16.03.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
بڑی
اہم بات
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی..اُن پر اپنی رحمتوں کا اضافہ فرمائیں..اُن کے درجات بلند فرمائیں...وہ اس
امت کے ”امین“ تھے..سابقین اولین میں سے تھے..مہاجرین کرام میں سے تھے..بدر اور بیعت
رضوان والے تھے..وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مایا ناز سپہ سالاروں میں سے
تھے..شام اور بیت المقدس کے فاتح تھے..حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ
عنہ..ان کا اسم گرامی ”عامر“ تھا...مگر ”ابو عبیدہ“ کہلاتے تھے..ان کے فضائل،
مناقب اور کارنامے اس قدر زیادہ اور اونچے ہیں کہ....مجھے ان کا نام مبارک لکھتے
ہوئے..سعادت، شرف اور خوشی کا احساس ہو رہا ہے..وہ لوگ جو دین کا تھوڑا بہت کام کر
کے تھک جاتے ہیں..یا خود کو کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں..یا اپنی خدمات کا بدلہ دنیا میں
چاہنے لگتے ہیں..ان کو اپنی اصلاح کے لیے حضرت سیدنا عامر ابو عبیدہ بن جراح رضی
اللہ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرناچاہیے..ان شاءاللہ کئی امراض سے افاقہ ہو جائے
گا..آج ان کا تذکرہ اس مقصد سے ہوا ہے کہ....انہوں نے ایک بڑے راز کی بات ارشاد
فرمائی ہے..وہ یہ کہ......
گناہ
ہو جانا ہلاکت نہیں ہے..ہلاکت یہ ہے کہ کوئی مسلمان گناہ کر کے یہ سمجھ لے کہ اب میری
مغفرت نہیں ہوگی......یعنی مایوس ہو جائے..اور فرمایا کہ گناہ کی ہلاکت یہ ہے
کہ....اس کے بعد انسان کوئی نیکی نہ کرے..
مطلب
یہ ہے کہ...اگر کسی مسلمان سے خدانخواستہ گناہ ہو جائے تو وہ فورا نیکی کرے..بلکہ
اپنی نیکیوں کو بڑھا دے..اس طرح وہ ہلاکت اور خسارے سے بچ جائے گا..
بہت
اہم بات ہے اور اس میں اہل ایمان کے لیے بڑی بشارت ہے..بے شک اللہ تعالی معاف
فرمانے سے نہیں تھکتے..نہیں اکتاتے..اس لیے کوئی گناہ گار کبھی توبہ، استغفار نہ
چھوڑے..بلکہ شیطان جس قدر زیادہ گناہ کروائے..مؤمن اسی قدر اپنی توبہ اور اپنا
استغفار بڑھاتا جائے..اور گناہ کے بعد اتنی زیادہ نیکیاں کرے کہ وہ گناہ بھی..اللہ
تعالی کی رحمت سے نیکی بن جائے..بس خطرہ ان کے لیے ہے جو گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھیں..یا
گناہ کو نیکی اور اپنا حق سمجھ لیں..اللہ تعالی ایسی حالت سے ہماری حفاظت فرمائیں...
(گزارش)
چند سال پہلے ”اہل اعتکاف“ کے لیے ایک بیان کی توفیق ملی تھی..احباب کی فرمائش
پر...وہ پیش کیا جا رہا ہے..خود بھی توجہ سے سنیں اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک
بھی پہنچائیں..جزاکم اللہ خیرا...
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
