<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ہی ”غیب“ کا علم رکھتے ہیں..اللہ تعالی کے سوا
اور کوئی نہیں..کوئی نہیں..لوگوں کو ”مستقبل“ کا حال جاننے کا شوق ہوتا ہے..یہ شوق
بہت برا ہے..اللہ تعالی رحیم و کریم نے ھم سے جو کچھ چھپایا ہے ھماری بھلائی کے لئے
ھی چھپایا ہے..ھم پر سب کچھ ظاہر ہو جائے تو ہماری زندگی..”جہنم“ بن جائے..بہت سی چیزیں
”غیب“ نہیں ہوتیں صرف پردے میں ہوتی ہیں..بعض افراد ان کو جان لیتے ھیں تو لوگ انہیں
”ولی“ اور ”بزرگ“ سمجھنا شروع کر دیتے ھیں..حالانکہ نہ یہ ”ولایت“ ہے نہ ”کرامت“ نہ
بزرگی..ایسے لوگوں سے دور رھیں وہ آپ کی زندگی کو خراب اور بے مقصد کر دیں گے..جو غم
نہیں آیا اس پر پہلے سے درد اٹھانا کونسی عقلمندی ہے؟ کسی کا عیب جان لینا کون سا کمال
ہے..ممکن ہے عیب والے افراد ہی آپ کے لئے مفید ھوں..روزہ افطار ھو چکا چلیں ایک مفید
تاریخی لطیفہ ھوجائے..ایک غزنوی سلطان نے دشمن پر حملہ کرنا تھا..دشمن طاقتور تھا چنانچہ
سلطان کو خدشہ تھا..اس نے نجومی بلائے کہ ستاروں کے حال سے پتہ لگاؤ کہ مجھے حملہ کرنا
چاھیے یا نہیں؟..نجومیوں نے بہت زور مارا مگر کوئی نتیجہ نہ نکال سکے..ایک غریب بھوکے
شخص کو پتہ چلا تو اس نے کہا مجھے سلطان کے پاس لے جاؤ..وھاں جا کر اس نے کاغذ پر کچھ
لکیریں لگائیں اور کہا حملہ کرنا چاھیے..سلطان نے حملہ کیا اور کامیاب ھو گیا اور اس
غریب کو انعامات سے مالامال کر دیا..لوگوں نے اس سے کہا کہ یہ علم ھمیں بھی سکھاؤ..مگر
اس نے انکار کر دیا..سلطان کے وفات کے بعد اس نے راز ظاھر کیا اور کہا کہ علم کوئی
نہیں تھا بھوک تھی..سوچا سلطان کو حملہ کرا دوں کامیاب ھوا تو انعام مل جائے گا..ناکام
ھوا تو نہ واپس آئے گا نہ مجھ سے سؤال جواب کر سکے گا..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله