<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کی اپنے بندوں کے ساتھ ”خصوصی محبت“ کا موسم
جاری ہے..ہمیں چاہیے کہ اس موسم کا پورا پورا فائدہ اٹھا لیں..نفس کی اصلاح..نفس کا
تزکیہ..یہ ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے..ہمارا نفس ”تکبر“ سے پاک ہو..خود پسندی یعنی
عجب سے پاک ہو..ریاکاری، بغض، کینہ اور حسد سے پاک ہو..حرص، لالچ، فضول غصے، اشراف
اور حب دنیا سے پاک ہو..سستی، کم ہمتی، بخل، کنجوسی، بزدلی اور ناجائز شہوت سے پاک
ہو..ہمارا نفس شیطان کی غلامی سے نکلے اور اللہ تعالی کے نور سے روشن ہو..یہ نفاق کی
رنگین بازی سے نکلے اور اللہ تعالی کے رنگ سے پُر جمال ہو..یہ نفس..امارہ نہ رہے..بلکہ
”لوّامہ“ کا سفر طئے کرکے..مطمئنہ اور راضیہ بنے..یہ نفس روشن چراغ بنے جو ہمارے اندر
کے اندھیروں کو ختم کرے..ہمارے نفس کی آنکھیں کھلیں وہ اللہ تعالی کے نور کو دیکھ سکے..اس
کے کان کھلیں تاکہ وہ اللہ تعالی کی باتیں سن سکے..اس کے پاؤں کھلیں تاکہ وہ اللہ تعالی
کی طرف دوڑ سکے..آج ہم اپنی ذات کے اندھے کنویں میں بند ہیں..میں، میں اور میں..خود
غرضی، تنگدلی..صرف اپنی سوچ..صرف اپنی رائے..نفس پاک ہوگا تو ہمیں آزادی ملے گی اور
ہم بلندیوں کا سفر کرسکیں گے..نفس کی اصلاح کے لئے خانقاہی نظام جاری ہے..مگر اس میں
بہت کمزوریاں آگئی ہیں..حد سے زیادہ دنیا داری..بلکہ دنیا پرستی آگئی ہے..کچے پیر،
کچے خلیفے اور کچے مرشد..وہ بیچارے تو خود نفس کی اصلاح کے محتاج ہیں..اگر ”مرید“ کا
مقصد صرف اپنی دنیا کے مسائل حل کرانا ہو..اور ”پیر“ کا مقصد اپنی ”دنیا“ بنانا ہوتو
پھر عشق و معرفت کے بازار ویران ہوجاتے ہیں..اصلی پیر وہ ہوتا ہے کہ جس کی تربیت سے..دین
کا درد بیدار ہو..نیکیوں کا جذبہ زیادہ ہو..گناہ کم ہوتے جائیں، آخرت کی فکر پیدا ہوجائے..اور
وہ خود اپنے مریدین سے کسی بدلے، کسی صلے یا کسی مفاد کی نیت نہ رکھتا ہو..یہ بھی شرط
ہے کہ اس نے خود طریقت کا سفر طئے کیا ہوا ہو..اور وہ شریعت کا علم بھی رکھتا ہو..ایسا
پیر آپ کو اللہ تعالی سے جوڑے گا اپنی ذات سے نہیں..وہ آپ کو دین کا خادم بنائے گا..اور
آپ کے سوکھے چشموں کو جاری کرنے کی محنت کرے گا..کرامت، تعویذ گنڈے، دم میں اثر اور
مستقبل کی پیشین گوئیاں سچے پیر کے لئے ضروری نہیں..یہ کام ہندو جوتشی، بدھ بھکشو اور
کالے جوگی بھی کرلیتے ہیں..اور یہ کام نہ دنیا میں نفع دیتے ہیں اور نہ قبر و حشر میں..عملیات
تأثیرات اور مستقبل کی باتیں یہ ”چرس“ کی طرح ایک نشہ ہے..جو بھی اس کے پیچھے پڑتا
ہے برباد ہو جاتا ہے..رقص، دھمال اور حال کے چکر میں ایک دنیا تباہ ہو چکی..ان لوگوں
نے نہ دین کو کوئی فائدہ پہنچایا نہ خود کو..پیر ہو تو حضرت ملا محمد عمر مجاہد قدس
سرہ جیسا کہ جس کی باطنی تأثیر نے..اسلام کا وہ لشکر تیار کر دیا..جو لشکر پوری دنیا
کے کفر کو شکست دے چکا..اور اس لشکر کے سپاہی اللہ تعالی سے ملاقات کے شوقین ہیں..جو
صوفی شہادت کا شوق عقلاً یا طبعاً نہ رکھتا ہو وہ اسلامی صوفی نہیں..وہ ”صوفی آئل“
ہے..دور حاضر میں بھی الحمدللہ سچے پکے پیر اور مرشد موجود ہیں..آپ اللہ تعالی سے رہنمائی
مانگ کر انہیں تلاش کریں اور ان سے فیض حاصل کریں..جن کو کوئی مرشد نہ مل رہا ہو وہ
محبت، توجہ اور کثرت سے درود شریف کو اپنا وظیفہ بنائیں..اور استخارے کو مضبوط پکڑیں..بات
یہ عرض کرنی تھی کہ..عشرہ ذی الحجہ..دراصل محبت کے لمحات ہیں..آپ جانتے ہیں کہ محبت
کے لمحات میں قانون بدل جاتے ہیں..پس ہم ان لمحات کا فائدہ اٹھا کر..اللہ تعالی سے
ان کی رضا مانگ لیں..ایمان مانگ لیں..اخلاص مانگ لیں..معرفت مانگ لیں..نفس کی اصلاح
مانگ لیں..عشق مانگ لیں..محبت مانگ لیں..استقامت مانگ لیں..اپنی دنیا کی ضروریات بھی
ضرور مانگیں..مگر اصل اور ہمیشہ کام آنے والی چیزیں نہایت اہتمام سے مانگیں..کیا معلوم
کہ محبت کے ان لمحات میں..بہت لمبا سفر..منٹوں میں طئے کرادیا جائے..گزارش ہے کہ مکتوب
تب صحیح سمجھا جاسکتا ہے جب اس کو کم از کم دو بار پڑھا جائے..
والسلام
خادم..
لااله
الاالله محمد رسول الله