<مکتوب خادم>
السلام علیکم ورحمةالله وبرکاته..
اللہ تعالی کا ”ہر حکم“ سر آنکھوں پر..اللہ تعالی کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم، ہر سنت ،ہر دعاء سر آنکھوں پر..پھر صرف دعاء عافیت کی مھم کس لئے؟..جواب یہ کہ ایک تو یہ اس وقت کے حالات کی پکار ہے..اس وقت وباء بھی ہے اور اس سے بڑھ کر ”فتنہ“ بھی..یعنی دنیا بھی خطرے میں اور دین بھی خطرے میں..ایسے وقت میں اللہ تعالی سے ”عافیت“ مانگنے کی ضرورت بڑھ گئی..عافیت مل گئی تو دین و دنیا سب ٹھیک ھوجائیں گے ان شاءاللہ..عربی کا شعر ہے..
رايت البلاء كقطر السماء..
 وما تنبت الأرض من ناميۃ..
 فلا تسئلن اذا ما سئلت..
 إلھک شئیا سوی العافيۃ..
ترجمہ:"میں دیکھ رہا ہوں کے بلائیں اتنی زیادہ ٹوٹ پڑی ہیں جتنی کہ بارش کے قطرے اور زمین سے اگنے والی چیزیں.. ایسے حال میں اللہ تعالی سے بس صرف عافیت ہی مانگو"..اس لئے اس مھم کو معمولی نہ سمجھیں..سنیں اور مانیں اور دعاء عافیت ایک ایک مسلمان مرد، عورت، چھوٹے، بڑے کو سکھا دیں اور اس کا معمول بنا دیں..حضرت آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو حکم فرمایا کہ جب قبرستان جاؤ تو کہو..السلام عليكم اهل الديار من المؤمنين و انا ان شاء الله بكم لاحقون نسئل الله لنا ولكم العافيۃ(مسلم)..یعنی مرے ہوئے مسلمان کو بھی عافیت کی دعاء..خود سوچیں زندہ مسلمانوں کے لئے عافیت کی دعاء کتنی ضروری ہے؟..
والسلام
خادم..
لااله الاالله محمد رسول الله