مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ”حرام مال“ سے ہماری حفاظت فرمائیں..حرام مال
کے ایک روپے سے بچنا اسی (80) حج کرنے سے افضل ہے..حرام مال ”روح“ کی موت ہے..اللہ
تعالی نے ھمیں اس زمین کی ”مٹی“ سے پیدا فرمایا..مرنے کے بعد پھر ھمیں اسی مٹی میں
دفن کیا جائے گا..اور قیامت کے دن ھمیں اسی ”مٹی“ سے دوبارہ اٹھایا جائے گا..اس لئے
زمین اور مٹی کے معاملہ میں بہت احتیاط، بہت احتیاط..اگر ھم نے زمین کے ایک چپے پر
ناجائز قبضہ کیا..تو یہ زمین..”حرام زمین“ کہلائے گی..گویا کہ ھم نے..اپنے حرص کی وجہ
سے مٹی کے ایک حصے کو برا نام دے دیا، بدنام کردیا..اب جب ھم اسمیں دفنائے جائیں گے
تو یہ ھمارا کیا حشر کرے گی؟..اور اگر ھم نے زمین خرید کر اس پر مسجد بنادی..کسی غریب
کو گھر بنا دیا..کوئی کنواں یا دینی مرکز بنادیا تو یہ زمین..”مقدس“کہلائے گی..گویا
کہ ھم نے مٹی کی لاج رکھ لی..اپنی ماں کو عزت دی،اسے بدنام نہیں کیا..اسلام کا مزاج
ھی دینے والا ہے..قبضے کا تو اس میں تصور بھی نہیں..مال خرچ کرو اور اللہ تعالی کا
خاص قرب پالو..شریعت کے نوے فیصد احکامات کا تعلق مال سے ہے..مال میں جس کی نظر اللہ
تعالی پر وہ عزت والا..جس کی نظر مخلوق پر وہ ذلیل و پریشان..اللہ تعالی کو”رب“ماننے
والے کبھی خیانت نہیں کرتے..چوری نہیں کرتے..قبضہ نہیں کرتے..رمضان المبارک کی ان بابرکت
گھڑیوں میں سچی توبہ..وراثت ٹھیک ٹھیک تقسیم.. جس کا حق قبضے میں وہ فورا واپس..کیونکہ
ان معاملات میں زبانی توبہ کافی نہیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله