06.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
مقام
علم و شہادت
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی نے ”شہداء“ کو جو ”مقام“ عطاء فرمایا ہے..اگر دنیا کے انسان اس کی ایک جھلک
دیکھ لیں تو پھر....وہ اس کی طرف یوں دوڑیں جیسے ماں...اپنے جدا ہونے والے بچے کو
واپس آتا دیکھ کر دوڑتی ہے......ہمارے زمانے کے اکابر علماء میں سے..ایک ”عالم
ربانی“ کل ”چارسدہ“ میں شہید کر دیے گئے..ان کی جدائی پر...
..انا
لله وانا اليه راجعون..اللهم لا تحرمنا اجره ولا تفتنا بعده..
مقبول
محدث، مرجع مدرس، پر اثر خطیب و واعظ، مقام محبوبیت پر فائز...ولی کامل، عالم با
عمل، علم کی بلندیوں کے مسافر، اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک..حضرت سیدنا و مولانا
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی اور عاشق...حضرت اقدس مولانا محمد ادریس
صاحب..نور اللہ مرقدہ..وہ اپنے گھر سے تیار ہو کر نکلے...طلبہ آنکھیں بچھا کر ان کی
”خالی مسند“ کو مشتاق نظروں سے دیکھ رہے تھے....مگر آج انہوں نے ”مسند حدیث“ پر نہیں..”
مسند شہادت“ پر ”رونق افروز“ ہونا تھا....طلبہ اور امت کے اہل ایمان روتے رہ گئے
جبکہ..حضرت مسکراتے ہوئے اونچی پرواز فرما گئے...
دین
کے علم کا بہت اونچا مقام ہے..قاتلوں، ظالموں اور منافقوں کا کیا پتا؟ اس دین کی
پہلی وحی....”علم دین“ کے حکم کی نازل ہوئی..اور پہاڑ کی بلندی پر نازل ہوئی....”اِقْرَاْ
بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ“....اس لیے علماء کا مقام ہمیشہ کے لیے بلند
ہے..کسی کو اس کی سمجھ ہوتی تو وہ ان پر گولی چلانے سے پہلے ہی شرم اور شرمندگی سے
مر جاتا...مگر دنیا میں ”بدبختوں“ کی کوئی کمی نہیں..وہ ”اللہ والوں“ پر زبان بھی چلاتے ہیں..اور گولیاں بھی برسا دیتے
ہیں..مگر گولیاں کھانے والے اونچے اُڑ جاتے ہیں..جبکہ گولیاں مارنے اور مروانے
والے نیچے گر جاتے ہیں...”اسفل سافلین“سے بھی نیچے..”تحت الثرٰی“سے بھی نیچے...
شہید
کی روح جب نکلتی ہے تو وہ اپنے اونچے مقام کو بھی دیکھ لیتا ہے..اور اپنے قاتلوں
اور ان کی بدبختی کو بھی..چنانچہ وہ مسکرا دیتا ہے..اللہ تعالی کی ہر بات حق
ہے..فرمایا شہید کو ”مُردہ“ مت کہو..شہید کو مُردہ نہ سمجھو..اس پر کوئی کہہ سکتا
تھا کہ شاید یہ ان کے احترام اور اعزاز کے لیے حکم ہے..فرمایا نہیں بلکہ وہ ”زندہ“
ہے..
یا
اللہ وہ زندہ ہے تو بولتا کیوں نہیں؟ چلتا کیوں نہیں؟..فرمایا..تمہیں اس کی زندگی
کا ”شعور“ نہیں..وَّ لٰـكِنْ
لَّا تَشْعُرُوْنَ..یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ ہمیں شہید کی زندگی کا ”شعور“ نہیں..شعور
ہوتا تو اسے دفن کون کرتا؟ اور بہت سے تکوینی راز بھی کھل جاتے..عام زندہ آدمی تو
زیادہ سے زیادہ ملکوں کا سفر کر سکتا ہے..یا زمین کے مدار میں موجود سیارچوں
کا..جبکہ شہید تو ”جہانوں“ کا سفر کرتا ہے..
..دیکھا
نہیں..حقیقی شہداء کے قاتل کیسے برباد ہوتے ہیں؟..آخر پچھلے سال (10) مئی کو انڈیا
کیوں چوہے کی طرح کانپ رہا تھا....جل رہا تھا...ان شاءاللہ ”حضرت“ کے قاتلوں اور
ان کے سرپرستوں کا انجام بھی بہت عبرت ناک ہوگا....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
