21.05.2026
بسم
اللہ الرحمن الرحیم
<مکتوب
خادم>
اَحَبُّ
+ أَحَبُّ
السلام
علیکم ورحمة اللہ وبرکاته...
اللہ
تعالی بہت بڑے، سب سے بڑے..اللہ اکبر کبیرا..ہم بہت چھوٹے، ادنی، احقر، اصغر..مٹی
کے کھلونے..ایک پتھر سر پر لگ جائے..یا ڈینگی مچھر کاٹ لے..یا چیونٹی ناک اور کان
میں گھس جائے تو مر جاتے ہیں....اللہ تعالی ”باقی“....ہم ”فانی“....وہ بے عیب،
بےنقص، بےکمی اور ہم سر تاپا عیب ہی عیب...اورکمزوری سے بھرے ہوئے...اللہ تعالی
اپنی کوئی نعمت..ہمیں دوسروں سے تھوڑی زیادہ دے دیتا ہے تو ہم اکڑ جاتے ہیں..سنبھالے
نہیں سنبھلتے..مال، حُسن، عقل، اختیارات اور طاقت...مگر پھر یہ سب کچھ ختم ہو جاتا
ہے..اور ہم مٹی میں دفن کر دیے جاتے ہیں..
دنیا
بہت چھوٹی جگہ ہے..بےحد چھوٹی..عارضی، وقتی، فانی....جبکہ آخرت بہت بڑی ہے..دائمی،
باقی....ہمیشہ رہنے والی..وہاں ہر جنتی کی اپنی الگ سلطنت ہوگی، بادشاہت ہوگی....”وَّ
مُلْكًا كَبِیْرًا“.....جنتی فارغ نہیں ہوں گے...بلکہ بڑی بڑی سلطنتوں کے بااختیار
حاکم ہوں گے.......فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ....انہیں اپنی جنت میں یہ اختیار حاصل
ہوگا کہ وہ کہیں گے ”ہو جا“..تو ہو جائے گا...”جنت“ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کا
بہت عظیم جہان ہے..اللہ تعالی کے مخلص بندے ہمیشہ اللہ تعالی کی ”محبت“ کی تلاش، پیاس
اور جستجو میں رہتے ہیں...حضرات صحابہ کرام اسی ”محبت“ کی تلاش میں..حضرت آقا محمد
مدنی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کرتے تھے....”أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى
اللَّهِ“..یا رسول اللہ کون سا عمل...ہمارے رب تعالی کو زیادہ محبوب ہے؟...ان کے
اس سؤال پر ان میں سے ہر ایک کے حسب حال...محبَّت کے راز ارشاد فرما دیے جاتے..
یہ
”علم و معرفت“ کا پورا ایک باب ہے..آپ قرآن مجید میں دیکھیں کہ..کن اعمال پر اللہ
تعالی نے ”محبت“ کا اعلان فرمایا ہے...اسی طرح احادیث مبارکہ میں دیکھیں کہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کن اعمال اور اقوال کو.....”احب الأعمال“..اور ”احب
الأقوال“ قرار دیا ہے...”عشرہ ذی الحجہ“ میں ہر عمل اللہ تعالی کے نزدیک ”احب
الاعمال“ ہے...یعنی محبوب ترین عمل....اب اگر ہم ان دنوں میں...ان اعمال کا اہتمام
کریں جو ہر حال میں ”احب الاعمال“ ہیں تو.....ہمارے پاس محبت ہی محبت جمع ہو جائے
گی..ہم اللہ تعالی کی محبت کے بے حد محتاج ہیں..بے حد مشتاق ہیں...وہ اتنے عظیم ہو
کر ہم سے محبت فرمائیں تو اس سے بڑھ کر خوش نصیبی اور کیا ہو سکتی ہے؟..قرآن و حدیث
میں ”احب الاعمال“ دیکھیں..پھر خاص ان دنوں میں بھی...ان کا اہتمام کریں..تب ہمیں
احب + احب....یعنی..محبوب ترین..جمع (پلس)...محبوب ترین عمل نصیب ہو جائے گا..جبکہ
”یوم النحر“ یعنی دس ذی الحجہ کی قربانی تو.....اَحبُّ، +اَحبُّ، +اَحَبُّ
ہے..اللہ تعالی ہمارا سینہ کھول دیں..
مغرب
سے جمعہ شریف....مقابلہ حُسن...مقابلۂ محبت برائے نفل قربانی..مرحبا!.....
والسلام
خادم.....لااله
الاالله محمد رسول الله
