09.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
جامع
خُلاصہ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی ہمارے نامۂ اعمال کو....اعمال صالحہ سے وزنی اور بھاری بنائیں...
اللہ
تعالی کی ”تسبیح“ (یعنی پاکی بیان کرنا) اور ”تحمید“ (یعنی تعریف بیان کرنا) بھی
بھاری اور وزنی اعمال میں سے ہیں..
”سبحان
الله وبحمده سبحان الله العظيم“بسم الله وبحمده، اللهم صل على سيدنا محمد وعلى اله
وصحبه وسلم تسليما....
اہل
ایمان کو..جامع مسجد سبحان اللہ میں اعتکاف کی یاد دہانی ہے..اس بار اعتکاف میں
دورہ تفسیر آیات الجہاد بھی ہوگا ان شاءاللہ..
”صلوٰۃ
التسبیح صغریٰ“ یعنی ”مختصر صلوٰۃ تسبیح“ کی بات چل رہی تھی..آج خلاصہ نکال کر اس
موضوع کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں (ان شاءاللہ)..
(۱) نماز میں دس بار تکبیر
(اللہ اکبر)..دس بار تسبیح (سبحان اللہ) اور دس بار تحمید (الحمدللہ) پڑھنے کی حدیث
شریف میں فضیلت آئی ہے کہ..اس کی برکت سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے..اُمت کے کئی اہل
علم نے اس عمل کو...دینی اور دنیوی حاجات کے لیے اکسیر اور مجرب بتایا ہے..
(۲) نماز کے اس عمل کی روایت
ترمذی، نسائی، المستدرک، ابن حبان، ابن خزیمہ اور مسند احمد میں آئی ہے..اس کی سند
کو محدثین نے ”حسن“ یا ”صحیح“ قرار دیا ہے..تمام کتب کی روایت میں یہ تسبیحات نماز
کے اندر پڑھنے کا تذکرہ ہے..مگر ”مسند احمد“ میں نماز کا ذکر نہیں..بلکہ فرمایا گیا
کہ یہ تسبیحات پڑھ کر دعاء کی جائے تو اللہ تعالی قبولیت کا اعلان فرماتے ہیں...
(۳) یہ تسبیحات نماز میں کس
جگہ پڑھی جائیں؟ اس کا کسی روایت میں ذکر نہیں ہے اس لیے مزید آسانی ہو گئی
کہ...تسبیح اور دعاء کے کسی مقام پر پڑھ لیں مثلا رکوع یا سجدوں میں..نماز کے آغاز
میں..نماز کے اخیر میں..وغیرہ..
(۴) حدیث شریف کے الفاظ سے
معلوم ہوتا ہے کہ..مقصد اللہ تعالی کی بڑائی، پاکی اور حمد بیان کرنا ہے..اس لیے
تکبیر، تسبیح اور حمد کے کوئی بھی مسنون الفاظ پڑھ سکتے ہیں..مگر ساتھ یہ اشارہ بھی
ملتا ہے کہ..دل اور دماغ میں ان الفاظ کا معنی حاضر ہو تاکہ مقصد حاصل ہو..
(۵) یہ ایک نفل عمل ہے..اس کی
دعوت اور تلقین بھی بطور نفل رکھی جائے..شدت اور بحث نہ کی جائے..جو نہ کر سکے اس
پر نکیر نہ کی جائے..جن کے ذمہ فرض اور واجب نمازیں ہوں وہ اس طرح کے اعمال میں
وقت لگانے کی بجائے پہلے فرائض ادا کریں....
(۶) تسبیح، تحمید، تکبیر..یعنی
سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر....کا ذکر بہت مفید اور مبارک عمل ہے..کوشش کرنی
چاہیے کہ ہمارے پاس اس کا بڑا ذخیرہ جمع ہو..کیونکہ یہ سستی، بزدلی اور کنجوسی کا
بھی کفارہ اور جبیرہ ہے..نماز کے اس عمل سے ہمارے پاس ان تسبیحات کا بڑا ذخیرہ جمع
ہو جائے گا ان شاء اللہ
(۷) عمل والے عمل کریں
گے..سؤالات والے بہت کچھ پوچھنا چاہیں گے تو ان سے گزارش ہے کہ کسی مستند
دارالافتاء سے پوچھ لیں..بندہ کو پیغام نہ بھیجیں...
(فاتحہ)
جن کو ”اعتکاف“ میں نکلنا مشکل ہو رہا ہے..وہ (33) بار سورہ فاتحہ توجہ سے باوضو
پڑھ کر دعاء کریں...بہت آسانی ہو جائے گی ان شاء اللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
