بسم اللہ الرحمن
الرحیم
<مکتوب خادم>
پیار کا موسم
السلام علیکم ورحمة اللہ
وبرکاته...
اللہ تعالی نے اپنے حبیب
صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو ”رمضان المبارک“ عطاء فرمایا..”عشرہ ذی الحجہ“ عطاء
فرمایا..”جمعہ شریف“ عطاء فرمایا...”عیدالفطر“ اور ”عید الاضحیٰ“ عطاء فرمائی...والحمدللہ
رب العالمین..
حضور اقدس صلی اللہ علیہ
وسلم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ...کسی بھی دن کے اعمال صالحہ...اللہ تعالی کے نزدیک
عشرہ ذی الحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں..تو صحابہ کرام نے پوچھا...یا رسول
اللہ ”جہاد فی سبیل اللہ“ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا...جہاد
فی سبیل اللہ بھی نہیں..یعنی ان دنوں کا ہر عمل صالح جہاد سے بھی زیادہ محبوب
ہے..ہاں البتہ..ایک صورت مستثنیٰ فرمائی..وہ یہ کہ کوئی شخص اپنا مال اور اپنی جان
لے کر جہاد میں اترا....مال بھی قربان ہو گیا..جان بھی قربان ہو گئی..بس اس کا
عمل.....ان دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہے...یہ حدیث بخاری شریف اور دیگر کتب میں
سند صحیح کے ساتھ موجود ہے...تفصیل اس کی بہت ہے مگر..آئیے اختصار کی کوشش کرتے ہیں..
(۱) اعمال صالحہ کے زیادہ
محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ..وہ عمل کرنے والا اللہ تعالی کی زیادہ محبت اور توجہ
پاتا ہے..
(۲) صحابہ کرام کی دینی تربیت
کا یہ نتیجہ تھا کہ..وہ جہاد فی سبیل اللہ ہی کو اللہ تعالی کا سب سے محبوب ترین
عمل سمجھتے تھے..اس لیے انہوں نے سؤال عرض کیا...فرمایا گیا کہ اس دس روزہ ”بازار
عشق“ کا قانون الگ ہے..اللہ تعالی ہمیں بھی حضرات صحابہ کرام والا جہادی نظریہ نصیب
فرمائیں...
(۳) یہ دس دن کا ”بازار عشق“
دراصل اللہ تعالی کے وسیع پیار کا موسم ہے..ہر بوڑھا، بچہ، عورت، مرد اور معذور
مسلمان اس میں محبت کے جام بھر بھر کر پی سکتے ہیں..جہاد عورتوں، معذوروں پر فرض
نہیں (سوائے چند صورتوں کے)
(۴) ان دس دنوں کی ”قدر و قیمت“
کا بڑھ جانا...باقی دنوں کے اعمال کی قیمت نہیں گھٹاتا..
ہر دن، ہر رات، ہر عمل
صالح اللہ تعالی کو محبوب ہے..بس یہ ان کا فضل اور سخاوت کہ ان دنوں کے اعمال کی
قدر بڑھا دی..اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بس ان دنوں ”اعمال صالحہ“ کریں اور باقی
دنوں میں چھوڑ دیں...بلکہ مطلب یہ ہے کہ..ان دنوں میں ”اعمال صالحہ“ بڑھا دیں..
(۵) ان دنوں کے ”اعمال صالحہ“
کو بڑھانے کے کئی طریقے ہیں..مثلاً نیت...توجہ...فکر...اعمال صالحہ کی
معلومات....” احب الأعمال الى الله“ کا زیادہ اہتمام......اہل علم تو ان پانچ
الفاظ سے پوری بات سمجھ چکے ہوں گے...باقی جو میری طرح ”اُمّی“ ہیں..ان کے لیے تفصیل
اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ....
آج کی آخری بات یہ ہے کہ
جو والدین کا حق ادا نہیں کر سکے اور والدین وفات پا چکے ہیں تو تلافی کا بہترین
ذریعہ والدین کی طرف سے ”قربانی“ ہے..اس کا اجر و ثواب عام دنوں کی ہزار دیگوں سے
بھی بہت بڑھ کر ہے.....ان شاءاللہ...
والسلام
خادم.....لااله الاالله
محمد رسول الله
