مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالیٰ ”اَلْوَكِيْلُ“ ہیں..”وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ“
کے معنی
”بہترین
وکیل“
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ
1.اگر
اسے ”حَسْبُنَا اللّٰهُ“ پڑھیں گے تو اس کا معنی ھوگا ”کافی ھیں ھمارے لئے اللہ تعالیٰ“
اور اگر ”حَسْبِیَ اللّٰه“ پڑھیں گے تو مطلب ھو گا ”کافی ھیں میرے لئے اللہ تعالیٰ“
2.یہ
مبارک کلمہ ایک ”دعاء“ ہے.. افضل ترین اور بڑی دعاؤں میں سے ایک دعاء..اور ”دعاء“ عبادت
کا مغز ہے اور ”دعاء“ بہترین ذکر ہے..بہرحال یہ یاد رہے کہ یہ کلمہ..ایک دعاء ہے..بظاہر
اسمیں کچھ نہیں مانگا گیا..مگر حقیقت میں ھم نے اسمیں اللہ تعالی کے اسم مبارک ”اَلْوَكِيْلُ“
کا سارا فیض مانگ لیا ہے
3.”اَلْوَكِيْلُ“
کے معنی ہے ”اَلْمُدَبِّرْ“ تدبیر فرمانے والے..”اَلْکَفِیْلْ“ کفالت فرمانے والے
”اَلْکَافِیْ“ ہر حاجت، ہر ضرورت، ہر مسئلے اور ہر کام کے لئے کافی ھوجانے والے ”اَلمُتَوَلِّیْ“
خود اپنے بندوں کے کام بنانے والے
4.”حَسْبُنَا
اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا“ کا پورا ترجمہ یوں ہوگا..اللہ
تعالی ھمارے لئے کافی ھیں اور وہ بہترین وکیل ھیں ھم نے اللہ تعالی کو وکیل بنا لیا..اللہ
تعالی پر بھروسہ کر لیا
5.اردو
والا ”وکیل“ بہت چھوٹا اور نکما لفظ ہے اسکی وجہ سے ھمارے دل میں اصلی ”اَلْوَكِيْلُ“
لفظ کی عظمت کم نہیں ہونی چاہیے
6.اس
مبارک دعاء کا سب سے بڑا فائدہ ”قرب الہیٰ“ ہے..دوسرا فائدہ آخرت کی کامیابی ہے، تیسرا
فائدہ دشمنوں اور ظالموں کے شر سے حفاظت ہے..چوتھا فائدہ رزق کی کثرت ہے، پانچواں فائدہ
اطمینان قلب ہے اور چھٹا فائدہ مشکل حالات سے کامیاب نکلنا ہے..اور بھی بہت فائدے ھیں..ھم
اخلاص سے پڑھیں
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله