بسم اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب خادم>
اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الااللہ
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کے ”نام مبارک“ کی اذان....جس کے میناروں سے پانچ سو سال تک گونجتی رہی...وہ ”بابری مسجد“شہید کردی گئی...اور آج اس کے سینے پر ایک ”بت کدے“ کا افتتاح ہے...یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ دل رو رہا ہے...آنکھیں برس رہی ہیں...سردیوں کی یہ رات کتنی مشکل ہے...یا اللہ معاف فرما...یا اللہ رحم فرما...آہ بابری مسجد...آہ بابری مسجد!!!...
ہر یاد تیری سینہ بسمل میں رہے گی÷اے بابری مسجد تو مرے دل میں رہے گی
آہوں سے بھرا ساز ہوں میں غم سے ہوں بے کل÷تن زخم سے معمور ہے دل درد سے بوجھل
ہر سمت ہے پھیلی ہوئی آفات کی دلدل÷ معلوم یہ ہوتا ہے کہ میں ہوں سر مقتل
تو زندہ ہر اک مؤمن کامل میں رہے گی ÷اے بابری مسجد تو مرے دل میں رہے گی.......
یقین نہیں ہو رہا....سمجھ نہیں آرہی کہ دو ارب مسلمانوں کی مسجد میں...آج بتوں کی پوجا کی جائے گی...کہاں گئی غیرت مند امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم...بس چند دیوانے لڑ رہے ہیں...وہی آج رات تڑپ رہے ہیں...کوئی شدت پسند کہے یا انتہاء پسند....کوئی دہشت گرد کہے یا پاگل...مگر ہم سے مسجد کے سینے پر ”مندر“ برداشت نہیں ہوتا....آہ! وہ غازیوں کی سجدہ گاہ...آج بندروں اور لنگوروں سے بھری ہوگی...ہاں لیکن اسلام ختم نہیں ہوا...مسلمان ختم نہیں ہوا...بابری مسجد پھر بنے گی اور بالکل اسی جگہ پر بنے گی....ضرور، ضرور، ضرور ان شاءاللہ....
”ہمارے دشمن ستائیں ہم کو وہ جتنا چاہیں دبائیں ہم کو
خدا نے چاہا تو روئیں گے کل جو آج ہم کو رلا رہے ہیں“......
ملے گی ہم کو اک دن کامیابی بابری مسجد ،کہ ہم پائیں گے تیری ہم رکابی بابری مسجد
تری بنیاد کے سارے نشاں معلوم ہیں ہم کو ÷ رہیں گے کرکے تیری بازیابی بابری مسجد....
الحمدللہ بابری مسجد موجود تھی.....بابری مسجد موجود ہے....اور سچی قسم نبی السیف، نبی الملحمہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی کہ....بابری مسجد دوبارہ بنے گی...کعبہ شریف میں مشرکین نے بت رکھ دیئے تھے....وہ انکی پوجا بھی کررہے تھے....مگر کعبہ شریف........کعبہ شریف ہی رہا....بیت اللہ، اللہ تعالی کا گھر....وہ تین سو ساٹھ بت رکھنے سے ”مندر“ نہیں بن گیا..... پھر مدینہ منورہ کی طرف سے ایک لشکر آیا....اس لشکر کے سپہ سالار پر میں اور میرے ماں باپ قربان....پھر یہ ہوا کہ....بت توڑ دیئے گئے....اور سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی بلند اور خوبصورت آواز کعبہ کی چھت سے گونجی........اللہ اکبر......اللہ اکبر.......لا الہ الا اللہ...
اے پیاری بابری مسجد.....یہاں بھی ایسا ہی ہوگا....خواہ اسکی خاطر جان دینی پڑے یا.....سروں کے مینار اٹھانے پڑیں....
اے بابری مسجد تجھے بنانے کے لئے جان دینا سعادت ہے....حسن (رضی اللہ عنہ) حسین (رضی اللہ عنہ) کا جذبہ ہمارے خون میں ہے...اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ.....
والسلام
خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله