مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو”نفاق“سے بچائیں..آج سورہ المنافقون کی آخری آیات کے خلاصے کی کوشش ہے..
نفاق سے حفاظت چاھئے تو..مال اور اولاد کے معاملات اللہ تعالی کے احکامات کے نیچے رھیں..کبھی بھی مال اور اولاد،ایسے محبوب نہ بنیں کہ انکی وجہ سے اللہ تعالی کا کوئی حکم ٹوٹے..
نماز کی بہت فکر،محنت،پابندی..توجہ اور خشوع والی نماز(ذکر اللہ) بروقت،باجماعت،ھمیشہ،سب سے مقدم..
مال حلال ہوحرام سے سخت پرھیز اور اس حلال مال کو بھی..اللہ تعالی کے احکامات زکوۃ،حج،جھاد وغیرہ میں خوب خرچ کیا جائے..مال جتنا خرچ ہوتا جائے گا..دل اتنا نفاق سے پاک اورمحفوظ ہوتا جائے گا..
موت ھمیشہ یاد رھے مگراسطرح کہ موت کے خیال سے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کی جائیں،زیادہ سے زیادہ مال اللہ تعالی کے لئے خرچ کیا جائے..موت سے غفلت نہ ہو..اور نہ ھی موت کا ایسا خوف کہ اسکی وجہ سے نیکی چھوڑیں،دین چھوڑیں یا کوئی اور گناہ کریں..موت نے اپنے وقت پر آنا ہے..موت سے بچنے کے لئے کوئی بزدلی، کوئی گناہ اور کوئی غلطی نہ کریں..منافقین جھاد سے بھاگتے تھے کہ اسمیں موت آجاتی ہے تو سورت کے بالکل آخر میں بتا دیا گیا کہ..موت اپنے وقت پر آتی ہے..جب اس کا وقت آ جائے تو پھر وہ کسی بھی طرح نہیں ٹلتی..اللہ کرے..خلاصہ پورا آگیا ھو..آخر میں یہ درخواست کہ آپ میرے لئے نفاق سے حفاظت اور ایمان پر خاتمے کی دعاء کردیں..اور یہی دعاء آج میں آپ سب مکتوب پڑھنے والوں کے لئے کروں..افطار کے وقت..منظور؟..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله