مکتوب
خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی”ھمارے“ مال کو”ھمارا“ بنائے..اور اسے ھمارے لئے”وبال“
نہ بنائے..ھمارا مال..ھمارا تب بنتا ہے جب ھم اسے اللہ تعالی کے راستے میں لگادیں..جھاد
فی سبیل اللہ میں سب سے افضل..اور پھر نیکی کے دیگر کاموں میں..یا ھم اسے حلال کاموں
میں استعمال کرکے اس سے کچھ راحت حاصل کر لیں..ھمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
نے ھمیں اپنے عمل اور فرامین کے ذریعہ..وہ تمام طریقے سکھا دیئے ھیں..جن کی برکت سے
ھم..نقد مال کی زائد کشش سے بچ سکتے ھیں..یاد رکھیں نقد مال..یعنی سونا، چاندی اور
روپے..خود کسی کام کے نہیں ھوتے..نہ کھانے کے نہ پینے کے..آپ کے پاس ایک کروڑ روپے
بھی ھوں تو..آپ کی پیاس نہیں بجھا سکتے..یہ روپے تب کام آتے ھیں جب ان کو چلایا جائے..آپ
نے سو روپے اپنی جیب سے نکال کر..دوکاندار کو دیئے پانی کی بوتل خریدی..اب پیاس بجھے
گی..بس یہ نکتہ دل میں بار بار بٹھایا جائے کہ..نقد مال تب کام کا بنتا ہے جب ھم اسے
اپنے پاس نہ رکھیں..یہ نکتہ پکا ھوجائے تو نقد مال کی زائد شیطانی کشش بہت کم ھو جاتی
ھے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راز سمجھایا کہ اگر..نقد مال پر گرہ لگاؤ گے تو اللہ
تعالی بھی تم پر گرہ لگا دیں گے..یہ جو شوق ھوتا ہے کہ اتنا پیسہ پڑا رھے..بےکار..یہ
ھے گرہ لگانا..یا ”گڈی“ نہ ٹوٹے..ایک لاکھ، ایک کروڑ..اب یہ ٹوٹے نہ..یہ ہے گرہ لگانا..اللہ
تعالی نے ایک لاکھ دیئے فوراً پانچ ہزار اس کے راستے میں دے دیں..یوں گرہ لگانے کا
شوق کم ھوگا..اور اللہ تعالی بھی قسمت کھول دیں گے..باقی کل ان شاء اللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله