مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کی توفیق سے چند باتیں..1.اللہ تعالی نے
فرمایا ہے کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے”انہ لكم عدو مبين“..2.شیطان کو اللہ تعالی نے
یہ طاقت دی ہے کہ وہ..انسان کے لئے نقصان دہ چیزوں میں کشش پیدا کرتا ہے..برائی کو
اچھائی دکھاتا ہے..اسی لئے بہت سے لوگ اپنی غلطیوں پر کبھی نادم نہیں ھوتے کیونکہ
شیطان ان کو دکھاتا ہے کہ وہ اچھا کر رھے ھیں..شیطان کا یہ وار اللہ تعالی کے مخلص
بندوں پر نہیں چلتا..3.سونا، چاندی..اور آجکل روپے یعنی کرنسی..یہ وہ چیز ہے
کہ..جسمیں شیطان سب سے زیادہ کشش پیدا کرتا ہے..کل عرض کیا تھا کہ تربوز کا چھلکا
اتارنے پر تکلیف نہیں ھوتی مگر سو روپے میں سے ڈھائی روپے دینے پر ہوتی ہے..وجہ یہی
شیطانی کشش ہے..4.شیطان چونکہ دشمن ہےتو وہ ”روپے“ میں یہ کشش بھی انسان کو نقصان
پہنچانے کے لئے ڈالتا ہے..سونا، چاندی اور روپیہ اگر چھلکا اتارے بغیر یعنی زکوۃ
دیئے بغیر استعمال کئے جائیں یا رکھے جائیں تو یہ انسان کے لئے زھر بن جاتے
ھیں..بیماریاں، پریشانیاں، دشمنیاں اور غم انکی وجہ سے انسانوں پر مسلط ہوتے
ھیں..اگر وہ مال کی زکوۃ دیتے رھیں اور دیگر فرائض و حسنات میں مال خرچ کرتے رھیں
تو وہ ان تمام پریشانیوں اور آخرت کے عذاب سے بچ جاتے ھیں..یہ بات شیطان کو گوارہ
نہیں..چنانچہ وہ اس مال میں ایسی کشش ڈالتا ہے کہ..اکثر لوگ صرف اسے رکھنے، چھپانے
اور گننے تک میں سرور محسوس کرتے ھیں..یہ حالت خطرناک ھے..اس کا علاج کیا ہے؟ یہ
اگلے مکتوب میں ان شاء اللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله