<مکتوب
خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ
تعالیٰ جو ”آسان“ فرمائیں..وہی ”آسان“ ہے..ورنہ دنیا امتحان کی جگہ ہے..یہاں کوئی
کام ”آسان“ نہیں..نہ ”مالدار“ ہونا آسان نہ ”غریب“ ہونا آسان..نہ خوب صورت ہونا
آسان نہ کم صورت ہونا آسان..نہ طاقتور ہونا آسان نہ کمزور ہونا آسان..ہر حالت کی
الگ الگ مشکلات ہیں..مالدار ہونے پر جو مشکلات آتی ہیں..ان کا اندازہ ”غریب“ نہیں
کر سکتے..وہ سمجھتے ہیں کہ مالدار مزے میں ہوتے ہیں..حالانکہ کئی کئی کنال کی
کوٹھیوں اور مہنگی گاڑیوں میں زندگی سسک رہی ہوتی ہے..غریب ہونے کی جو مشکلات ہیں
ان کو مالدار نہیں سمجھ سکتے..وہ سمجھتے ہیں کہ سارے غریب چین سے سوتے ہیں اور
بغیر دوائی کے روٹی ہضم کر لیتے ہیں..حقیقت میں مالداری بھی امتحان اور غربت بھی
امتحان..کامیاب وہ جو اللہ تعالی کی سنے..اللہ تعالی کی مانے..اور اللہ تعالی سے
ہی مانگے..پھر مالداری بھی نعمت..اور غربت بھی رحمت..بہت سے مسلمان ایسے ہیں جن کے
پاس قربانی اور صدقے کے لئے مال نہیں ہے..اگر یہ حضرات و خواتین صبر کریں..شکوہ نہ
کریں..کسی سے نہ مانگیں..اللہ تعالی کے سوا کسی سے لالچ نہ رکھیں تو پھر..ان کی
”غربت“ ہی اتنی بڑی قربانی ہے کہ..کوئی مالدار مسلمان ایک سو اونٹ ذبح کر کے بھی
ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا..ان غریب، مسکین مسلمانوں کا اجر اتنا بڑا ہے
کہ..اسے دیکھنے کے لئے سر اونچا کریں تو ٹوپی گر جائے..یہ لوگ اللہ تعالی کے بھی
زیادہ قریب اور جنت کے بھی زیادہ قریب..دنیا بھر میں رزق اور فتوحات انہی کی برکت
سے تقسیم ہوتی ہیں..اور ان کی دعاؤں اور عرش کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں
ہوتا..امت مسلمہ کے ان ابوذر صفات، مساکین، صدیقین کو دل کی گہرائی سے سلام..
والسلام
خادم..
لااله
الاالله محمد رسول الله