بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

بابری مسجد شریف

السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته...

اللہ تعالی قرآن مجید میں ”بت پرستی“ سے شدید نفرت کا سبق پڑھاتے ہیں.......

” لبيك اللهم لبيك سمعنا واطعنا“

یا اللہ حاضر ہیں...فرمانبرداری کے لئے حاضر ہیں...ہم نے آپ کا حکم سنا اور اسے دل و جان سے تسلیم کر لیا...قرآن مجید میں بار بار سنایا گیا کہ....ہمارے جد امجد حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے...اپنی جان مبارک کو قربانی کے لئے پیش فرما کر...خود ایک مندر میں گھس کر...تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا...قوم والوں نے انہیں آگ میں ڈالا...مگر رب تعالی نے ان کو بچا لیا...حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت...ملت ابراہیمی پر ہے...اور مزاج ابراہیمی رکھتی ہے...خود حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے بتوں کو توڑا...اور جزیرۃ العرب کو ”بتوں“ کی نجاست سے پاک فرمایا...یاد رکھیں اللہ تعالی کے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جو کچھ کرتے ہیں اور جو کچھ سکھاتے ہیں...بس وہی ”تہذیب“ ہے اور وہی ”امن“ ہے...وہی ”حق“ ہے... اور وہی ”دانشمندی“ ہے....وہی ”حکمت“ ہے اور وہی ”مصلحت“....

”بت پرستی“ انسان کو ذلیل، ناکارہ اور خبیث بنا دیتی ہے...اور انسانیت کے مقام سے گرا دیتی ہے...اندازہ لگائیں کہ ایودھیا میں بابری مسجد تھی تو وہاں...طہارت تھی، پاکیزگی تھی...اور ”قدسیوں“ کی قطاریں تھیں...اب وہاں ”مندر“ ہے تو اس میں ایک سے بڑھ کر ایک ”بندر“ ہے...”رام“ کے بت کے ساتھ ”مودی“ کا بت بنایا گیا ہے...دن میں کئی بار غلاظت کرنے والا ”مودی“...مشرکوں کا بھگوان بن بیٹھا ہے...مشرکوں کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت اور رسوائی ہو سکتی ہے؟.........مندر بن گیا ہے.......مگر رہے گا نہیں...کیونکہ مودی بھی فانی اس کا مندر بھی فانی...جبکہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ابراہیمی مزاج..........ضرور اپنا جلوہ دکھائے گا ان شاءاللہ.......

”یا باقی، انت الباقی لیس الباقی الا اللہ“

والسلام

خادم......لااله الاالله محمد رسول الله