06.03.2020
مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو..کھانا کھلانے کا..ذوق،شوق،مزاج اور حوصلہ عطاء فرمائیں..یہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے اسلام کو خیر سے بھر دیتی ہے..بخاری،مسلم کی روایت ہے حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا..کون سا اسلام بہترین ہے(خیر والا ہے) فرمایا کھانا کھلایا کرو اور سلام کیا کرو جاننے والوں کو بھی اور نہ جاننے والوں کو بھی..کھانا کھلانے کا ذوق ایک مسلمان کو اللہ تعالی کے قریب کر دیتا ہے..فرائض کی پابندی اور حرام سے اجتناب کے بعد..یہ وہ اعمال ہیں جو ہمارے دین اور دنیا کو خوبصورت بناتے ہیں..کئی علاقوں میں رسم ہے کہ کسی کی شادی پر رشتہ دار اسے ھدیہ دیتے ہیں..یہ ھدیہ لکھا اور یاد رکھاجاتاہےاور پھر جب دینے والوں کے ہاں شادی ھوتو کچھ اضافے کے ساتھ واپس لوٹایا جاتا ہے..یہ رسم خطرناک ہے اور سود کے دائرے میں جاتی ہے..کسی کوکچھ کھلائیں یا دیں توخالص اللہ تعالی کی رضاء کی نیت کریں..کسی بدلے،شکرئیے کی نیت نہ کریں..مال اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے..اسے بے حد قیمتی بنایا کریں..اوریہ قیمتی بنتا ہے دینے سے..اور دینا بھی وہ جوخالص اللہ تعالی کی رضاء کے لئے ھو..اپنے مال کو دکھلاوے، رسومات اورمجبوری کے لین دین میں ضائع نہ کریں..کھانا کھلانے کی صفت انسان کے دل کا علاج ہے..آجکل جو”دعوت“کے لئے”پرتکلف“کھانا لازمی بن گیا ہے..اس نے کھانا کھلانے کے محبوب عمل کومحدود کردیا ہے..دال روٹی چٹنی کی دعوت بھی کیا کریں تاکہ..برکت اور اللہ تعالی کی رضاوالا یہ عمل..مسلمانوں کودوبارہ پوری شان سے نصیب ھوجائے!
والسلام
خادم..
لا اله الا الله محمد رسول الله