مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھمارے ساتھ..بھلائی کرنے والے ہر مسلمان کو..جزائے خیر عطاء فرمائیں..جزاھم اللہ خیرا..آج کوشش ہے کہ یہ بحث سمٹ جائے..ورنہ تفصیلات بہت ھیں..مثلا کوئی کھانا کھلائے تو اسے کیا دعاء دیں..عام طور سے یہ دعاء مشہور ہے..اللهم اطعم من أطعمنی واسق من سقانى..حالانکہ یہ دعاء..کسی کے کھانا کھلانے کے بعد کی نہیں..پہلے کی ہے..کھانے کی ضرورت ہو تو یہ دعاء کی جائے..اسکی برکت سے جلد بندوبست ھو جاتا ہے..مگر ٹھیک ہے کسی کے کھانا کھلانے کے بعد بھی دی جاسکتی ہے..اب ملاحظہ ہو خلاصہ..1.یہ فکر رکھنی چاھیے کہ ھم پر جو بھی کوئی دینی، دنیوی احسان کرے ھم بھی اسے اس کا بدلہ دینے کی کوشش کریں..هل جزاء الاحسان الا الاحسان..2.کوئی مادی بدلہ دینا لازمی نہیں ہے..اسے لازمی سمجھنے کی وجہ سے کئی بری رسومات پیدا ھوئی ھیں..لفظ احسان پر غور کریں..یعنی اس نے آپ کے ساتھ اچھائی کی..آپ بھی اس کے ساتھ اچھائی کریں، اس کی خیر خواھی کریں..3.بدلہ دینے کا ایک بہترین طریقہ یہ ھے کہ آپ اسے دعاء دیں..اور اسمیں بہترین دعاء ”جزاک اللہ خیرا“ ہے..4.حدیث شریف کے الفاظ میں بڑی برکت اور بڑی جامعیت ھوتی ہے اس لئے صرف ”جزاک اللہ خیرا“ کو ہی بہت سمجھیں..لیکن اگر کوئی اسمیں اضافہ کرنا چاھے تو کوئی حرج نہیں مثلاً..جزاک اللہ خیرا کثیرا..جزاک اللہ الف خیر..جزاک اللہ خیرا احسن الجزاء فی الدارین وغیرہ..4.اکثر لوگ خالی ”جزاک اللہ“ کہتے ھیں اس سے پوری بات اور دعاء نہیں بنتی..ساتھ "خیرا" کہا کریں..5.احسان اور بھلائی کرنے والوں کو..اور بھی دعائیں دینی چاھیں اور پیٹھ پیچھے بھی ان کے لئے دعاء کو اپنا مستقل معمول بنانا چاھیے..6.اپنے لئے دعاء کریں یا دوسروں کو دعاء دیں اسمیں دعاء یعنی اللہ تعالی سے مانگنے والی کیفیت، نیت ضرور ھو..پیشہ ور بھکاریوں کی طرح صرف لفظی دعاؤں کے برسٹ نہ چلایا کریں..ان دعاؤں میں اللہ تعالی سے کچھ نہیں مانگا جاتا صرف سامنے والے کو سنانا مطلوب ھوتا ہے..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله