<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے راستے میں جو ”قربان“ ہو جائیں انہیں ”مردہ“ نہ کہو..انہیں مردہ نہ سمجھو..کیوں؟ کیا یہ قرآنی حکم صرف ان کے اعزاز و اکرام کے لئے ہے؟ نہیں..بلکہ اس لئے کہ وہ ”زندہ“ ہیں..زندہ بھی ایسے کہ اللہ تعالی کا رزق کھاتے ہیں..خوشیاں، مستیاں فرماتے ہیں (مستی کا لفظ ”کراچی“ والا نہیں بلکہ فارسی والا..خوشی میں ڈوب جانا، خوشی کا حال طاری ہو جانا) معلومات لیتے ہیں..اپنے بعد آنے والوں کا انتظار فرماتے ہیں..حیران ہوتے ہیں کہ مسلمان..دنیا میں رہنا کیوں پسند کر رہے ہیں..یہاں اس حقیقی ”عیش کدے“ میں کیوں نہیں آتے؟..شہادت کی طرف کیوں نہیں لپکتے؟..کیا معلوم ہوا؟..معلوم یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے راستے میں قربان ہونے والوں کی آنکھوں سے پٹی اتر جاتی ہے..اور وہ ایسی ”حیات“ پا لیتے ہیں..جس ”حیات“ کا انکار ”کفر“ ہے..اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ..”مسلمان“  ”قربانی“ کے لئے ہمیشہ بے تاب رہتے..تیار رہتے..اور کبھی اپنے دل میں شہادت کے شوق کو ”ٹھنڈا“ نہ پڑنے دیتے..مگر شیطان کے پھندے دیکھیں..جان کی قربانی تو دور کی بات ہے ”جانور“ کی قربانی میں بھی ”بخل“ کنجوسی اور تنگ دلی میں ڈال دیتا ہے..حالانکہ ”عید الاضحی“ کی قربانی ایک مسلمان کو معلوم نہیں کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہے..لوگوں کو اگر اس ”قربانی“ کے صرف دنیاوی فائدے معلوم ہو جائیں تو وہ..اپنے کپڑے اور گھر کا سامان بھی اس قربانی کے لئے بیچ ڈالیں..کتنی بیماریاں، کتنی آفات، کتنی بدنامیاں ،کتنی تنگیاں، کتنے غم اور کتنے مصائب اس ”قربانی“ کی برکت سے دور ہو جاتے ہیں..مگر ایک مؤمن اور مؤمنہ کی نظر اس پر نہیں ہونی چاہیے..”دیوار“ کے ساتھ ”سایہ“ خود آجاتا ہے..اخلاص کے ساتھ کیے گئے اعمال میں دنیا کے فائدے ”سائے“ کی طرح خود مل جاتے ہیں..مگر ایمان والے انہیں ”مقصود“ نہیں بناتے..وہ تو قربان ہونے، قربانی کرنے اور محبوب کا قرب پانے کے متوالے ہوتے ہیں..معلوم نہیں کون سی عید آخری عید اور کون سا دن آخری دن ہو..آج ہی قربانی کے پیسے الگ کریں..پھر ان میں اضافہ کرتے جائیں..واجب قربانی، نفل قربانی..اپنے وفات پا جانے والے عزیزواقارب کے ایصال ثواب کے لئے قربانی..اللہ تعالی کا احسان کہ خود دن بتا دیا..دس تاریخ ذوالحجہ کا دن..سب سے محبوب عمل قربانی..اے بندے! تجھے اور کیا چاہیے..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله