بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مقام شُہداء

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی نے ”شہداء“ کو بڑا عظیم مقام عطاء فرمایا ہے.......فرمایا! اُنہیں مُردہ نہ کہو.......اُنہیں مردہ نہ سمجھو.......سؤال یہ ہوا کہ انہیں مُردہ کیوں نہ کہیں؟ مُردہ کیوں نہ سمجھیں؟ کیا اس لئے کہ وہ بہت معزز ہیں تو ان کے احترام میں.......اُنہیں مُردہ نہ کہیں.......فرمایا! نہیں...بلکہ اس لئے مُردہ نہ کہو کیونکہ وہ ”زندہ“ ہیں.......یا اللہ! زندہ نظر تو نہیں آرہے......فرمایا......اب ان کی زندگی تمہارے شعور سے بلند ہے.......زیادہ طاقتور ہے......ہم فرشتوں پر یقین رکھتے ہیں....وہ زندہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں....مگر ہمیں انکی زندگی کا شعور نہیں ہوتا......کیونکہ انکی زندگی بہت طاقتور اور لطیف ہوتی ہے......شہداء غزہ کو سلام......شہداء ڈسکہ کو سلام......شہداء غزہ کے قاتل ملعون یہودی.......اور شہداء ڈسکہ کے قاتل ملعون مشرکین......شہادت قیمتی لوگوں کو ملتی ہے اس لئے انکی جدائی کا صدمہ بھی زیادہ ہوتا ہے.......مگر انکی حیات کا یقین اور اُن کے مقام کا احساس دل کو صبر دلاتا ہے......”اسرائیل“ پر مجاہدین کا حملہ اتنا اچانک تھا کہ.......یہودی میڈیا سنبھل ہی نہ سکا اور بہت کچھ سچ بتا گیا.......

دو چار دن بعد اُس کے حواس بحال ہوئے تو غلطی کا احساس ہوا......اب خبروں کا رخ بس غزہ کے مصائب پر ہے تاکہ ساری دنیا کے مسلمان پریشان ہوں.......اور حماس کے مجاہدین کو الزام دیں کہ.......انہوں نے خواہ مخواہ اسرائیل کو بھڑکا دیا.......اور غزہ کو تباہ کروا لیا......اب یہودی میڈیا اسرائیل کے حالات نہیں دکھا رہا کہ وہاں کسطرح سے دوسرے ملکوں کی طرف بھاگنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے.......پورا اسرائیل خوف، انتشار اور بے یقینی کا شکار ہے.......کابینہ میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے......اسکول، کارخانے اور کاروبار بند ہیں......کیونکہ ان کو چلانے والے ہی ریزرو فوج کے طور پر جنگ کے لئے بلا لئے گئے ہیں......بینکوں میں پیسہ ختم ہو رہا ہے اور سیاسی بغاوت کا خطرہ بڑھ گیا ہے.......

اللہ تعالی شہداء کرام کی قربانیوں کو قبول فرمائے....... یہودی اسرائیل اور مشرک انڈیا کو تباہ و برباد فرمائے.......

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله