مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھمیں..اصحاب بدر کے ساتھ سچی نسبت عطاء فرمائیں..اللہ تعالی نے ”غزوہ بدر“ کو آیت ،نشانی اور مثال بنایا ہے..آيۃ فی فئتين التقتا..قرآن مجید نے جگہ جگہ غزوہ بدر کا تذکرہ فرمایا ہے..قرآن مجید نے غزوہ بدر کے دن کو..”یوم الفرقان“ فیصلے کا دن قرار دیا..اب قیامت تک کفر و اسلام کے درمیان فیصلہ میدان جھاد میں ھی ہوگا..قرآن مجید نے غزوہ بدر کے مختلف پہلو اور مناظر بھی بیان فرمائے..اگر خدا نخواستہ ھم غزوہ بدر سے کٹ جائیں..اور یہ اعلان کر دیں کہ غزوہ بدر ھمارے لئے مثال نہیں ہے تو..ھم قرآن مجید کی کتنی آیات سے کٹ جاتے ھیں؟..غزوہ بدر..روحانیت اور شیطانیت کے درمیان بڑا معرکہ تھا..جسمیں ایکطرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جبریل امین علیہ السلام تھے تو دوسری طرف ابوجہل اور ابلیس لعین..غزوہ بدر میں شریک مجاہدین کے لئے فیصلہ فرمادیا گیا کہ..اب باقی زندگی میں ان کا کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا.. بلکہ سب کچھ پیشگی معاف..اور شہداء بدر کے لئے..جنت کے فردوس اعلی والے حصے میں..محلات بنائے گئے..جہنم کو بتا دیا گیا کہ اس میں کوئی ”بدری“ نہیں آئے گا..اور جنت کو ان حضرات کے لئے سجا دیا گیا..غزوہ بدر اور اصحاب بدر کے صرف وہ فضائل جو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ھیں جمع کئے جائیں تو حیرت کا مجموعہ کتاب بن جاتی ہے..کافر و منافق اسی لئے غزوہ بدر سے جلتے ھیں کہ..اس غزوہ نے اسلام کے غلبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے..اب آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ..آپ کے لئے مثال غزوہ بدر ہے..یا بنی اسرائیل؟..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله