوں اور خواتین پر حملہ کرنے والے بزدل انڈین پائلٹوں میں
سے دو..اپنا ہی ”سخوئی فائٹر“ گرنے سے جل مرے..خبروں میں تصدیق ہو چکی ہے کہ...یہ
”پائلٹ“ 7 مئی کے...حملے میں شامل تھے..خس کم جہاں پاک..والحمدللہ رب العالمین...
(۳) الحمدللہ ”یوم الفرقان“ کا
”مقابلہ“.....نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ...اللہ تعالی کی ”نصرت“ سے
”فتح یاب“ ہوا ہے...شاندار محنت اور بہترین نتیجہ..اللہ تعالی اس میں خرچ کرنے
والوں، دعوت، محنت اور ترتیب بنانے والوں...دعاء کرنے والوں کو..”اصحاب بدر“ کی
کامیاب ایمانی نسبت..اپنی کامل مغفرت اور دارین کی فلاح اور برکت عطاء فرمائیں..اس
مقابلہ کی توفیق پر اللہ تعالی کا شکر..والحمدللہ رب العالمین..
(۴) الحمدللہ”سنن الترمذی“ میں
وہ روایت موجود ہے جس کو بعض اہل علم...”صلوٰۃ التسبیح صغریٰ“ کہتے ہیں..روایت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں..
”حضرت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدہ اُم سُلَیم رضی اللہ
عنھا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں..اور انہوں
نے عرض کیا! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیں..جنہیں میں نماز میں پڑھ لیا کروں..آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! دس مرتبہ ”اللہ اکبر“ پڑھا کرو..دس مرتبہ
”سبحان اللہ“ پڑھا کرو اور دس مرتبہ ”الحمدللہ“ پڑھا کرو..پھر جو چاہے دعاء
مانگو..اللہ تعالی (تمہاری دعاء پر) فرمائیں گے نَعْم نَعْم...ہاں، ضرور ہاں...(یعنی
ہم نے قبول فرما لی)....(الترمذی)
دس
بار ”تکبیر“...دس بار ”تسبیح“...اور دس بار ”حمد“ کرنے کا حکم فرمایا...اسی کا
ترجمہ...اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمدللہ پڑھنے سے کر دیا...
اہل
علم غور کریں گے تو کافی کچھ مزید سمجھ لیں گے...اس روایت کی قدرے تفصیل اگلے
مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله