مکتوب خادم
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کی عبادت..صرف اللہ تعالی کی رضاء کے لئے ہو..نہ صحت کے لئے..نہ شفاء کے لئے..نہ سکون کے لئے، نہ مزے کے لئے..بس یہ نکتہ مضبوطی سے دل میں بٹھا لیں..دوبارہ سن لیں کہ..اللہ تعالی کی عبادت..صرف اللہ تعالی کی رضاء کے لئے ہو..ان کا حکم پورا کرنے کے لئے ہو..خود کو ان کا بندہ اور غلام سمجھ کر ہو..یہ سچ ہے..ہر عبادت میں سکون بھی ہے..مزا بھی ہے..صحت بھی ہے، شفاء بھی ہے..راحت بھی ہے اور غناء بھی ہے..مگر ھماری نیت ان چیزوں کی نہیں ھونی چاھیے..اگر ان چیزوں کی نیت ھوئی تو پھر عبادت..عبادت نہیں رھتی..ھم عبادت سے اپنے مالک کو خوش کریں..وہ راضی اور خوش ھوں گے تو سارے معاملات درست ھو جائیں گے..آگے آخرت کی زندگی ھمیشہ کی ہے..ھم نے اپنی ہر عبادت کو..صرف دنیا کے سر درد ٹھیک کرانے میں بھگتادیا تو..آخرت میں اپنے ساتھ کیا لے جائیں گے؟..اگر کسی جگہ پانچ سو سال رھنا ہو توکتنے سامان کی ضرورت پڑتی ہے؟ آخرت تو پانچ ارب سال سے بھی بڑی ہے..ھمیشہ ھمیشہ کی ہے.."اللہ تعالی" ھمیں بےوقوف ڈاکٹروں طبیبوں کے شر سے بچائیں..وہ روزے، نماز اور لمبے سجدوں کے طبی فوائد بتا بتا کر..مسلمانوں کے "اخلاص" کا جنازہ نکال رہے ھیں..ھماری زندگی کا تھوڑا سا ٹائم رہ گیا ہے..ھم اصل کام کر لیں..یعنی اللہ تعالی کو راضی کرلیں..آخرت بنا لیں..علاج، شفاء چاہیے تو..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا دیا ہے..حجامہ لگاؤ..کلونجی کھاؤ..شہد استعمال کرو..باقی رہا لمبا سجدہ تو وہ صرف محبوب حقیقی کی رضاء کے لئے ہو..کمر کے مہروں کے لئے نہیں..مغرب سے جمعہ شریف، مقابلہ حسن مرحبا!
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله