بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مبارک ہو اہل غزہ !

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی نے قران مجید میں ”جہاد فی سبیل اللہ“ کا حکم نازل فرمایا ہے.....اور اسے ایمان والوں کے لئے ”فرض“ قرار دیا ہے....پھر اللہ تعالی نے مجاہدین کے ساتھ اپنی نصرت کا وعدہ فرمایا ہے.....اور مجاہدین کو غیر مجاہدین پر قطعی فضیلت عطاء فرمائی ہے.....جہاد چونکہ اللہ تعالی کا ”حکم“ ہے......اور یہ ”فرض“ ہے.....اور اسمیں اللہ تعالی کی ”نصرت“ کا پکا وعدہ ہے تو اس لئے.....جہاد میں ایسی ایسی کرامات ظاہر ہوتی ہیں....جن کو عقل پرست کبھی نہیں سمجھ سکتے.....یہ سلسلہ غزوہ بدر سے شروع ہوا ہے اور تا قیامت جاری رہے گا.....وہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں....مگر وہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ سے بہت دور ہیں.....یعنی وہ نہ قتال کرتے ہیں.....اور نہ کبھی قتال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.....وہ مجاہدین کے کارناموں کو بالکل نہیں سمجھ سکتے....چنانچہ وہ مجاہدین کے ہر کارنامے کو......دشمنوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں کہ یہ کام......دشمنوں نے خود اپنے اوپر کرایا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو مارنے کا بہانہ ڈھونڈ سکیں......حالانکہ آج کل کے حالات میں دشمنوں کو کسی بہانے کی ضرورت نہیں ہے.....

جہاد چھوڑنے کی وجہ سے مسلمان کمزور اور مغلوب ہو چکے ہیں......لیکن یہ بھی حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ.....آپ نے ہر دور میں کچھ نہ کچھ مجاہدین کے موجود رہنے کی بشارت دی ہے اور انہیں ”اہل حق“ قرار دیا ہے......اسی بشارت کے مصداق مجاہدین الحمدللہ آج بھی موجود ہیں.....اور جب وہ قتال کے لئے اترتے ہیں تو ان کے کارنامے اور جلوے دنیا کو حیران کر دیتے ہیں.....یہی کچھ ان دنوں فلسطین میں ہو رہا ہے.......مجاہدین کرام نے تیاری کی اور ایمان افروز حملہ کیا....جو لوگ قران مجید کے ذریعہ ”جہاد“ کو سمجھتے ہیں...... انہیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی...بلکہ وہ خوش ہوئے.....ان کے جذبے بلند ہوئے.....اور ان کے دل مجاہدین کی نصرت کے لئے مچلنے لگے.......مگر جو مسلمان سوشل میڈیا میں گردن پھنسا چکے ہیں.....اور عملی جہاد سے بہت دور ہیں.....انہیں یہ سب کچھ ایک ڈرامہ، ایک بناوٹ اور ایک سازش لگ رہا ہے.......اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ہدایت عطاء فرمائیں.....اور ان کے شر سے اہل ایمان کی حفاظت فرمائیں.....جہاد ہی وہ عمل ہے جس میں ایک ایک مجاہد کا ہزار ہزار کافروں پر بھاری ہونا.....حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اقوال....اور زمینی تجربے سے ثابت ہے....حالانکہ اتنی طاقت تو لیزر گنوں میں بھی نہیں ہوتی......جبکہ تلواروں کی آمنے سامنے کی جنگ تو بے انتہا مشکل ہوتی ہے.....مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں سے بعض نے ایک ایک لڑائی میں ہزار سے زائد دشمنوں کو قتل کیا.......مسجد اقصی اور غزہ کے فرزندوں نے امت مسلمہ کے لئے ایمان کی شمع جلائی ہے.....ہر مسلمان اس سے روشنی حاصل کرے اور اپنے ایمان کو درست کرے.....یہ مبارک اور مقدس جہاد ہے......دن رات مجاہدین کی نصرت کے لئے دعائیں کریں....اور بھی جو کچھ کر سکتے ہوں اس سے دریغ نہ کریں....موت تو ضرور آنی ہے.....لیکن شہادت نصیب والوں کو ملتی ہے......اور قران کی نص قطعی ہے کہ....شہید مردہ نہیں بلکہ زندہ ہوتا ہے......اہل غزہ !.....عزیمت و شہادت مبارک ہو.....اللہ تعالی آپ کو سرفراز فرمائے....فتح نصیب فرمائے.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله