<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھماری حفاظت فرمائیں..شیطان کے شر اور اثرات سے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ..وضو میں ”ناک“کو اچھی طرح صاف کیاجائے..خوب مبالغے سے ناک میں دورتک پانی پہنچایاجائے اورپھر سانس کے زور سے ناک کوصاف کیا جائے..یہ وضومیں سنت ہے اور غسل میں فرض..اور فرمایا کہ نیندسے جاگنے کے بعد بھی ناک کوصاف کیا جائے کیونکہ..شیطان رات کو ناک میں قیام کرتا ہے..میڈیکل سائنس سے تعلق رکھنے والے حضرات نے اس اسلامی نبوی حکم کے طبی فوائد پر..عجیب تحقیقات لکھی ھیں کہ..ناک میں دور تک پانی پہنچانے اور ناک کو صاف کرنے میں کتنی بڑی بڑی بیماریوں کاعلاج ہے..ھمارے لئے حضرت آقا صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم ہی سرآنکھوں پر..فرمایا
کہ اگر تمہیں روزہ نہ ہو تو خوب مبالغے کے ساتھ ناک میں پانی پہنچایا کرو..روزانہ ہر وضو میں..پھر نیند سے جاگنے کے بعد..اور ہرغسل میں جب ناک میں اسطرح دور تک پانی جائے گا اور ناک صاف ہو گی تو..کتنے امراض،کتنے جراثیم..اور کتنے شیطانی اثرات دور ہوجائیں گے؟..ناک میں شیطان کے قیام کی روایت جب سے پڑھی..جاگنے کے بعد ناک میں پانی ڈال کر صفائی کو معمول بنایا تو طبیعت ایسی ھشاش بشاش ہوجاتی کہ گویا طاقت کا کوئی ٹیکہ لگ گیا ھو..”کرونا وائرس“کی احتیاطی تدابیر میں..اس مبارک سنت کو شامل کر لیجئے..ناک میں پانی دائیں ہاتھ سے ڈالنا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑنا سنت ہے..خبر آئی ہے کہ..کرونا کے ڈر سے لوگ امریکہ اور لندن سے بھاگنا شروع ہوگئے ھیں..سبحان تیری قدرت..
والسلام
خادم..
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ