بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

وَ الْعَادِیَاتِ ضَبْحًا

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته..

اللہ تعالی کا نام سب سے بڑا......سب سے اونچا..

”تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ“ (الرحمٰن 78)

یہ دنیا اللہ تعالی کے ”کلام“ سے وجود میں آئی....اتنی عظیم دنیا..اتنی منظم، اتنی مرتب اور اتنے رازوں سے بھری دنیا.....اللہ تعالی نے ”کُنْ“ فرمایا..اور یہ بن گئی.....

”اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ“ (یس82)

یہ دنیا اللہ تعالی کے ”نام“ سے قائم ہے..جب تک زمین پر ”اللہ اللہ“ کہنے والے موجود ہیں..قیامت نہیں آئے گی...جب ”اللہ اللہ“ کہنے والے ختم ہو جائیں گے تو زمین اور دنیا کا قصہ ختم......حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے..

لا تقوم الساعة حتى لا يُقال في الارض الله، الله (صحیح مسلم)

اسی لیے ”مُردار“ اور ”حلال“ کا فرق ہے کہ..گردن دونوں کی کٹتی ہے..مگر جب ”اللہ“ کا نام آجائے تو ”حلال“.......اور ویسے کاٹی جائے تو ”حرام“....اور مُردار..

اسی لیے اُن ”عمارتوں“ کی شان الگ ہے جو....اللہ تعالی کو سجدہ کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے.....حالانکہ وہ بھی عام زمین تھی..مگر اللہ تعالی کا نام آیا تو آسمان سے اونچی ہو گئی..”مسجد“ بن گئی...قیامت کے دن سورج، چاند اور آسمان تباہ ہو جائیں گے..مگر ”مسجد“ تباہ نہیں ہوگی...حفاظت سے اٹھا کر ”جنت“ میں شامل کی جائے گی.....”گھوڑا“ ایک ”جانور“ ہے..مگر ”اللہ تعالی“ کا نام اگر اس سے جڑ جائے..اور وہ ”گھوڑا“ اللہ تعالی کی رضا کے لیے جہاد کی نیت سے پالا جائے تو یہ گھوڑا.......”فرس للرحمن“ بن گیا..اب اس کی شان یہ ہے کہ اس کے جسم سے نکلنے والی ناپاک چیزوں کا بھی حساب رکھا جا رہا ہے..انہیں بھی اس کے مالک کی نیکیوں میں تولا جائے گا........

مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ....جہاد کی تیاری کرو...قوت بناؤ..گھوڑے تیار کرو....اس سے تمہیں رعب ملے گا....اور بہت کچھ ملے گا....ہم نے اللہ تعالی کے ان احکامات کو نعوذ باللہ قابل توجہ ہی نہ سمجھا..اور گھوڑے سے محروم ہو گئے..پھر کیا ہوا؟ ایسی ذلت آئی کہ اللہ کی پناہ!

الحمدللہ گھوڑا واپس آرہا ہے..”فرس للرحمن“ دوڑنے لگا ہے..

”وَ الْعَادِیَاتِ ضَبْحًا“ (العادیات ۱)

دیوانوں کی جماعت کو مبارک...یہ سعادت بھی ان کے نصیب میں لکھی تھی.....وہ دیکھو! سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے مدرسہ کی تیسری شاخ میں....گھوڑے پہنچ رہے ہیں.......

اپنی پیشانیوں میں خیر و برکت کے خزانے باندھے ہوئے.....

... والحمدللہ رب العالمین...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله