<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی رات کے بعد دن کو..اندھیرے کے بعد اجالے کو..تنگی کے بعد وسعت کو..اور ھجرت کے بعد نصرت کو لاتے ھیں..حضرت شیخ مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب "اولیائے پاک و ھند" میں ایک بزرگ کا واقعہ تحریر فرمایا ہے..ان کو کچھ لوگوں نے بہت ستایا..بالآخر ان کا دل دکھ گیا..تب ان ستانے والوں پر عمارت گری اور سارے دب کر مر گئے..وہ بزرگ فورا ایک درخت کے پاس آئے اور اسے پکڑ کر کھڑے ھوگئے..اور سالہا سال تک اسی خوف الہی اور عبادت کی حالت میں کھڑے رھے (فرائض و حوائج کے علاوہ) قرآن مجید نے بھی سورہ النصر میں سکھایا کہ جب فتح آجائے تو اللہ تعالی کے سامنے جھک جاؤ..اللہ تعالی کی نصرت اور فتح آتی ھے تو دشمن ذلیل ھوتا ہے..تب اسکی ذلت پر خوشی بھی بجا..اور شکر بھی ضروری..مظلوموں کے کلیجے ٹھنڈے ھوتے ھیں تو اس کا کچھ اظہار بھی ہو جاتا ہے..مگر اللہ تعالی کے اولیاء ایسے مواقع پر..اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتے ھیں..دنیا خود دیکھ لیتی ہے کہ..ظالم کی ذلت کیسے ھوئی..اور ظالم بھی دیکھ لیتا ہے کہ اس کے ظلم کا انجام کیا ھوا..جب سب کچھ کھلی آنکھوں سے نظر آرھا ہے تو پھر..آپ کیا کریں؟..فسبح بحمد ربك واستغفره انه كان توابا..ھم نہ مقربین نہ اولیاء..مگر ان کی نقل تو کرسکتے ہیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله