بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

ملک اور قوم کی حفاظت کے لیے

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی نے قصاص اور بدلے میں ”جان“ رکھی ہے..قوم کی جان، ملک کی جان، نظریے کی جان...طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینے والے..ٹوٹ جاتے ہیں، مارے جاتے ہیں، ذلیل ہو جاتے ہیں......انڈیا کے ظالمانہ، بزدلانہ حملے کو چھتیس (36) گھنٹے ہو چکے..قوم ”بدلے“ کے ”انتظار“ میں ہے..وہ جو جہاز مار گرائے گئے وہ ”بدلہ“ نہیں تھا..ان جہازوں نے اپنا کام کر لیا..روکنے والے نہ روک سکے..آجکل کی ٹیکنالوجی میں روکنا آسان بھی نہیں..اس لیے کسی پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ..حملہ کیوں نہیں روکا؟..

حملہ ہو گیا...اب ”جوابی حملہ“ ضروری ہے..یہ ”جوابی حملہ“ نہ ہوا تو پھر ”تباہی“ ہے..ایسی تباہی جو ”قدرت“ کی طرف سے آئے گی..جو مسلمان بھی...اسلام کا دعویٰ کرتے ہوئے ”مشرکوں“ کے سامنے جھک جائے اس پر یہ تباہی آتی ہے..تاتاریوں کا فتنہ کیا تھا؟..یہی خوف اور بزدلی کا فتنہ...مسلمان ڈر گئے..اور خود کو بچاتے بچاتے تباہ ہوتے گئے، مرتے گئے....پھر جو ڈٹ گئے وہی بچ گئے اور غالب ہو گئے...

اللہ کے لیے قرآن مجید کو سمجھو...اور اپنے ملک کو بچا لو..اس وقت جو ”بدلے“ اور ”حملے“ کا فیصلہ کرے گا....وہی اس قوم اور ملک کا ”محسن“ ہوگا..اور وہ دنیا و آخرت میں عزت پائے گا...اور جو پسپائی اختیار کرے گا..وہ قوم اور ملک کو تباہی اور بربادی میں ڈالے گا.....ہم کسی سے اپنے ”خون“ کا بدلہ نہیں مانگ رہے...وہ بہت پاکیزہ اور بہت قیمتی خون تھا..اُس ”خون“ نے رات سے ہی اپنا بدلہ لینا شروع کر دیا ہے..اور اس خون کے ”وارث“ اپنی ”ذمہ داری“ کو سمجھتے ہیں..پاکستان کی ”حدود“ کو پامال کیا گیا..حکومت کی ”ذمہ داری“ ہے کہ اس کا بدلہ لے تاکہ ملک تباہی اور توڑ پھوڑ سے بچ جائے...” معافی“ کے احکامات ایسے موقع کے لیے نہیں ہیں..ایسے موقع پر ”معافی“ گناہ...اور جنگ بندی ”جُرم“ ہے..اور اس ”گناہ“ اور ”جرم“ کی سزا اللہ تعالی خود دیتے ہیں.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله