22.02.2020
مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی ہم سب کو اپنا فضل..اور اپنی رضاء نصیب فرمائیں..کل عرض کیا تھا کہ..مسلمانوں کو ”اسلامی فرائض“ سے روکنے کی کوششیں زوروں پر ہیں..آپ کہیں گے کہ حج سے تو کوئی کسی کو نہیں روکتا؟ ہر مسلمان کے دل میں حج کا شوق ہوتا ہے..اللہ کرے ایسا ھو..مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے..معاشی ترقی کے لئے ہر سال کتنے مسلمان کفریہ ممالک کا رخ کرتے ہیں؟ کتنے مسلمان یورپ کے ویزے کے لیے اپنے گھر٬ پلاٹ اور جانور بیچتے ھیں؟..مالدار مسلمان اپنے علاج کے غیر ملکی دوروں پر کتنا سرمایہ برباد کرتے ھیں؟..صحافی، شاعر اور دانشور ہر سال کتنے ملکوں میں جاتے ھیں؟..غیر شرعی رسومات پر کتنا مال مسلمان خرچ کرتے ھیں؟..کیا اللہ تعالی کے فریضے..حج کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے؟ لاکھوں مسلمانوں پر حج فرض ہے..مگر انہیں رسومات پر خرچ کرنے سے فرصت نہیں..چند سال سے الحمدللہ ھم نے آواز لگانا شروع کی تو..ایسے ایسے افراد بھی حج پر گئے..جنہوں نے اس سے پہلے اس بارے میں سوچا تک نہیں تھا..اور قربانی کے ایسے مناظر سامنے آئے کہ بیوی نے زیورات خاوند کے قدموں میں ڈال دیئے کہ..یہ آپ کو ھدیہ ہیں آپ حج کا فرض ادا کر آئیں..آج جو مسلمانوں کے دلوں اور گھروں میں یہودیت اور نصرانیت گھس گئی ہے..اس کا علاج یہ ہے کہ مسلمانوں کو..کعبہ شریف کا حسن اور مدینہ مدینہ کی کشش میں لایا جائے..اور ان کے دل کا قبلہ بھی.. درست کیا جائے..حج کے داخلے 24 فروری سے شروع ھو رھے ھیں..ھم کمزور ناتواں..اپنی استطاعت کے مطابق آواز لگا دیں..اور مسلمانوں کو..ان کی زندگی کے ایک اھم فرض کی طرف دعوت دیں..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله