17.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
”مقابلۂ
وفا“ کے تحفے
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی کے عظیم نام سے...”مقابلۂ وفا“کے مبارک موقع پر...چند مختصر تحفے اور ہدایا
پیش خدمت ہیں...دیکھیں ایک مکتوب میں پورے ہوتے ہیں یا زیادہ میں..اللہ تعالی اس
مکتوب کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائیں..اور اس کا ثواب حضرت باجی جان شہیدہ اور
”شہداء غزوہ ہند“(سات مئی)کو اپنے فضل سے بڑھا چڑھا کر عطاء فرمائیں...
(۱) اپنی نماز اچھی کرنا چاہتے
ہیں تو..ہر نماز شروع کرنے سے پہلے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ لیا کریں..ویسے
بھی ”بسم اللہ“ کی بہت زیادہ عادت ڈالیں..ہر اچھا کام ”بسم اللہ“ کی طاقت اور برکت
سے شروع کیا کریں..نماز سے زیادہ اچھا کام کیا ہوگا؟..ایک امام صاحب نے شکایت کی
کہ نماز میں اور فاتحہ میں اٹک جاتا ہوں..زبان لڑکھڑا جاتی ہے..ان سے عرض کیا..نماز
کی نیت کے بعد ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ پڑھ کر نماز شروع کیا کریں..الحمدللہ ان
کا مسئلہ فورا حل ہو گیا..یہ عمل نماز کے قبولیت اور توجہ کے لیے بھی نافع ہے..
(۲) جب بھی کسی مجلس میں..گاڑی
میں..یا کہیں بھی بیٹھیں تو ”بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ“ پڑھ لیا کریں..اس
مجلس میں بڑی خیر ہو جائے گی..غیبت جیسے خبیث گناہ سے حفاظت رہے گی ان
شاءاللہ..”رسولِ اللہ“کے ساتھ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پڑھ لیا کریں..پوری
دعاء یوں ہو گی..بسم اللہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ
وسلم..اس عمل کے فوائد بے شمار ہیں..
(۳) جب بھی قرآن مجید کی تلاوت
شروع کرنے لگیں..ہمیشہ پہلے ”سورہ فاتحہ“ پڑھ لیا کریں..تلاوت کھل جائے گی..بڑی
برکت اور فتوحات ملیں گی ان شاءاللہ..جب کوئی حاجت ہو تو ایک بار یا تین یا سات
بار سورہ فاتحہ اور ایک بار درود ابراہیمی پڑھ کر دعاء کر لیا کریں کہ یا اللہ
سورہ فاتحہ کے وسیلے سے میرے گناہ معاف فرما اور میری یہ حاجت پوری فرما...یہ بہت
عجیب، طاقتور اور کرشماتی عمل ہے..اگر حاجت کوئی زیادہ مشکل اور سخت ہو تو ”فاتحہ“
کی تعداد بڑھا دیں..
(۴) اللہ تعالی نے زمین کو پیدا
فرمایا ہے..زمین کے کروڑوں نظام قائم فرمائے ہیں..کبھی سردی، کبھی گرمی، کبھی روشنی،
کبھی اندھیرا..کبھی تیز ہوا، کبھی حبس..کبھی پانی ہی پانی اور کبھی خشکی وغیرہ..انسان
کا جسم بھی مٹی سے بنا ہے..اللہ تعالی نے اس میں کروڑوں نظام رکھے ہیں..اگر ہماری
توجہ اپنی صحت اور طبیعت کی طرف مستقل ہو گئی تو بڑی پریشانی ہوگی..کیونکہ جسم میں
حالات بدلتے رہتے ہیں..کبھی بخار، کبھی ٹھنڈک، کبھی خون تیز، کبھی سست..کبھی پانی،
کبھی خشکی..اس لیے اچھا ہوگا کہ ذہن کو صحت اور طبیعت کی طرف لگانے کی بجائے ”مصروفیات“
پر لگا دیں..خود کو اتنا مصروف کر لیں کہ بیمار ہونے کا ٹائم ہی نہ ملے..انسان کو
اللہ تعالی نے کام کے لیے پیدا فرمایا ہے..اور کام اتنے ہیں کہ عمر چھوٹی پڑ
جائے..مثلا رات کے تین گھنٹے باقی ہیں..اس میں وضو، تلاوت، نوافل، صلوٰۃ التسبیح،
تسبیحات، دعاء، سحری کی پے در پے ترتیب ہوگی تو...توجہ بدن کی طرف جائے گی ہی نہیں..یہ
ایک چھوٹی سی مثال تھی..مقصد یہ ہے کہ..زندگی اللہ تعالی کے لیے وقف اور مصروف کر
دیں اور روز روز نئے میڈیکل ٹیسٹ کرا کے..خود کو ڈاکٹروں، حکیموں اور عاملوں کا
محتاج نہ بنائیں..باقی تحفے اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
