27.02.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مِنَ
القَلِیلِ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمیں اپنے ”شکر گزار“ بندوں میں سے بنائیں...ارشاد فرمایا:-
”وَقَلِیْلٌ
مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ“ [سورۃ سبا آیت (13)]
ترجمہ:
اور کم ہیں میرے ”شکر گزار“ (قدردان) بندے..
...”
قلیل“ عربی زبان میں کم اور تھوڑے کو کہتے ہیں..اور ”کثیر“ زیادہ کو...
حضرات
محدثین کرام نے ایک واقعہ لکھا ہے..
حضرت
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے اللہ تعالی سے دعاء مانگی..
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنْ عِبادِكَ القَلِيْلِ“
”
یا اللہ مجھے اپنے تھوڑے بندوں میں سے بنا دیں“
دوسری
روایت میں دعاء کے الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلنِی مِنَ القَلِيْلِ“
”یا
اللہ مجھے تھوڑوں میں سے بنا دیں“
تیسری
روایت میں الفاظ یوں ہیں:
”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِی مِنَ الأقَلِّیْنَ“
اس
کا ترجمہ بھی وہی ہے.. حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا! تمہیں یہ دعاء کہاں
سے ملی؟ اس نے کہا..اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”وَقَلِيلٌ
مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ“
ترجمہ:
اور میرے ”شکر گزار“ بندے تھوڑے ہیں..
تو
میں یہ مانگ رہا ہوں کہ مجھے بھی ان تھوڑے بندوں میں شامل فرما لیں...اس پر حضرت
عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعریف فرمائی اور بطور تواضع فرمایا...
”سب
لوگ عمر سے زیادہ علم رکھتے ہیں“ (مصنف ابن ابی شیبہ)
ہاں
بے شک حقیقی ”شکر گزار“....قدر دان بندے بہت تھوڑے ہیں..اور یہی تھوڑے بڑے کامیاب
ہیں.....قرآن مجید نے ”قلیل“ اور ”کثیر“ کے موضوع کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے..اور
خاص طور پر پانچ ایسی نعمتوں کا ذکر کیا ہے..جن پر لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہیں..ایک
مؤمن جب یہ آیات پڑھتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ.....وہ بھی
ان تھوڑے کامیاب بندوں میں شامل ہو جائے....وہ نعمتیں کون سی ہیں؟ ”شکر گزاری“ کا
طریقہ کیا ہے؟ کوشش کریں گے کہ ”انفاق فی سبیل اللہ مہم“ کی برکت سے...قرآن مجید
کا یہ عالی شان موضوع سمجھ لیں..اور اپنی زندگیوں میں ایک اچھی تبدیلی لے آئیں ان
شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
