<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..

اَلْعِبَادَةُ فِي الْفِتْنَةِ كَهِجْرَةٍ إِلَىَّ..

فتنے کے زمانے میں عبادت کرنا ایسا ہے جیسے میری طرف ھجرت کرنا..(احمد، طبرانی)

یعنی جب فتنے بڑھ جائیں..قتل و غارت عام ھو جائے تو اس زمانے میں دین پر قائم رھنا..دین پر چلنا..دین پر ڈٹے رھنا دین کا کام کرنا..ایسی فضیلت رکھتا ہے جیسی فضیلت مکہ مکرمہ میں موجود مسلمانوں کے لئے..حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ منورہ ھجرت کرنے میں تھی..آج ہر طرف فتنے ہی فتنے ہیں..کفر کے فتنے..شرک کے فتنے..الحاد کے فتنے..بدعات کے فتنے..بے حیائی کے فتنے..ظلم کے فتنے..بد دینی کے فتنے..نشے کے فتنے..بے پردگی کے فتنے..انکار دین کے فتنے..ہر گھر میں فتنے ہر دل میں فتنے..ہر جیب میں فتنے..ہر سمت فتنے..اللہ تعالی کا شکر ادا کریں وہ افراد..جو اس زمانے میں دین پر عمل کرتے ھیں..فرائض اور سنتوں کو زندہ کرتے ھیں..اور دین کی خاطر قربانیاں دیتے ھیں..شکر، شکر اور شکر..ہر عبادت کے بعد شکر..ہر نیکی کے بعد شکر..ہاں فتنے بہت ھیں..مگر ان فتنوں کے زمانے عبادت اور نیکی کا اجر کتنا بڑھ گیا..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ھجرت جیسا ہو گیا..اے ایمان والو! اور کیا چاہئے؟؟ لگے رھو..ڈٹے رھو..اللہ تعالی سے استقامت مانگتے رھو..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله