مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..

اللہ تعالی کے نبی..حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم..جو کچھ فرماتے ھیں وہ اللہ تعالی کی طرف سے ھوتا ہے.."کلونجی" کے "شفاء" ھونے کی احادیث..اعلی درجے کی سند صحیح سے ثابت ھیں..اور ان پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا اتفاق ہے..یہ احادیث حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ..حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا..اور دیگر حضرات صحابہ کرام سے مروی ھیں..اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ..بیماریوں کا ایک نافع علاج..ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تلقین فرمایا..اور امت تک یہ علاج اتنی مضبوط سند والی صحیح حدیث شریف سے پہنچا..تو پھر..ھم اس سے محروم کیوں رھیں؟..آج ہی بسم اللہ اور درود شریف پڑھ کر..خالص کلونجی خریدیں..پچاس روپے کی کافی ساری مل جاتی ہے..اسے صاف کرکے ایک ڈبی میں ڈالیں..اور اسے ایسی جگہ رکھیں کہ..آپ کو نظر آتی رھے..صبح منہ نہار ایک چٹکی کلونجی لیں..پوری بسم اللہ اور درود شریف پڑھیں اور نیم گرم یا تازہ پانی سے اسے بغیر چبائے نگل لیں..جن کا مزاج طبی طور پر گرم ہو..وہ سات دانے سے زیادہ نہ لیں..بعض افراد پچیس سال سے یہ مسنون علاج اپنائے ھوئے ھیں اور بتاتے ھیں کہ انہیں کسی اور "دواء" کی ضرورت ھی نہیں پڑتی..باقی اگلے مکتوب میں ان شاءاللہ..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله