بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
اکیس
ہزار کا زندہ لشکر
السلام علیکم ورحمةالله
وبرکاته...
الله تعالی ”حرام موت“ سے حفاظت
فرمائیں....”خودکشی“ کرنا ”حرام موت“ مرنا ہے....امریکہ میں گزشتہ سال تقریباً
”پچاس ہزار“ افراد نے ”خودکشی“ کی ہے...اگلے سال اس تعداد میں مزید اضافے کا قوی
امکان ہے...اقوام متحدہ کے ”ادارۂ صحت“ کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر ”چالیس
سیکنڈ“ کے اندر ایک ”خودکشی“ ہوتی ہے...یعنی ہر ایک گھنٹے میں تقریباً نوے
افراد...خودکشی کر کے خود کو ختم کر رہے ہیں........اور خود کُشی کی سالانہ
تعداد........آٹھ لاکھ ہے...یعنی ہر سال آٹھ لاکھ افراد....خود اپنے آپ کو قتل
کرتے ہیں.....
اسلام میں ”خودکشی“ کی بہت سختی سے
ممانعت آئی ہے... قرآن و حدیث میں اس پر واضح احکامات اور وعیدیں موجود ہیں...یہانتک
فرمایا گیا کہ خود کشی کرنے والا جہنم میں ڈالا جائے گا....اور وہ وہاں بھی اسی کے
عذاب سے مسلسل دو چار ہوتا رہے گا........الحمدللّٰه ”مسلمانوں“ میں ”خودکشی“ کا
رجحان بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے...جبکہ غیر مسلم کفار...اس گناہ میں بھی
آگے آگے ہیں.....آج خبر آئی کہ ”غزہ“ کے ”شہداء کرام“ کی تعداد ”اکیس ہزار“ ہو چکی
ہے تو دل پر شدید صدمے کی چوٹ لگی....پھر خیال آیا کہ........دنیا میں کس نے رہنا
ہے؟ سب ہی یہاں سے جا رہے ہیں...اور سب ہی یہاں سے چلے جائیں گے....یہاں دیکھنے کی
بات تو یہ ہے کہ....کون یہاں سے کامیاب گیا....اور کون ناکام؟....شہداء کرام تو
زندہ اور کامیاب ہوتے ہیں....جبکہ امریکی، اسرائیلی اور انڈین کفار........ہر سال
لاکھوں کی تعداد میں ”خودکشی“ کر کے مر جاتے ہیں........خسرالدنیا والآخرۃ........دنیا
بھی برباد اور آخرت بھی برباد........
والسلام
خادم......لااله الاالله محمد رسول
الله