02.03.2020
مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی آپ سب کو جزائے خیر عطاء فرمائیں..جزاکم اللہ خیرا..1. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے..(ترجمہ)اگر کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو..اگر تم بدلہ دینے کی استطاعت نہ پاؤ تو اس کے لئے دعاء کرتے رھو یہاں تک کہ تمہیں محسوس ہو کہ تم نے اسے بدلہ دے دیا ہے(ابو داؤد)..2.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (ترجمہ)اگر کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کرے اور وہ بھلائی کرنے والے سے کہے ”جزاک اللہ خیرا“ تو اس نے پورا شکریہ ادا کر دیا.. (ترمذی)..3.حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ھیں..اگر تمہیں معلوم ھو جائے کہ اپنے بھائی کو ”جزاک اللہ خیرا“ کہنے سے تمہیں کیا ملتا ہے تو پھر تم کثرت سے ایک دوسرے کو ”جزاک اللہ خیرا“ کہنے لگو.. (مصنف ابن شیبہ)..احسان شناسی، شکرگزاری..اللہ تعالی کو پسند ہے..کسی کے احسان کو ماننا..اس کے احسان کی قدر کرنا..یہ وہ صفت ھے جو انسان کو پھر اللہ تعالی کا بھی شکر گزار بنا دیتی ہے..اور جب انسان اللہ تعالی کا شکر گزار بن جاتا ہے..تو اس پر نعمت، مغفرت اور رحمت کے دروازے مستقل کھل جاتے ھیں..کسی کی بھلائی اور احسان کے بدلے میں اسے کونسے الفاظ میں دعاء دینی چاھیے؟..سب سے افضل الفاظ یہی ھیں جو اوپر ھم نے حدیث شریف میں پڑھے ھیں..جزاک اللہ خیرا..کیا دیگر الفاظ میں بھی دعاء دی جا سکتی ہے؟..کیا ”جزاک اللہ خیرا“ والی دعاء میں کچھ اضافہ کیا جاسکتا ھے؟..یہ تمام تفصیلات کسی اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله