13.02.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

مُنوَّر روشنی

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...

اللہ تعالی ہمیں اپنی مدد و نصرت...اور فتح نصیب فرمائیں:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

آج کل الحمدللہ ان عظیم کلمات کے ورد کی توفیق مل رہی ہے:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

یہ کلمات....شہنشاہ اعظم، مالک الملک..اللہ جل شانہ کا کلام ہیں..نہ کوئی اللہ تعالی کی عظمت کا اندازہ لگا سکتا ہے..اور نہ اللہ تعالی کے کلام کی عظمت کا..یہ بات سوچ کر پڑھیں:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

اللہ تعالی کا کلام ”نور“ ہے..اصل ”روحانیت“ ہے..روشنی ہے..زندگی ہے اور ہدایت ہے..

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

الحمدللہ ”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ ہمارے لیے اللہ تعالی کی رحمت بن کر آتی ہے..اور ہمیں اس میں الحمدللہ طرح طرح کے انعامات ملتے ہیں..اس سال کے انعامات میں سے ایک..ان وجد آفرین کلمات کا ورد ہے..

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

ان مبارک کلمات کو سمجھنے کے لیے...تھوڑی سی تکلیف کریں..کچھ دیر نور سے بھرے ہوئے ”مصحف شریف“ کے ساتھ بیٹھیں...اسمیں سے ”اٹھائیسواں پارہ“ نکالیں..اس پارے میں ”سورہ الصف“ نکالیں...اللہ تعالی توفیق دیں تو ساری ہی پڑھ لیں...اور سمجھ لیں..زندگی کے یہ لمحات قیمتی اور یادگار ہو جائیں گے.....آپ جب اس مبارک ”سورہ“ کی آیت رقم (13) پر پہنچیں گے..تو یہ کلمات آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گے..

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

اللہ تعالی کی نصرت مل جائے تو اور کیا چاہیے؟ اور فتح مل جائے تو پھر خوشی کے کیا ٹھکانے؟....مگر یہ ”نصرت“ اور ”فتح“ کون سی ہے..اور کس عمل سے ملتی ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے آپ کو آیت رقم (۱۰) سے...(۱۳) تک پورا مضمون پڑھنا ہوگا.. پھر آپ کےدل میں اتریں گے یہ کلمات:-

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

شکر ادا کریں کہ....اللہ تعالی نے آپ کو ”فریضہ جہاد“ کے انکار سے بچایا ہے..اب آپ پورے یقین سے پڑھ سکتے ہیں....

”نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ“

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله