<مکتوب خادم>

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی ان کو مغفرت و اکرام کا اعلی مقام نصیب فرمائے..فخر کشمیر، شرف کشمیر..مرد مؤمن..مرد استقامت..جرأت و غیرت کا استعارہ، امت مسلمہ کا سرمایہ..محترم سید علی گیلانی..انتقال فرما گئے..انا للّٰہ وانا الیہ راجعون..وہ کشمیر کی آزادی نہ دیکھ سکے..مگر انہوں نے غلامی میں بھی..اپنے دل، اپنے دماغ اور اپنے ضمیر کو آزاد رکھا..اور آخری دم تک اسلام اور آزادی کی آواز لگاتے رہے..لوگ کہہ رہے ہیں کہ آج اہل کشمیر اپنے رہنما سے محروم ہوگئے ہیں..حالانکہ ایسا نہیں ہے..آج تو کشمیری مسلمانوں کو ایک حقیقی رہنما اور ہیرو مل گیا ہے..وہ جو پچھتر سال کے مظالم سے بھی نہ جھکا اور پچانوے سال کی عمر میں..اتنے ظلم اور اتنے تشدد کے باوجود..اپنا ایمان اور اپنا نظریہ سلامت لے گیا..ایسے لوگ ہی نشان منزل ہوتے ہیں..اور ان کے جانے کے بعد قافلے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں..سفید داڑھی کے ساتھ  ہندوؤں کا بے ہودہ تشدد سہنے والا بوڑھا سید..جس نے ”سید“ ہونے کی لاج رکھی..جس نے ”علی“ جیسے اونچے نام کی لاج رکھی..جس نے کشمیری ہونے کی لاج رکھی..جاتے جاتے افغانستان میں اسلام کی فتح سن کر گیا..کیا معلوم..اللہ تعالی نے اپنے اس بندے کو..افغانستان کی فتح کے پیچھے چھپی فتوحات کی ایک جھلک دکھا دی ہو..اور ”سید“ نے اسی خوشی میں اپنی جان..اپنے مالک کو پیش کر دی ہو..ہاں..وہ اہل استقامت جو دین کی خاطر آزمائشیں اٹھاتے ہیں ان کا اللہ تعالی سے بہت خاص تعلق بن جاتا ہے..محترم گیلانی صاحب! اللہ تعالی آپ کو امت مسلمہ کی طرف سے بہترین بدلہ..اور جزائے خیر عطاء فرمائیں..کاش آپ کے پر نور جنازے میں شرکت کا موقع ملتا..مگر کہاں؟ اہل استقامت تو مرتے نہیں..موت سے گزر جاتے ہیں.. 

ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق،

ثبت است بر جریدۂ عالمِ دوامِ ما..

والسلام

خادم..

          لااله الاالله محمد رسول الله