<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالیٰ ہمیں ”دین کی سمجھ“ اور ”علم
نافع“ عطاء فرمائیں..
”عشرہ
ذی الحجہ“ کے بارے میں جو صحیح احادیث مروی ہیں..ان پر جتنا غور کیا جائے علم اور معرفت
کے خزانے اسیقدر کھلتے چلے جاتے ہیں..مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمانا
کہ..دنوں میں سے کسی بھی دن بندے کا عبادت کرنا..نیک عمل کرنا..اللہ تعالی کے نزدیک
اتنا محبوب نہیں..جتنا کہ عشرہ ذی الحجہ میں ہے..بعض روایات میں زیادہ محبوب..بعض میں
زیادہ اونچا اور عظیم..بعض میں زیادہ پاکیزہ اور پسندیدہ کے الفاظ ہیں..سال کے دن دیکھیں..اسمیں
رمضان بھی آگیا..دس محرم بھی..عید الفطر بھی..فرمایا ان سب سے زیادہ فضیلت ”عشرہ ذی
الحجہ“ کے اعمال کی ہے..حضرات صحابہ کرام نے سؤال فرمایا کہ..ان دنوں کے نیک اعمال
کی فضیلت دوسرے دنوں کے کئے ہوئے جہاد سے بھی زیادہ ہے؟..صحابہ کرام کی تربیت ایسی
ہوئی تھی کہ وہ کسی عمل کو جہاد سے افضل نہیں سمجھتے تھے..اس لئے انہوں نے سؤال فرمایا..جواب
ملا کہ ہاں! ان دنوں کے اعمال کی فضیلت جہاد سے بھی زیادہ ہے..لیکن جہاد میں شہید ہو
جانے والے کی فضیلت سے زیادہ نہیں..تو پھر ان مبارک ایام سے جڑنے کا طریقہ کیا ہے؟
فرمایا تہلیل، تسبیح، تحمید اور تکبیر..یعنی
لا الہ الااللہ، سبحان اللہ، الحمدللہ
اور اللہ اکبر
کی کثرت..یہ کثرت خود بھی ”عمل صالح“ ہے اور یہ مزید ”اعمال
صالحہ“ کی توفیق کا ذریعہ بھی ہے..اور یہ رہ جانے والے اعمال کی تلافی بھی ہے اور یہ
ترقی کے راستے بھی ہیں..بس اب ورد زبان بن جائے..
سبحان اللہ و الحمدللہ ولا الہ الا اللہ
واللہ اکبر..
اور پھر دن رات زیادہ سے زیادہ ”اعمال صالحہ“ کی فکر..فرائض،
واجبات، سنن، مستحبات، تلاوت، نوافل، درود شریف، اذکار..دعائیں، دعوت، خدمت، عیادت..اور
پھر صدقات خیرات..دل کی پاکی، معاف کرنا..گناہوں سے بچنا..وقت ضائع نہ کرنا..الغرض
وسیع میدان ہے جو جتنا دوڑ سکے، جو جتنا پاسکے..پھر ان دنوں افضل ترین عمل جہاد فی
سبیل اللہ..اور اسکی خدمت کا مقام بہت اونچا ہے..آپ سن رہے ہوں گے ماشاءاللہ ضلعوں
پر ضلعے فتح ہو رہے ہیں..اور انڈیا کے جاسوس طیاروں میں بھر بھر کر بھاگ رہے ہیں..وقت
آئے گا کہ ایسی خبریں کشمیر اور فلسطین سے بھی آئیں گی..ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله
الاالله محمد رسول الله