مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ھماری..فلموں، ڈراموں..اور جھوٹی کہانیوں سے
حفاظت فرمائیں..آجکل کوئی ”ترکی“ ڈرامہ چل رہا ہے..فرمائش آئی ہے کہ اس کے بارے
میں لکھوں..الحمدللہ وہ دیکھا ہی نہیں تو کیا لکھوں؟..میرا تو یہ سوچ کر دل بیٹھنے
لگتا ہے کہ..رمضان المبارک میں کوئی مسلمان..کسی بھی طرح کا کوئی ڈرامہ دیکھے..کیا
یہی وقت ”قرآن عظیم الشان“ کو نہیں دے سکتے..ھم مسلمان ”قرآن مجید“ سے مزید کتنی
بے وفائی کریں گے؟..”ترکی“ کو ”کمال اتاترک“ نے لبرلزم کی ”کھائی“ اور آگ میں جا
پھینکا تھا..اردگان اپنی قوم کو واپس بلندی پر لانے کے لئے سرگرم ھیں..وہ اسے
بھڑکتی آگ سے کھینچ رہے ہیں تو ابھی راستے میں..انگارے، کوئلے اور گرم زمین کے
مرحلے آنے ھیں..اس لئے وھاں کے ماحول میں اسطرح کے ڈرامے شاید مفید ھوں..مگر ھمارے
دیندار طبقے نے اگر ان کوئلوں پر پاؤں رکھا تو ”بار بی کیو“ ھو جائے گا..جسطرح کئی
مولوی، کئی ادارے، کئی مدرسے ہوگئے..نہ اونٹ نہ پرندے، شترمرغ..اللہ تعالی کا
برصغیر پر بہت احسان رہا..مجاہدین، مدارس، پرانے علماء اور خانقاھیں..یہاں
الحمدللہ نہ ”ترکی“ بنا، نہ ”بوسنیا“ اور نہ ”ازبکستان“..مگر اب کئی جدت پسند
کرونا واعظ، مفکر اور دانشور..اس معاشرے کو بھی وھی ترکی اور بوسنیا والے ٹیکے لگا
رھے ھیں..ترک ڈرامے کے بارے میں معلوم ھوا ہے کہ..عثمانی خلافت کے بارے میں
ہے..مگر خرافات اور قول زور سے خالی نہیں..اگر ھماری مانیں تو بالکل نہ
دیکھیں..خود مجاہد بنیں..افسانوی عشقیہ مجاہد نہیں..حقیقی،سرفروش مجاہد..ھماری
حکومت بھی عجیب ہے..اپنے زمانے کے مجاہدین کو دبا رہی ہے اور پرانے مجاہد دکھا رھی
ہے..
والسلام
خادم
لا اله الا الله محمد رسول الله