مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی سے عافیت کا سؤال ہے..وبائی امراض کے بارے
میں اسلامی ہدایات واضح ھیں..بطور خلاصہ چند باتیں عرض ھیں..1.کسی مہلک بیماری کا
پھیل جانا اللہ تعالی کے عذاب کی ایک قسم ہے..اس لئے ایسے مواقع پر استغفار اور صدقات
کی کثرت کرنی چاھیے..2.ایسی کسی بیماری میں مرنے والا ہر شخص”عذاب“کا شکار نہیں
ہوتا..یہ برے لوگوں کے لئے عذاب ھوتا ہے جبکہ ایمان والے صالحین کے لئے ایسی موت
فضیلت والی ہوتی ہے..کئی صحابہ کرام کو ”طاعون“کے وبائی مرض سے”شھادت“کی موت نصیب
ہوئی..3.وبائی مرض کے خوف سے علاقہ چھوڑ کر بھاگنا نہیں چاھیے..یعنی جس علاقے میں
یہ بیماری پھیل گئی ہے اس علاقے کے مسلمان وھاں سے نہ بھاگیں..4.جس علاقے میں ایسا
مرض پھیل چکا ھو باھر کے مسلمانوں کو اس علاقے میں جانے سے پرھیز کرنا
چاھیئے..کیونکہ اگر وہ گئے اور ان کو مرض لگ گیا تو ان کے عقیدے کے بگڑنے کا خطرہ
ھوگا..ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ھونا چاھیے کہ کوئی مرض کسی سے دوسرے کو نہیں
لگتا..جس کو لگتا ہے بس اللہ تعالی کی تقدیر اور حکم سے لگتا ہے..اگر ایک سے دوسرے
کو لگتا تو دنیا کب کی خالی ھو چکی ہوتی..ہم نے جو لفظ ”وبائی مرض“ استعمال کیا یہ
صرف سمجھانے کے لئے ہے..مراد اس سے وہ بیماری ہے جو عام ہو جائے..یہ مطلب نہیں کہ
ایک سے دوسرے کو لگ جائے..باقی اھم باتیں کسی اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله