14-02-2020
مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کے "شکر گزار" بندے..ہر وقت اپنے اوپر اللہ تعالی کی نعمتیں محسوس کرتے ھیں..اور "تشکر" میں ڈوبے رھتے ھیں..ایک صاحب کو دیکھا..ان کے سامنے روٹی رکھی گئی تو..سر اوپر اٹھا کر شکر ادا کیا اور روٹی کو چوم لیا..زیادہ "چوماچاٹی" اچھی عادت نہیں ھے..مگر کسی کسی موقع پر..یہ بھی درجات پانے والا عمل ھے..یہ واقعہ سن کر..اب روٹی چومنے کا عمل شروع نہ ھو جائے..مقصد یہ ھے کہ..نعمت کا اور احسان کا احساس ھو اور اللہ تعالی کا شکر ادا ہو..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جیسے ھی کھانا آتا فورا رغبت کے ساتھ تناول فرمانا شروع کر دیتے..وھاں تو نعوذباللہ بے صبری، حرص یا خواھش نفس کا شائبہ تک نہیں تھا..بس اللہ تعالی کی نعمت پرشکرگزاری اور احسان مندی کا جذبہ تھا کہ..اللہ تعالی اتنے عظیم،اتنے عظیم..پھر بھی اپنے ہر بندے کا خیال..اور اس کے رزق کا انتظام..اگر لوگ ہرنعمت پر یہ سوچیں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہدیہ آیا ھے تو..کبھی رزق ضائع نہ کریں..کبھی ناقدری نہ کریں..بلکہ بھوکے غلاموں کی طرح شوق اور حاجت مندی سے کھائیں اور لقمے لقمے پر..ان کا دل شکر اداکرتا رہے..کھانے کے بعد حمد و شکر کی دعاء کبھی نہ بھولا کریں..یہ دعاء مغفرت کے بڑے اسباب میں سے ایک ھے..الحمد لله الذی اطعمنی هذا ورزقنيه من غير حول منی ولاقوۃ..یااللہ مکتوب کے ذریعے "اہل محبت"سے رابطے کی نعمت پر آپکا شکر..یااللہ شکر..الحمدللہ..یااللہ شکر الحمدللہ..یااللہ شکر الحمدللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول اللہ