<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی سے..ان کے فضل کا سؤال ہے..
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
..حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے..اللہ تعالی سے ان کا فضل مانگا کرو بے شک اللہ
تعالی پسند فرماتے ھیں کہ ان کا فضل مانگا جائے اور افضل عبادت اچھے حالات کا انتظار
ہے (ترمزی)..
ایک صاحب بیمار تھے..بہت سخت بیمار..طویل بیماری کے بعد
وہ صحت یاب ھوئے تو کسی نے پوچھا کہ..اتنی سخت تکلیف آپ نے کس طرح برداشت کی..کہنے
لگے میں ہر صبح..اسی انتظار میں لگ جاتا کہ بس میرے مالک کا فضل آنے والا ہے..انکی
رحمت سے صحت آنے والی ہے..اسی خیال نے میری مشکل کو آسان کر دیا اور بیماری کا اتنا
طویل عرصہ میں نے اطمینان سے گزار لیا..اور پھر الحمدللہ اللہ تعالی کی رحمت و نصرت
آگئی..
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے..مؤمن کا معاملہ بھی کتنا عجیب (بہترین) ہے کہ اس کے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے اور یہ حالت مؤمن کے علاوہ کسی کو نصیب نہیں (وہ یہ کہ) جب اسے اچھی حالت ملتی ہے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے خیر ہوئی اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لئے خیر ھو گئی..(مسلم)
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله