مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ہر کبیرہ اور صغیرہ گناہ سے توبہ نصیب فرمائیں..کبیرہ
گناھوں میں سے ایک بہت خطرناک گناہ..کسی کی”زمین“پر قبضہ کرنا ہے..حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا نے ”ابوسلمہ“ سے فرمایا اے ابوسلمہ..زمین کے معاملے سے بچو..کیونکہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا..جو ایک بالشت زمین بھی قبضہ کرے گا اسے(قیامت کے دن)سات زمینوں
کا طوق ڈالا جائے گا(بخاری)..دوسری روایت میں ارشاد فرما یا کہ اسے سات زمینوں تک دھنسایا
جائے گا(بخاری)..امام قرطبی فرماتے ھیں کہ..بغیر حق کے کوئی زمین لے لینا..اکبرکبائر(یعنی
بہت بڑے گناہوں)میں سے ہے..خواہ یہ زمین غصب کرکے لی ہو یا چوری کرکے یا دھوکے سے لی
ھو..زمین تھوڑی ہو یا زیادہ..حضرت ابن النحاس فرماتے ھیں..کبیرہ گناھوں میں سے زمین
پر قبضہ بھی ہے..خواہ وہ کسی مسلمان کی ملکیتی زمین ھو یا لوگوں کی مشترکہ زمین جیسے
راستہ وغیرہ..حضرت معروف کرخی نے ایک بار..اپنے دوستوں کو نصیحت فرماتے ھوئے کہاکہ..ایک
شخص کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کیاجائے گا..اللہ تعالی پوچھیں گے تم اپنے گھر والوں
کو کیساچھوڑ کرآئے..وہ کہے گا اے میرے رب میں ان کومالدار چھوڑ آیا ھوں..فرمایاتمہارے
بعدھم نے انہیں محتاج، فقیر کردیا..اورفرشتوں سے فرمائیں گے کہ اسے جہنم میں لے جاؤ..پھرایک
اورشخص پیش ہوگااس سے یہی پوچھاجائے گا..وہ کہے گا میں اپنے گھر والوں کو فقیرچھوڑ
کرآیا ہوں..فرمایا تمہارے بعد ھم نے انہیں مالدار کردیا..اے فرشتو اسے جنت میں لے جاؤ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله