مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کی توفیق سے.. آج”نقد مال“ والے موضوع کے خلاصے کی کوشش..1.حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس نقد مال رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے..مگر امت کے لئے ضروری حقوق ادا کرکے مال رکھنے کی اجازت ہے..2.نقد مال کی زیادہ کشش بہت بری ہے..ھمیشہ اپنی نگرانی کرنی چاھیے..اور اس بارے روزانہ دعاء مانگنی چاھیے..خصوصا صبح شام تین بار سورہ”التکاثر“ پڑھ کر..3.روپے گننے کی زیادہ عادت نہیں ڈالنی چاھیے..بس ایک بار گن لیں یا سخت ضرورت کے وقت..مستقل گنتی اور حساب میں لگے رھنا اچھا نہیں ھے..4.آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سو بکریاں تھیں..سات گھوڑے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک میں رھے..آپ نے اپنے صحابہ کرام کو بھی ترغیب دی کہ..نقد مال جمع کرنے کی بجائے بکریاں وغیرہ خریدیں..اس عمل کی برکت وافادیت بہت تفصیل طلب ھے..5.نقد مال جب خرچ ہو تو کیا سے کیا بن جاتا ہے..جبکہ پڑا رھے تو بیماری، پریشانی، بخل اور غم پیدا کرتا رھتا ہے..آپ نے مال خرچ کیا تو وہ زکوۃ بنا..جھاد بنا..صدقہ بنا..ہدیہ بنا..کنواں بنا..برکت والا گھوڑا بنا..کسی کی دعاء بنا..کسی کے مقبول آنسو بنا..اور خرچ نہیں کیا تو کیا بنا؟ خزانہ؟ یا خزانے کا سانپ؟..کاش مسلمان اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ھوئے ”معاشی نظام“ کو اپنائیں تو دنیا اور زندگی کا رنگ ھی بدل جائے..6.مال کو اسراف، دکھاوے، رسومات اور حرام کاموں میں خرچ کرنا بہت خسارے والا سودا ہے..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله