21.01.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ...اور...شَہرُالقُرّاء

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی کی ”انمول“ اور ”قیمتی“ نعمتوں میں سے ایک نعمت..”اچھے اساتذہ کرام“ کا ملنا ہے...یہ بات انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہے کہ...وہ اپنے لیے خود اچھے اساتذہ منتخب کرے..آپ نے کسی ”تعلیم گاہ“ میں داخلہ لیا..اب آپ کے لیے اس ”تعلیم گاہ“ کی انتظامیہ ”اساتذہ“ کا انتخاب کرتی ہے...”استاذ“ کے علم، عمل، اخلاق، نظریہ اور کردار کا ”طلبہ“ پر گہرا اثر ہوتا ہے..اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ..جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم کے دوران....الحمدللہ صاحب عمل، صاحب کردار، صاحب نسبت...پاکیزہ ارواح اساتذہ کرام نصیب ہوئے..والحمدللہ رب العالمین...سچی بات ہے کہ ان میں سے جو بھی یاد آتا ہے تو دل فورا....شکر اور دعاء کے لیے اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتا ہے..

وہاں جن رفیع المرتبت اساتذہ کرام سے پڑھنے کی سعادت ملی..اس ”سلسلۃ الذھب“ کی آخری کڑی بھی.....کل نگاہوں سے اوجھل ہو گئی....

حضرت الاستاذ مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب انتقال فرما گئے....

انا للہ وانا الیہ راجعون..اللھم لا تحرمنا اجرہ ولا تفتنا بعدہ..

ان سے درجہ اولی سے درجہ سادسہ تک...چار کتابیں پڑھنے کا شرف حاصل ہوا....اب ماشاءاللہ وہ جامعہ میں ”شیخ الحدیث“ کے ”منصب جلیلہ“ پر فائز تھے...قرآن مجید اور قرأٓت کے ساتھ ان کے خصوصی اور خوبصورت تعلق کی وجہ سے...” قاری“ کے لقب سے وہ ہمیشہ سرفراز رہے..شعبان کے مہینہ کو....امت کے اسلاف..”شہرالقُراء“ یعنی قاریوں کا مہینہ کہتے تھے..اور اپنی کھڑکیاں، دروازے بند کر کے...قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے تھے....کل حجاز اور اکثر دنیا میں....” یکم شعبان“طلوع ہوا تو ہمارے پیارے حضرت قاری صاحب بھی....ملاقات کی ساری کھڑکیاں دروازے بند کر کے........روانہ ہو گئے.......اہل قرآن برزخ اور قبر میں قرآن مجید کا خصوصی قرب پاتے ہیں.... اللہ تعالی حضرت قاری صاحب کو اپنی مغفرت، محبت اور اکرام کا عالی مقام نصیب فرمائیں..ان کے ”اقارب“ سے قلبی تعزیت ہے..اور آپ سب سے ”ایصال ثواب“ کی درخواست ہے...

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله