<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالیٰ کے ”قرب“ کا ذریعہ ”قربانی“..اور ”قربانی“ وہ جس میں کچھ ”قربان“ ہو..یعنی محبوب چیز دی جائے..کچھ مشکل برداشت کی جائے..”عید“ کے دن ”جانور“ کی ”قربانی“..بے حد محبوب اور مقرب عمل..ایسا محبوب کہ انسان خوشی میں جھوم جائے..خوش نصیب ہیں وہ جو عید کے دن..”قربانی“ کی سعادت پاتے ہیں..”قربانی“ کا شوق دل میں بھریں..صلوٰۃ الحاجۃ اور صلاۃ استخارہ ادا کرکے..توفیق مانگیں..اچھے سے اچھی..اور زیادہ سے زیادہ قربانی کریں..اسے بوجھ نہیں..عظیم نعمت سمجھیں..جب اللہ تعالی قربانی کا جانور عطاء فرمادیں تو شکرانے کے نوافل ادا کریں..بار بار یوں شکر ادا کریں جس طرح موٹر سائیکل والے کو گاڑی مل جائے تو وہ کرتا ہے..بلکہ اس سے بھی زیادہ..قربانی کے لئے دل میں اخلاص بھریں..گوشت کا ارادہ اور نیت بالکل نہ ہو..کسی سے مقابلے یا دکھاوے کی بالکل نیت نہ ہو..بلکہ یہ جنون ہو کہ مجھے تو اپنے محبوب حقیقی کے لئے..اپنی گردن پیش کرنی تھی..اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنی تھی مگر ان کا احسان کہ..جانور کی قربانی پر بھی خوش ہوتے ہیں، راضی ہوتے ہیں اور خون زمین پر گرنے سے پہلے مغفرت اور قبولیت عطاء فرماتے ہیں..جب نیت اور جذبہ یہ ہو تو گوشت اور اس کی تقسیم کی فکر دماغ پر سوار نہیں ہوتی..گوشت وہ کھلاتے ہیں..عید کے دن بھی کھلائیں گے ان شاءاللہ..جب کہ ہماری فکر، ہمارا شوق اور ہمارا جنون..صرف ان کو راضی کرنے کا ہو..ان کے لیے قربان ہونے اور قربانی کرنے کا ہو..ان کے ”قرب“ کو پانے کا ہو..خالص نیت..مخلصين له الدين..

والسلام

خادم..

لااله الاالله محمد رسول الله