30.09.2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

<مکتوب خادم>

پیارے انسان کی پیاری دعاء

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته....

اللہ تعالی کسی ”خنّاس“ کو ہم پر مسلط نہ فرمائیں..وہ انسان ہو یا جن..اللہ تعالی ”بُرے قرین“..”بُرے دوست“ اور ”بُرے ہمزاد“ سے ہماری حفاظت فرمائیں...

”خنّاس“ کون ہے؟ بتایا گیا کہ”خنّاس“ بے شمار ہیں..وہ ہر زمانے میں ہوتے ہیں..اور ہر مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں....ان کا کام ہے دل میں وسوسہ، شبہ اور بدگمانی ڈالنا..اور وہ بھی نہایت اُستادی کے ساتھ...مہارت کے ساتھ...بظاہر خیر خواہی جتلا کر...باتوں ہی باتوں میں...ایسا وسوسہ...جو آپ سے کسی اچھی محبت کو چھین لے..کسی اچھے عمل کو چھین لے..کسی اچھی جماعت کو چھین لے...کتنے لوگ نیک اعمال میں لگے ہوتے ہیں..کوئی آکر ایسا وسوسہ ڈالتا ہے کہ وہ....غفلت میں جا گرتے ہیں..کسی کے ساتھ تعلق آپ کو دینی فائدہ اور ترقی دے رہا ہے...خنّاس نے اُس کے خلاف ایسا وسوسہ چھوڑا کہ..وہ تعلق ٹوٹ گیا..فوائد رک گئے..بڑا تفصیلی موضوع ہے..قرآن مجید کی آخری ”سورۃ“ میں بھی مذکور ہے..اور کئی دیگر مقامات پر بھی...آخری سورۃ مبارکہ تو اس سے حفاظت کا ذریعہ بھی ہے..جو لوگ دین سے، جماعت سے بدظن ہو جاتے ہیں..یا خوفزدہ ہو کر امن کی راہیں ڈھونڈنے لگتے ہیں..یا مصلحت و ضرورت کے بہانے دنیا میں مشغول ہو جاتے ہیں..یا مایوس ہو کر راستہ بدلنے لگتے ہیں..ان سے عرض کیا جاتا ہے کہ توجہ کے ساتھ...روز سو بار..یا کم از کم صبح و شام گیارہ بار...قرآن مجید کی آخری دو سورتیں پڑھا کریں..الحمدللہ اس عمل کی برکت سے کئی تو گڑھے تک پہنچ کر..واپس آگئے..مگر کئی نے اس گزارش کو بھی نہ مانا..وہ پہلے خود ”خناس“ کا شکار ہوئے اور پھر ترقی کرتے کرتے خود ”خناس“ بن گئے..اور کام والوں کو مایوس، پریشان اور بدظن کرنے لگے..خیر یہ آج ہمارا موضوع نہیں...اصل موضوع تو ایک بہت پیاری دعاء ہے..جو ایک بہت ہی پیارے انسان مانگا کرتے تھے..غفلت کی حالت میں موت سے حفاظت کی دعاء.....

اللهم لَا تَدَعْنَا فِی غَمْرَةٍ وَلَا تَأخُذْنَا عَلىٰ غِرَّۃٍ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الغَافِلِينْ...

دعاء کی تفصیل اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ.....

والسلام

خادم.....لااله الاالله محمد رسول الله