<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ان تمام مسلمانوں پر..خصوصی رحمت فرمائیں..جو ”فتنہ وباء“ کے اس وقت میں..جان کی نہیں ”ایمان“ کی فکر کررہے ہیں..اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے ”ایمان“ کی..یہ اللہ تعالیٰ کے سمجھدار بندے ہیں..اللہ تعالی ان کو مزید حکمت اور جزائے خیر عطاء فرمائیں..موت کی فکر بھی بھلا کوئی فکر ہے!..موت جب آجائے تو پھر اسے کون روک سکتا ہے؟..
                        ہے مقصد زندگانی کا کہ کچھ دنیا میں کر جانا..
خیال موت بے جا ہے وہ جب آجائے تو مر جانا..
موت کی یاد اچھی چیز ہے تاکہ..دل اس دنیا میں غافل نہ ہو..مال اور شہوات مقصود نہ بن جائیں..انسان ظلم پر نہ اتر آئے..وہ ہے موت کی یاد اور اسکی تیاری کی فکر..مگر آج کل جو فتنہ مسلط ہے وہ موت سے بچنے کی فکر کا ہے..موت سے فرار..حقیقت سے فرار..اور تقدیر سے فرار..ناممکن، ناممکن..دنیا والے ابھی تک ”کرونا وائرس“ کو سمجھے ہی نہیں..انہوں نے اپنی جہالت پر پردہ ڈالنے کے لئے..طرح طرح کے اقدامات تجویز کردئیے..مجمع نہ لگاؤ، ہاتھ نہ ملاؤ..وغیرہ..ہم نے بھی بغیر سوچے ان کے احکامات کو سر آنکھوں پر لے لیا..حالانکہ جہاں ایک کمرے کے مکان میں دس افراد رہتے ہیں وہاں ”کرونا“ کا نام و نشان نہیں..جبکہ اٹلی و یورپ میں روزانہ سینکڑوں افراد مررہے ہیں..بنگلہ دیشی مسلمانوں نے تو لاکھوں کا مجمع لگایا..دعائیں مانگیں اور خیر سے رہے..اب دنیا اپنی خفت مٹانے کے لئے ان کو پچیس ہزار بتا رہی ہے..چلو اتنے ہی مان لو..کونسی قیامت ٹوٹی؟.. بابا!  وائرس کا علاج ”سرکے“ وغیرہ میں ہے..اور دعاء تقدیر کو ٹال دیتی ہے..مسجدیں اور دین کے حلقے آباد کرنے والوں کو سلام..
والسلام
خادم..
لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ